07:23 am
کرونا فروغ گوجرانوالہ جلسہ عام

کرونا فروغ گوجرانوالہ جلسہ عام

07:23 am

ماہرنجوم پروفیسر غنی جاوید کا موقف تھا کہ زحل کے سبب کرونا پوری شدت سے واپس آئے گا۔2اکتوبر سے کرونا کی واپسی شروع ہے۔ مجھے انہوں نے بتایا تھا کہ 16اکتوبر کا دن بہت اچھا نہیں بلکہ نحوست لئے ہوئے ہے۔ ذرا غور کریں کہ اپوزیشن16اکتوبر کو گوجرانوالہ میں حکومت مخالف اجتماع و جلسہ عام کر رہی ہو‘ وزیراعظم کے مشیران ان کو مشورہ دیں کہ 16اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرکے وزیراعظم اس میں خطاب کریں۔ وزیراعظم نے ایسا ہی کیا۔ مگر جب اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی اور حکومتی ارکان میں کشمکش شروع ہوگئی۔ وزیراعظم عمران خان تقریر کے لئے اٹھے مگر انہیں اسملی ہال کی مخالفانہ فضا نے تقریر ہی نہ کرے دی اور اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ کہ وزیراعظم کو مشورے دینے والے یا تو مدبر نہیں یا مخلص نہیں۔ کیا ضرورت تھی اس دن شیڈول میں نہ ہونے کے باوجود خاص طور پر 16اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے کی۔ یقینا وزیراعظم خان بہت دبائو میں ہیں۔ وہ ابھی نومبر تک تو شدید دبائو میں رہ سکتے ہیں۔ ان کی ابتلاء بہت بڑی ہے۔
ان کا جو مزاج‘ جبلت ہے وہ اس کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ مل کر چل ہی نہیں سکتے‘ وہ تاحال چور اور ڈاکو کہنے کی روش پر قائم ہیں حالانکہ انہیں حکومتی انداز اپنانا چاہیے جو تدبر و فراست کا راستہ ہوسکتا ہے۔ کیا وزیراعظم جو اپوزیشن کو تاحال چور اور ڈاکو کہتے رہتے ہیں کیا وہ انتخابی فضا میں ہیں؟ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم سچ مچ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کی طرف جاسکتے ہیں۔ مگر مجھے تو اگلے چھ ماہ میں نیا انتخاب ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اپوزیشن بھی نئے انتخابات کو حرز جان بنائے ہوئے ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت ایم کیو ایم اور ق لیگ کے  ارکان کے سبب موجود ہے۔ جبکہ پنجاب میں بزدار حکومت صرف ق لیگ کے سہارے قائم ہے۔ یہ وہ کشتی ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ یا ڈوب سکتی ہے۔ مگر نومبر میں پنجاب اسمبلی کے حوالے سے کچھ نئے اقدامات اگر اٹھ جائیں۔ تو حیرت نہیں ہوگی۔
میں نے اوپر کرونا کی واپسی کے حوالے سے ماہر نجوم کی تنبیہ کا ذکر کیا ہے۔ مرکری یعنی عطارد  4نومبر تک غروب ہے۔ اس کا مطلب نحوست ہے‘ کیا اپوزیشن کا گوجرانوالہ کا اجتماع اور جلسہ عام نحوست پیدا کرتا معاملہ ہے؟ دن اور راتیں تو منحوس نہیں ہوتے مگر یہ حضرت انسان کے اپنے عمل ہوتے ہیں جن کے سبب نحوست پیدا ہوجاتی ہے‘ جب بھی قوموں  پر عذاب الٰہی نازل ہو تو ان ایام کو  قرآن پاک میں منحوس دن یعنی ایام نحسات کہا گیا ہے۔
ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے کہ گوجرانوالہ کے جلسہ عام میں  25 ہزار لوگ جمع ہوئے یا ایک لاکھ‘ صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ اس اپوزیشن اجتماع سے ظہور میں کیا کچھ آیا ؟ پہلی بات تو یہ کہ یہ اجتماع طبی لحاظ سے کرونا کے پھیلائو کا کافی بڑا عمل ثابت ہوگیا ہے۔ حاضرین زیادہ تر احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرتے رہے۔ جبکہ اب یہ جلسہ عام کراچی میں بھی ہونے جارہا ہے۔ وہاں بھی کرونا پھیلائو کا عمل اپوزیشن کرے گی۔ گویا اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد‘ مولانا فضل الرحمان‘ نواز شریف‘ مریم نواز‘ بلاول بھٹو وعیرہ یہ سب کرونا فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مجھ سے کئی اطراف سے رابطہ ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعاء لکھوں کہ کرونا پھیلاتے اپوزیشن کے جلسہ ہائے عام  اور اجلاسوں کو ممنوع قرار دیاجائے۔ یاد رہے ماہرین نجوم اس دفعہ کے کرونا کو زیادہ شدید ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ کرونا میں تو مساجدسکول‘ یونیورسٹیاں تک بند کر دی گئیں تھیں مگر اپوزیشن کے اجتماعات کے منفی عمل کو نہ تو حکومت روک سکتی ہے نہ ہی ریاستی ادارے صرف چیف جسٹس از خود نوٹس لے کر اس فروغ کرونا عمل کو رکوائیں۔
جو تقریریں ہوئیں 16اکتوبر کو اس میں مولانا فضل الرحمان نے خود کو عمران خان کی مخالفت تک محدود رکھا ہے مریم نواز نے بھی’’ گو نیازی گو‘‘ کے نعرے لگوائے۔ مگر تاحال نواز شریف عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہی بول رہے ہیں۔ ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ بلاول بھٹو کی پارٹی تاحال قومی اسمبلی کو اندر سے نئی حکومت سازی کے فارمولے پر قائم ہے اور وہ نئے انتخابات کے لئے تاحال سنجیدہ نہیں ہے۔ البتہ نواز شریف‘ ن لیگ نئے انتخابات کے لئے سنجیدہ ہے۔ مگر انہیں معلوم ہے کہ مستقبل قریب میں جہاں پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ بیرونی قوتیں پاکستان کے اندر عدم استحکام‘ انارکی لانے میں بھی مصروف ہیں۔ ایسی غیر مستحکم حالت میں بھلا کہاں سے انتخابات ہونگے۔ لہٰذا دوسرا آپشن ن لیگ کا یہ ہے کہ مارشل لاء ہی لگ جائے تاکہ عمران خان سے نجات ملے اور نئی عسکری حکمران فیصلہ سازی سے مک مکا کرلیا جائے۔
شمالی وزیرستان میں تخریبی کاریاں شروع ہیں گوادر کے اردگرد پھر سے تخریب کاریاں جنم لے چکی ہیں۔ ریاستی ادارے ملک دشمنوں سے نمٹ رہے ہیں۔ بھلا وہ کیونکر سیاسی معاملات میں دخل اندازی کریں گے؟ ویسے بھی سیاست اور حکمرانی اب سیاست دانوں کے پاس ہے لہٰذا انہیں ہی اپنے معاملات طے کرنا ہیں۔ ایک بات تو سب کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کے جلسے‘ اجتماعات عمران حکومت کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ پھر یہ سڑکوں پر مارا ماری کیوں ہے اپوزیشن کی طرف سے؟ جبکہ آپ اسمبلیوں کے اندر سے بھی عدم اعتماد لانے کی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے۔
17اکتوبر سرسید احمد کا دن ہے۔ اس عظیم مدبر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جن اطراف کو سرسید کے کچھ مذہبی خیالات پر اعتراض  ہے انہیں سوچنا چاہیے کہ ہر عظیم شخصیت کے کچھ افکار اس کی انفرادیت کہلاتے ہیں۔ اکثر اس کردار کو دیکھا جاتا ہے جو وہ بطور ریفارمر ادا کرتے ہیں۔ سرسید  برصغیر کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑے ریفارمر تھے۔ خدا انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

 

تازہ ترین خبریں