07:47 am
بلوچستان، وزیرستان میں بھارت کی دہشت گردی، مزید دھمکیاں!

بلوچستان، وزیرستان میں بھارت کی دہشت گردی، مزید دھمکیاں!

07:47 am

٭بلوچستان اور وزیرستان میں فوجی قافلوں پر دہشت گردی، 20 فوجی افسر و جوان شہید! اِنا لِلّٰہ و انا الیہ راجعون!O گوجرانوالہ میں حکومت (اور فوج!) کے خلاف اپوزیشن کا جلسہO ہوش ربا مہنگائی، وزیراعظم کے نوٹس (11 واں) پر چینی، آٹا سبزیاں مزید مہنگی! مقبوضہ کشمیر! ریاست کی بحالی کے لئے سیاسی پارٹیوں کا اتحادO سی سی پی او (کیپٹل سٹی پولیس افسر) لاہور عمر شیخ کا نیا کارنامہ! ایس پی کو گرفتار کرنے کا حکم! آئی جی ناراضO مذاکرات کی بھارتی پیش کش مستردO تھائی لینڈ! بادشاہ کے خلاف شدید ہنگامے، ایمرجنسی نافذ! کرغیزستان، ہنگامے، صدر مستعفی! چلی میں عوام سڑکوں پر، ہنگامے O آج خان لیاقت علی خان کا یوم شہادت ہے!
٭ بھارت نے پاکستان میں کھلی کارروائیاں شروع کر دیں۔ بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ پھٹنے اور فائرنگ سے ایک فوجی کیپٹن اور 19 جوان شہید ہو گئے۔ دماغ سُن ہے، تفصیل میں جانے کی تاب نہیں، اخبارات میں سب کچھ چھپ رہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل نراوان کی دھمکیوں کے ساتھ چند روز سے پاکستان کے فوجی قافلوں پر دہشت گردوں کے حملے بڑھ گئے ہیں، ہر روز کوئی نہ کوئی نیا واقعہ ہو رہا ہے۔ فوج کی قربانیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور…اور فوج کے خلاف اپوزیشن کے بعض عناصر کی بدگوئی اور سخت کلامی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ لندن میں مقیم عدالتی مفرور نوازشریف اور اس کی ولی عہد بیٹی نے اپوزیشن کے گزشتہ اجلاس میں فوج کے خلاف کھلے لفظوں میں بدزبانی کی تھی۔ گوجرانوالہ کے جلسے سے نوازشریف اور مریم نواز کی تقریروں کی تفصیل سامنے آ چکی ہو گی۔ سیاسی اور عدالتی دنیا کی واحد مثال ہے کہ حکومت اور عدالتیں ایک سزا یافتہ، جیل میں طویل عرصہ تک کی قید کاٹنے والے مجرم کو جیل سے نکال کر ملک سے بھگا رہی ہیں، وہ بیماری کے علاج کے بہانے لندن فرار ہو جاتا ہے، وہاں کوئی علاج نہیں کرایا جاتا اور وہ لندن سے فوج اور عدلیہ کے خلاف کھلی ہرزہ سرائی کرنے لگتا ہے۔ گوجرانوالہ والے ن لیگ کے اپوزیشن کے جلسے کے مقررین میں نوازشریف کا نام سرفہرست تھا۔ اس کا بیانیہ سامنے آ چکا ہوگا۔ پچھلی بار فوج ہی کے پروردہ نوازشریف نے فوج کے بارے میں جو زبان اختیار کی اس کے بارے سوشل میڈیا پر آرمی چیف کی تصویرکے ساتھ ایک سطری مختصر بیان آیا کہ ’’فوج کو گالیاں دی جا رہی ہیں، اب قانونی کارروائی ہو گی‘‘ یہ بیان تھوڑی دیر تک سامنے آیا پھر بند ہو گیا۔ ایک دن میں 20 فوجی جوانوں کی شہادت انتہائی غیر معمولی بات ہے اسے بھارتی میڈیا نمایاں انداز میں اچھال رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی آرمی چیف کی دھمکیاں بھی نمایاں چھپ رہی ہیں کہ پاکستان سردیاں شروع ہونے پر مقبوضہ کشمیر میںکثیر تعداد میں مسلح دہشت گرد داخل کر رہا ہے، ان سے نمٹا جا رہا ہے۔
٭مقبوضہ کشمیر میں 14 ماہ قبل تین سابق وزرائے اعلیٰ، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو جیلوں میں بند کر کے مقبوضہ کشمیر میں بھاری تعداد میں مزید فوج اتار دی گئی، تمام سیاحوں اور امرناتھ یاترا والوں کو فوری طور پر ریاست سے نکال دیا گیا اور ریاست کے تین ٹکڑے کر دیئے گئے۔ اب ان تینوں سابق وزرائے اعلیٰ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز سری نگر میںان تینوں نے ایک ملاقات میں ریاست کی پرانی پوزیشن بحال کرانے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی فاروق عبداللہ کے گھر میں ریاست کی تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ایک اجتماع میں اتحادی گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا اس کے اگلے اجلاس میں بھارتی جبر سے نجات حاصل کرنے کی باقاعدہ قرارداد منظور کی جائے گی اور پھر پوری ریاست میں عملی جدوجہد کی تحریک شروع ہو جائے گی۔ اپوزیشن کے اس اتحادی اجلاس میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، نائب صدر عمر عبداللہ، پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی، پیپلزکانفرنس کے صدر سجاد حسین، پیپلزموومنٹ کے جنید  مہر، ’سی ڈی آئی ایم کے‘ محمد یوسف اور دوسرے افراد شریک ہوئے۔ کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کرونا کے معائنہ کا نام لے کر شرکت نہیں کی۔ یہ بات اہم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اس ’باغی‘ اتحاد کو بھارتی میڈیا تفصیل سے بیان کر رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ عمل کسی اہم حکومتی ردعمل کے لئے جواز بنے گا۔
٭وزیراعظم عمران خان کو براہ راست مخاطب کر رہا ہوں کہ خدا کے لئے مہنگائی دور کرنے کے بے معنی، بے فائدہ نوٹس جاری کرنا بند کریں۔ ہر نوٹس کے بعد مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ ڈھائی سال میں مہنگائی کے خلاف گیارہ نوٹس جاری کئے اور ہر نوٹس کے بعد مہنگائی مزید بڑھ گئی، اب تک گیارہ گنا بڑھ چکی ہے۔ اب، دو دن پہلے نوٹس جاری کیا کہ عنقریب مہنگائی روکنے کے بارے میں اجلاس بلایا جائے گا، اس نوٹس کے جاری ہوتے ہی چینی 100 روپے سے بڑھ کر 105 روپے کلو (دور کے مقامات پر 115 روپے) آٹا 75 سے بڑھ کر 80 روپے کلو ہو گیا۔ سرکاری چوبدار ’خوش خبریاں‘ سنائے جا رہے ہیں، ’’اتنی گندم اور چینی درآمد ہو گئی ہے، اتنی اور آ رہی ہے!!‘‘ ان تنخواہ دار کارندوں کے بیانات پڑھ پڑھ کر سر درد ہونے لگتا ہے، اُبکایاں آنے لگتی ہیں اور یہ لوگ ڈھول بجائے جا رہے ہیں، ’’ہماری حکومت پکی ہے، پانچ سال پورے کرے گی‘‘ اپوزیشن کو حکومت گرانے کے لئے جلسے جلوسوں کی کیا ضرورت ہے، حکومت جس شاخ پربیٹھی ہے، اسے خود ہی کاٹ رہی ہے!!
٭پنجاب کے وزیراعلیٰ کو صبح ناشتے کے دوران بڑے بڑے افسروں کے تبادلے کرنے کا شوق ہے اور موصوف کے انتہائی منظورنظر سی سی پی او کے دماغ پر ہر روز صبح سویرے پولیس کے اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا خبط سوار رہتا ہے۔ اس نے اس نشہ کے خمار میں گزشتہ روز اپنے سے ایک درجہ کم سکیل والے سی آئی اے لاہور کے ایس پی عاصم افتخار کو دفتر بلایا۔ وہ کچھ تاخیر سے آئے اور بتایا کہ بخار کی وجہ سے دیر ہو گئی ہے۔ سی سی پی او عمر شیخ نے اس کی سخت جواب طلبی کی اور اسے معطل اور گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایس پی سول لائنز کو اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور عاصم باجوہ کو تمام سرکاری سہولتوں، گاڑی محافظوں وغیرہ کو واپس لینے کا حکم جاری کر دیا۔ اس احمقانہ حکم کی تعمیل تو کیا ہونی تھی، عاصم افتخار بھی شدید برہم ہو گیا۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور سی سی پی او سے کہا کہ ’’تمیز سے بات کرو، مُکا مار کر منہ توڑ دوں گا‘‘ پھر دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ وہاں موجود دوسرے پولیس افسروں نے بیچ بچائو کرایا اور عاصم بخاری کو باہر لے گئے۔ وہ سیدھا آئی جی کے پاس گیا۔ آئی جی نے سی سی پی او کے رویہ پر سخت ناراضی کا اظہار کیا، اس کے سارے احکام کو معطل کر کے ایس پی سی آئی اے کو بدستور اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کو کہا۔ ایک دلچسپ بات، سی سی پی او کے دماغ کے خمار کا عالم یہ ہے کہ موٹر وے کیس میں زیادتی کی شکار خاتون کو ہی ملزم قرار دے دیا، ہنگامہ مچا تو معافی مانگ لی۔ سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے بلایا تو پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ دوبارہ بلایا گیا تو کمیٹی کے ارکان کی ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دی پھر وہیں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی!! دلچسپ بات کہ ایک صحافی نے ایس پی سی آئی اے کی گرفتاری کے بارے میں سی سی پی او کو فون کیا تو جواب میں میسج آ گیا کہ ’’…ہم نہ ہوں گے تو کسی اور کے چرچے ہوں گے! خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے!‘’
٭سیاست کا نشہ! والد کراچی کے ہسپتال میں، حالت سخت خراب اور بیٹا بلاول باپ کو نازک حالت میں چھوڑ کر اپنے استقبال کی شان دیکھنے لالہ موسیٰ چلا گیا!!
٭بلوچستان اور وزیرستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر خفیہ ایجنسیوں نے اپوزیشن قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ جلسے جلوسوں میں دہشت گردی کا خدشہ ہے، فی الحال انہیں ملتوی کر دیں۔ یہ خدشہ خدانخواستہ درست بھی ہو سکتا ہے مگر بھاری جلسے کے سامنے تقریروں اور تالیوں کے نشہ کا بھوت کیسے اتر سکتا ہے؟ دہشت گردی نہ بھی ہو تو اس سے زیادہ بڑا خطرہ کرونا پھیلنے کا ہے! خدا تعالیٰ خیر کرے اور حکومت اور اپوزیشن کو عقل، دانش اور ملک و قوم کی خیر خواہی کا شعور عطا فرمائے!

تازہ ترین خبریں