12:23 pm
کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 73سال

کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 73سال

12:23 pm

مقبوضہ جمو ںو کشمیر پر بھارت کے جبری قبضہ اور جارحیت کے 73سال مکمل ہونے پر بھارت نے مقبوضہ ریاست کے حصے بخرے کر دیئے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے بجائے مقبوضہ ریاست کو ڈی گریڈ کر دیا۔ ریاست کے ٹکڑے کرنے کے بعد انہیں اپنی غلام کالونیاں بنادینے کا بھی ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔جب مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کودہلی نے اپنے مرکزی زیر انتظام علاقوں کا درجہ دے دیا۔ 5اگست 2019ء کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ اس دن بھارت نے مقبوضہ ریاست پر از سرنو حملہ کیا،لشکر کشی کی اور مزید فوج داخل کی۔ فوجی انخلاء کے بجائے مزید فوج داخل کی گئی جس نے کشمیری عوام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے قتل عام شروع کر دیاہے۔ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو گھروں میں قید کر کے ان کا محاصرہ جاری ہے۔کرفیو اور پابندیاں سخت کیں اور کشمیر کو دنیا کے لئے انفارمیشن بلیک ہول بنا  دیاگیا۔آزاد کشمیر کے عوام نے مظاہرے کئے تو ان پر گولہ باری شروع کر دی گئی۔ چین نے لداخ میں بھارتی فوج کے قدم روکنے کی کوشش کی تب بھارت ، لداخ کو ہماچل پردیش اور مقبوضہ سرینگر سے ملانے کے لئے زیر زمین سرنگیں تعمیر کرنے لگا تا کہ جنگی تیاریوں کو بڑھا سکے۔
دنیا میں کہیں اگرغیر مسلم آبادی کے خلاف ایک دن بھی کرفیو اور پابندیاں لگیں تو شورو غل شروع ہو جاتا ہے۔انسانی حقوق کے ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ جارحیت والے ملک پر معاشی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ مگر کشمیر میں مسلم آبادی کے خلاف مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کا سوا سال گزرنے کے باوجوددنیا بھارت پر سنجیدگی سے دبائو نہ ڈال سکی۔ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی جاری رکھنے کی چھوٹ دے دی گئی۔بھارت کی کشمیریوں کے خلاف پہلی جنگ  27اکتوبر 1947کو سرینگر ہوائی اڈے پر پہلے بھارتی فوجی دستے کے اترنے کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ جب کہ جموں و کشمیر کے عوام بیرونی جارحیت کے خلاف گزشتہ73سال یا 100 سال سے نہیں بلکہ4 صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے برسرپیکار ہیں۔ 19نومبر1586ء کو جب شہنشاہِ کشمیر یوسف شاہ چک کے بیٹے یعقوب شاہ چک جوکہ خودمختار کشمیر کے آخری حکمران ثابت ہوئے نے مغل فوج پر گوریلا حملے کا پہلا وار کیا تو اُسے کامیاب ترین حملہ قرار دیا گیا کیونکہ اس میں متعدد مغل فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس رات یعقوب شاہ چک نے اپنی گوریلا فوج سے کہا تھا کہ ’’آزادی صرف ایک دن دور ہے، ہم کل تک مغلوں کو کشمیر سے مار بھگائیں گے‘‘۔ بدقسمتی سے وہ کل424 سال گزرنے کے باوجود نمودار نہ ہوسکا۔ مغلوں نے1586ء سے 1752ء تک167 سال کشمیر پر حکومت کی۔ انہوں نے کشمیر کو ’’باغِ خاص‘‘ کا خطاب دے کر700 باغات تعمیر کئے۔ کشمیر کو اپنی عیش و عشرت کے لئے تفریح گاہ بنا دیا۔ انہوںنے کشمیریوں پر ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت حکمرانی کی۔ پھر افغانوں نے1752ء سے1819ء تک جابرانہ قبضہ جمایا۔ 1819ء سے1846ء تک سکھا شاہی نے کشمیریوں کو روند ڈالا۔ پھر100سال تک ڈوگروں نے کشمیریوں کا خون نچوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد1947ء سے بھارت نے اپنی  درندہ صفت افواج کے سہارے کشمیر کو اپنی کالونی میں بدل ڈالا۔ آج کشمیری اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔ قابض بھارتی فورسز جس بے دردی سے کشمیریوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں اس نے گزشتہ قابضین کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔پی ایچ ڈی سکالرز ڈاکٹر ظہیر الدین خان شہید، پروفیسر رفیع الدین بٹ شہید، ڈاکٹر عبدالمنان وانی شہید، ڈاکٹر سبزار احمدصوفی شہید ، پروفیسر نذیر بٹ شہید، ڈاکٹر خالد دائوو سلفی شہیدسمیت لا تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیریوں کی شہادت بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف ،آزادی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے قربانیاں پیش کرنے کے بھرپور عزم کو ظاہر کر رہی ہے۔
انڈیا اپنے قبضے کے حق میں جو دلائل دے رہا ہے وہ سراسر گمراہ کُن ہیں۔وہ کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو چار بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے۔
 (1) مہاراجہ کشمیر کی جانب سے 26اکتوبر1947ء کو دستاویزِ الحاق ہند،
 (2) 27اکتوبر1947ء کو گورنر جنرل انڈیا لارڈ مائونٹ بیٹن کی جانب سے دستاویزِ الحاق کو تسلیم کرنا،
 (3)26اکتوبر1947ء کو مہاراجہ کشمیر کی جانب سے لارڈ مائونٹ بیٹن کو خط جس میں بھارت سے الحاق کے بدلے بھارتی فوجی امداد کا مطالبہ اور شیخ محمد عبداللہ ریاست کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا ۔
(4) 27اکتوبر1947ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن کا مہاراجہ کشمیر کو خط کہ جس میں مندرجہ بالا امداد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا  ریاست میں معاملات کے تصفیہ اور امن و قانون کی بحالی کے بعد ریاست کے الحاق کا سوال عوام کی ریفرنس سے حل کیا جائے گا۔
آج فاوروق عبد اللہ اور محبوبہ مفتی سمیت بھارت نواز بھی، اپنے اقتدار کے لئے ہی سہی، دہلی کے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں ۔ وہ بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کو چیلنج کرتے ہیں۔  بھارت کے کشمیر پر قبضہ کا سارا دارومدا ر مہاراجہ کشمیر کی الحاق ہند کی دستاویز پر ہے جس کے بارے میں بالکل عیاں ہوچکا ہے کہ دو دستاویز یعنی دستاویزِ الحاق اور مائونٹ بیٹن کو خط جس پر مہاراجہ نے26اکتوبر 1947ء کو دستخط کئے ، جعلی تھے۔  
مہاراجہ 26؍اکتوبر کو سرینگر سے جموں کی طرف 300 کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑک کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ اتنی طویل شاہراہ پر سفر کے دوران دستاویز الحاق  پر دستخط کیسے ہوئے  جبکہ مہاراجہ کے وزیر اعظم مُہرچند مہاجن اور کشمیر معاملات سے متعلق بھارتی سینئر افسر وی پی مینن دہلی میں تھے۔ دہلی اور عازمِ سفر مہاراجہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ مہرچند مہاجن اور وی پی مینن27 اکتوبر 1947ء کی صبح10 بجے دہلی سے جموں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور مہاراجہ کو اسی دوپہر اُن دونوں کی زبانی اپنے وزیر اعظم کے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ کا پتہ چلا۔ جب بھارتی فوج نے سرینگر ہوائی اڈے پر قبضہ کیا اس کے بعد مہاراجہ کی مہاجن اور مینن سے ملاقات ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ بالا دستاویز پر مہاراجہ کشمیر کے دستخط نہیں تھے اور اگر کسی نام نہاد ستاویز پر دستخط کئے بھی گئے تو اُن پر26اکتوبر1947ء کی جعلی تاریخ رقم کی گئی۔ مہاراجہ اور مائونٹ بیٹن کے مابین خطوط کو 28اکتوبر کو بھارت نے شائع کیا لیکن الحاق کی دستاویز کو شائع نہ کیا گیا جبکہ دونوں خطوط حکومتِ ہند نے تیار کئے تھے۔ دستاویزِ الحاق کی کاپی پاکستان کو بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی اسے1948ء کے آغاز تک اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔1948ء میں حکومت ہند نے جو وائٹ پیپر شائع کیا اس میں دستاویز الحاق کو شامل نہیں کیا گیا کہ جس کی بنیاد پر بھارت کشمیر پر قبضہ جائز قرار دینے کا دعویٰ کرسکے۔ آج تک مہاراجہ کے دستخط شدہ دستاویز الحاق کا کوئی بھی اصل پیش نہیں کیا جاسکا۔ اگر اُن تمام دستاویزات کو جوکہ جعلی ہیں کو اصل قرار دیا بھی جائے تو لارڈ مائونٹ بیٹن کی جانب سے دستاویز الحاق کو مشروط طور پر تسلیم کرنا اور عوام کی رائے معلوم کرنے کی بات سے بھی بھارت نے آج تک عمل نہیں کیا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کے خط میں عوام سے ریفرنس کا جو تذکرہ تھا وہ رائے شماری تھا۔ دستاویز الحاق کے جعلی ہونے پر یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ بھارت نے ایک خودمختار ریاست پر جبری فوجی قبضہ کیا تھا کیونکہ اس ریاست کے راجہ نے کسی بھی ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کئے جن کا مقصد کشمیر کا بھارت سے الحاق ہو۔
آزاد کشمیر پر گولہ باری اور مقبوضہ کشمیر میں قتل عام بھارت نے  1988 ء سے تیز کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری گزشتہ30سال سے کرفیو، پابندیوں، مظاہروں، مار دھاڑ، قتل عام، نسل کشی، پیلٹ گن اور زہریلی گیسوں کو برداشت کر رہے ہیں۔گزشتہ سوا ایک سال سے سخت کرفیو اور پابندیوں کے شکار ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو رات کے چھاپوں کے دوران گھروں سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل کے کشمیر پر مشاورتی اجلاس بھی ہوئے۔ پاکستان بھی دنیا میں کشمیریوں کی آواز بلند کر رہا ہے۔مگر بھارت ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ وہ  معصوم کشمیریوں کا مسلسل  قتل عام  کر رہا ہے، معصوم بچوں تک کو بینائی سے محروم کررہا ہے۔  عوام 1947ء سے بھارت کے خلاف بر سر پیکار ہیں ۔انتفادہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔  2008ء سے 2010ء تک کا سلسلہ بھی اس نئی نسل کے زبردست عزم کا عکاس تھا جس نے سب سے پہلے امرناتھ شرائن بورڈ کو اراضی کی منتقلی کے خلاف شروع کیا ۔ اس دوران کشمیریوں کو بعض نئے تجربات سے آشکار ہونا پڑا جس کے دوران بھارتی انتہاپسندوں کی سرپرستی میں وادیٔ کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی واقعتا حیرتناک اور عبرتناک ثابت ہوئی۔ بعد ازاں شوپیاں میں خواتین کی بے حُرمتی  اور پھر برہان وانی کی شہادت کے بعد پوری وادی میں زبردست احتجاج اور مظاہرین پر تشدد نے ثابت کردیا کہ کشمیر کی نئی نسل کوئی سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں ہرگز نظر نہیں آتی ہے۔  دوسری طرف بھارت بھی کشمیر میں سرمایہ کاری کے دعوے کر رہا ہے۔ بھارتی حکمران سوال کرتے ہیں کہ اگر کشمیر میں پاکستان کے لوگ آکر اپنا خون بہا گئے تو بھارتی فوج نے بھی کشمیر میں اپنا لہو بہایا ہے تاہم اُن پر یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ کشمیری جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن یا انٹرنیشنل بارڈر کے طور پر کبھی بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اس عارضی خونی لکیر کو کشمیری عبور کرنے میں آزاد ہیں۔ بھارتی فوج کے خلاف معرکوں میں شہادت پانے والے پاکستان میں موجود اُن لاکھوں کشمیری مہاجرین سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں صرف 1947ء سے1990ء تک بھارتی جارحیت اور مظالم کے باعث اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہی لوگ اگر اپنے مادرِ وطن کی آزادی کے لئے جدوجہد کریں، قربانیاں دیں ،تو کوئی بھی بین الاقوامی قانون انہیں اپنے گھر سے بیرونی قبضے کو ختم کرنے کے لئے کوئی بھی اقدام کرنے سے روک نہیں سکتا۔بندوق کشمیریوں کا آخری آپشن تھا۔اقوام متحدہ کا چارٹر اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے باوجود اگر آزادکشمیر سے کوئی کشمیری جنگی بندی لائن کو عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوتا ہے تو وہ نہ تو بیرونی دہشت گرد ہے اور نہ ہی درانداز۔ ہر کشمیری کو اس عارضی لکیر جسے خونی لکیر کہا جاتا ہے کو روندنے کا حق حاصل ہے کیونکہ کشمیری کسی جنگ بندی لائن کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔           ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

اداکارہ اقرا عزیز کو شوٹنگ سے پہلے بسمہ اللہ نہ پڑھنے کا کیوں کہا گیا؟

اداکارہ اقرا عزیز کو شوٹنگ سے پہلے بسمہ اللہ نہ پڑھنے کا کیوں کہا گیا؟

مولی کھانے کے بعد یہ چیزیں ہر گز نہ کھائیں ورنہ خطرناک بیماری بھی ہوسکتی ہے۔۔ جانیں مولی کو کون سی 3 چیزوں کے ساتھ نہیں کھانا چاہیے؟

مولی کھانے کے بعد یہ چیزیں ہر گز نہ کھائیں ورنہ خطرناک بیماری بھی ہوسکتی ہے۔۔ جانیں مولی کو کون سی 3 چیزوں کے ساتھ نہیں کھانا چاہیے؟

آپ کا انگوٹھا ان میں سے کس شکل کا ہے ۔۔ سیدھے انگوٹھے والے ہو جائیں خبردار، جانیے آپ کی شخصیت کے بارے میں کون سے راز بتاتے ہیں

آپ کا انگوٹھا ان میں سے کس شکل کا ہے ۔۔ سیدھے انگوٹھے والے ہو جائیں خبردار، جانیے آپ کی شخصیت کے بارے میں کون سے راز بتاتے ہیں

محمد ﷺ کے شہر میں موجود انجن کی کہانی ۔۔ جانیں ان مختلف مقامات کے بارے میں، جن کی حقیقت آپ کو بھی حیران کر دے گی

محمد ﷺ کے شہر میں موجود انجن کی کہانی ۔۔ جانیں ان مختلف مقامات کے بارے میں، جن کی حقیقت آپ کو بھی حیران کر دے گی

جب والدہ کو دوبارہ زندہ دیکھا تو جان میں جان آئی ۔۔ وہ خوش قسمت بیٹا، جس نے اپنا جگر والدہ کو دے دیا

جب والدہ کو دوبارہ زندہ دیکھا تو جان میں جان آئی ۔۔ وہ خوش قسمت بیٹا، جس نے اپنا جگر والدہ کو دے دیا

آئی فون نے برف میں پھنس جانے والے ایک شخص کی زندگی بچالی

آئی فون نے برف میں پھنس جانے والے ایک شخص کی زندگی بچالی

والدہ کی بیماری میں مدد کرنے پر جڑواں بہنوں نے ایک ہی لڑکے سے شادی کرلی

والدہ کی بیماری میں مدد کرنے پر جڑواں بہنوں نے ایک ہی لڑکے سے شادی کرلی

کیا آپ کو معلوم ہے یہ کریم بالوں کے لئے ہوتی ہے؟ اگر آپ بھی اسے اب تک ہونٹوں یا جسم میں لگانے کے لئے استعمال کرتے ہیں

کیا آپ کو معلوم ہے یہ کریم بالوں کے لئے ہوتی ہے؟ اگر آپ بھی اسے اب تک ہونٹوں یا جسم میں لگانے کے لئے استعمال کرتے ہیں

کسی کو دیکھ کر اپنا کھیل تبدیل نہیں کرسکتے، ہمارا ریکارڈ ۔۔قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد یوسف نے بڑی بات کہہ دی

کسی کو دیکھ کر اپنا کھیل تبدیل نہیں کرسکتے، ہمارا ریکارڈ ۔۔قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد یوسف نے بڑی بات کہہ دی

حکمران تھے مگر بیٹی کی فیس لیٹ جمع کراتے تھے ۔۔ 2 مشہور سیاست دانوں کی اپنے بچوں سے محبت

حکمران تھے مگر بیٹی کی فیس لیٹ جمع کراتے تھے ۔۔ 2 مشہور سیاست دانوں کی اپنے بچوں سے محبت

بارش کب ہو گی ؟ محکمہ موسمیات نے اہم پیش گوئی کردی

بارش کب ہو گی ؟ محکمہ موسمیات نے اہم پیش گوئی کردی

خبردار،شہری ہوشیار رہیں،خطرے کی گھٹنی بج گئی  

خبردار،شہری ہوشیار رہیں،خطرے کی گھٹنی بج گئی  

کراچی پولیس نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کون سا کام کرناشروع کردیا،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

کراچی پولیس نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کون سا کام کرناشروع کردیا،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

پی پی رہنما نے بھی ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا

پی پی رہنما نے بھی ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا