07:26 am
اپوزیشن کا بڑا جلسہ! مزید جلسے!

اپوزیشن کا بڑا جلسہ! مزید جلسے!

07:26 am

٭گوجرانوالہ میں ن لیگ کا جلسہ ختم، کل کراچی میں اپوزیشن اتحاد کا جلسہ ہو گا!O اپوزیشن نے گوجرانوالہ کے جلسے میں بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیاO جلسہ مقررہ چھ گھنٹے کی بجائے9 گھنٹے میں ختم ہوا، مولانا فضل الرحمان مقررہ وقت کے بعد پہنچے، نوازشریف نے پھر فوج کو دھمکیاں دیں O جلسہ میں کسی مقرر نے اس دن خان لیاقت علی کی برسی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تازہ مظالم اور شہادتوں کا ذکر نہیں کیا O کرونا اچانک تیز ہو گیا، گزشتہ روز17 اموات O کراچی، کل جلسے کے لئے 50 ہزار کرسیاں لگیں گیO بھارت میں کرونا 75 لاکھ مریض، ایک لاکھ 13 ہزار اموات O مولاناعادل خاں کی شہادت، ساتواں دن، کوئی گرفتاری نہیں ملک بھر میں علما کا احتجاج، ہڑتال O قومی اسمبلی، اپوزیشن کا سخت شور شرابا، وزیراعظم عمران خاں ایوان سے چلے گئے۔ مہنگائی مزید بڑھ گئی، پٹرول ایک روپیہ 14 پیسے مزید مہنگاO سٹیل ملز سمیت متعدد بڑے اداروں کی نجکاری کا فیصلہ۔
٭گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا جلسہ بلاشبہ بہت بڑا تھا۔ اس میں مقررین کی تقریروں کی تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ حکومت کے خلاف یہ باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں۔ یہاں کچھ دوسری باتوں کا ذکر ہو گا۔ اس جلسے کے لئے اپوزیشن کی قیادت نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا تھا کہ جلسہ پانچ بجے شام سے 11 بجے رات تک ہوگا۔ اس میں حاضرین تین فٹ کے فاصلہ پر بیٹھیں گے، کرونا کی ساری شرائط پر عمل ہو گا، ہر شخص ماسک پہنے گا۔ اہم بات یہ کہ جلسے میں فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی بات نہیں ہو گی۔ ان میں سے کسی بات پر بھی عمل نہیں ہوا، جلسہ گیارہ بجے ختم ہونے کی بجائے دو بجے رات ختم ہوا، ہزاروں افراد میں صرف چند افراد نے ماسک پہنے، باقی سب ماسک کے بغیر رہے، کرسیوں میں تین فٹ کا فاصلہ ختم کر دیا گیا۔ مقررین میں بلاول کے سوا کسی نے ماسک استعمال نہیں کیا، سٹیج پر ایک دوسرے سے جُڑ کر بیٹھے، اور اہم بات یہ کہ نوازشریف، مریم نواز اور بلاول نے کھل کر فوج کو نشانہ بنایا، اسے انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیا اور اپوزیشن کا ساتھ دینے کی ہدایات دی! نوازشریف نے پھر لندن سے تقریر کی اور کھلے الفاظ میں فوج کو انتباہ کیا کہ ’’…اب اصل قصور والوں (فوج!) کو سامنے لانے سے نہیں ڈریں گے‘‘ بلاول نے بار بار ’سلیکٹرز‘ اور سلیکٹڈ کے نام لے کر الزامات لگائے۔ اور پیپلزپارٹی کے ارکان کو ہدائت جاری کی کہ وہ ’’فائنل لڑائی کے لئے تیار رہیں‘‘ مریم نواز نے سیدھے سیدھے کہا کہ ’’ نااہل نالائق سلیکٹڈ وزیراعظم خود ہی چلا جائے ورنہ اسے اٹھا کر باہر پھینک دیں گے‘‘ اور مولانا فضل الرحمن نے دہرایا کہ ’’جعلی وزیراعظم کی جعلی حکومت کو دسمبر دیکھنا نصیب نہیں ہو گا!‘‘ باقی مقررین نے وہی باتیں جو وہ پہلے بھی بار بار کہہ چکے ہیں۔ ایک اہم بات کہ بلاول نے وزیرآباد میں کہا کہ پارلیمنٹ کو گھر نہیں بھیجا جا سکتا، جو کچھ ہو گا، پارلیمنٹ کے اندر ہی ہو گا۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کون سی پارلیمنٹ؟ ہم اسے نہیں مانتے ایک بات ناقابل فہم ہے کہ جلسہ پانچ بجے شروع ہونا تھا۔ لاہور سے گوجرانوالہ کا فاصلہ تقریباً 60 کلو میٹر ہے۔ مریم نواز بہت بڑی ریلی کے ساتھ 9 بجے سے پہلے پہنچ گئیں، مگر مولانا کی چار بسیں لاہور سے ساڑھے چھ گھنٹے بعد پہنچیں۔ وہ لاہور سے روانہ ہی دس بجے کے بعد روانہ ہوئے اور ساڑھے گیارہ بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ وہ لاہور میں اتنی دیر کیوں بیٹھے، ہے؟ وہی اس کی وجہ بتا سکتے ہیں۔ اس دوران مریم نواز نے چھ بار ان سے رابطہ کیا۔ کیا وہ اس بات پر ناراض تھے کہ لاہور آمد پر ان کا اچھا استقبال نہیں کیا گیا؟ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گوجرانوالہ کا یہ جلسہ ن لیگ کا تھا مگر اسے اپوزیشن کے نئے اتحاد کا جلسہ بنا دیا گیا۔ ایک بات یہ کہ حکومتی ترجمانوں کے مطابق اس جلسے کے اہتمام پر اپوزیشن کے ایک ارب تین لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے۔ جلسے میں ایک سٹیج اور 20 ہزار کرسیاں تھیں، ان پر چند لاکھ روپے خرچ ہو گئے ہوں گے۔ ایک ارب کی بات فضول ہے۔ بلکہ یہ کہ جلسے پر خود حکومت کے بے تحاشا اخراجات ہوئے۔ 9 گھنٹے مسلسل جناح سٹیڈیم کی جلسہ گاہ کی طاقت ور لائٹیں جلتی رہیں، جلسہ کی سکیورٹی کے لئے عام پولیس کے سینکڑوں اہلکار ڈیوٹی پر تھے۔ جلسے کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لئے دو ایس پی، پانچ ڈی ایس پی، 100 انسپکٹر اور سب انسپکٹر تو مقامی پولیس سے لئے گئے، 100 عدد اضافی ریزرو دستے، ایلیٹ فورس کی 25 ٹیمیں اور پنجاب کانسٹیبلری کے 50 اضافی دستے بھی موجود تھے۔ یہ سینکڑوں اہلکار ایک دوز پہلے بھی مختلف شہروں سے پہنچ گئے تھے۔ ان کی رہائش، خوراک اور مسلسل ڈیوٹی پر بھاری اخراجات ہوئے۔
٭حکومت کا رویہ بھی حسب روائت مضحکہ خیز تھا۔ وزیراعظم اور پھر وزیراطلاعات نے اعلان کیا کہ اپوزیشن کو جلسے کے لئے حکومت کنٹینر فراہم کرے گی۔ اس نے واقعی بے شمار کنٹینر جاری کئے مگر انہیں جلسہ گاہ پہنچانے کی بجائے نہ صرف گوجرانوالہ بلکہ لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ، گجرات وغیرہ میں سڑکیں بند کرنے پر لگا دیا! چلیں پہلا جلسہ ختم ہوا۔ شکر ہے پرامن رہا! اب کل کراچی میں باغ جناح پر پیپلزپارٹی کی میزبانی میں اپوزیشن اتحاد کا جلسہ ہو گا۔ اگلا جلسہ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں، کل بارہ جلسے ہوں گے۔ خدا کرے پرامن رہیں۔
٭ادھر حکومت نے عین گوجرانوالہ کے جلسے کے وقت پر قومی اسمبلی کا اجلاس رکھ لیا تا کہ اپوزیشن کے ارکان جلسے میں نہ جا سکیں۔ یہ صریح کم ظرفی تھی! چند ارکان کے نہ جانے سے جلسہ نہ ہو سکتا؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خاں بھی آئے، اپوزیشن نے اتنا شور مچایا، اتنا ہنگامہ کیا کہ صرف 23 منٹ تک ایوان میں بیٹھے، اس دوران مسلسل ’گو عمران گو‘ کے نعرے گونجتے رہے اور وزیراعظم کسی تقریر کے بغیر ایوان سے چلے گئے! کیا حاصل ہوا اس اجلاس سے سوائے تمسخر اڑانے کے؟ اسی دوران کبھی باہر دکھائی نہ دینے والی خاتون وزیر شیریں مزاری نے اپوزیشن کو ’کچرا‘ قرار دے دیا اس پراپوزیشن کے مولانا عبدالشکور نے شیریں مزاری کے بارے میں ایسے الفاظ کہہ دیئے کہ جنہیں تہذیب، بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی!!
٭قارئین کرام! ان بوجھل باتوں سے ذرا ہٹ کر ایک ذاتی معاملہ: میں کئی برسوں سے روزانہ گھر کے کسی حصے میں پرندوں کے لئے کھانا اور پانی رکھتا رہا ہوں۔ آٹھ ماہ سے ایک دوسری جگہ مقیم ہوں۔ یہاں بھی روزانہ صبح گھر کے ایک حصے میں پرندوں کے لئے کھانا اور پانی رکھنا شروع کیا۔ کھانا رات کے وقت پانی میں رکھی روٹیوں کے ملیدہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ میں نے نئی جگہ پر پہلے روز کھانا رکھا۔ اس وقت آٹا تقریباً 55 روپے کلو، چینی 65 روپے کلو تھی۔ کھانا کھانے کے لئے پہلے روز دوکوے، دو شارکیں اور دو تین چڑیاں آئیں۔ اگلے، روز تین کوے، چار شارکیں، چار چڑیاں آ گئیں۔ یہ سلسلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب روزانہ تقریباً بارہ کوے، اتنی ہی شارکیں اور بہت سی فاختائیں، بے شمار چڑیاں، لمبی چونچ والے ہُد ہُد اور دوسرے عجیب و غریب پرندے بھی صبح سویرے دیواروں پر آ بیٹھتے ہیں۔ مجھے آتا دیکھ کر خیرمقدمی آوازیں نکالتے لگتے ہیں۔ یہ بہت خوش کن منظر ہوتا ہے۔ مگر!! مگر !! قارئین کرام! ایک مسئلہ پیدا ہو گیا کہ آٹا 55 روپے کی بجائے 80 روپے کلو ہو گیا ہے۔ آٹھ روپے والا نان 15 روپے کا، سادہ چھ روپے والی روٹی دس روپے کی (وہ بھی چھوٹی!  ہو گئی ہے۔ ادھر آٹا اور روٹی مہنگی ہوتی جا رہی ہے، ادھر پرندوں کی تعداد روزانہ بڑھتی جا رہی ہے، دور دور سے آنے لگے ہیں! کہ کیا کیا جائے؟ پرندوں کی تعداد کم نہیں کی جا سکتی، آٹا ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے! سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کیا جائے؟؟ معصوم پرندوں کو کیا پتہ کہ وزیراعظم کے مہنگائی کے خلاف ہر نوٹس پر وہ پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہے! مجھے حبیب جالب یاد آ رہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت گندم پانچ روپے من ہوتی تھی۔ ایوب خاں کے دور میں کچھ مہنگی ہوئی تو حبیب جالب نے پاک ٹی ہائوںکے باہر مال روڈ پر قائداعظم کے نام بلند آواز سے نئی نظم بلند آواز سے پڑھنی شروع کر دی کہ ’’بابا! تیرے دیس میں آٹا چالیس روپے من!!‘‘ مارشل لا کا دور تھا۔ نظم پوری ہوتے ہی پولیس نے اسے پکڑ لیا اور پرانی انارکلی تھانے میں لے گئی۔ ٹی ہائوں میں بیٹھے ادیب شاعر بھاگتے ہوئے تھانے میں گئے، پولیس نے جالب کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تو ادیبوں شاعروں نے تھانے کے گیٹ پر دھرنا دے دیا۔ پولیس نے جالب کو یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا کہ جناب! ہم تو خود حبیب جالب کے پیروکار ہیں۔ وہ ہماری ہی بات کر رہا ہے مگرکیا کریں! ملازمت کی مجبوری ہے!!۔ حبیب جالب تو 40 روپے من آٹے پر بول پڑا تھا۔ اب آٹا 2800 روپے من ہو گیا ہے! کوئی حبیب جالب!!
 

تازہ ترین خبریں