02:05 pm
گلبدین حکمت یار ، ماضی اور حال

گلبدین حکمت یار ، ماضی اور حال

02:05 pm

گلبدین حکمت یار پاکستان کے  دورے پر تشریف لائے ، یہاں انہو ں نے صدر مملکت، وزیر خارجہ اور سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں، گلبدین کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے  تو ’’مکس اچار‘‘ کا تصور ابھر کر سامنے آجاتا ہے … سوویت یونین کے خلاف جہاد میں شریک افغانستان کے یہ رہنما نائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے حامی نیٹو اتحاد کے خلاف جاری جہاد سے تقریباً قطع تعلق رہے… اور پھر چند سال قبل دنیا نے یہ نظارہ بھی کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا کہ وہ امریکی کٹھ پتلی کابل حکومت کے دستر خوان پر مل بیٹھے، ملا محمد عمر مجاہد کے طالبان کو سلام کہ وہ نہ صرف سوویت یونین کے خلاف لڑے بلکہ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی جہاد کے بل بوتے پر خاک  چانٹے پر مجبور کر دیا۔
گلبدین حکمت یار کے ہمعصر افغان قائدین میں سے  بعض دنیا سے رخصت ہوگئے، مثلاً مولوی یونس خالص مرحوم، پروفیسر برہان الدین، پروفیسر صبغت اللہ مجددی، حق و صداقت کی نشانی مولوی جلال الدین حقانی، سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی کامیابی کے بعد … گلبدین حکمت یار کی جنگ جس کے خلاف رہی وہ احمد شاہ مسعود مارے جاچکے ، جی ہاں   ، یہی وہ احمد شاہ مسعود تھے کہ جن کے ساتھ جنگ میں افغان جہاد کے سارے ’’ثمرات‘‘ جھونک  ڈالے گئے … گلبدین اور احمد شاہ مسعود کی اس آپسی جنگ نے کابل کو کھنڈرات میں تبدیل کر ڈالا ، اس آپسی جنگ میں ہزاروں انسان مارے گئے … مسلم ممالک کی وہ کون سی معزز شخصیت تھی کہ جس  نے گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کو اس آپسی جنگ  سے روکنے کی کوشش نہ کی ہو؟ انہیں بیت اللہ لے جاکر معاہدے کروائے … لیکن یہ واپس جیسے ہی افغانستان پہنچتے آپس کی اس جنگ کے بھڑکتے شعلوں  پر مزید پٹرول چھڑک دیتے … ایسے ہی ایک امن مشن میں یہ خاکسار بھی شامل رہا … اس امن مشن کی قیادت قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن کررہے تھے … اس امن مشن میں مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا محمد مسعود ازہر، مولانا فاروق کشمیری ، جمعیت علماء اسلام پنجاب کے امیر مولانا سید امیر حسین گیلانی مرحوم، کمانڈر سجاد افغانی شہید و دیگر بھی شامل تھے… ہم  سیروبی میں ایک دن گلبدین حکمت یار کے پاس ٹھہرے … مولانا فضل الرحمن نے انہیں ہر ممکن طریقے سے  احمد شاہ مسعود اور صدر صبغت اللہ مجددی سے جنگ سے باز رکھنے کی کوششیں کیں … انہیں سمجھایا کہ کابل پر بمباری کرنے سے وہاں مزید ابتری اور بربادی پھیل رہی ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ مولانا کے پاس لفظوں کی کمی ہے اور نہ دلائل کی  … ذرا سوچیئے کہ وہ کون سی دلیل ہوگی کہ جو مولانا فضل الرحمن نے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے حکمت یار کی خدمت میں پیش نہ کی ہوگی؟ گلبدین حکمت یار نے مولانا کی ہر دلیل سے اتفاق کیا … لیکن ’’جنگ‘‘ آپس کی نفرتوں کی ساری ذمہ داری اپنے مخالف احمد شاہ مسعود کے سر ڈال دی  اور کہا کہ جتنے دن مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آیا ہوا علماء کرام کا وفد کابل رہے گا میری طرف سے مکمل جنگ بندی رہے گی … اور کابل کی طرف  کوئی گولہ فائر نہیں ہوگا … پھر ہم کابل پہنچے جہاں مولانا کی قیادت میں آنے والے امن مشن کا استقبال اس وقت کے وزیر دفاع احمد شاہ مسعود نے کیا … کابل کے صدارتی محل میں اس وقت کے صدر پروفیسر صبغت اللہ مجددی، مستقبل میں افغان صدر بننے کیلئے تیار ، پروفیسر برہان الدین ربانی، پروفیسر استاد سیاف وغیر ہ سے خوب نشستیں جمیں، کابل کے صدارتی محل میں مولانا کے حکم پر اس خاکسار کو اذان دینے کی سعادت بھی حاصل ہوئی … مولانا فضل الرحمن اور وفد میں شریک دیگر علماء نے ان کے سامنے گلبدین حکمت یار کے تحفظات  اور اشکالات بھی رکھے اور انہیں یہ بتانے کی کوشش بھی کی کہ آپ لوگوں کے آپس کے جنگ و جدل سے دنیا میں غلط پیغام جارہا ہے … خدارا ، آپس کی جنگ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے دست و بازو بنیئے، 16 لاکھ شہداء افغانستان کی قربانیوں کو ضائع ہونے سے بچالیجئے، کمانڈر احمد شاہ مسعود سے کئی ملاقاتوں کے بعد میرا ذاتی تاثر یہ تھا کہ  بلاشبہ موصوف ایک ذہین اور دلیر کمانڈر تھے … اگر کمانڈر احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار آپس کے جنگ و جدل اور قتل و قتال کی بجائے ایک  دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے مل کر افغانستان کی تعمیر نو کا کام کرتے تو خد ا کی قسم آج افغانستان کے حالات بہت مختلف ہوتے … اور نہ ہی مرحومملاء محمد عمر مجاہد کو ’’طالبان‘‘ کے نام سے نیا لشکر بنانا پڑتا۔
بلاشبہ سوویت یونین کی تباہی میں حکمت یار کا بڑا کردار شامل رہا لیکن مورخ یہ سوال ضرور اٹھائے گا کہ جس وقت امریکہ نیٹو فورسز کے ہمراہ افغانستان پر پاگل ہاتھیوں کی طرح چڑھ دوڑا تھا اس وقت طالبان حکومت کے پاس نہ فضائی قوت تھی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی لڑاکا طیارہ تھا … تب  حکمت یار کہاں تھے؟ ان کے مجاہدین کہاں کام آئے؟  چلیں مورخ کے  یہ تلخ سوالات ہم نہیں پوچھتے … پیچھے مٹی ڈال کر آگ بڑھتے ہیں … گلبدین حکمت یار اپنے دوسرے گھر ’’پاکستان‘‘ تشریف لائے تو میرے دل کی بات کہہ گئے ، وہ بات کیا ہے؟ ذرا آپ بھی پڑھ لیجئے، میڈیا کی خبروں کے مطابق … گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ’’افغانستان میں امریکہ، نیٹو، سوویت یونین  سب کو شکست ہوئی … امریکہ کے جانے بعد کوئی بھی د وسرا ملک یاقوت یہاں نہیں ٹھہر سکتی، افغان حکومت جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتی، یہ بات سو فیصد درست ہے  کہ افغان کٹھ پتلی حکومت جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتی ، ظاہر ہے کہ جنگ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہو  جائے گی تو پھر … اشرف غنی اینڈ کمپنی کو کابل کی چند گلی محلوں تک محدود حکومت سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے … امریکہ کی نظروں میں ان کی حیثیت اور مقام بھی پہلے والا نہیں رہے گا … تو کابل کی کٹھ پتلی حکومت بھلا کیوں چاہے گی طالبان اور امریکہ کے درمیان صلح ہو جائے ؟ البتہ ان کا یہ کہنا سمجھ سے بالاتر ہے کہ ’’دوحہ مذاکرات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا … مذاکرات افغان ایوان صدر اور طالبان کے درمیان ہو رہے ہیں … ہم اس کا حصہ نہیں‘‘ جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ دوحہ مذاکرات ہوں یا کسی دوسرے مقام پر ہونے والے مذاکرات … یہ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہو رہے ہیں … کابل کے ایوان صدر کے پیچھے بھی امریکہ ہی کھڑا ہے ، کابل حکومت کو اسی لئے تو امریکی کٹھ پتلی حکومت کہا جاتا ہے۔
ان مذاکرات میں حکمت یار اس لئے شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ امریکہ اور نیٹو کے خلاف جاری جہاد سے دور ہے … امریکہ کو عبرت ناک شکست سے ملا محمد عمر کے طالبان نے دوچار کیا … ایک وقت میں تو گلبدین حکمت یار بھی اسی حکومت کا حصہ بنے تھے مگر طالبان اس وقت بھی امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف برسر پیکار رہے، طالبان افغان سرزمین سے امریکیوں کو بھگانا چاہتے ہیں … جب کہ امریکی بھاگنے کیلئے تیار  بیٹھے ہیں … اب جب مذاکرات ہوں گے تو ’’بھگانے‘‘ اور ’’بھاگنے‘‘ والوں کے درمیان  ہی ہوں گے… نہ کہ پڑوسیوں یا پھر تماش بینوں کے ساتھ؟ میرے دل میں چونکہ  حکمت یار کا ابھی بھی احترام موجود ہے اس لئے اس موضوع کو یہاں پر ہی چھوڑ کر آگے بڑھتے  ہیں … کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں قیام امن کو ممکن بنانے اور طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں پاکستان کا سب سے زیادہ کردار رہا ہے ، لیکن دہلی اور اسلام آباد کو ایک نکتے پر بلانے کی صدائیں لگانا … پہلی بات تو یہ ہے کہ ’’دہلی‘‘ کا افغانستان میں کردار ہمیشہ شاطرانہ رہا … دہلی نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ، افغانستان کے معاملے پر دہلی اور پاکستان برابر کیسے ہوسکتے ہیں؟ وطن عزیز پاکستان اور پاکستانی قوم کے جوانوں نے افغانستان کو عالمی اوباشوں کے چنگل سے چھڑانے کیلئے  جو قربانیاں پیش کیں وہ انتہائی بے مثال بھی ہیں اور لازوال بھی،(وما توفیقی الا باللہ)

 

تازہ ترین خبریں

ضمنی الیکشن سے قبل پنجاب میں عمران خان کو بڑی کامیابی مل گئی

ضمنی الیکشن سے قبل پنجاب میں عمران خان کو بڑی کامیابی مل گئی

عید الاضحی کے موقع پر قومی ائیرلائن نے مسافروں کو بڑی خوشخبری سنا دی

عید الاضحی کے موقع پر قومی ائیرلائن نے مسافروں کو بڑی خوشخبری سنا دی

عوام کیلئے بجلی کا ایک اور زوردار جھٹکا، فی یونٹ قیمت میں ہوشربا اضافے کی منظوری دیدی گئی

عوام کیلئے بجلی کا ایک اور زوردار جھٹکا، فی یونٹ قیمت میں ہوشربا اضافے کی منظوری دیدی گئی

بنی گالہ میں عمران خان کی رہاشگاہ میں فائرنگ، کس کو گرفتارکر لیا گیا؟ ہلچل مچ گئی

بنی گالہ میں عمران خان کی رہاشگاہ میں فائرنگ، کس کو گرفتارکر لیا گیا؟ ہلچل مچ گئی

مریم نواز کے بعدآصفہ زرداری کو بھی میدان میں اتارنے کا فیصلہ ، بڑی خبر آگئی

مریم نواز کے بعدآصفہ زرداری کو بھی میدان میں اتارنے کا فیصلہ ، بڑی خبر آگئی

آگئی وہ خبر جس کا انتظارتھا،وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے پوری قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

آگئی وہ خبر جس کا انتظارتھا،وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے پوری قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

خام تیل کتنا سستا ہونیوالا ہے؟ ماہرین کی پیشنگوئی نے ہلچل مچا دی

خام تیل کتنا سستا ہونیوالا ہے؟ ماہرین کی پیشنگوئی نے ہلچل مچا دی

5مخصوص نشستیں ملتے ہی تحریک انصاف کوبڑا جھٹکا لگ گیا

5مخصوص نشستیں ملتے ہی تحریک انصاف کوبڑا جھٹکا لگ گیا

دعا زہرہ کیس، عدالت نے نکاح خواں اور گواہ کو بڑا جھٹکادیدیا

دعا زہرہ کیس، عدالت نے نکاح خواں اور گواہ کو بڑا جھٹکادیدیا

برطانوی وزیراعظم مستعفی ؟ سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی

برطانوی وزیراعظم مستعفی ؟ سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی

مون سون بارشوں کا طاقتور سلسلہ ،محکمہ موسمیات نے ہلکی تیز بارشوں کی پیشنگوئی کر دی

مون سون بارشوں کا طاقتور سلسلہ ،محکمہ موسمیات نے ہلکی تیز بارشوں کی پیشنگوئی کر دی

26مئی کو عمران خان کو کنٹینر پر کیا پیغام ملا کہ عمران خان ڈی چوک کی بجائے بنی گالہ چلے گئے ؟رانا ثنا اللہ کا تہلکہ خیز دعویٰ

26مئی کو عمران خان کو کنٹینر پر کیا پیغام ملا کہ عمران خان ڈی چوک کی بجائے بنی گالہ چلے گئے ؟رانا ثنا اللہ کا تہلکہ خیز دعویٰ

عید الاضحی سے قبل بڑے شہر میں د ھ م ا ک ہ ، جانی نقصان ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبرآگئی

عید الاضحی سے قبل بڑے شہر میں د ھ م ا ک ہ ، جانی نقصان ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبرآگئی

عمران ریاض نے میرے ساتھ یہ گھٹیا حرکت کی ، خاتون صحافی ناجیہ اشعر نے سنگین الزام عائد کر دیا

عمران ریاض نے میرے ساتھ یہ گھٹیا حرکت کی ، خاتون صحافی ناجیہ اشعر نے سنگین الزام عائد کر دیا