02:07 pm
مکالمہ بین المذاہب کے مختلف دائرے اور اہداف

مکالمہ بین المذاہب کے مختلف دائرے اور اہداف

02:07 pm

(وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے شعبہ عربی کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کا ایک حصہ)
 مکالمہ بین المذاہب پر اس وقت دنیا میں مختلف سطحوں پر ہونے والی گفتگو کا پس منظر کیا ہے؟ اور اس میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ میں اسے تین حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک یہ کہ مکالمہ بین المذاہب کا دائرہ کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں اس کے اہداف و مقاصد کیا ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ اسلامی نقطہ نظر سے اس کے معروضی تقاضے کیا ہیں؟
(1) مکالمہ بین المذاہب کا ایک دائرہ یہ ہے کہ سرے سے مذہب کی کوئی ضرورت انسان کو فرد یا معاشرے کی سطح پر ہے بھی یا نہیں؟ دنیا میں ایسے لوگ اور طبقات کثیر تعداد میں موجود ہیں جو مذہب کو سرے سے انسان کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کی نفی کرتے ہیں، اسے انسان کے لیے نقصان دہ تصور کرتے ہیں اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے ساتھ مختلف دائروں میں مکالمہ جاری ہے مگر یہ مکالمہ مذاہب کے درمیان نہیں بلکہ مذہبیت اور لا مذہبیت کے درمیان ہے، لیکن کچھ مخصوص مقاصد کے لیے اسے مکالمہ بین المذاہب کے عنوان کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
(2) دوسرا دائرہ یہ ہے کہ مذہب اگر انسان کے لیے ضروری اور فائدہ مند ہے تو کیا یہ صرف فرد کے فائدہ یا ضرورت کی چیز ہے یا انسانی سوسائٹی اور معاشرہ کے لیے بھی اس کی افادیت و ضرورت موجود ہے؟ موجودہ انسانی سوسائٹی میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو فرد کے لیے تو مذہب کی ضرورت و افادیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن سوسائٹی اور معاشرے سے اس کو لا تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرد کے لیے مذہب فائدے اور ضرورت کی چیز ہو سکتی ہے لیکن مذہب کو سوسائٹی اور معاشرے کے اجتماعی معاملات میں دخیل نہیں ہونا چاہیے۔ آج کے تمام تر مغربی فلسفے کی بنیاد اسی تصور پر ہے۔ انقلاب فرانس کے ساتھ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی کی گئی تھی اور مغرب نہ صرف خود مذہب کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے بے دخل کیے ہوئے ہے، بلکہ ہم سے بھی تقاضا کر رہا ہے کہ ہم مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبردار ہو جائیں۔ چند سال قبل واشنگٹن میں میرے قیام کے دوران کچھ دوست مجھے ملے جنہوں نے اپنا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کسی شعبہ سے بتایا اور کہا کہ دنیا بھر کے انسانی معاشروں میں مذہب کی واپسی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور ہم بعض حلقوں کی اس تشویش پر کام کر رہے ہیں کہ سوسائٹی میں واپس آ کر مذہب کہیں پھر سے اجتماعی معاملات میں دخیل تو نہیں ہو جائے گا؟ اس سلسلہ میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر وہ واقعتا مذہب ہوا تو دخیل ہو گا، اس لیے کہ مذہب صرف فرد کی راہنمائی نہیں کرتا بلکہ سوسائٹی کی راہنمائی بھی اس کے کردار کا حصہ ہے۔ یہ مکالمہ بھی اصلا ً مذاہب کے درمیان نہیں بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کے حوالے سے دو بڑے طبقوں کے درمیان ہے اور رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہا ہے۔
(3) مکالمہ بین المذاہب کا تیسرا دائرہ یہ ہے کہ موجودہ معروضی حالات میں انسانی سوسائٹی کی راہنمائی کے لیے کون سا مذہب زیادہ صلاحیت اور قوت رکھتا ہے اور اس وقت انسانی سوسائٹی میں موجود مذاہب میں سے کس کے بارے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں انسانی سوسائٹی کی قیادت کرے گا؟ میں اس سلسلہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ صرف نظری بات نہیں بلکہ عملی مسئلہ بھی ہے۔ مذاہب کو انسانی سوسائٹی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی آزادی دی جائے، ان کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے، اور کھلے مقابلہ کا ماحول بحال کر دیا جائے۔ جس مذہب کے پاس وحی آسمانی کی اوریجنل تعلیمات موجود ہوں گی اور جو انسانی فطرت کے زیادہ قریب ہو گا وہ اس مقابلہ میں آگے بڑھے گا اور انسانی سوسائٹی کی قیادت سنبھال لے گا۔ بہرحال مکالمہ بین المذاہب کا ایک دائرہ یہ بھی ہے کہ مروجہ مذاہب میں سے کون سا مذہب انسانی سوسائٹی میں مئوثر قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ تو وہ چند دائرے ہیں جن میں مکالمہ بین المذاہب کے عنوان سے اس وقت گفتگو جاری ہے۔ اب اس بات پر ایک نظر ڈال لی جائے کہ اس مکالمہ کے اہداف و مقاصد کیا ہیں؟ اسے بھی مختلف حصوں میں تقسیم کرنا ہو گا۔
(1) اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ تمام مذاہب کی مشترکہ باتوں کو جمع کر کے ایک متحدہ مذہب تشکیل دیا جائے، اسے بعض حلقوں میں اتحاد بین المذاہب کا عنوان دیا جاتا ہے اور اس پر مختلف سطحوں پر کام ہو رہا ہے۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ ہم یہ تجربہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں کر چکے ہیں۔ اکبر بادشاہ نے دین الہٰی کے عنوان سے اسی قسم کا ملغوبہ بنایا تھا جسے امت مسلمہ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور آج بھی اس نوعیت کی کوئی کھچڑی مسلم امہ کے ہاضمہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
(2) دوسرا پہلو یہ ہے کہ سب مذاہب کو اپنی اپنی جگہ حق مذہب تسلیم کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کا وجود تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جائے، ایک دوسرے کی نفی کرنے سے روکا جائے اور مشترکہ طور پر کام کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے۔
( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

ویلکم ٹو پی ٹی آئی ۔۔اداکارہ لیلیٰ زبیری پی ٹی آئی وومن ونگ کی رکن بن گئیں

ویلکم ٹو پی ٹی آئی ۔۔اداکارہ لیلیٰ زبیری پی ٹی آئی وومن ونگ کی رکن بن گئیں

پورا ہفتہ بارشیں، آئندہ سات دن کہاں کہاں برسات ہو گی؟ تفصیلی پیشنگوئی آگئی

پورا ہفتہ بارشیں، آئندہ سات دن کہاں کہاں برسات ہو گی؟ تفصیلی پیشنگوئی آگئی

عمران خان کا تگڑا سیاسی یارکر، پیپلزپارٹی رہنما کی وکٹ اڑا لی

عمران خان کا تگڑا سیاسی یارکر، پیپلزپارٹی رہنما کی وکٹ اڑا لی

اے این پی کی حکومت سے علیحدگی، امیر حیدر خان ہوتی نے اعلان کر دیا

اے این پی کی حکومت سے علیحدگی، امیر حیدر خان ہوتی نے اعلان کر دیا

کیا آپکا اب بھی آرمی چیف سے رابطہ ہے؟ صحافی کے سوال پر عمران خان کا حیران کن ردِ عمل

کیا آپکا اب بھی آرمی چیف سے رابطہ ہے؟ صحافی کے سوال پر عمران خان کا حیران کن ردِ عمل

اوگرا نے کتنے روپے پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی تجویز دی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف

اوگرا نے کتنے روپے پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی تجویز دی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

"  وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

" وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات

ملک میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا، عید الاضحی 10 جولائی کو منائی جائے گی

ملک میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا، عید الاضحی 10 جولائی کو منائی جائے گی

حکومت کی عوام پر پھر سے پیٹرول بم گرانے کی تیاری ،پانچ دس روپے نہیں بلکہ کتنے روپے اضافہ ہونے والا ہے ؟ جانیں 

حکومت کی عوام پر پھر سے پیٹرول بم گرانے کی تیاری ،پانچ دس روپے نہیں بلکہ کتنے روپے اضافہ ہونے والا ہے ؟ جانیں 

ہماری زبان بندی اور ہاتھ باندھ کر کہتے الیکشن جیت کر دکھاؤ،نئے الیکشن کیلئے24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا،ق لیگ پھٹ پڑی

ہماری زبان بندی اور ہاتھ باندھ کر کہتے الیکشن جیت کر دکھاؤ،نئے الیکشن کیلئے24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا،ق لیگ پھٹ پڑی

پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں موجود ہیںمیرے ایک جاننے والے ڈاکٹر مل کر آئے ہیں ،وہ کس حال میں ہیں ؟ 

پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں موجود ہیںمیرے ایک جاننے والے ڈاکٹر مل کر آئے ہیں ،وہ کس حال میں ہیں ؟