02:03 pm
بولنے کی آزادی کس حد تک؟

بولنے کی آزادی کس حد تک؟

02:03 pm

ایک طرف تو پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمن یہ تاثردینے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان میں بولنے کی آزادی نہیں ہے خصوصیت کے ساتھ صحافت ’’آزاد‘‘ نہیں ہے۔‘ دوسری طرف جب ٹی وی پر ہونے والے مذاکروں کاجائزہ لیا جاتاہے تو یہ دیکھ کر اور سن کر حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں اظہار خیال کے سلسلے میں کتنی آزادی ملی ہوئی ہے یہاں تک کہ پاکستان کے آئین کے تحت جن اداروں کے خلاف بیانات دینے سے واضح طور پر منع کیاہے‘ ان کے خلاف بھی بڑے دھڑلے سے تہہ درتہہ الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ جن میں ادب ‘ تہذیب اور شائستگی کا پہلو نہ ہونے کے برابر ہوتاہے۔ اس ہی قسم کی بے ہودہ اور بے لگام بات چیت کرکے پاکستان کے تمام محترم اداروں کو عوام کی نگاہوں میں غیر معتبر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ بھی محفوظ نہیں ہے‘ جہاں عوام کی بھلائی وبہبود کے سلسلے میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ا س صورتحال کو خراب کرنے  میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے منفی اور پاکستان دشمن کردار کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتاہے۔ انہوں نے لندن میں بیٹھ کراور اس سے قبل پاکستان میں رہتے ہوئے بھی عسکری اداروں کے خلاف جولب ولہجہ استعمال کیاتھا‘ وہ براہ راست پاکستان دشمنی کے زمرے میں آتاہے۔ جس سے تاثر یہ ملتاہے کہ وہ کسی اور کے اشارے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ لیکن اب جب لندن سے انہوں نے نام نہاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے براہ راست فوج پر الزام تراشی شروع کی تو ان کے اس بیانیہ کو بھارت میں غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ نوازشریف بھارت کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ ان کی بیٹی اس سلسلے میں ان سے دو ہاتھ آگے ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے عوام اور خواص کے ذہنوں میں انتشار پھیل رہاہے۔ وہ ادارہ یعنی فوج جس پر ملک کو بچانے کی ذمہ داری عائد ہے۔ اور جس کے جوان ابھی تک پاکستان میں اندرونی اور بیرونی دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں ان قربانیوں کو نوازشریف اور ان کی بیٹی زائل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ 
چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا پاکستان یا پھر کوئی دوسرا آزاد ملک اس قسم کی مادر پدر آزادی کا متحمل ہوسکتاہے؟ اور کیا آئین اس کی  اجازت دیتاہے؟ کیا دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے قومی اداروں کے خلاف اس قسم کے غلیظ بیانات برداشت کرسکتاہے؟ یقینا نہیں‘ ہرگز نہیں ‘ لیکن پاکستان میں یہ سب کچھ ہورہاہے‘ دن دھاڑے ہورہاہے۔ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ نوازشریف اوران کے خاندان کو بھارت اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اورانہیں تھپکی دے رہے ہیں کہ ’’چڑھ جاسولی پر بھلی کرے گا رام‘‘ نیز عوام کاایک بہت بڑا طبقہ بھی یہ محسوس کررہاہے کہ نوازشریف بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کرناچاہتاہے۔ اس حقیقت کو جاننے یا سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے ۔ سب کچھ ان کی باتوں سے عیاں ہے۔ نوازشریف ان کی بیٹی کے علاوہ حزب اختلاف کے دیگررہنمائوں کی شعلہ بار تقریروں سے یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ مہنگائی کارونا رونے والوں کا اصل ایجنڈ ا کیاہے۔
 بلوچستان کے جلسے میں نوازشریف نے پھرعسکری اداروں کیخلاف اپنی نازیبا زبان استعمال کی تاکہ بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو پاکستان کے خلاف بدظن کیاجاسکے۔ شاہ احمد نورانی مرحوم کے بیٹے اویس نورانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ بلوچستان کو آزاد کردو ‘کیا اس قسم کی تقریریں آزادی اظہار کے آرٹیکل 19اور19-A کی اجازت دیتاہے۔ ؟ ایسی تقریریںتو پاکستان دشمنی کے زمرے میں آتی ہیں۔نیز کوئی بھی آزاد اور خودمختار ملک چاہے بڑا ہو یا چھوٹا اپنے ملک کے سیاسی رہنمائوں کی ملک دشمنی پر مبنی باتیں برداشت کرسکتا ہے؟ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ پاکستان میں ایسا ہورہاہے اور پاکستان کے خلاف اس قسم کی مہم جوئی وہی عناصر کررہے ہیں جن کو سابق جرنیلوں نے پالا پوسااور انہیں معاشی طور پر ناجائز طریقوں سے اتنا طاقتوربنا دیاہے کہ اب وہ اپنے محسنوں کے خلاف انتہائی رکیک باتیں کررہے ہیں۔ بلکہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پاکستان میں انتشار پھیلارہے ہیں۔ نوازشریف کاایک مقصد یہ بھی ہے کہ عسکری اداروں کواپنی تقریروں کے ذریعہ اتنا بدنام کیاجائے کہ وہ تنگ آکر اقتدار پر قبضہ کرلیں جبکہ پاکستان کی فوج نوازشریف کی اس سازش کو سمجھ چکی ہے۔ اس لئے وہ اقتدار میں نہیں آئے گی بلکہ نہیں آناچاہے‘ سپریم کورٹ کے  ذریعے نوازشریف اور اس کی بیٹی کے خلاف پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا مقدمہ دائرکرناچاہیے نیز ان کی تقریروں پرپابندی عائد کرنا اب وقت کی ضرورت بن چکاہے۔
پاکستان میں نوازشریف ان کی بیٹی اوران کے دیگرحواری جوکچھ کررہے ہیں اس کا آزادی اظہار رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ بھرے پیٹ اور ناجائز دولت کے حامل افراد کامسئلہ مہنگائی ہے۔ یہ مہنگائی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرکے عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ جبکہ پاکستانی عوام کی اکثریت ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ جذباتی بھی ہے‘ اس لئے وہ ان رہنمائوں کا ماضی بھول کر ان کی باتوں کے بہکائے میں آرہے ہیں۔ دراصل پاکستانی قوم بہت جلد ماضی کوبھول جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عیار سیاستدان انہیں باآسانی اپنے مقاصد میں استعمال کرلیتے ہیں اور اس وقت بھی کررہے ہیں۔ اس صورتحال سے بھارت پورا پورا فائدہ اٹھارہاہے۔ پاکستان میں اس کے ایجنٹ اور تنخواہ دار را کارکن ہر فورم پر پاکستان کی فوج  اور دیگراداروں کے خلاف انتہائی گمراہ کن باتیں کرکے عوام کے ذہنوں کو آلودہ کررہے ہیں ‘انتشار پھیلانے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیںتاکہ پاکستان میں استحکام لانے کے سلسلے میں موجودہ حکومت جو کوشش کررہی ہے وہ کا میاب نہ ہوسکی۔ اس ضمن میں سابق وزیرداخلہ رحمن ملک نے انکشاف کیاہے کہ امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت نے 3بلین ڈالر کی کثیررقم پاکستان کو توڑنے کے لئے مختص کی ہے اس میں نوازشریف کا بھی حصہ ہے۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتاہے اس وقت نوازشریف ‘اس کی بیٹی مریم صفدر اور نام نہاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل سیاسی عناصر کھلے بندوں بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ویسے بھی بھارتی اخبارات مسلسل یہ لکھ رہے ہیں کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کرسکتاہے۔ ظاہر ہے دشمن ممالک پاکستان کے اندرونی حالات سے فائدہ اٹھاکراپنی حکمت عملی کاتعین کررہے ہیں۔ نوازشریف اور اس کی بیٹی نے پاکستان میں ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں کہ دشمن بتدریج پاکستان کے خلاف اپنے عزائم پورا کرنے کی طرف بڑھ رہاہے۔ ذرا سوچئے۔ 
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے


 

تازہ ترین خبریں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

انارکلی دھ م ا ک ہ کس نوعیت کا تھا؟ ابتدائی تفصیلات آگئیں

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

آئندہ چوبیس گھنٹوں میںموسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ملک کی صدارتی نظام نافذ ہونے کا امکان؟ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی بھی کھل کر بول پڑے

ایشوریہ کی  18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

ایشوریہ کی 18 برس بعدطلاق، طلاق کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مہنگائی سے عوام پریشان ، حکمران جماعت میں بغاوت۔۔پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آئندہ الیکشن کس جماعت کے ٹکٹ پر لڑیںگے؟ سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز د

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

مزید بارشوں اور بر فباری کی پیشنگوئی، متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

وہ میرا سب کچھ تھا، بھارتی اداکارہ ورون دھون شدید غم سے نڈھال ، جذباتی پوسٹ شئیر کردی

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

اسرائیل کیساتھ ترکی کے تعلقات بحال، ترک صدر نے بھی مسلم امہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

فیول ایڈجسٹمنٹ کی ساری رقم صارفین کو واپس کریں، نیپرانے ہدایت نامہ جاری کر دیا

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

لاہور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ۔۔۔ 20زخمی ،کتنوں کی حالت تشویشناک ہے؟ جانیے تفصیل

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

ایکسچینج کمپنیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ،ڈالر 200روپے سے بھی اوپر جانے کا امکان

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

سردی کی نئی لہر آگئی ، تیز سائبیرین ہوائوں کا امکان ، شہریوں کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کورونا وائرس کا پھیلائو، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے نئے احکامات جاری کر دیئے گئے

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران

کنول آفتاب اور ذوالقرنین سکندر کی شادی ، کونسی اہم حکومتی شخصیت بھی پہنچ گئی؟ تصویر دیکھ کر ہر کوئی حیران