12:58 pm
بھارتی دہشت گردی، افغانستان کی سرحد بند

بھارتی دہشت گردی، افغانستان کی سرحد بند

12:58 pm

٭پشاور: فوجی سکول کے بعد بچوں کے مدرسہ پر بھارتی دہشت گردی O کل عیدمیلادالنبیؐ: شہر شہر میلاد کی محفلیںO فرانس: گستاخ خاکوں کے خلاف عالم اسلام میں شدید ردعمل O ’کشمیر مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے، الحاق کا معاہدہ ختم ہو گیا، فاروق عبداللہ O عمران خاں کی بجائے فوج سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں، شاہد خاقان عباسی O کرونا تیز ہو گیا، مریضوں کی تعداد دگنی ہو گئیO بھارت: مقبوضہ کشمیر، بھارتیوں کو کشمیری شہریت دینے کا اعلان، زمینیں خریدنے کی اجازت، کشمیر کی خصوصی حیثیت کے 26 قوانین منسوخ O بھارت کرپشن کا گڑھ ہے، ترقی نہیں کر سکتا۔ جنرل بپن راوتO گندم کی سرکاری قیمت خرید میں 200 روپے فی 40 کلو اضافہ، آٹا و روٹی مزید مہنگی!! دشمنوں کے مل کرلڑیں گے، امریکہ و بھارت کا معاہدہ، پاکستان کا سخت احتجاج۔
٭پشاور میں فوجی سکول کے بعد دینی مدرسہ کے بچوں کے درس اجتماع پر بم دھماکہ! 8 شہید115 زخمی، کچھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ صبح نماز فجر کے بعد مدرسہ کے تقریباً ایک ہزار طلبا درس قرآن کی محفل میں موجود تھے جب دھماکہ ہوا۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں بیشتر تعداد بچوں کی ہے۔ افسوسناک بات کہ پولیس یا مدرسہ کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں تھے! خاص بات یہ کہ اس سانحہ کے ڈانڈے بھی افغانستان سے ملتے ہیں۔ فوری طور پر افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔ اسی پشاور شہر میں عنقریب اپوزیشن کا جلسہ بھی ہونے والا ہے! خدا خیر کرے! بھارت نے ’دشمن‘ کے علاقے کے اندر جا کر کارروائیاں کرنے کے اعلان پر عمل شروع کر دیا ہے۔
٭کل ملک بھر میںپیغمبر اسلام نبی کریمؐ کا یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں تعطیل ہو گی پاکستان میں سرکاری طور پر اس دن کے بعد سات دنوں تک ’ہفتہ عشق‘ منانے کا اعلان کیا گیاہے۔ اس دوران ملک بھر میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر میلاد النبیؐ، نعت خوانی اور قوالی کی محفلیںہوں گی! ایران میں 12 ربیع الاول سے سات دن تک ہفتہ جشن ولادت منایا جاتا ہے۔ ایک بات یہ کہ یوم میلاد النبیؐ کی آمد سے صرف چند روز پہلے فرانس میں پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں گستاخ خاکے شائع کئے گئے اور دیواروںپر پوسٹر لگائے گئے۔ مزید یہ کہ فرانس کے صدر میکرون نے اسلام کو فسادی مذہب قرار دے کر اس کے بارے میں ہرزہ سرائی کی۔ اس پر عالم اسلام میں اشتعال پھیل گیا ہے۔ پاکستان، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، لیبیا، عراق، ایران، ترکی، نائیجیریا اور دوسرے مسلم ممالک میں سڑکوں پر لاکھوں افراد کے مظاہرے ہو رہے ہیں، فرانس کے سفیروں کو طلب کر کے احتجاجی یادداشتیں دی جا رہی ہیں اور مارکیٹوں میں فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ عرب ممالک میں جلسے جلوس کی اجازت نہیں ہوتی، ان کی حکومتیں فرانس کے خلاف مذمت کے بیانات جاری کر رہی ہیں۔ سعودی عرب نے بھی گستاخ خاکوںکی مذمت کی ہے مگر فرانس اور اس کے صدر کا نام نہیں لیا۔ نام لے بھی نہیں سکتا فرانس میں سعودی شاہی خاندان نے اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ فرانس سے آبدوزیں، جنگی طیارے اور دوسرا اسلحہ خریدا جا رہا ہے، وہ ان مفادات کو مدنظر رکھنے پر مجبور ہے۔ یہی طرز عمل بھارت کا ہے۔ وہ اسرائیل سے کثیر تعداد میں جنگجو ’رفائیل‘ طیارے خرید رہا ہے، بھارتی حکومت خود اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی میں ملوث ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کی ایک مثال موجود ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے اسلامی دنیا کا سخت ردعمل دیکھ کر مسلم ممالک میں اپنے شہریوں کو نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدائت کی ہے۔
٭73 برسوں کے بعد مقبوضہ کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر انکشاف ہوا ہے کہ قیام پاکستان کا دو قومی نظریہ بالکل درست اور بھارت سے جموں و کشمیر کا الحاق بالکل غیر منطقی اور غلط تھا۔ 27 اکتوبر48ء کو مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے الحاق کا معاہدہ طے پایا محترم غلام اللہ کیانی کی تحقیق کے مطابق اس معاہدہ پر مہاراجہ کے دستخط نہیں صرف وزیراعظم مہر چند مہاجن کے دستخط ہیں اور یہ کہ یہ اصل معاہدہ آج تک اقوام متحدہ میں پیش ہی نہیں کیا گیا اور جعلی کاغذات پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ بات فاروق عبداللہ کے والد شیخ عبداللہ کو بھی معلوم تھی۔ انہوں نے ذاتی اقتدار اور مفاد کی خاطر پاکستان کی بجائے اپنے خاندانی دوست پنڈت نہرو کے ساتھ وابستگی کو ترجیح دی۔ وہ وزیراعلیٰ بھی بنے۔ بچوں کو دہلی میں تعلیم دلائی۔ بیٹا فاروق عبداللہ (اس وقت عمر 83 سال) اور پوتا عمر عبداللہ بھی ریاست کے وزیراعلیٰ رہے اور بھارتی حکومتوں کا بھرپور ساتھ دیتے رہے۔ یہی عمل بخشی غلام محمد، محمد صادق اور مفتی سعید اور بیٹی محبوبہ مفتی نے بھی بطور وزیراعلیٰ اختیار کئے رکھا۔ شیخ عبداللہ نے بھارت کے ساتھ وفاداری کا جو معاہدہ کیا اس میں ریاست کشمیر کو آئینی طور پر خصوصی حیثیت دی گئی۔ طے پایا کہ ریاست کی حدود میں کوئی غیر کشمیری آباد نہیں ہو سکے گا، اراضی وغیرہ نہیں خرید سکے گا۔ ایک سال پہلے نریندر مودی نے یہ معاہدہ اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور بھارت کے تمام غیر کشمیری شہریوں کو کشمیر میں آباد ہونے اور ہر قسم کی جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی اور تینوں سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو جیل میں ڈال دیا تو ان لوگوں پر حقیقت آشکار ہوئی کہ کشمیر کا بھارت سے الحاق غلط تھا۔ یہ تینوں اب ایسے حالات میں رہا کئے گئے ہیں کہ ریاست کے تین ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ کشمیر کی اسمبلی اور وزیراعلیٰ کا عہدہ ختم ہو چکا ہے، بھارت کی راجیہ سبھا (سینٹ) میں کوئی کشمیری منتخب نہیں ہو سکتا۔ اب یہ تینوں چیخ رہے ہیں کہ کشمیری عوام کے ساتھ شدید دھوکا ہوا ہے۔ چند روز قبل رہائی کے بعد محبوبہ مفتی نے پریس کانفرنس سے بھارتی جھنڈا ہٹا دیا اور کہا کہ اس جھنڈے سے کشمیر کا کوئی تعلق نہیں رہا…گزشتہ روز سوشل میڈیا پر فاروق عبداللہ کا ایک طویل انٹرویو دکھایا گیا۔ اس کی چند باتیں سنئے:
٭فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہمیں مسلم لیگ کی طرف سے پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ ہم مسلمان تھے، ریاست میں ہماری اکثریت تھی مگر ہم نے دو قومی نظریہ کو مسترد کر کے بھارتی حکمران کانگریس اور اس کے لیڈر پنڈت نہرو کا ساتھ دیا۔ اب ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ہمارے ساتھ شدید دھوکہ ہوا ہے۔ نریندر مودی ایک فرعون ہے۔ اس نے کشمیری قیادت کو قید کر دیا اور ایک سال قبل ریاست پر قبضہ کر کے اس کے ٹکڑے کر دیئے اور الحاق کا معاہدہ ختم کر دیا۔ اس ایک سال میں کشمیر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کی بیشتر آمدنی سیاحت سے حاصل ہوتی تھی وہ بالکل ختم ہو چکی ہے۔ سارا کاروبار تعلیمی ادارے، سارے باغ برباد ہو چکے ہیں۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے کشمیر پر کرفیونافذ ہے، عوام کے ایک دوسرے سے رابطے ختم ہو چکے ہیں۔ میں ان حالات میں اعلان کرتا ہوں کہ کشمیر کا بھارت سے الحاق کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ اسے خود مودی حکومت نے ختم کیا ہے، وہی اس کا ذمہ دار ہے۔ ہم کشمیر کے بارے میں مودی حکومت کے اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم سب اکٹھے ہو کر ہر حالت میں، آخری سانس تک کشمیر کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے!! میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ اب بھارت کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں!!‘‘ قارئین کرام اس موضوع کو مختصر طور پر یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ ’’لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی‘‘! اب دوسری باتیں۔
٭اپوزیشن عجیب الجھن اور پیچیدگی سے دوچار ہے۔ ایک طرف سیاست میں فوج کی مداخلت کی مخالفت کی جا رہی دوسری طرف اپنے سیاسی مفادات کے لئے فوج کے پاس بھاگی جاتی ہے۔ بہت سی باتیں سامنے آ چکی ہیں۔ اب شاہد خاقان عباسی کا ایک بیان کسی تبصرہ کے بغیر پڑھئے! فرمایا ہے کہ ’’ہم عمران خاں کی بجائے اختیار والے لوگوں (فوج) سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں!‘‘
٭ملک میں کرونا کی وبا پھر بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں 774 طلبا اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ صحت کے وفاقی مشیرڈاکٹر فیصل سلطان نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ملک بھر میں مریضوں کی روزانہ تعداد تین چار سے کم رہتی تھی اب دوگنا سے زیادہ ہونے لگی ہے۔ ممکن ہے کہ دوبارہ سخت لاک ڈائون کرنا پڑے!
٭لندن میں دو سال سے مقیم خود مفرور اور اشتہاری اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ نوازشریف بہت بیمار ہیں انہیںپاکستان نہیں لے جایا جا سکتا!
٭امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے اس کی رو سے وہ بھارت کے تیار کردہ میزائلوں کو زیادہ تباہ کن بنانے میں مدد دے گا اور بھارت کو ایسا جدید مواصلاتی نظام دے گا جس کے ساتھ وہ بھارت کے دشمن علاقوں کی پوری جغرافیائی حدود اور رقبے پر نظر رکھ سکے گا۔ معاہدہ کے مطابق امریکہ اور بھارت مل کر چین کے خلاف لڑیں گے۔ معاہدہ میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا مگر دشمن  علاقوں کا واضح اشارہ موجود ہے۔ اس پر پاکستان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
٭چودھری اعتزاز احسن آج کل کھری کھری باتیں کر رہے ہیں۔ بار بار کہہ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی کو ن لیگ سے بچنا چاہئے، ن لیگ ناقابل اعتبار ہے، اس کا عوام میں کوئی اثر نہیں رہا۔ مثال یہ کہ اس کے صدر شہباز شریف کو جیل میں ڈالا گیا تو احتجاج کے لئے ایک پتا تک نہیں ہلا! کوئی شخص سڑک پر نہیں آیا۔ محترم اعتزاز صاحب! عوام کے سڑکوں پر آنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی تو کتنے لوگ سڑکوں پر آئے تھے؟ بہت سے باہر بھاگ گئے۔ آپ بھی تو پیپلزپارٹی کو چھوڑ گئے تھے! بھٹو کے خلاف تو کوئی مالی سکینڈل بھی نہیں تھا، یہاں تو ہر لیڈر اربوں کھربوں کی کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے! عوام سب کچھ جانتے ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ایشوریہ کی  18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

ایشوریہ کی 18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران