02:01 pm
احتجاج، جمہوریت اور عوام 

احتجاج، جمہوریت اور عوام 

02:01 pm

جمہوریت اور جمہوری حکومت میں ہر کام عوام کے نام پر عوام کے مفاد میں ہی کیا جاتا ہے۔ جس طرح کسی بھی سرکاری افسر کو جب ملازمت پر رکھا جاتا ہے ، معطل کیا جاتا ہے یا برخاست کیا جاتا ہے تو سرکاری احکام میں یہ سب بھی صدر مملکت کے نام سے کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ملک میں بھی اچھے یا برے جو بھی کام کئے جاتے ہیں وہ پبلک انٹرسٹ میں کئے جاتے ہیں۔ کیوں کہ جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے جو بندوں کی گنتی کی بنیاد پر اکثریت حاصل کرنے پر کسی کو اقتدار کے سنگھا سن پر بٹھاتا ہے اور یوں وہ عوام کا منتخب نمائندہ عوام کے نام پر عوام کے مفاد میں کرنے کے لئے کبھی خود کبھی ایک اکثریت کی بنیاد پر چنی گئی اسمبلی میں اکثریت کے ووٹ سے کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس منتخب کردہ اسمبلی کے بیشتر نمائندوں کو ہائوس میں پیش کئے جانے والے معاملات کی اہمیت، سنگینی کا نہ ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ الیکشن کے وقت ووٹ ڈالتے وقت ووٹ دینے والی اکثریت کو قطعی یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ووٹ یا گنتی کی کیا اہمیت ہے۔ پی ٹی وی پر کبھی اچھے پروگرام بھی پیش کئے جاتے تھے۔ عرصہ پہلے ایک پروگرام میں ایک دیہاتی استاد جمہوریت کا سبق بچوں کو پڑھا رہے تھے انہوں نے بتایا  بچو! جمہوریت کا مطلب ہے کہ اکثریت کی رائے کو مانا جائے۔ مثلاً میں پوچھتا ہوں بابر ہمایوں کا بیٹا تھا؟ آپ اس کا جواب دو۔ دس طلبا کی کلاس میں سے سات بچے ہاں میں جواب دیتے ہیں۔ استاد صاحب کہتے ہیں  بچو! اب چونکہ دس میں سے سات کہتے ہیں کہ بابر بادشاہ ہمایوں کا بیٹا تھا تو جمہوری طور پر یہی درست مانا جائے گا۔
جمہوریت کی تعریف بھی بالعموم یہی بتائی جاتی ہے۔ عوام کی حکومت۔ عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے۔ اس لئے جمہوریت میں ہر کام پبلک انٹرسٹ میں ہی ہوتا ہے۔ منیر نیازی نے اپنے انداز میں کہا شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اس نے منیر۔ شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا۔ اگرچہ ظلم کہنا بھی زیادتی ہے کیونکہ جمہوری حکومت اپنی دانست اور استطاعت کے مطابق تو ہر کام عوام کے مفاد میں ہی کرتی ہے اب اگر حالات ہی ایسے ہوں تو حکومت بھی کیا کرے۔ حکومت نے تو اقتدار میں آنے سے پہلے عہد کیا تھا کہ قرضے کے لئے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے مگر حالات نے مجبور کیا اور دو سالوں میں ہی 36 ہزار ارب روپے کا مزید قرضہ لینا پڑا۔ گندم کا مسئلہ شروع ہو گیا آٹا 80 روپے کلو تک جا پہنچا۔ مافیا نے چینی ایکسپورٹ کر دی۔ اب امپورٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ ساٹھ روپے سے 110 روپے کلو تک جا پہنچی۔ مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے بڑھ گئی۔ اب کہا جا رہا ہے بیورو کریٹس رکاوٹ ہیں۔ لائف سیونگ دوائیاں پھر مہنگی ہو گئی ہیں۔ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ کبھی قیمتیں پانچ فیصد یا دس فیصد کے حساب سے بڑھا کرتی تھیں اب تو قیمتیں سو فیصد یا  200 فیصد کے حساب سے بڑھنا گویا معمول بن گیا ہے۔ ہر بار جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو صوبائی اور وفاقی سطح پر عوام کی اکثریت کے منتخب نمائندے بڑی سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہیں لیکن یہ قیمتیں بڑھانے والے بھی بڑے شاطر ہیں کہ بڑی میٹنگز میں اتنی سحر انگیز اور مسحور کن پریزینٹیشن کرتے ہیں کہ سننے اور دیکھنے والے بیچارے اپنے آنسو ہی نہیں روک پاتے کہ یہ بیچارے اتنے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں اور ان کا دل چاہتا ہے کہ جاتے ہوئے انہیں کچھ چندہ بھی دے دیں۔ یوں بھی یہ بیچارے انویسٹرز جمہوریت کی بقا اور استحکام کے لئے سیاسی جماعتوں کا سہارا ہوتے ہیں۔ مشکل وقت میں یہی تو ہیں جو کام آتے ہیں ان ووٹ دینے والے بے مایہ اور بے سہارا لوگ کسی سیاسی جماعت کو کیا سہارا دیں گے۔
ادھر کروڑوں روپے کی گاڑیوں میں رواں دواں شہزادی کے کارواں والے بھی ووٹ کو عزت دو کے لئے ووٹروں کی بھیڑ میں جمہوریت کے فروغ یا بحالی کے لئے مصروف عمل ہیں نہ جانے یہ کس ووٹ کی بات کرتے ہیں کیا صرف وہی ووٹ جو ان کے حق میں ڈالا گیا کیونکہ ووٹ دینے والا نہ کبھی کسی کے لئے اہم ہوا ہے اور نہ ہی شاید ہوگا۔ ووٹ تو ووٹ ہے کسی کے نام کا بھی ہو چاہے کوئی بھی ڈال دے۔ وطن عزیز کے عوام بھی کمال کے لوگ ہیں کبھی نہیں بولیں گے کہ بھائی ووٹ دینے والے سے بھی پوچھ لو کس حال میں ہے۔ تبدیلی کا خواب دکھانے والوں نے کیا تبدیل کر دیا ہے۔ ایک بات ضرور ہے کہ اب وطن عزیز کی اکثریت کو صبر کرنا آگیا ہے کیونکہ ایک عرصے سے جو انہیں بتایا جا رہا تھا کہ اللہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ ہے اب چونکہ ریاست مدینہ کا ظہور ہو رہا ہے اس لئے صابر و شاکر قوم وجود میں آرہی ہے۔ یوں بھی یہ ضروری ہے کیونکہ جونیجو صاحب نے ایک بار وطن عزیز سے وی آئی پی کلچر ختم کرنا چاہا۔ بھاری بھر کم گاڑیوں کا استعمال ممنوع قرار دے دیا کرپشن کی بنیاد پر وزیر کو فارغ کیا اور پھر جلد ہی تاریخ کے میوزیم میں چلے گئے۔ خواہ مخواہ انہوں جمہوریت سے منتخب ہو کر آنے والوں کو بے توقیر کیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا وہ بھی کچھ وزراء کو بلٹ پروف گاڑیاں دے دیتے۔ کچھ ماہرین کو یو ایس اور یو کے سے بلا کر وطن عزیز کے جمہور پر بہتر حکمرانی کا موقع فراہم کرتے۔ جو وام کو ان کے مسائل سے بیگانہ کر کے علمی مباحثوں اور بیرون ملک اثاثوں کی واپسی کی آس دلا کر سنہری خواب دکھاتے رہتے۔  لیکن انہیں شاید ریاست مدینہ کا ادراک نہیں تھا اور انہوں نے شاید جمہوری اقتدار کے لئے اتنی طویل جدوجہد بھی نہیں کی تھی۔
اب جمہوری حکمران تبدیلی لا رہے ہیں۔ اس میں مسائل تو ہوں گے بس کچھ دیر اور۔ یہ پانچ سال تو پورے ہونے دیں کیونکہ یہ تو ابھی بنیاد رکھی جا رہی ہے تعمیر کا کام آئندہ پانچ سالوں میں شروع کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ بھی پبلک انٹرسٹ میں ہی تو ہے۔ پبلک کو کوئی روکنے والا نہیں آبادی دو فیصد زائد شرح سے بڑھتی رہے ، بیروزگاری بڑھتی رہے، غربت بڑھتی رہے، مہنگائی بڑھتی رہے، فکر نہ کریں ہر سطح پر نوٹس لے لیا گیا ہے۔ اطمینان رکھیں سب اچھا ہونے کو ہے۔ آپ سب فی الحال فرانس کے خلاف احتجاج جاری رکھیں۔ کشمیر میں بھارتی ظلم اور دہشت گردی کیخلاف سیمینار کرائیں۔ احتجاج کریں۔ حکومت آپ کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔


 

تازہ ترین خبریں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ایشوریہ کی  18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

ایشوریہ کی 18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران