01:13 pm
لمحوں نے خطاکی،صدیوں نے سزاپائی

لمحوں نے خطاکی،صدیوں نے سزاپائی

01:13 pm

فلسطینی اپنے وطن کوچھوڑکرنہیں جارہے۔یہ مرحلہ فلسطینیوں کی صہیونی استعمارکے خلاف 70سالہ جدوجہدکاحاصل ہے۔تیس سالہ عمارنہ جوسول انجینئربھی ہے،مغربی کنارے کے ایک دیہات فرسان سے تعلق رکھتاہے،عمارنہ اپنے خاندان کے ساتھ کئی برسوں سے ایک غارمیں قیام پذیرہے۔عمارنہ کے خاندان نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ اپناگھرتعمیرکرلیں لیکن اسرائیلی فوجی حکام انہیں اجازت دینے کوتیارنہیں۔فرسان سے تعلق رکھنے والاتقریباًہرخاندان اوربیشترفلسطینی انہی مسائل اورحالات کاشکارہیں۔ مغربی کنارے میں قیام پذیریہ بدقسمت خاندان اسرائیل اورفلسطینی تنظیم الفتح کے درمیان1995ء میں طے پانے والے اوسلو معاہدے کے تحت یہاں آبادہوئے تھے لیکن ان کااب کوئی پرسان حال نہیں۔یہ علاقہ مغربی کنارے کے کل رقبہ کا60فیصدہے،بے شمارقدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے بہت کم افرادپرمشتمل ہے۔یہ سمجھنازیادہ مشکل نہیں کہ کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہواس علاقے پرمکمل قبضہ چاہتاہے۔صہیونی استعمارکا آغاز سے ہی یہ منصوبہ رہاہے کہ فلسطینیوں کومنتشر رکھا جائے، یعنی بہت بڑے رقبے پربہت کم آبادی۔نیتن یاہوکایہ منصوبہ کچھ حصوں پرقانونی اورمتنازع حیثیت کی وجہ سے موخر ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل نے مختلف طریقوں اورسازشوں سے فلسطینی آبادی پرقبضہ جاری رکھاہوا ہے۔اسرائیل کی توسیع پسندانہ اورظالمانہ کارروائیوں میں مسلسل شدت آرہی ہے۔چندماہ قبل اسرائیل نے مغربی کنارے میں30گھروں کومسمار کر دیاہے،اس شرمناک کارروائی کی وجہ سے100 سے زیادہ افرادبے گھرہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے مطابق اس علاقے میں اسرائیلی افواج نے غیررہائشی33عمارتوں کوبھی منہدم کر دیاہے۔بدقسمتی سے فرسان اوراس جیسے بہت سے علاقے اسرائیلیوں کے نشانے پرہیں۔
200افرادپرمشتمل ایک اورآبادی کواسرائیلی فوج گزشتہ کئی برسوں سے ہراساں کررہی ہے۔ اسرائیل کی خواہش ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے عین وسط میں یہودیوں کولاکر آباد کردے۔ 29 جولائی کواسرائیلی افواج نے فرسان پرحملہ کیااور یہاں کی آبادی کو ڈرادھمکا کر ڈیملولیش آرڈر تھمادیا ۔ فرسان کے ایک ذمہ دارشخص نے بتایاکہ آغازہی سے اسرائیل کا منصوبہ ہے کہ پوری مسلم آبادی کوختم کردے۔عمارنہ کے خاندان کوبھی بے دخلی کاحکم نامہ دیاگیاہے،جبکہ وہ توکسی باقاعدہ گھر میں رہتے ہی نہیں،غارمیں رہتے ہیں۔ عمارنہ کاکہناتھا، اسرائیلی ہمیں غارمیں رہنے سے کیوں کرروک سکتے ہیں۔غاراورپہاڑوں میں رہنے والے جانوروں کو بھی ان کے مسکن سے محروم نہیں کیاجاتا۔چلیں یہ ہمیں جانور ہی سمجھ کرغارمیں رہنے دیں۔عمارنہ کایہ کہنامحض جذباتیت پر مبنی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔اسرائیل اپنے اس منصوبے کیلئے تمام شاطرانہ اورظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے تاکہ یہاں کے مسلمانوں کوزبردستی بے دخل کردے۔اسرائیل نے فلسطینیوں کی تعمیروترقی کوروکنے کیلئے زمین کے ایک بڑے حصے کوازخود ریاستی زمین،سروے لینڈ،فائرنگ زون،نیشنل پارک کادرجہ دے دیاہے۔اسرائیل منظم انداز سے بتدریج اس منصوبے پرکام کررہاہے۔اصل مقصدمقامی مسلمانوں سے زمین چھین کریہاں یہودی آبادکاروں کو بساناہے۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس سے پہلے نومبر 2017ء میں اسرائیل نے180فلسطینی علاقوں میں سے صرف16علاقوں کوترقیاتی کاموں کی اجازت دی تھی۔2016ء سے2018ء تک 458 فلسطینیوں نے تعمیرات کیلئے درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان میں سے صرف21کواجازت دی گئی۔اس غیرحقیقی اورجابرانہ پابندیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کے پاس صرف یہی راستہ بچاہے کہ وہ اجازت حاصل کیے بغیرتعمیرات شروع کردیں۔ بہت سے خاندانوں کے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے عمارنہ کی طرح متبادل طریقے کواختیار کیا اور پہاڑوں اورغاروں کارخ کیا۔یہ صورتحال خاص طورپرنابلس اورالخلیل کے علاقوں کی ہے۔ نابلس کے مضافات میں واقع مغربی پہاڑوں میں جابجا خالی گھروں،منہدم مکانات اورنامکمل گھروں کو دیکھاجاسکتاہے۔یہ سارے مناظر اسرائیلی افواج اورفلسطینی مجاہدین کے درمیان جاری جنگ کی خبردے رہے ہیں۔عمارنہ اوراس طرح کے بے شمارخاندان جو استقامت اورعزیمت کے ساتھ حالات کامقابلہ کررہے ہیں،جنہوں نے تاریک غاروں کواپنا مستقر بنالیاہے، انسانی برادری سے بنیادی انسانی حقوق اورانصاف کاتقاضاکر رہے ہیں۔ 
اسرائیلیوں اورفلسطینیوں کے درمیان پائے جانے والے تنازع یاقضیے کوکچھ لوگ سوسال پہلے کے بالفور ڈیکلیریشن سے جوڑتے ہیں۔بعض کے نزدیک یہ اعلامیہ اچھاتھااوربعض کے نزدیک بہت ہی برا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ1947ء میں اسرائیل کے قیام کے اعلان نے معاملات کوخرابی کی منزل میں داخل کیا۔غالب امکان یہ ہے کہ مستقبل میں جب ہم ماضی پرنظردوڑائیں گے توٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے اوروہاں امریکی سفارت خانہ قائم کرنے کا اعلان ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ دکھائی دے گاجوبعدازاں عرب ملکوں کااسرائیل کوتسلیم کرنے کاسبب بنا۔
ٹرمپ کے اعلان کاجائزہ لینے اورپھراس کا تجزیہ کرنے سے قبل ہمیں دیکھناہوگاکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نفرت کا موجود دور،جو30 سال قبل پیداہوا،دراصل کن حالات کی پیداوار ہے۔ 9دسمبر1987ء کواسرائیل کی ایک فوجی جیپ نے غزہ کی پٹی میں چارفلسطینیوں کوکچل ڈالاتھا۔تب فلسطینی اپنے علاقوں پراسرائیل کے قبضے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔بھرپور عوامی مزاحمتی تحریک نے جنم لیاجوکسی نہ کسی شکل میں اب تک جاری ہے۔
اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ یہ عوامی تحریک مجموعی طورپرغیرمنظم ہونے کے باعث یہ اب تک مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے مگر فلسطینیوں کی اکثریت نے ثابت کیاہے کہ انہیں اسرائیل سے شدید نفرت ہے اوروہ اپنے وطن کوآزادکرائے بغیرکسی طورچین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ 1988ء میں تنظیم آزادی فلسطین نے غیرمعمولی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے الگ،آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کااعلان کیااوراس منزل تک پہنچنے کیلئے جوکچھ بھی کرنالازم ہووہ کرگزرنے کاعزم ظاہر کیا۔یہ بات البتہ قابل ذکرہے کہ انتہائی جذباتی اندازسے کیے جانے والے اس اعلامیے میں تنظیم آزادی فلسطین نے1947ء میں گنوائی جانے والی زمینوں کے مقابلے میں صرف بیس فیصدارض مقدس یعنی غزہ کی پٹی اورغرب اردن پراکتفاکرتے ہوئے کسی بھی شکل میں فلسطینی ریاست قبول کرنے کااعلان کیا۔
1987ء سے پہلے تک فلسطینیوں کی اکثریت آزادی کیلئے جوکچھ بھی کرتی تھی وہ انفرادی سطح پرکی جانے والی کوشش کے سواکچھ نہ ہوتاتھا۔1987ء کی تحریک انتفاضہ نے پہلی بار فلسطینیوں کوحقیقت پسندی کی طرف مائل کیالیکن اب جس تیزی سے اپنوں کے بے وفائی کی وجہ سے کے ساتھ حالات نے پلٹاکھایا تو لگتاہے کہ ’’لمحوں نے خطاکی، صدیوں نے سزاپائی‘‘ کے مصداق خطے کے حالات ایک انتہائی خطرناک موڑتک پہنچ چکے ہیں۔



 

تازہ ترین خبریں

ضمنی الیکشن سے قبل پنجاب میں عمران خان کو بڑی کامیابی مل گئی

ضمنی الیکشن سے قبل پنجاب میں عمران خان کو بڑی کامیابی مل گئی

عید الاضحی کے موقع پر قومی ائیرلائن نے مسافروں کو بڑی خوشخبری سنا دی

عید الاضحی کے موقع پر قومی ائیرلائن نے مسافروں کو بڑی خوشخبری سنا دی

عوام کیلئے بجلی کا ایک اور زوردار جھٹکا، فی یونٹ قیمت میں ہوشربا اضافے کی منظوری دیدی گئی

عوام کیلئے بجلی کا ایک اور زوردار جھٹکا، فی یونٹ قیمت میں ہوشربا اضافے کی منظوری دیدی گئی

بنی گالہ میں عمران خان کی رہاشگاہ میں فائرنگ، کس کو گرفتارکر لیا گیا؟ ہلچل مچ گئی

بنی گالہ میں عمران خان کی رہاشگاہ میں فائرنگ، کس کو گرفتارکر لیا گیا؟ ہلچل مچ گئی

مریم نواز کے بعدآصفہ زرداری کو بھی میدان میں اتارنے کا فیصلہ ، بڑی خبر آگئی

مریم نواز کے بعدآصفہ زرداری کو بھی میدان میں اتارنے کا فیصلہ ، بڑی خبر آگئی

آگئی وہ خبر جس کا انتظارتھا،وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے پوری قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

آگئی وہ خبر جس کا انتظارتھا،وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے پوری قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

خام تیل کتنا سستا ہونیوالا ہے؟ ماہرین کی پیشنگوئی نے ہلچل مچا دی

خام تیل کتنا سستا ہونیوالا ہے؟ ماہرین کی پیشنگوئی نے ہلچل مچا دی

5مخصوص نشستیں ملتے ہی تحریک انصاف کوبڑا جھٹکا لگ گیا

5مخصوص نشستیں ملتے ہی تحریک انصاف کوبڑا جھٹکا لگ گیا

دعا زہرہ کیس، عدالت نے نکاح خواں اور گواہ کو بڑا جھٹکادیدیا

دعا زہرہ کیس، عدالت نے نکاح خواں اور گواہ کو بڑا جھٹکادیدیا

برطانوی وزیراعظم مستعفی ؟ سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی

برطانوی وزیراعظم مستعفی ؟ سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی

مون سون بارشوں کا طاقتور سلسلہ ،محکمہ موسمیات نے ہلکی تیز بارشوں کی پیشنگوئی کر دی

مون سون بارشوں کا طاقتور سلسلہ ،محکمہ موسمیات نے ہلکی تیز بارشوں کی پیشنگوئی کر دی

26مئی کو عمران خان کو کنٹینر پر کیا پیغام ملا کہ عمران خان ڈی چوک کی بجائے بنی گالہ چلے گئے ؟رانا ثنا اللہ کا تہلکہ خیز دعویٰ

26مئی کو عمران خان کو کنٹینر پر کیا پیغام ملا کہ عمران خان ڈی چوک کی بجائے بنی گالہ چلے گئے ؟رانا ثنا اللہ کا تہلکہ خیز دعویٰ

عید الاضحی سے قبل بڑے شہر میں د ھ م ا ک ہ ، جانی نقصان ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبرآگئی

عید الاضحی سے قبل بڑے شہر میں د ھ م ا ک ہ ، جانی نقصان ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبرآگئی

عمران ریاض نے میرے ساتھ یہ گھٹیا حرکت کی ، خاتون صحافی ناجیہ اشعر نے سنگین الزام عائد کر دیا

عمران ریاض نے میرے ساتھ یہ گھٹیا حرکت کی ، خاتون صحافی ناجیہ اشعر نے سنگین الزام عائد کر دیا