12:56 pm
مولانا عبدالحئی اور چھوٹے موٹے واقعات؟

مولانا عبدالحئی اور چھوٹے موٹے واقعات؟

12:56 pm

موضوعات کا ایک ایسا  گھنا جنگل ہے کہ جس میں ہر روز اضافہ در اضافہ ہی ہوا جارہا ہے... گزشتہ 3دنوں سے جامعہ انوار العلوم دھیرکوٹ ضلع باغ کے بانی مولانا عبدالحئی کے حوالے سے لکھنا چاہ رہا تھا کہ 25اکتوبر کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے... لیکن درمیان میں ملعون صدر میکرون اوراس کے فرانسیسی شیطان ٹپک پڑے... مولانا عبدالحئی نوراللہ مرقدہ‘ کا موضوع آج کے لئے رکھا تھا کہ 27اکتوبر کو پشاور دیر کالونی میں واقع مدرسہ جامعہ زبیریہ میں خوفناک بم دھماکے میں قرآن پڑھنے والے معصوم طالب علموں کی شہادت کا واقعہ پیش آگیا... مولانا عبدالحئی بھی چونکہ قرآن و سنت کے داعی اور دینی مدارس کے وارث تھے... سوچا کہ اس کالم میں ان دونوں موضوعات پر بات کرلیتے ہیں۔
مولانا عبدالحئی چونکہ قافلہ حق و صداقت کے حدی خواں تھے... اس لئے انہیں سچی بات کہنے اور لکھنے والے سے محبت ہو جاتی تھی... اس خاکسار سے انہوں نے پہلی مرتبہ رابطہ کالم کے حوالے سے ہی فرمایا۔ وہ کشمیر سے سفر کرکے  راولپنڈی پہنچے اور پھر میرے ایک سینئر صحافی دوست کہ جو  خود بھی کشمیری ہیں‘ کے ذریعے مجھ سے رابطہ فرمایا... اور اسلام آباد میں ہم تین صحافی دوستوں کی بڑے اہتمام سے دعوت کی... اس واقعہ کی طرف مختصراً اشارہ اس لئے کیا تاکہ قارئین جان سکیں کہ محبت بھی اللہ کے لئے اور دشمنی بھی اللہ کے لئے... یہ مولانا مرحوم کا مزاج تھا... اس ایک ملاقات کے بعد‘ میری مولانا عبدالحئی مرحوم سے بہت سی ملاقاتیں ہوئیں... دھیر کوٹ  میں ان کے قائم  کردہ تاریخی جامعہ انوارالعلوم  میں ان سے میری آخری ملاقات چند ماہ پہلے ہوئی... اس ملاقات میں نامور شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا سلیم اعجاز‘ جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا امتیاز عباسی‘ جامعہ تعلیم القرآن باغ کے مولانا شمس الحق سمیت دیگر علماء بھی موجود تھے‘ اس محفل میں بھی مولانا مرحوم پاکستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی استحکام پر بڑی فکر مندی کا اظہار کیا۔
مولانا عبدالحئی خطہ کشمیر میں محبت و شفقت کی علامت سمجھے جاتے تھے... آپ نے اپنی ساری عمر دین حق کی سربلندی اور دینی تعلیمات عام کرنے میں گزاری‘ دھیرکوٹ میں جامعہ انوارالعلوم‘ آپ کی دینی سوچ کا آئینہ دار تھا... آپ نے ایک ایک پتھر جوڑ کر اس مدرسے کو بام عروج تک پہنچایا... اس مدرسے کو انہوں نے ’’جائیداد‘‘ یا ذاتی جاگیر بنانے کی بجائے... شیخ الحدیث مولانا سلیم اعجاز کے حوالے کر دیا... آج کے  مادی دور میں کہ جب کوئی اپنی ایک انچ زمین چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا... مولانا عبدالحئی نوراللہ مرقدہ کا ایک عظیم جامعہ دوسرے عالم کے حوالے کر دینا جہاں ایک طرف ان کی وسعت ظرفی کو ظاہرکرتا ہے... وہاں اس میں دوسروں کے لئے سبق ہے کہ دینی مدارس اور مساجد کوئی وراثت نہیں کہ کوئی ’’صاحبزادہ‘‘اگر نااہل بھی ہو‘ تب بھی اس کو مہتمم بنا دیا جائے... مولانا عبدالحئی سینکڑوں علماء کے  استاد اور کشمیر کی ایک منفرد شخصیت تھے... اللہ پاک آپ کی بال‘ بال مغفرت فرمائے (آمین) اب بڑھتے ہیں دوسرے موضوع کی جانب... وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی پیشن گوئیوں کے عین مطابق پشاور کے دینی مدرسے میں بم دھماکہ ہوا... جس کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت  13افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ہماری فورسز نے تو دہشت گردوں کی کمر توڑ ڈالی تھی... لیکن یہ دہشت گرد ہی اتنے سخت جان نکلے کہ ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ بھی دہشت گردی سے باز نہ آئے... ان دہشت گردوں نے چنا بھی ایک ایسی مسجد اور مدرسے کو کہ جہاں معمول کا درس قرآن جاری تھا۔
 سچی بات ہے کہ دینی مدرسے کے معصوم طالب علموں کی شہادت پر ریاست اور میڈیا میں وہ ارتعاش پیدا   نہیں ہوا کہ جو اے پی ایس کے بچوں کی شہادت کے وقت پیدا ہوا تھا... منگل کے دن جب پشاور میں 13شہیدوں کے اکٹھے جنازے ہو رہے تھے... جنازوں کی اس بارات میں نہ وزیراعلیٰ کے پی کے شامل ہوئے‘ نہ  وزیراعظم یا ان کا کوئی دوسرا وفاقی وزیر ... جنازوں سے حکمران ٹولے کی اس بے اعتنائی کے خلاف سوشل میڈیا پر بڑی بحث بھی جاری ہے۔ اب ذرا آئی جی کے پی کے کی بھی سنیئے‘ وہ فرماتے ہیں کہ اس طرح کے چھوٹے موٹے واقعات ہو جاتے ہیں... ہونے تو نہیں چاہیے‘ ہزاروں مدرسوں اور مسجدوں کو سیکورٹی نہیں دے سکتے۔ جس صوبے کے آئی جی کا ’’مائیڈ سیٹ‘‘ یہ ہو۔ اس صوبے کے عوام کا  پھر اللہ ہی حافظ ہوگا‘ مطلب یہ کہ ایک دینی مدرسے میں ہونے والے بم دھماکے میں معصوم بچوں سمیت  13افراد شہید اور درجنوں بچے زخمی ہوگئے... قرآن مقدس اور احادیث رسولﷺ کی کتب طالب علموں کے خون سے سرخ ہوگئیں... مسجد کا صحن زخمیوں سے بھر گیا... مگر آئی جی کے پی کے کے لئے یہ محض ’’چھوٹا موٹا‘‘ واقعہ ہے‘ انسان اپنے منصب سے گر بھی سکتا ہے... لیکن کوئی اتنا گر جائے گا... یہ تو کبھی میں نے سوچا بھی نہ تھا‘ چھوٹے ذہن کے لوگ جب بڑے مناصب پر فائز ہوں گے تو پھر مسجدوں اور مدرسوں میں بم دھماکے ہی ہوں گے... سوال یہ ہے کہ جن ہزاروں مدارس اور مساجد کی بات آئی جی نے کی ہے... وہ مدارس اور مساجد کے پی کے کی حدود کے اندر ہی ہیں... یا پھر مریخ سیارے پر واقع ہیں؟ اگر تو  کے پی کے کی حدود میں ہیں تو پھر ان کو سیکورٹی دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ جو حکومت دینی مدارس اور مساجد کو سیکورٹی نہیں دے سکتی... اسے کیا حق ہے کہ وہ اقتدار سے چمٹی رہے؟ میری پشاور کے صحافی دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اس آئی جی کی اپنی سیکورٹی کے حوالے سے بھی قوم کو بتائیں کہ خود اس کے ساتھ کتنے باوردی پولیس والے سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہوتے ہیں...  کیا قوم کی خون پسینے کی کمائی پر پلنے والے یہ ادارے  صرف وزیروں‘ مشیروں‘ گورنروں اور بیورو کریٹ کی سیکورٹی اور چاکری کے لئے قائم ہیں؟ 
اس صورتحال میں تو پھر مولانا فضل الرحمن کی یہ بات ہی آئیڈیل سمجھی جائے گی کہ دینی مدارس اور مساجد کی سیکورٹی... علماء طلباء اور دینی کارکنوں کو خود کرنا پڑے گی... جو آئی جی 13شہادتوں کے بعد بھی اس خونی واردات کو ’’چھوٹی‘‘ قرار دے رہا ہے... کیا وہ اس قابل نہیں ہے کہ اسے ہتھکڑی لگا کر جیل میں بند کر دیاجائے؟
سیدھی سی بات ہے کہ دہشت گردی سکول میں ہو یا مدرسہ میں ساری قوم کو مل کر اسے مسترد کرنا چاہیے... لیکن پشاور کے دینی مدرسے میں معصوم طالب علموں کی شہادتوں کے بعد میڈیا اور حکمرانوں کا رویہ بہرحال سوتیلا رہا... جس کی وجہ سے عوام میں غلط پیغام گیا‘ اللہ شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے‘ اور پاکستان کی حفاظت فرمائے۔آمین
 

تازہ ترین خبریں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ایشوریہ کی  18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

ایشوریہ کی 18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران