01:12 pm
 ہتک اور احتجاجی عرضیاں 

 ہتک اور احتجاجی عرضیاں 

01:12 pm

 پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک نے دو جلسوں سے جو سماں باندھا ہے وہ کم ہی دیکھنے کو ملا ۔ گوجرانوالہ اور کراچی میں گذارے لائق مجمع ، بور کرنے والے مقررین کی بے تُکی تقاریر اور رات گئے تک جاری رہنے والے جلسے میں عوام کی دلچسپی کے لیے کچھ بھی نہیں تھا ماسوائے لندن میں ضمانت پر مقیم میاں صاحب کی ریاستی اداروں کے سربراہان پر معنی خیز الزام تراشی کے۔ اس غیر دانشمندانہ اقدام کی بدولت کراچی جلسے کی میزبان پی پی پی نے میاں صاحب کے خطاب کی اجازت ہی نہیں دی۔ ہونی تو ہو کے رہتی ہے۔
جلسے والے دن میاں صاحب کے داماد جی نے مزار قائد پر فاتحہ خوانی کی آڑ میں جنگلہ پھلانگ کر ممنوعہ احاطے میں نعرے بازی کا ایسا کرتب دکھایا کہ ریاستی اداروں میں تنائو پیدا ہوگیا۔ داماد محترم اگلے روز فائیو سٹار ہوٹل سے چند گھنٹے کی گرفتاری کاٹ کر ضمانت پر رہا ہو کر اہلیہ سمیت لاہور پرواز کر گئے۔ ماتمی دستے واویلا ایسے مچا رہے ہیں گویا جنگ آزادی کے کسی قائد کو کالا پانی کی سزا ہو گئی ہے۔کئی گھنٹوں بعد آئی جی سندھ کو اپنی ہتک کا خیال آیا۔ سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب نے احتجاجی چھٹی کی عرضیاں بھجوا دیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے پہلے میاں صاحب کے داماد جی کی گرفتاری کو سندھ پولیس کا قانونی اقدام قرار دیا۔بعدازاں پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو کی درد بھری پریس کانفرنس سُن کر اب وہ سندھ پولیس کا مورال بلند کرنے کا بیڑا اٹھا چکے ہیں۔ بلاول صاحب نے جمہوریت کی بڑھکیں مارتے ہوئے ہمیشہ عسکری اداروں کو سلیکٹر کا طعنہ دیا لیکن سیاسی بدانتظامی نے جب اداروں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا تو جھٹ سے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو تحقیقات کی اپیل کر دی۔ابھی تو ایک غیر سنجیدہ حادثاتی سیاسی کردار کی مختصر سی گرفتاری پر بلاول خود کو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھ رہے۔دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ جلسوں میں عسکری اداروں کی انتظامی اور سیاسی مداخلت پر اب وہ کس منہ سے تنقید کریں گے؟ آرمی چیف کی جانب سے تحقیقات کا حکم دئیے جانے کے بعد سندھ پولیس کے افسران نے معنی خیز انداز میں وسیع تر قومی مفاد میں چھٹی کی عرضیاں دس یوم تک موخر کر دی ہیں۔اس معاملے میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں پولیس بیحد کم وسائل کے ساتھ بے انتہا سیاسی و سماجی دبائو کا سامنا کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرتی ہے۔سندھ میں معاملہ زیادہ خراب ہے۔ماضی میں ایم کیو ایم کا الطافی ٹولہ،پی پی پی،اے این پی اور انہی جماعتوں کے متعدد گینگ عوام اور پولیس کے لیے آسمانی عذاب بنے رہے۔ متعدد پولیس اہلکار دہشت گردی اور گینگ وار میں شہید ہوئے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ میں پولیس کے جونیئر رینکس کے مقابل اُن سینئر رینکس کی کارکردگی نہایت ناقص تھی جو آج ایک سیاسی ڈرامے کی آڑ میں ہتک عزت کا چلتا پھرتا مقدمہ بنے ہاتھ میں احتجاجی چھٹی کی عرضیاں لہراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس متنازعہ واقعے کی مفصل تحقیقات کر کے قصور واروں کو قرار واقعی سزا ضرور دی جانی چاہیے تاہم اسی واقعے سے جُڑے بہت سے اہم سوالات پر بھی ضرور غور کیا جانا چاہئے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر گذشتہ چھبیس برسوں سے سندھ میں رینجرز کو تعینات کیوں کیا گیا ہے؟سندھ حکومت ہر چند ماہ بعد رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کی درخواست وفاق سے کیوں کرتی ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ سندھ پولیس کی پیشہ ورانہ نااہلی، عدم استعداد اور صوبائی حکومت کی نہ ختم ہونے والی ناکامی کی بدولت سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھرتی کی گئی رینجرز سے دراصل امن و امان کے قیام کی خدمات لی جارہی ہیں۔ اس طویل تعیناتی سے پیدا ہونے والے پیچیدہ سماجی، سیاسی اور لسانی مسائل فی الحال اس کالم کا موضوع نہیں تاہم حالیہ واقعے کو دیگ کا ایک دانہ سمجھ لیا جائے۔ یہ بڑا اہم سوال ہے کہ متنازعہ سیاسی پس منظر کے غیر سنجیدہ کردار کی مختصر گرفتاری بڑا سانحہ ہے یا بابائے قوم کے مزار کی بے حرمتی زیادہ توجہ طلب معاملہ ہے؟ کیا صوبہ سندھ کی خودساختہ روایات پر بابائے قوم کی عزت اور ملکی قوانین کو قربان کیا جا سکتا ہے؟ کیا قانون کے تحت سندھ پولیس ہر ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتاری سے پہلے وزیر اعلیٰ کی منظوری اور حکمراں جماعت کے چیئرمین کے اشارہ ابرو کی محتاج ہو سکتی ہے؟ امن و امان کے قیام کے ذمہ دار دو اہم اداروں کے مابین معمول کی ایف آئی آر کے اندراج پر اختلاف کیوں ہوا ؟ سندھ پولیس قانون کی پاسداری کے بجائے حکمران جماعت کے سیاسی اتحادیوں کی محافظ کیوں بن کر ابھری؟ اس سارے معاملے کو نون لیگی سربراہ کی لندن سے جھاڑی گئی تقریر سے الگ کر کے بھی نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ائرکنڈیشنڈ کمروں میں کرسیوں پر جھولتے سیاست زدہ پولیس افسر اگر مورال بلند کرنے کے لیے احتجاجی رخصت کی عرضیاں لہرانے کا مضحکہ خیز موقف اپنا رہے ہیں تو یہ بھی یاد رہے کہ سرحدوں پر شہیدوں کے مقدس لاشے اپنے کاندھوں پر اٹھانے والے فوجی افسر اور جوان بھی اپنی اعلیٰ کمان کے خلاف گوجرانوالہ جلسے میں لگائے گئے جھوٹے الزامات پر برہم اور دل گرفتہ ہیں جس وقت عدالتی ضمانت کی خلاف وزی کرنے والے سزا یافتہ میاں صاحب لندن سے افواج پاکستان کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے تھے اس وقت بھی خیبر سے کراچی اور کارگل سے گوادر تک فرزندان وطن پوری دلجمعی سے اپنا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ اس دوران کئی بہادروں نے شہادت کا جام نوش کیا۔ گندی سیاست اور جھوٹے الزامات کے ردعمل میں احتجاجی چھٹیوں کی عرضیوں کے بجائے سرحدوں سے مادر وطن پر قربان ہونے والے شہداء کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت برآ مد ہوئے ہیں۔ قوم جانتی ہے کہ سیاست کون کر رہا ہے؟ اور کیوں کر رہا ہے؟ بھارتی میڈیا پر نون لیگی سربراہ کی متنازعہ تقریر کا چرچا ہے۔ پاک فوج کے خلاف ایک محاذ کھول دیا گیا ہے۔

 ووٹ کی عزت کو چھانگا مانگا اور مری کے مہمان خانوں میں نوٹ کے ذریعے پامال کرنے والے کس منہ سے جمہوریت کی بات کر رہے ہیں۔ ملک میں انتخابات کا مطالبہ کرنے والے پہلے اپنی جماعتوں میں حقیقی انتخابات کروا کر قیادت بزرگ اراکین کے حوالے کریں۔ گیارہ جماعتوں کے جلسوں سے دبائو تو ڈالا جاسکتا ہے لیکن منتخب حکومت کو گھر نہیں بھیجا جا سکتا۔ پی ڈی ایم کا مہنگائی کے خلاف واویلا تو بجا ہے لیکن کسی جماعت کے پاس کوئی ٹھوس حل موجود نہیں۔ کراچی جلسے میں محسن داوڑ ،اختر مینگل اور محموداچکزئی جیسے غیر اہم مقررین نے لسانی تعصبات کی چنگاریوں کو ہوا دے کر ماحول کو مذید کڑوا کیا۔ رہی بات میاں صاحب کی تو انہیں پیشہ ورانہ امور تک محدود رہنے والی عسکری قیادت پسند نہیں ۔ وہ لندن سے چیخ چیخ کر یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ موجودہ قیادت اپنا آئینی حلف توڑ تے ہوئے منتخب حکومت کو گھر بھیج کر شکست خوردہ نون لیگ کے سزا یافتہ سربراہ کے لیے وزارت عظمیٰ کا راستہ ہموار کرے۔ 


 

تازہ ترین خبریں

عمران خان کودو تہائی سے زائدپاکستانیوں کی حمایت مل گئی ، گیلپ سروے میں تہلکہ خیز انکشاف

عمران خان کودو تہائی سے زائدپاکستانیوں کی حمایت مل گئی ، گیلپ سروے میں تہلکہ خیز انکشاف

کورونا وائرس نے پھر تباہی مچانا شروع کر دی، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کتنی ہلاکتیں ہوگئیں؟ افسوسناک خبر

کورونا وائرس نے پھر تباہی مچانا شروع کر دی، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کتنی ہلاکتیں ہوگئیں؟ افسوسناک خبر

عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے پر کتنے فیصد پاکستانی ناراض ہیں؟ گیلپ کے تازہ ترین سروے کا حیران کن نتیجہ آگیا

عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے پر کتنے فیصد پاکستانی ناراض ہیں؟ گیلپ کے تازہ ترین سروے کا حیران کن نتیجہ آگیا

سندھ میں بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے پولنگ سے قبل ہی میدان مار لیا، سینکڑوں امیدوار بلا مقابلہ منتخب

سندھ میں بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے پولنگ سے قبل ہی میدان مار لیا، سینکڑوں امیدوار بلا مقابلہ منتخب

یہ لوگ حکومت کا فائدہ اٹھانا چاہتےہیں، اعتزازاحسن اپنے ہی اتحادیوں پر برس پڑے، مریم اورنگزیب توہین عدالت کی مرتکب قرار

یہ لوگ حکومت کا فائدہ اٹھانا چاہتےہیں، اعتزازاحسن اپنے ہی اتحادیوں پر برس پڑے، مریم اورنگزیب توہین عدالت کی مرتکب قرار

اقتدار میں واپس آنا نا ممکن،عمران خان کو آئندہ الیکشن سے آئوٹ کردیا گیا

اقتدار میں واپس آنا نا ممکن،عمران خان کو آئندہ الیکشن سے آئوٹ کردیا گیا

فوجی وردی میں ملبوس یہ خاتون کون ہیں؟ جان کر آپکو حیرت کا شدید جھٹکا لگےگا

فوجی وردی میں ملبوس یہ خاتون کون ہیں؟ جان کر آپکو حیرت کا شدید جھٹکا لگےگا

کیا خاتون ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر سکتی ہے؟ وفاقی شرعی عدالت کے فقہی مشیر کا بیان آگیا

کیا خاتون ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر سکتی ہے؟ وفاقی شرعی عدالت کے فقہی مشیر کا بیان آگیا

ہندوستان نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے جارہا ہے؟ بڑا اقدام اٹھا لیا

ہندوستان نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے جارہا ہے؟ بڑا اقدام اٹھا لیا

ہزاروں سرکاری ملازمین کی عید کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا گیا، عید الاضحی کی چھٹیاں منسوخ ہو گئیں

ہزاروں سرکاری ملازمین کی عید کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا گیا، عید الاضحی کی چھٹیاں منسوخ ہو گئیں

مری میںکون کونسے ہوٹلز کو سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا؟ حکومت کا کریک ڈائون شروع

مری میںکون کونسے ہوٹلز کو سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا؟ حکومت کا کریک ڈائون شروع

30جون سے کن کن علاقو ں میں بارشوں کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

30جون سے کن کن علاقو ں میں بارشوں کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

پی ٹی آئی میں واپسی کیلئے پرویز الٰہی نے کتنے کروڑ روپے کی پیشکش کی؟ نعمان لنگڑیال کا تہلکہ خیز دعویٰ

پی ٹی آئی میں واپسی کیلئے پرویز الٰہی نے کتنے کروڑ روپے کی پیشکش کی؟ نعمان لنگڑیال کا تہلکہ خیز دعویٰ

جولائی میں موجودہ حکومت کے خاتمے کی پیشنگوئی کر دی گئی

جولائی میں موجودہ حکومت کے خاتمے کی پیشنگوئی کر دی گئی