07:46 am
پنشن ادائیگیوں کا ٹک ٹک کرتا بم

پنشن ادائیگیوں کا ٹک ٹک کرتا بم

07:46 am

رائے عامہ میں یہ بات رفتہ رفتہ نظر انداز کردی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے پاکستانی معیشت کو کتنا نقصان پہنچایا۔تحریک انصاف نے اس بارے میں حقائق آشکار کرنے میں تاخیر کی۔ یہ حکومت دیر سے ملک کے اقتصادی اور مالیاتی مسائل کی جانب متوجہ نہیں ہوئی اور دوسری جانب عالمی وبا نے عالمی معیشت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ قیمتوں کی نگرانی کے نظام میں ہونے والی غفلت کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ 2017-18میں جو شرح نمو 5اعشاریہ 6فی صد تھی وہ 2018-19 میں 2اعشاریہ 4فی صد پر آگئی اور رواں مالی سال میں منفی 1اعشاریہ 5فی صد ہونے کی توقع ہے۔ آئندہ بجٹ بنانا انتہائی مشکل ہوگا کیوں کہ ایک بڑی تعداد میں افرادی قوت مشرق وسطیٰ سے واپس آچکی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں عارضی طور پر ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا تاہم اگر اکائونٹس اور موبائل فون میں براہ راست رقم کی منتقلی کی ٹیکنالوجی کی راہ میں سرخ فیتہ حائل نہ ہو تو اس صورت حال کا بھی ازالہ ہوسکتا ہے۔ گندم ، کپاس اور سبزیوں کی کم پیداوار کے باعث درآمدات کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باعث پہلے ہی دشواری کا شکار ہماری برآمدات کو بھی آئندہ برس شدید دھچکا پہنچنے کا امکان ہے۔ 
مسائل کے غیر روایتی حل کی تلاش کرتے ہوئے اخراجات میں کمی وقت کی ضرورت ہے۔ پنشن ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا حجم ہمارے بجٹ اخراجات کے لیے ٹک ٹک کرتا بم ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگست میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے بجا اس کی نشان دہی کی ہے کہ اگر پنشن ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا حجم ہمارا سب سے بڑا مالیاتی چیلنج ثابت ہوگا اور اس پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو ترقیاتی وسائل بھی اس کی نذر ہوجائیں گے۔ وفاق کی سالانہ پنشن ادائیگیاں 470ارب روپے تک پہنچ چکی  ہیں جن میں سب سے بڑا حصہ فوج کی پنشن کا ہے۔ وفاق اور صوبوں کی سطح پر تنخواہوں کی مدمیں سالانہ ادائیگیاں موجودہ مالیاتی حالات میں رفتہ رفتہ محال ہوتی جارہی ہیں۔ 
پنشن اور دیگر اخراجات کے باعث دفاعی بجٹ میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے،تاہم یہ اخراجات جس بھی مد میں ہورہے ہوں اصل سوال یہ ہے کہ آمدن کہاں ہے؟ آئندہ آنے والے برسوں میں سیکیورٹی اخراجات کم ہوتے چلے جائیں گے پر پنشن کی ادائیگیاں سالانہ قومی بجٹ کا بڑا حصہ نگل جاتی ہیں۔ پنشن فنڈ کو پائیدار بنانے کے لیے علیحدہ سے ایک تفصیلی جائزے کی ضرورت ہے۔ اپنے سویلین ہم منصبوں کے مقابلے میں بہت پہلے ریٹائر ہونے والے افواج کے اہل کار قومی خزانے پر بوجھ بنے بغیر بہت سی قومی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے برعکس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ اپنی اصل ریٹائرمنٹ کی عمر تک کے لیے دوسری ملازمت کی تلاش میں غلط راہ پر بھی نکل پڑتے ہیں۔ سروے کیا جائے تو انکشاف ہوگا کہ ’’کمیوٹڈ پنشن‘‘ لینے والوں کی بڑی تعداد اس رقم سے شادی کے اخراجات کرتی ہے یا پُرتعیش اشیا خرید لیتی ہے جب کہ دوسری جانب یہ بے روزگاروں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ریاست ایسے افراد کو قبل از وقت سبکدوشی پر پنشن ادا کرتی ہے جن میں کام کرنے کی استعداد باقی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ قومی خزانے سے ادائیگی کرکے تربیت یافتہ اور منظم افرادی قوت کو گھر بٹھا دینا کون سی دانش مندی ہے۔ 
چالیس سے پچاس برس کی عمر میں ریٹائر ہونے والے تربیت یافتہ جوانوں اور افسران کی صلاحیتوں کی ریاست کو ضرورت ہوتی ہے۔ سویلین کمیوٹیشن کی صورت میں 72برس کی عمر میں جاکر پوری پنشن کے حق دار بنتے ہیں۔ قومی خزانہ ان 15سے 20سال تک یہ اخراجات برداشت کرتا ہے۔ دوسری جانب اچھی طرح تربیت یافتہ افرادی قوت ایک ایسی جاب مارکیٹ میں اُتر جاتا ہے جس کے لیے وہ تیار ہی نہیں ہوتا۔ اس جدوجہد میں اسے کڑی مشکلات اور مالی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
اس حوالے سے ہونے والے کسی بھی بندوبست میں ان چند مسائل کا حل ضرور ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے تو اس کے نتیجے میں کمیوٹڈ پنشن کی صورت میں ریاست کے اخراجات میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے افراد کار کی مکمل صلاحیتوں سے استفادہ کیا جانا چاہیے جن کی تربیت پر کثیر مالی وسائل خرج کیے گئے ہوں۔ تربیت پر آنے والی لاگت میں بچت کی جائے۔ جو لوگ 40سے 45برس کی عمر میں ترقی نہ ملنے کے باعث ملازمت سے سبکدوش ہورہے ہوں ان کو سول آرمڈ فورسز، پولیس/مجسٹریٹی،وزارت قانون اور تعلیم (خاص طور پر مشکل شعبوں کی اسامیوں) کے لیے بھیج کر ساٹھ سال کی عمر تک خدمات پوری کروانی چاہئیں۔اس افرادی قوت کو استعمال میں لاکر ہم قومی وسائل کی بڑی بچت کرسکتے ہیں۔ 
بچت کے ساتھ ساتھ  سول سروس کے قواعد کے مطابق 60 سال تک کی عمر کے تمام افسران اور دیگر رینکس (جو اس آپشن کو منتخب کرتے ہیں) کو ملازمت کی ضمانت فراہم ہوجائے گی ہے۔ معیار میں بہتری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب یہ افرادی قوت استعمال میں لائی جائے گی تو پاکستان رینجرز،پاکستان کوسٹ گارڈز،فرنٹیئر کانسٹیبلری کے پی کے،فرنٹیئر کور کے پی کے، فرنٹیئر کور بلوچستان،ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور پولیس میں تمام براہ راست بھرتیوں کو روکنا ہوگا۔انہیں نچلی عدالتوں کے مجسٹریٹ اور جج کے طور پر بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں