12:57 pm
 حضور اکرم ﷺ کی ذات ہی حاصلِ حیات و کائنات

 حضور اکرم ﷺ کی ذات ہی حاصلِ حیات و کائنات

12:57 pm

دل جس  سے زندہ ہے  وہ تمنا  تمہی  تو ہو  
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیں تو ہو
اور جذبۂ عشق رسول اکرمﷺکا اصل تقاضا یہی ہے کہ یہ کیفیت ہمارے فکروعمل کا پوری طرح احاطہ کرلے۔یہ بات ایمان کی ہے  اور ایمان کا ثبوت اعمال صالح کی صورت ہی میں فراہم کیا جا سکتاہے ۔ سیرت پاک کے سلسلے میں یہ حقیقت بھی ہمارا جزوایمان ہونی چاہئے کہ دور رسالتِ مآبﷺتاریخ کا حصہ نہیں ہے بلکہ ساری نسلِ انسانی کیلئے قیامت تک ہدایت جاریہ ہے۔
ہمارے رسول کریمﷺنے اسلام کو ایک مکمل معاشرتی نظام بنا کر نسلِ انسانی کو عطا فرمایا ہے اور انسانی تاریخ کا حقیقی انقلاب وہی دورسعا دت آثار ہے۔رسول کریمﷺ کے وسیلے ہی سے انسانیت کو دنیا کے ساتھ ساتھ حیات و کائنات کی وسعتوں کا شعور اور نسلِ انسانی کی عالمگیر مساوات کا پیغام ملا۔انسان انفرادی طور پر جس طرح مختلف مرحلوں سے گزر کر باشعور ہونے کی منزل تک پہنچتا ہے ‘نسلِ انسانی بھی مجموعی طور پر انہی مرحلوں سے گزری ہے۔ختم نبوت کا اعلان پوری نسلِ انسانی کے باشعور ہونے کا اعلان بھی ہے  اسی لئے ہمارے حضورﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں ساری نسل انسانی کو مخاطب فرمایا۔
اس طرح پوری نسل انسانی کیلئے اللہ کی ہدایت حرفاً حرفاً محفوظ ہو گئی اور اس کے مطابق پوری معاشرتی زندگی بسر کرنے کا ایک مکمل عملی نمونہ سامنے آگیا۔Idealکو معاشرتی زندگی کی حقیقت بنا کر پیش کردیاگیا‘زندگی عملی نمونے میں ڈھل گئی ۔انسان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ کائنات کے نظام اور انسان کی انفرادی ‘اجتماعی زندگی اور سماجی زندگی سب اللہ کے قانون کی گرفت میں ہیں۔کائنات کے نظام میں اللہ کی حاکمیت براہِ راست ہے لیکن ارادے اور اختیار کی صفت کی وجہ سے انسانی زندگی پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا نفاذ انسانی ایمان و اعمال کے وسیلے سے ہوتا ہے۔کائنات کا نظام حیرت انگیزنظم و ضبط کے تحت چل رہا ہے۔وہاں کسی نوعیت کا کوئی فساد ممکن ہی نہیں ‘کیونکہ فساد شرک سے پیدا ہوتا ہے اور کائنات میں شرک ممکن نہیں ۔ ارشاد ربّانی ہے’’  لَوْکَاْنَ فِیہِمائٓ الِہَۃٌ اِ ِلّاّا لّلّہُ لَفَسَدَ تَا۔زمین اور آسمانوں میںایک سے زائد الہٰ ہوتے تو فساد برپا ہو جاتا ۔‘‘(سورۃ الانبیاء ۔۲۲)
فساد شرک سے پیدا ہوتا ہے ‘شرک ناقابل معافی گناہ اسی لئے ہے کہ اس سے احترامِ آدمیت کی نفی ہوجاتی ہے ۔انسان کے مشرکانہ افکار و اعمال سے اللہ کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ساری دنیا کے انسان بھی اگر مشرک ہو جائیں تو اللہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔شرک سے انسانی فکر میں‘ انسانی عمل میں اور انسانی معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے اور جہاں فساد ہوتا ہے وہاں امن و انصاف برقرار نہیں رہ سکتا۔انسانی معاشرے میںخیر و فلاح کیلئے اورہمہ جہت ارتقاء کیلئے امن و انصاف قائم رہنا ضروری ہے۔ حریت ، مساوات ، اخوت ، امانت، دیانت، صداقت اور عدالت،یہ صفات جنہیں ہم اخلاقی قدریں کہتے ہیں،یہ قدریں درحقیقت وہ قوانین قدرت ہیں جن کے نفاذ سے انسانی معاشرے میں امن و انصاف کی ضمانت مہیا ہوجاتی ہے۔جس فرد میں جس حد تک یہ صفات زندہ و بیدار اور متحرک ہوں گی،وہ فرد اسی نسبت سے خیر و فلاح قائم کرنے کا باعث ہوگااور اور جس معاشرے میں ایسے صالح اعمال والے افراد کی کثرت ہو گی وہ معاشرہ امن و سلامتی اور انصاف کا گہوارہ بن جائے گا۔
بیج کو کھلی فضا ملے تو پوری طرح پھلتا پھولتا ہے ۔ اس پر کوئی دباؤ آجائے یا وہ کسی پتھر کے نیچے آ جائے تو وہ نشوونما سے محروم ہو جاتا ہے۔ سرکار دوعالم ﷺ اس اوّلین اسلامی معاشرے سے انسانی جذبات، مفادات، خواہشات اور تعصبات کے سارے پتھر سمیٹ لئے تھے چنانچہ انسانی معاشرت کا وہ باغ ایسا لہلہایا،ایسے پھل پھول لایا کہ انسانی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔اس اعتبار سے دیکھئے تو سیرت سرکار دوعالمﷺکی مثال واقعی بے مثال ہے۔حضور اکرمﷺ سب سے زیادہ با اختیار تھے اور سب سے زیادہ قانون کے پابند تھے ۔حضور اکرم ﷺ کے تصرف میں ہر شئے آسکتی تھی لیکن حضور اکرمﷺ نے سب سے زیادہ سادہ زندگی بسر فرمائی۔ حضور اکرمﷺکا ہر فرمان قانون تھا اور حضور اکرمﷺنے سب سے زیادہ خود احتسابی کی زندگی بسر فرمائی۔اس اعتبار سے اسلامی معاشرے کی خصوصیات بڑی منفرد ہیں ۔اسلامی معاشرے میں تکریم کا واحد معیار شخصی کردار ہے۔    
اسلامی معاشرے میں دشمن ا قوم کے افراد سے بھی انصاف کیا جائے گا اور غلطی اور جرم کرنے والا سب سے پہلے خود ہی اپنے جرم کا اعتراف کرے گا۔اسلامی نظام میں انسانوں کی انسانوں پر حکومت کا کوئی تصور نہیں بلکہ معاشرتی زندگی میں معاملات اور اشیاء کا انتظام کرنے والا ہر وقت ہر شخص کے سامنے اپنے اعمال اور طرزِ انتظام کیلئے جوابدہ رہے گااور ایسے نظام کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ خود انسان کی اپنی خواہشات نفسانی بن جاتی ہیں۔ سورۃ فرقان (۴۳)میں ارشاد ہے’’تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا الہٰ بنا لیا ہے ،اب ایسے شخص کوتم راہِ راست پر کیسے لا سکتے ہو۔‘‘یہی خواہشاتِ نفسانی معاشرتی امن وانصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔
گزشتہ چودہ سو برسوں میں عالمگیر سطح پر جتنی بھی مثبت تبدیلیاں ہوئی ہیں،انسانی حقوق کا جتنا شعور بھی بیدار ہوا ہے ، قوموں کو اعلیٰ انسانی اقدار کے مطابق اپنا نظام مرتب کرنے پر راغب کرنے کیلئے بین الاقوامی تنظیموں کے قیام کی جو کوششیں بھی ہوئی ہیں،ان ساری کوششوں کاحقیقی محور مرکز سرکار دوعالم ﷺکا دورسعادت آثار ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید پرایمان سازی نسل انسانی کیلئے خیروفلاح کی راہیں کشادہ کرتا ہے۔
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا 
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
لیکن نسل انسانی کی وحدت اور اس کی فلاح و خیر کی راہ میں رکاوٹیں بھی مسلسل آتی رہتی ہیںاور حق و باطل اور خیروشر کے درمیان یہ آویزش انسانی معاشرے کی امتیازی صفت ہے چنانچہ امن و انصاف کی فضا کو فتنہ و فساد پیدا کرنے والی طاقتیں برابر مکدر کرتی رہتی ہیں اور طرفہ تماشہ یہ کہ فساد پھیلانے والے بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اصلاح کرنے والے ہیں ۔فتنہ و فساد کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں ۔قرآن پاک میں فتنہ پردازی کو انسانی قتل سے بھی زیادہ بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔فرعون کو مفسد کہا گیا ہے اورفساد کی شدت کو انسانی بد اعمالیوں کا نتیجہ بتایا گیا ہے ۔تاریخ قوموں کا حافظہ اور واقعات کی ریاضی ہے۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے اور اس طرح ہم پر یہ حقیقت واضح ہو تی رہتی ہے کہ اللہ کا قانون بدلا نہیں کرتا۔حیات و کائنات کا نظام انسانی معاشرے کے مختلف اجزاء پر مشتمل ہے ‘ان میں منقسم نہیں ہے‘ہم نے عملًا اسے منقسم کردیا ہے ۔
عبادات الگ،معاملات زندگی الگ اور ہم اس ارشادِ قرآنی کو بھول جاتے ہیںکہ ایک سے زیادہ الہٰ ہوں گے تو فساد ہوگا۔ ہمارے ہادی برحقﷺنے خطبہ حجتہ الوداع میں ہم اہل ایمان پر یہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ جو وہاں موجود تھے وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو وہاں موجود نہیں تھے۔یہ ایک عالمگیر ذمہ داری تھی ۔اس کے ساتھ قرآنِ کریم نے ہم پر اجتماعی طور پر ’’خیر امت‘‘اور ’’امتِ وسط‘‘ ہونے کی ذمہ داری بھی ڈالی ہے۔قران کریم کی سورۃ انفال میں ارشاد ہوا ہے’’وَاُلْذ ِینَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِِیآئُ بَعْضِِ  اِلاّ تَفْعَلُوہْ تَکُنْ فِتْنَۃٌ  فِیِ اُ لْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِِْیر(۷۳)حق کی منکر قوتیں ایک دوسرے کا ساتھ دعوت دیتی ہیں ‘ تم اگر ایسا نہیں کرو گے تو بڑا فساد برپا ہو جائے گا۔‘‘علامہ  اقبالؒ نے امت مسلمہ کو یہی ذمہ داری یاد دلائی ہے ۔
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش     
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ہے ابھارا
اللہ کو  پامردیٔ  مومن  پر  بھروسہ        
ابلیس  کو یورپ  کی مشینوں  پر بھروسہ   
تقدیرِ امم  کیا  ہے کوئی کہہ نہیں سکتا       
مومن کی  فراست ہو  تو کافی ہے اشارہ 
ایمان کی توانائی فرد میں اور قوم میں ‘دونوں میں خود احتسابی کی صفت پیدا کرتی ہے ۔ہم اس صفت سے ایک طویل عرصے سے عالمگیر سطح پر محروم ہیں اور اس محرومی نے ہمیں اس توانائی سے بھی محروم کردیا ہے جسے اقبالؒ نے مومن کی فراست کی اصطلاح سے تعبیر کیا ہے اس کے باوجود عالمی سطح پر امن و انصاف کے قیام کیلئے ہمارا ملی کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔جب تک وہ کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ‘عالمگیر سطح پر امن و انصاف قائم نہیں ہو سکتااور اپنی اس بے بسی کیلئے ہم اللہ کے حضور جوابدہ بھی ہوں گے اور اس کردار کی ادائیگی کی راہ جذبہ حب رسول ﷺسے ہی منور ہو سکتی ہے  کیونکہ حضور اکرمﷺ کی ذات ہی حاصلِ حیات و کائنات ہے ۔
ہو نہ یہ  پھول تو بلبل  کا ترنم  بھی  نہ ہو  
چمن دہر میں  کلیوں کا تبسم  بھی نہ ہو
نہ یہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو 
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا  استادہ اسی  نام سے ہے 
بزمِ ہستی  تپش آمادۂ اسی نام سے ہے
رہے نام میرے رب کا جس نے میرے نبیﷺ کو رحمت العالمین بنا کر مبعوث فرمایا!


 

تازہ ترین خبریں

پنجاب اور کے پی میں آج بھی دھند کا راج، موٹر وے مختلف مقامات پر ٹریفک کیلئے بند

پنجاب اور کے پی میں آج بھی دھند کا راج، موٹر وے مختلف مقامات پر ٹریفک کیلئے بند

چینی پھرمہنگی۔۔فی کلوقیمت میں کتنااضافہ ہوگیا،غربت کی چکی میں پسی عوام کےلیے بری خبرآگئی

چینی پھرمہنگی۔۔فی کلوقیمت میں کتنااضافہ ہوگیا،غربت کی چکی میں پسی عوام کےلیے بری خبرآگئی

اکلوتی اولاد کے انتقال کے بعد اہلیہ دماغی مریضہ بن گئیں ۔۔ ان مشہور شخصیات کے بچوں کے ساتھ پیش آئے حادثات جس سے ان کی زندگی بد ل گئی

اکلوتی اولاد کے انتقال کے بعد اہلیہ دماغی مریضہ بن گئیں ۔۔ ان مشہور شخصیات کے بچوں کے ساتھ پیش آئے حادثات جس سے ان کی زندگی بد ل گئی

پیپلزپارٹی نہ ایم کیوایم ۔۔۔کراچی کااگلامیئرکس جماعت سے ہوگا،بڑادعویٰ کردیاگیا

پیپلزپارٹی نہ ایم کیوایم ۔۔۔کراچی کااگلامیئرکس جماعت سے ہوگا،بڑادعویٰ کردیاگیا

پڑھائی تمہارے بس کی نہیں تم کھیتی باڑی کرو، کھیتوں سے مائیکرو سافٹ تک پہنچ جانے والا نوجوان جس نے اپنی زندگی خود بدلی

پڑھائی تمہارے بس کی نہیں تم کھیتی باڑی کرو، کھیتوں سے مائیکرو سافٹ تک پہنچ جانے والا نوجوان جس نے اپنی زندگی خود بدلی

تحریک انصاف کی طرف سے استعفوں کاسلسلہ شروع ،پہل کس نے کردی ،سیاسی میدان میں ہلچل مچادینے والی خبرآگئی

تحریک انصاف کی طرف سے استعفوں کاسلسلہ شروع ،پہل کس نے کردی ،سیاسی میدان میں ہلچل مچادینے والی خبرآگئی

 اس ایک چیز کا روزانہ کھانے سے قبل استعمال آپ کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت کیسے فراہم کرتا ہے؟ جانیں

اس ایک چیز کا روزانہ کھانے سے قبل استعمال آپ کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت کیسے فراہم کرتا ہے؟ جانیں

قبر سے چپٹ کر رو رہی تھی ۔۔ مالک کی وفادار بلی، جو اس کی تدفین کے بعد بھی قبر سے نہ ہٹی

قبر سے چپٹ کر رو رہی تھی ۔۔ مالک کی وفادار بلی، جو اس کی تدفین کے بعد بھی قبر سے نہ ہٹی

جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ غلط تھا، سب پشیمان ہیں: اسد قیصرنے حیران کن بات کہہ دی

جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ غلط تھا، سب پشیمان ہیں: اسد قیصرنے حیران کن بات کہہ دی

ارشد شریف قتل کیس : چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بڑااقدام اٹھالیا

ارشد شریف قتل کیس : چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بڑااقدام اٹھالیا

آخری وقت میں بھی بیڈ نہیں دیا، اسپتال میں دوسرے مریض کے ساتھ لٹا دیا گیا ۔۔ انتقال سے پہلے افضال احمد نے بولنا کیوں بند کر دیا تھا؟

آخری وقت میں بھی بیڈ نہیں دیا، اسپتال میں دوسرے مریض کے ساتھ لٹا دیا گیا ۔۔ انتقال سے پہلے افضال احمد نے بولنا کیوں بند کر دیا تھا؟

اپوزیشن کی عدم اعتماد اور گورنر راج کی باتیں گیدڑ بھبکیاں ثابت ہوں گی،پرویز الٰہی

اپوزیشن کی عدم اعتماد اور گورنر راج کی باتیں گیدڑ بھبکیاں ثابت ہوں گی،پرویز الٰہی

جوڑے آسمان پر بنتے ہیں، تقدیر نے شادی سے گیارہ سال قبل ہی ان کو ایک تصویر میں کیسے ملا دیا؟ حیرت انگیز اتفاق

جوڑے آسمان پر بنتے ہیں، تقدیر نے شادی سے گیارہ سال قبل ہی ان کو ایک تصویر میں کیسے ملا دیا؟ حیرت انگیز اتفاق

نوجوان ساری عمر جس کو اپنا ہیرو سمجھتا رہا اسی کے بارے میں 40 سال بعد ایسا انکشاف کہ پیروں تلے زمین نکل گئی

نوجوان ساری عمر جس کو اپنا ہیرو سمجھتا رہا اسی کے بارے میں 40 سال بعد ایسا انکشاف کہ پیروں تلے زمین نکل گئی