07:22 am
کیا ہونے جارہا ہے!

کیا ہونے جارہا ہے!

07:22 am

پی ڈی ایم اور پی این اے کے درمیان ڈانڈے تلاش کرنے کی جستجوئے پیہم جاری ہے ۔ 43سال پرانا ایک سیاسی اتحادجو ایک منزل یا نقطہء انتہا پر آخر کو پہنچ گیا تھا ،اپوزیشن ،حکومت مذاکرات کامیاب ہوچکے تھے ،ایک لحاظ سے معاہدے پر دستخط ہوچکے تھے ، بس اعلان ہونا باقی تھا کہ رات کے اندھیرے میں ساری بساط الٹ دی گئی اور صبح معلوم ہواکہ ایک آمر نے جمہوری حکومت پر شب خون مار دیا ہے اور سب دھرا کا دھرا رہ گیا ۔
شروع میں سب معاملات ایک راز رہے ،مگر جب آمر نے اپنی کابینہ بنائی تو سب کچھ طشت ازبام ہو گیا کہ اس آمریت کے پیچھے کس کس کا ہاتھ تھا۔آمر کی کابینہ میں سب سے زیادہ وزیر جماعت اسلامی پاکستان کے تھے اور یہ کہ اس دور بے اماں میں جماعت کی ذیلی طلبا ء تنظیم کے نوجوانوں کو پرکشش ملازمتوں میں کھپایا گیا ،جو ان برسوں میں ریٹائر ہورہے ہیں  یا ہونے جارہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے جے یو آئی کے سربراہ مولانامفتی محمود ؒ کوایجینسیز کی محنت اور بھٹو حکومت کی بے پایاں کوششوں سے پاکستان  قومی اتحاد کا چیئرمین بنوایا گیا تاکہ ان کی طبعِ حلیم کی وجہ سے حکومت مخالف تحریک میں شدت پیدا نہ ہونے پائے۔تاہم وہ سب قصہء پارینہ ہوا عمران حکومت کے خلاف بننے والے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی سربراہی کا سہرا مولانا فضل الرحمن کے سر اس لئے باندھا گیا ہے کہ وہ طبعی طور پر تلخ مزاج ہیں اور مزاحمت میں دور تک چلے جاتے ہیں ،اسی لئے ان  کوتحریک انصاف کی حکومت کو تاراج کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور یہ بھی کہ ان کے پیچھے دینی مدارس کے طلباء کی ایک فوج ظفر موج ہے جو اِس احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے میں ہراول دستہ ثابت ہوگی ۔
مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوگا ،وقت تبدیل ہوچکا ہے ،پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا ہے ۔وقت کے تقاضے بدل گئے ہیں ،مدارس کی وہ فوج جسے آج بڑی سیاسی جماعتیں مولانا کی قوت گردانتی ہیں ،اسی بھروسے اور یقین پر مولانا کے سر پر دستار فضیلت رکھی گئی ہے ،انہیں خبر ہی نہیں کہ یہ قوت مرحوم و مغفور مفتی صاحبؒ کے دور میں زیادہ مضبوط اور قابل بھروسہ تھی ،وہ چاہتی تو اس وقت کسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی تھی ،ایک اسلامی انقلاب کی وجہ بن سکتی تھی کہ مفتی  صاحب ؒ کی شخصیت مولانا کی شخصیت سے زیادہ جید،پرکشش اور مقناطیسیت رکھنے والی تھی ،مگر ایک اسلامی جماعت ہی کی کرشمہ سازی سے آمر کے ہاتھوں اُس احتجاجی تحریک کو سبوتاژ کروادیا گیا ۔
آج مولانا کے کندھوں پر اس وقت  ذمہ داری ڈالی گئی ہے جب پارلیمان میں ان کی جماعت کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے ۔ایوان سے باہر جس قوت کو ان کا رخت سفر تصور کیا جا رہا ہے وہ مایوسی کے قعر میں اتنی ہی لت پت ہے جتنے وہ پڑھے لکھے نوجوان جو عمران خان کی کمک بنے تھے اور آج عمران خان حکومت سے مایوس ہونے کے باوجود اسی کو امید کی  آخری کرن باور کرتے ہیں ،یہی نہیں بلکہ دینی مدارس کے طلباء کی ایک بڑی تعداد بھی ایک ایسے جادہء منزل کی طرف رواں ہے جہاں ان کے درمیان پائے جانے والے نابغہء روز طلباء  خود کو قومی دھارے میں شامل ہوتا ہوا محسوس کر رہے  ہیں اور اپنے دل میں موجودہ حکومت بارے ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
مولانا کا پی ڈی ایم کا سربراہ بنایا جانا میاں نواز شریف یا زرداری کے لئے تو تنکے کا سہارا بننے کی ایک نشاط آور آرزو ہو،مگر جمہوریت کے لئے آبیاری کسی طور بنے ایسی کوئی صورت نہیں لگتی ۔موجودہ حالات میں جبکہ عسکری قیادت نے واشگاف الفاظ میں یہ عندیہ دیا ہے کہ’’حکومت کی حمایت جاری رکھی جائے گی‘‘۔گویا کہ کہ اپوزیشن کی ساری کوشش برانگیختگی کی ہوگی کہ فوج کسی نہ کسی طرح اقتدار کے موجودہ ڈھانچے کو تحلیل کرکے معاملات کلی طور پر اپنے ہاتھ لے لے ،پھر ایک نیا الیکشن ہو ،اس الیکشن کے نتیجے میں پھر ایک نامعلوم حکومت بنے ،جس پر سلیکٹڈ حکومت کی چھاپ لگے  اور ایک نیا سیاسی اتحاد بنے ،یوں قومی ترقی کا پہیہ کسی طور چلنے نہ پائے۔
اب جبکہ ایک طرف کرونا وائرس کی نئی لہر عود کر آنے کی خبریں گرم ہیں ،اپوزیشن کا لوگوں کو زندگی کی قیمت پر سڑکوں پر لانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے ۔اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔عوام کو ایک انتہائی ابتلا کے وقت میں ،نا گفتہ بہ صورت حال  کے نعرے پر گھروں سے نکالنا بظاہر دانشمندی کا تقاضا ہر گز نہیں لگتا ۔اس سے مولانا کے نفسیاتی زخموں اور میاں نواز شریف کے سیاسی دائو پیچ پر سکون کے پھاہے رکھنے کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔بہتر یہ ہے کہ عمران حکومت جس اندرونی خلفشار اور افراتفری میں کار حکمرانی انجام دے رہی ہے اسے عوام اور تبدیلی کے دیگر عوامل کے لئے اور صبر آزما ہولینے دیا جائے۔
 طاقت کی سیاست کا یہ قضیہ جلسے جلوسوں سے حل نہیں ہوگا کہ کرونا وائرس کا خوف پوری قوم کے بڑے تو کیابچے بچے کے دل و دماغ پر قابض ہے ،کون ہے جو اپنے آپ کو جلتی ہوئی آگ کے شعلوں کی نذر کرتا ہے ۔


 

تازہ ترین خبریں