07:24 am
پنشن ادائیگیوں کا ٹک ٹک کرتا بم 

پنشن ادائیگیوں کا ٹک ٹک کرتا بم 

07:24 am

 (گزشتہ سے پیوستہ)
ان ریٹائرڈ اہلکاروں کو انتظامیہ،فوجی قانون، سیکیورٹی،تربیت وغیرہ کا پہلے ہی سے کافی علم ہوتاہے۔فوج میں شامل اہلکاروں کو شامل کرنے سے قبل انہیں متعلقہ شعبے میں خصوصی شارٹ کورس / تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ (2) جو افسر یا جوان اس آپشن کے لئے جانا چاہیں، انہیں 60 سال کی عمر کے بعد مکمل پنشن دی جائے۔ (3) کچھ افسروں کے گریڈز سمیت کئی بھرتیوں کا انتخاب براہ راست ان اداروں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔کسی بھی سی اے ایف برانچ / فورس میں ابتدائی بھرتی نہیں ہونی چاہئے۔ ضرورت سے زیادہ تربیتی اسکولوں اور اداروں کو سی اے ایف کے ایک ایک سنٹرل اسکول سے بدل کر بند کردینا چاہیے جس کی شاخیں ہر صوبے میں ہوں، اس کے نتیجے میں بہت بچت ہوگی۔سی اے ایف (سویلین آرمڈ فورسز) کی قیادت بڑی حد تک فوج فراہم کرتی ہے جسے اب اپنے آپریشنل فرائض سے بچایا جائے گا۔ سی اے ایف اور جی ایچ کیو کے تمام شعبوں کے مابین بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب ہوگا کہ سی اے ایف کے لئے سٹریٹجک فورس گروپ کے تحت ملازمت کے لیے ایک علیحدہ ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے جبکہ دوسری صورت میں یہ وزارت داخلہ کے ماتحت رہے۔سی اے ایف وغیرہ میں جوان خون کی مقامی شمولیت کی تلافی کے لیے، ان علاقوں کو فوج میں شمولیت کے لیے اضافی کوٹہ دیا جائے۔
پولیس کا حکومت کے ذریعہ سیاسی بنیادوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے پولیس اہلکاروں کے لیے ممکن ہوگا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کریں۔ ہمارے تھانہ کلچر میں بے حسی اور مکروہ سلوک کو دیکھتے ہوئے،کوئی بھی عزت نفس رکھنے والا شخص تھانے کا رُخ نہیں کرتا۔کسی خاتون کو شکایت درج کروانے کے لئے کسی تھانے بھیجنے کا تصور بھی محال لگتا ہے۔ پولیس کا رویہ اور کارکردگی عوام کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔شہری پولیس تھانوں کو جائے پناہ کے بجائے مقام وحشت سمجھتے ہیں۔اس طرح کے اہلکار یقینی طور پر تھانہ کلچر کو بدل دیں گے۔احاطے میں 24 گھنٹے عدالتی مجسٹریٹ رہنا ضروری ہے۔ایسے سنجیدہ ذہن اور بھرپور اظہار رکھنے والے مجسٹریٹس کہاں پہنچتے ہیں؟ پولیس میں جانے والے فوج کے افسروں کو تبادلے کے لئے پہلے ہی اسلام آباد میں موجودہ پولیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے تحت کم سے کم 06 ماہ کی تربیت دی جائے۔ فوج کے جوانوں کو پولیس ٹریننگ مراکز میں یا آرمی کے تحت منظم ہونے والے ایک دو  ماہ کی تربیت کی دی جائے۔
تھانے میں مجسٹریٹ / (نچلی عدالتوں میں) ججز اور چوبیس گھنٹے پوری نفری برقرار رکھنے کے لئے، ریٹائرڈ آرمی افسران جو  قانون جانتے ہوں،کی تعیناتی انتہائی مؤثر ثابت ہوگی۔ افسران ’’کیپٹن ٹو میجر‘‘ ترقی کا  امتحان پاس کیے بغیر میجر نہیں بن سکتے اس میں بطور مضمون ’’ملٹری لاء‘‘ شامل ہوتا ہے۔ آپ کو فوجی قانون کے نفاذ کے لئے سول قانون کا عملی علم حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اضافی تربیت / قانونی تعلیم سے یقینی طور پر بہتر نتائج فراہم ہوں گے اور عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا۔زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی  اور حکومت کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔
ریاست کو ان تجاویز سے یہ فوائد حاصل ہوسکتے ہیں (1) کمیوٹیشن کی ادائیگی میں تاخیر (ایک بہت بڑا بوجھ) اور تقریبا 15 سال تک بقیہ پنشن میں بہت بڑی رقم کی بچت ہوگی۔ یہ خاص طور پر اس وقت ملک کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف ہوگا جب ہمیں ایک ایک پیسے کی ضرورت ہے۔ (2) سی اے ایف ہیڈ کوارٹرز کے تحت سی اے ایف کے تمام شعبوں کے لئے ایک ٹریننگ سنٹر رکھنے سے ظاہر ہے کہ ریاست کو بڑی بچت ہوگی۔(3) ہر وقت سی اے ایف کو تربیت یافتہ / نظم و ضبط / تجربہ کار افرادی قوت کی مسلسل دستیابی ممکن ہوگی۔ (4) مسلح افواج کے سابقہ افسران کو مجسٹریٹ / جج / اساتذہ کی حیثیت سے ایڈجسٹ کیا جاسکے گا اور پولیس اسٹیشنوں میں کام کرنے والے مجموعی طور پر مروجہ کلچر کو تبدیل کریں گے جو بالآخر ریاست کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ (5) مجسٹریسی / جونیئر کورٹ کے ججوں میں کمی دور ہوجائے گی۔ (6) خاص طور پر دیہی علاقوں میں اسکول اساتذہ اور انتظامیہ کی کمی ہے۔ این سی اوز، جے سی اوز اور ضروری کورسز اور تربیت کے بعد افسران خاص طور پر اپنے گھر کے قریب ان جگہوں کو پُر کرسکتے ہیں۔
افراد کے لیے فوائد حسب ذیل ہیں:-(1) سول گورنمنٹ سرونٹس کی طرح ساٹھ سال کی خدمات کا ایک مکمل عرصہ انہیں ملازمت کا تحفظ فراہم کرے گا (2) سرکاری ملازمین کی طرح، وہ بھی اس وقت تک اپنی بنیادی پریشانیوں سے آزاد ہوں گے (3) دوسری نوکری کے لئے بھاگ دوڑ  نہیں کرنا پڑے گی۔ یہاں یہ تجویز بھی اہم ہے کہ  (1) افسروں اور جوانوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ 45 سال کی عمر کے بعد باقاعدہ سروس چھوڑ دیں تاہم انہیں ساٹھ سال کی ملازمت کے بعد پنشن / کمیشن مل جائے گا۔ 
(2) سی اے ایف میں وہ 60 سال کی عمر تک خدمات انجام دیں گے۔ (3) سوائے ان لوگوں کے جو 45 سال کی عمر کے بعد خدمت جاری رکھنے کا آپشن استعمال نہیں کرنا چاہتے، پالیسی کے تحت تمام سپاہی،جے سی اوز اور این سی اوز خود بخود سی اے ایف میں منتقل کردیے جائیں گے۔(4) ملازمت کے لئے اسٹریٹجک فورس کمانڈ ڈھانچے کے تحت سی اے ایف ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے گا جبکہ تنخواہ / پنشن کے لیے وزارت داخلہ کے تحت رہیں گے۔ متعدد ہیڈکوارٹرز کی کثیر تعداد ختم کرنے سے بہت ساری بچت ہوگی۔ (5) سی اے ایف کے تمام شعبوں کے لئے صرف ایک تربیتی مرکز (یا فی صوبہ ایک) کے ساتھ ریاست کے لئے ایک اور بڑی بچت ہوگی۔ (6) پولیس کالج سہالہ میں چھ ماہ تک پولیس جانے والے آرمی افسران کی ٹریننگ انتہائی اہم ہوگی (7) اگر ان کا چین آف کمان وزیر اعلی کی بجائے گورنر کو رپورٹ کرے تو تھانہ پولیس نئے نظام کے تحت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ (8) انڈکشن کے عمل کے دوران مقابلہ اور بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ معیارات کو لازمی طور پر ملحوظ رکھنا ہوگا۔ اس کے لئے جامع ریگولیٹری میکانزم کی ضرورت ہوگی۔
 فوجی ذہن عام طور پر تبدیلی کے لئے بہت مخالف ہوتا ہے، نئے خیالات سوچنے والے منقسم ہیں۔ تاہم افسر کور کا معیار ایک عشرے یا اس سے زیادہ سے پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے، وہ کہیں زیادہ بہتر تعلیم یافتہ،بہتر تربیت یافتہ اور مختلف رینکس کے ذریعے زبردست جنگی تجربہ حاصل کرلیتے ہیں،وہ تبدیلی کے لیے کہیں زیادہ قابل قبول معلوم ہوتے ہیں۔اس جمود کو توڑنے کے لیے ہماری عسکری قیادت کو مشکل مگر مثبت فیصلے لینا ہوں گے۔ قومی ترقی کے لیے اس دشوار راستے سے ہمیں کبھی نہ کبھی گزرنا ہی گا۔ 
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

 

تازہ ترین خبریں