07:24 am
مولاناڈاکٹر عادل خان شہید،ایک بھائی ،ایک دوست

مولاناڈاکٹر عادل خان شہید،ایک بھائی ،ایک دوست

07:24 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 صحیح معنوں میں ایک بھائی بن کر دکھایا.... ایک دوست ہونے کا حق ادا کیا... پہلے پہل تو وہ پوری طرح گھریلو معاملات،جامعہ فاروقیہ کی تعمیر وترقی اور کچھ علمی مشاغل میں مصروف  رہے پھر جب وہ میدان عمل میں نکلے تو کمال کر دیاخاص طور پر گزشتہ کچھ عرصے سے تو صورت حال یہ تھی کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتاتھا جب ہمارا آپس میں رابطہ نہ ہو،کسی اجلاس میں جانا ہوتا تو ایک ساتھ جاتے،میرا کراچی کا سفر ہوتا تو کہیں نا کہیں ملاقات کی سبیل نکال لیتے,ڈاکٹرعادل خان اسلام آباد آتے تو ہر وقت ہم ساتھ ہوتے-
 کرونا کی عالمی وباء کے باعث جب ساری دنیا میں مساجد بند کردی گئیں....خوف وہراس کی فضا تھی....حرمین شریفین کے دروازے بھی بند کردیے گئے....ہر کوئی اپنی جان بچانے میں لگا تھا...ہر کوئی گوشہ عافیت کی تلاش میں تھا.... بہت سے لوگ قرنطینہ میں چلے گئے تھے.... ایسے میں اللہ رب العزت نے راقم الحروف کو مساجد کھلی رکھنے کے لیے جس محنت کی توفیق عطا فرمائی اس میں ڈاکٹرعادل خان میرے دست وبازو تھے بلکہ سندھ حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات اور کراچی کے معروضی حالات کی وجہ سے ڈاکٹرعادل خان کو زیادہ چیلنجز درپیش تھے لیکن الحمدللہ ہم نے ان حالات کا مقابلہ کیا اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے راستہ نکالا اور پوری دنیا میں پاکستانی قوم کو یہ اعزاز ملا کہ ہماری مساجد کھلی رہیں... اس محنت میں یوں تو ہمیں سب اکابر کا ہی تعاون اور سرپرستی حاصل رہی لیکن سب سے زیادہ سرپرستی شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کی …بعد ازاں مدارس کی بندش کا قضیہ،مدارس کے امتحانات کا معاملہ اور مدارس کھلوانے کی محنت کا آغاز ہوا اس محنت میں بھی ڈاکٹرعادل خان نے بھرپور کردار ادا کیا …اپنی منصبی ذمہ داریوں کی نزاکت کی وجہ سے بعض اوقات جو سخت بات مجھے نہ کہنی ہوتی وہ ڈاکٹرعادل خان سے کہ دیتے.. اس پورے عرصے میں مشاورت،رابطہ،اجلاس،محنت الحمدللہ مسلسل جاری رہی اور ہم ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھے اور اللہ رب العزت نے کرم فرمایا بالآخر مدارس میں اپنی نوعیت کا تاریخ ساز, یادگار،منظم،محتاط اور معیاری امتحان انعقاد پذیر ہوا جس کی قومی اور عالمی میڈیا میں بھر پور پذیرائی ہوئی اور سب حلقوں کی طرف سے بھر پور تحسین کی گئی اور اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے مدارس کی رونقیں بحال کروانے،مدارس میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کروانے کے لیے جن کھٹن حالات میں اللہ رب العزت نے ہم دونوں بھائیوں کو اپنے اکابر کی سرپرستی اور دیگر رفقاء کی رفاقت میں کام کرنے کی توفیق دی اللہ رب العزت اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمالیں اور پھر تحریک دفاع صحابہ کے تو وہ قائد اور سرخیل تھے اس تحریک کے دوران جس انداز سے اللہ رب العزت کے فضل وکرم اور اس کی توفیق سے ہمیں کام کرنے کا موقع ملا یہ سب محض ہمارے کریم پروردگار کا کرم ہے …بظاہر تو ڈاکٹرعادل خان کراچی میں تھے اور میں ملتان میں تھا لیکن تحدیث بالنعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ الحمداللہ ہم نے یک جان اور دو قالب ہوکر کام کیا …اس محنت کے جو اثرات مرتب ہوں گے …اس محنت کی وجہ سے جن جن مسائل ومشکلات سے نجات ملی اور یہ محنت اگر کسی منطقی نتیجے تک پہنچتی ہے تو اس کے ذریعے پاکستان فرقہ واریت سے ہمیشہ کے لیے نجات پا جائے گا اور گستاخی کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیگا اور قیام امن اور استحکام پاکستان کے لیے یہ تحریک جتنی بڑی خیر کا ذریعہ بنے گی اس کاشاید آج اسلامیان پاکستان کو پوری طرح احساس نہیں لیکن وقت بتائے گا کہ ڈاکٹرعادل خان کتنی عظیم محنت کررہے تھے اور اللہ رب العزت نے ہمیں دامے،درمے،سخنے،قدمے ان کی اس محنت کو موثر بنانے اور اس خواب کو تعبیر میں بدلنے کے لیے محض اپنی رحمت سے جو توفیقات عطافرمائیں وہ ہمارے کریم پروردگار کا کرم ہے... ڈاکٹرعادل خان وفاق المدارس کے تعلیمی اور انتظامی امور کو حسن وخوبی سے سرانجام دینے کے لیے آخر وقت تک فکرمند اور متحرک رہے اور اس حوالے سے جو کردار ادا کیا وہ بھی ان کا عظیم صدقہ جاریہ ہے انہوں نے شیخ سلیم اللہ خان کی جانشینی کا حق ادا کردیا.... ڈاکٹرعادل کے اچانک چلے جانے کا دکھ ہے اور بہت ہے لیکن اطمینان اور خوشی بھی ہے کہ انہوں نے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت پائی... سراٹھا کر اور سینہ تان کر غیرت وحمیت والی زندگی پائی ..بالآخر تو سب نے جانا ہی ہے اور ڈاکٹر عادل خان جیسے اللہ رب العزت کے لیے اپنی جان اور لہو کا نذرانہ پیش کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرخرو ٹھہرے وہ قابل رشک ہے- اللہ رب العزت ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائیں اور ان کی محنت  کوبار آور بنائیں۔ آمین

 

تازہ ترین خبریں