01:51 pm
اقتدار و سیاست میں معاہدوں، اخلاقی رویوں کی اہمیت

اقتدار و سیاست میں معاہدوں، اخلاقی رویوں کی اہمیت

01:51 pm

میرے اندر کا مورخ ماضی بعید کی سیاست کے مطالعہ میں مصروف ہے۔ حکمران پی ڈی ایف میں پہلی دراڑ اس وقت پیدا ہوئی جب صوبہ خیبرپختونخوا کے مسلم لیگ جونیجو کے صدر میر افضل خان نے انتخابات کے وران معاہدہ ذاتی طور پر کرلیا کہ وہ صوبے میں پی پی پی اقتدار کا راستہ ہموار کر دیں گے جس کے انعام کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو انہیں چیئرمین سینٹ بنوائیں گی۔ بے نظیر نے اس ’’منظر نامے‘‘ میں میر افضل کو خوب استعمال کیا اور انتخابات میں جو ٹکٹ جونیجو لیگ کے افراد کو پی ڈی ایف کے ملے تھے ، ان کے خلاف پی پی پی کے افراد انتخابی دنگل میں کود پڑے۔ جب امیدواروں نے میر افضل کو تلاش کیا تو میر افضل منظر سے غائب ہوگئے۔ یوں میر افضل کی سازش سے جونیجو لیگ کی اکثریت صوبائی انتخابات سے باہر ہوگئی اورپی پی پی اکثریت میں آگئی، شیر پائو وزیر اعلیٰ بن گئے۔
جب چیئرمین سینٹ کا مرحلہ آیا تو میر افضل خان نے محترمہ بے نظیر سے ایفائے عہد کا تقاضا کیا، شاطر بے نظیر نے انہیں چٹھہ کی حمایت اور تائید لانے کو کہا۔ مگر چٹھہ نے پارٹی صدر کی حیثیت سے میر افضل کے بے نظیر بھٹو سے انفرادی معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکارکر دیا جبکہ عملاً چیئرمین سینٹ پی ڈی ایف کا آسانی سے بن رہا تھا۔ جب میر افضل خان ناراض ہوگیا، نواز شریف نے وسیم سجاد کو امیدوار بنایا ہوا تھا ،مگر میر افضل کی ناراضی نے منظر نامہ تبدیل کر دیا۔ جب وو ٹ ڈالے جارہے تھے تو حامد ناصر چٹھہ ، بریگیڈئر اصغر اور یہ فقیر سینٹ لابی میں اس حقیقت کو تسلیم کرچکے تھے کہ نواز شریف کا چیئرمین 2 ووٹ سے جیت رہا ہے۔ مگر رزلٹ آیا تو وہ تین ووٹ سے جیت گیا۔ کیا چٹھہ نے غلطی کی؟ نہیں ہرگز نہیں۔ چٹھہ نے میر افضل خان کے سازشی کردار کو تسلیم نہ کرکے پختہ اخلاقی لیگی رویئے کی بنیاد رکھی اگرچہ چیئرمین کا منصب ہاتھ سے نکل گیا۔ 
پنجاب سے چٹھہ نے جونیجو کا ساتھ اس وقت دیا جب وہ معزول وزیر اعظم تھے، چٹھہ نے جنرلز کی ناراضی کی پرواہ نہیں کی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سے دن کی روشنی میںاعتماد اور بھروسے کی بنیادیں استوار کرکے پی ڈی ایف کا معاہدہ کیا، جٹ برادری اور چٹھہ خاندان کی روایات کو پی این ا ے کی تحریک میں دیکھیں، جب بھٹو گرفتار تھے ، بیگم نصرت بھٹو عوامی رابطہ مہم پر گوجرانوالہ میں تھی، تو انہیں گرفتار کرکے ایک ایسے ریسٹ ہائوس میں نظربند کیا گیا جو احمد نگر گائوں کے قریب تھا۔ اگلے دن قومی اتحاد کے لیگی حامد ناصر چٹھہ نے اپنے گائوں احمد نگر سے بیگم نصرت بھٹو کا ناشتہ بھجوایا، شائد چٹھہ اور بھٹو خاندان میں یہ پہلا اخلاقی سطح کا رشتہ قائم ہوا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین، وڑائچ جٹ ، جب وزیر داخلہ تھے نوازشریف حکومت میں تو انہوں نے بے نظیر بھٹو کو اپنے خاوند آصف علی زرداری کے ساتھ قیام کی اجازت دی تھی۔ اگرچہ صدر غلام اسحاق خان تو ناراض ہوئے مگر چوہدری شجاعت حسین نے اپنے کیے پر ندامت کی بجائے دلیری سے اپنے عمل کو جاری رکھا تھا یہ رویئے دیہاتی پنجابی سیاسی رخ کو ظاہر کرتے ہیں اور وسیع الظرفی کو بھی۔چوہدری شجاعت حسین مسلم لیگیوں میں عملیت پسندانہ تدبر و فراست کا بہت بڑا کردار ہیں۔ انہوں نے ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی، پھر لندن اسکول آف اکنامکس سے ایم اے معاشیات کیا۔ وہ جتنی عمدہ پنجابی بولتے ہیں اتنی ہی عمدہ انگریزی بھی۔ ان کا ’’مٹی پائو‘‘ فارمولہ اصل میں ’’سیاسی فالٹ لائنز‘‘ کا ادراک اور ان کا سیاسی علاج ہے۔ کاش جنرل پرویز مشرف لال مسجد کے معاملات میں چوہدری دانش کو استعمال کرتے تو حادثہ نہ ہوتا۔
اب میں آپ کو دیہاتی اخلاقی سیاسی رویوں کا ایک نیا رخ دکھاتا ہوں۔ جب شریف خاندان سرور پیلس جدہ میں مقید و نظربند تھا۔ جد ہ میں19 جنوری2003 ء کو سروس پیلس میں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اسلام آباد آکر ان کی حمایت میں کالموں کا سلسلہ شروع کیا، تو مجھے قیام لاہور کے لئے چٹھہ سے رجوع کرنا پڑا، انہوں نے خوشی سے مجھے اپنے لاہور گلبرگ والے گھر میں قیام کے لئے وہی کمرہ دیا جس میں محمد خان جونیجو ٹھہرا کرتے تھے۔ مجھ سے ملنے کے لئے جتنے بھی افراد ، دانشور یا صحافی آتے ان کی حسب وقت تواضع ہوتی۔ ایک دن بے تکلفی میں چٹھہ نے مجھ سے کہا ، مجھے معلوم ہے کہ آپ شہباز شریف کی واپسی کے لئے کالم لکھ رہے ہیں۔ میں نے آپ کو منع نہیں کیا، اس کا برا بھی نہیں منایا، مگر ایک بات یاد رکھنا جب شہباز واپس آجائیں گے ، آپ کے لکھے ہوئے فارمولوں کی روشنی میں جب وہ وزیر اعلیٰ پنجاب بن جائیں گے ، تب وہ سب سے زیادہ آپ کو نظر انداز کرکے بہت مایوس کریں گے۔ میں نے ان کے یقین کی وجہ پوچھی تو انہوں نے میاں شریف سے اپنی اور جونیجو کی پہلی ملاقات کا حوالہ دیا کہ اپنے محسنوں کو نظر انداز کرنا شریف خاندان کی اصلیت ہے۔  کیا شریف خاندان اپنے ریاستی محسن اداروں کے خلاف موجودہ وقت ایسا بیانیہ نہیں دے رہا جس سے صرف دشمن بھارت کے ہاتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ حالت جنگ میں ریاستی ادارے کمزور بنائے جاہے ہیں۔ کیا شریف خاندان کی سیاست و اقتدار کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند نہیں ہوجانا چاہیے؟ کیونکہ وہ اصلاً مارشل لاء کی آمد چاہتے ہیں تاکہ جنرلزپر بیرونی دبائو ڈلوا کر فوائد لے لیے جائیں۔
 اس مصیبت کا کوئی فوری علاج سیاسی طور پر ممکن ہے؟ اگر ملک میں فطری انداز کی امر ربی سے کوئی بڑی تبدیلی وقوع پذیر ہو جائے تو سیاست و اقتدار کی تشکیل جدید میں صرف سنجیدہ اخلاقی کرداروں کو اولیت دی جائے، بزرگ شخہصیات کا پولیٹیکل پولٹ بیورو بنا دیا جائے تاکہ وہ اپنے ٹھنڈے مزا ج کے ساتھ الجھے معاملات کو سلجھانے کا آسان راستہ تخلیق کر سکیں۔ ہوس اقتدار میں مبتلا پرانے اقتدار پرست چہروں کو خاندان سمیت اقتدار سے محروم کر دیا جائے، اخلاق ، ایثار، قربانی ، اہلیت صلاحیت کو معیار اول بنا دیا جائے۔ ایک دفعہ میں نے حامد ناصر چٹھہ سے پوچھا کہ آپ کی نواز شریف سے دشمنی ہے یا صرف سیاسی مخالفت؟ وہ بولے صرف سیاسی مخالفت اور وہ بھی نواز شریف کے بے اصولے پن کے سبب وہ ذاتی طور پر خود کو بادشاہ بنالیتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں

جیت کی خوشی ،عثمان ڈارنے مصطفیٰ نوازکھرکھرکامنہ میٹھاکرادیا

جیت کی خوشی ،عثمان ڈارنے مصطفیٰ نوازکھرکھرکامنہ میٹھاکرادیا

پاکستان کی مشہور سڑک کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

پاکستان کی مشہور سڑک کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

پیپلزپارٹی نے 5سال ن لیگ اور 3سال تحریک انصاف کا مقابلہ کیا۔ بلاول بھٹو

پیپلزپارٹی نے 5سال ن لیگ اور 3سال تحریک انصاف کا مقابلہ کیا۔ بلاول بھٹو

 بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ایونٹ کا انعقاد ہوا،پی سی بی بلوچستان میں کھیلوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ جام کمال 

 بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ایونٹ کا انعقاد ہوا،پی سی بی بلوچستان میں کھیلوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ جام کمال 

کراچی لاک ڈاون میں نرمی ۔۔۔محکمہ داخلہ سندھ نے ترمیمی لیٹرجاری کردیا

کراچی لاک ڈاون میں نرمی ۔۔۔محکمہ داخلہ سندھ نے ترمیمی لیٹرجاری کردیا

 وزیر داخلہ شیخ رشید  اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کریں سندھ حکومت کے فیصلے کے خلاف شر اور فساد نہ پھیلائیں۔ پلوشہ خان

 وزیر داخلہ شیخ رشید  اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کریں سندھ حکومت کے فیصلے کے خلاف شر اور فساد نہ پھیلائیں۔ پلوشہ خان

 لاہور  کے 13 علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز

لاہور کے 13 علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز

ملک میں سونے کی قیمتوں میں مزید 500 روپے کمی

ملک میں سونے کی قیمتوں میں مزید 500 روپے کمی

کرکٹ پربھارتی سیاست کی جتنی مذمت کی جائےکم ہے، دفتر خارجہ

کرکٹ پربھارتی سیاست کی جتنی مذمت کی جائےکم ہے، دفتر خارجہ

پیپلزپارٹی نے  پٹرول کی قیمتوں میں مزید  اضافہ مسترد کر دیا

پیپلزپارٹی نے پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ مسترد کر دیا

گورنرسندھ عمران اسماعیل نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے لاک ڈاؤن پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا۔

گورنرسندھ عمران اسماعیل نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے لاک ڈاؤن پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا۔

بھارت کی جانب سے غیر ملکی کھلاڑیوں کو کے پی ایل میں شرکت سے متنفر کرنا قابل مذمت ہے۔ شہریار آفریدی

بھارت کی جانب سے غیر ملکی کھلاڑیوں کو کے پی ایل میں شرکت سے متنفر کرنا قابل مذمت ہے۔ شہریار آفریدی

سندھ حکومت صنعت اور ٹرانسپورٹ کی بندش پر نظرثانی کرے، اسد عمر

سندھ حکومت صنعت اور ٹرانسپورٹ کی بندش پر نظرثانی کرے، اسد عمر

سندھ حکومت نے ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

سندھ حکومت نے ڈبل سواری پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔