12:43 pm
 امریکا کے صدارتی انتخابات، کئی انہونیاں ہوسکتی ہیں 

 امریکا کے صدارتی انتخابات، کئی انہونیاں ہوسکتی ہیں 

12:43 pm

 2016کی انتخابی مہم میں ٹرمپ نے خود کو نفاذ قانون کے پُرزور حامی کے طور پر پیش کیا اور اپنے دورِ صدارت میں بھی یہی موقف رکھا۔ یہاں
(گزشتہ سے پیوستہ)
 2016کی انتخابی مہم میں ٹرمپ نے خود کو نفاذ قانون کے پُرزور حامی کے طور پر پیش کیا اور اپنے دورِ صدارت میں بھی یہی موقف رکھا۔ یہاں تک کہ نسلی عدم مساوات کے خلاف امریکا میں پھوٹنے والے حالیہ احتجاج کے دوران بھی ڈٹ کر پولیس کی حمایت کی۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے دنگے فساد اور املاک کے نقصان سے ٹرمپ کو نفاذ قانون کے حامی حلقوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ 
ہوور انسٹی ٹیوٹ کے ایک جائزے کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کے معاشی ایجنڈے سے امریکا میں روزگار کے مواقعے میں 3فی صد اور فی کس جی ڈی پی میں 8فی صد کمی آئے گی۔ 49لاکھ امریکی بے روزگار ہوں گے اور جی ڈی پی کے حجم میں 2اعشاریہ 6کھرب ڈالر کی کمی واقع ہوگی۔ بائیڈن کی بزنس ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوں گے۔ حال ہی میں سامنے آنے والے بروکنگز کے جائزے کے مطابق ٹرمپ کا دوبارہ منتخب ہونا مشکل ضرور ہے لیکن خارج از امکان نہیں۔ ڈبلیو اے گیلسٹون نے اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا ہے:’’ اگرچہ ہر ریاست کے الیکڑول کالج کے نتائج ہی فیصلہ کریں گے تاہم اس بار ریاستی کے بجائے قومی محرکات انتخابی نتائج کا تعین کریں گے۔ ٹرمپ الیکٹرول کالج میں بائیڈن کو حاصل واضح برتری کو شکست نہیںدے سکیں گے۔ اس کے لیے ٹرمپ کو بائیڈن کے پاپولر ووٹ کے ایڈوانٹج کو 2016 کے مقابلے میں اندازاً دو پوائنٹ کم کرنا ہوگا۔ بدترین صورت حال یہ ہوگی کہ ٹرمپ مقابلہ برابر کرنے کے بجائے اس کے نزدیک تر ووٹ حاصل کرلیں۔ انتخابی نتائج مشکوک ہونے کی صورت میں امریکا انتشار کا شکار ہوجائے گا۔‘‘ پہلا صدارتی مباحثہ ٹرمپ کے لیے تباہ کُن ثابت ہوا۔دوسرا مباحثہ ٹرمپ کو کورونا ہونے کی وجہ سے ملتوی ہوگیا البتہ تیسرے مباحثے میں ٹرمپ کی واپسی جاندار تھی لیکن یہ انتخابی پوزیشن بہتر کرنے کے لیے اول تو کافی نہیں تھی اور اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی کیوں کہ 23اکتوبر تک 4کروڑ 60لاکھ امریکی ووٹ دے چکے تھے۔ قبل از وقت ووٹنگ میں ٹرمپ کو بڑے فرق سے شکست ہوگی اور ٹرمپ اس مقابلے کو ’جعلی‘ قرار دیں گے۔ 
2016کے برخلاف اس بار کی شکست صدر ٹرمپ کو بہت بھاری پڑے گی۔ فی الحال ٹرمپ کے خلاف ٹیکس چوری کی تحقیقات رُکی ہوئی ہیں تاہم الیکشن میں ناکامی کے بعد ٹرمپ کو سزا ہونا یقینی ہے اور ظاہر ہے ٹرمپ اس سے بچنے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گا۔ بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کا کورونا مثبت آنے کے باوجود نہ تو کوارنٹین ہوئے، ٹرمپ اور ان کے نائب صدر مائیک پنس نے اپنی ریلیوں میں ماسک پہننے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی۔ انتخابی مہم کے لیے کافی رقم جمع ہونے کے باعث ٹرمپ کو اپنے انتخابی اشتہارات میں بھی کٹوتی کرنا پڑی۔ عین ممکن ہے کہ اگر ٹرمپ کو الیکشن میں شکست ہوئی تو مہم کی ادائیگیاں نہ کرنے کی وجہ سے انہیں جیل جانا پڑے۔ انتخابی مہم میں ٹرمپ تواتر سے جس جو بائیڈن اور اس کے بیٹے ہنٹر کو ’’غنڈہ‘‘ قرار دے رہے ہیں ، بعد میں جیل جانے والا امریکی تاریخ کا پہلا سابق صدر بننے سے بچنے کے لیے ٹرمپ اُسی ’صدر‘ رحم و کرم پر ہوں گے۔ یہ راستہ کھلا رہتا ہے یا نہیں اس کا انحصار ٹرمپ کے رویے پر ہے کیوں کہ فی الحال تو وہ ہر جلسے اور ریلی میں بائیڈن اور اس کے خاندان کو جیل میں ڈالنے کا نعرہ بلند کیے نظر آتے ہیں۔ یہ رویہ ٹرمپ کے لیے ڈراؤنا خواب بھی بن سکتا ہے۔ 
مڈ ویسٹ یا وسط مغربی ریاستوں میں مسلح ملیشیا بھی متحرک ہیں، انتخابی نتائج پر ہونے والے کسی تنازعے سے صورت حال خانہ جنگی کی جانب جا سکتی ہے۔ یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ شکست کی صورت میں صدر ٹرمپ عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیں اور 25آئینی ترمیم کے سیکشن 4سے کوئی راستہ نکلے۔ اس مطابق قانونی طور پر نائب صدر اور کابینہ کے کوئی بھی آٹھ ارکان یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ صدر اب فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہا۔ تحریری طور پر یہ فیصلہ وہ اسپیکر اور سینیٹ کے صدر کو ارسال کریں گے۔ اگر صدر اس تحریک کی مخالفت کردے تو اس معاملے پر کانگریس میں رائے شماری کی جائے گی۔ دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے کوئی فیصلہ ہوگا اور اس دوران امور مملکت نائب صدر سنبھال لے گا۔ اس صورت میں بھی اگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو صدر کو عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ فی الوقت ایسے حالات پیدا ہوتے نظر نہیں آتے اور نہ ہی اس سے قبل ایسی کوئی نظیر ہے لیکن دنیا میں کوئی بھی کام پہلی بار ہوسکتا ہے۔ 
حکومتیں تبدیل ہونے سے امریکا کی خارجہ پالیسی میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آتی لیکن امریکا کے ساتھ تعلقات کے طویل تجربے کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈیموکریٹ کے مقابلے میں ریپبلکن صدر پاکستان کے لیے زیادہ نرم گوشہ رکھتا ہے۔ افغانستان کی جنگ نے عسکری اور اقتصادی دونوں اعتبار سے امریکا پر انتہائی برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ اس جنگ کے خاتمے کے سب سے بڑے حامی ہیں اور اس کے لیے پاکستان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے طالبان اور افغان حکومت کے مابین حقیقی مفاہمت کے مدد فراہم کررہے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ امریکا نے امن عمل میں بھارت کے کسی بھی کردار کے خلاف پاکستان کی پُرزور مخالفت کو تسلیم کرلیا ہے۔ دوسری جانب بطور نائب صدر جو بائیڈن اس رائے کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ روس، شمالی کوریا اور پاکستان کو ایک ہی صف میں دیکھتے۔ اس کے ساتھ وہ بھارت کو افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا ذمے دار بھی تسلیم کرتے ہیں۔ بائیڈن کی نائب کمیلا ہیریس ہوں گی۔ ایک بھارتی سکھ ہونے کے ناتے پاکستان کے لیے ان کا مؤقف محتاط ہوگا۔ گذشتہ برس کمیلا ہیرس نے کشمیروں کے مسائل کا ادراک ہونے کی بات کی تھی اور بھارت سے جموں و کشمیر میں عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا تاہم ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا امور کے سنیئر ماہر مائیکل کوگلمین کے نزدیک کشمیر سے متعلق کمیلا کے بیانات میں ہمدردی تو تھی لیکن ان کا لہجہ پُرزور نہیں تھا۔ یاد رہنا چاہیے کہ ضروری نہیں سیاست دانوں کی زبانی حمایت کسی عملی اقدام کی علامت بھی ہو۔ 
اگرچہ آج امریکا پر پاکستان کے انحصار کی نوعیت وہ نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی تاہم ڈیموکریٹس کی فتح سے توازن بگڑ سکتا ہے۔ انتخابات میں بائیڈن کی فتح ابھی تک سو فیصد یقینی تو نہیں لیکن پچھلی مرتبہ کی طرح  الیکشن سے ایک ہفتہ قبل اگر ’’اکتوبر سرپرائز‘‘ ہو گیا تو ٹرمپ کی شکست فاش یقینی ہوگی۔ گزشتہ انتخابات میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے ہلیری کی ای میلز پر تحقیقات شروع کردی تھیں جس کے نتیجے میں انتخابی بازی پلٹ گئی تھی۔ ٹرمپ اپنے ساتھ کئی ریبلکن سینیٹرز اور نمائندگان کو بھی لے ڈوبے گا اور امریکی سینٹ اور ایوان نمائندگان دونوں ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ممکن ہے کہ ایک دن پاکستان کو ’صدر‘ کمیلا ہیرس کا سامنا کرنا پڑے۔ اس وقت ٹرمپ سے نفرت جتانے والے اس کے اچھے دنوں کو ضرور یاد کریں گے۔ 
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 
 

تازہ ترین خبریں

محرم الحرام میں مجالس اور جلوسوں کیلئے ایس او پیز جاری

محرم الحرام میں مجالس اور جلوسوں کیلئے ایس او پیز جاری

پاکستان کے اہم شہر میں 15 سے زائد شادیاں کرنے والافراڈیا ، پولیس حرکت میں آگئی

پاکستان کے اہم شہر میں 15 سے زائد شادیاں کرنے والافراڈیا ، پولیس حرکت میں آگئی

پینٹاگون کے نزدیک فائرنگ ، کئی افرادکے زخمی ہونے کی اطلاعات

پینٹاگون کے نزدیک فائرنگ ، کئی افرادکے زخمی ہونے کی اطلاعات

قومی اسمبلی ملازمین کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری ۔۔۔ کورونا ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ ممنوع قرار

قومی اسمبلی ملازمین کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری ۔۔۔ کورونا ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ ممنوع قرار

الیکشن کمیشن کی عمارت کے دوسرے فلور پر آگ لگ گئی 

الیکشن کمیشن کی عمارت کے دوسرے فلور پر آگ لگ گئی 

 قائد اعظم پورٹریٹ کے سامنے غیر اخلاقی تصاویر بنوانے کے واقعے پر مقدمہ در ج

قائد اعظم پورٹریٹ کے سامنے غیر اخلاقی تصاویر بنوانے کے واقعے پر مقدمہ در ج

15 سے زائد شادیاں کرنے والے فراڈئے کے بیٹے کو ساہیوال پولیس نے گرفتار کرلیا 

15 سے زائد شادیاں کرنے والے فراڈئے کے بیٹے کو ساہیوال پولیس نے گرفتار کرلیا 

قومی اسمبلی میں حکومتی جماعت کے دوارکان کے مابین شدید تلخ کلامی

قومی اسمبلی میں حکومتی جماعت کے دوارکان کے مابین شدید تلخ کلامی

شہبازشریف نےانٹرویودےدیالیکن ہمیں اب جواب دیناپڑتاہے۔ شاہد خاقان عباسی 

شہبازشریف نےانٹرویودےدیالیکن ہمیں اب جواب دیناپڑتاہے۔ شاہد خاقان عباسی 

عمران صاحب صبح اٹھتے ہی آپ کا کام صرف عوام کا آٹا چینی بجلی گیس دوائی مہنگی کرنا ہوتا ہے۔ مریم اورنگزیب

عمران صاحب صبح اٹھتے ہی آپ کا کام صرف عوام کا آٹا چینی بجلی گیس دوائی مہنگی کرنا ہوتا ہے۔ مریم اورنگزیب

عمران خان سیاسی بصیرت سے تاحال محروم ہیں اور جمہوریت سے نفرت کرنے والی سوچ کے مہرے کے سوا کچھ نہیں۔ فیصل کریم کنڈی

عمران خان سیاسی بصیرت سے تاحال محروم ہیں اور جمہوریت سے نفرت کرنے والی سوچ کے مہرے کے سوا کچھ نہیں۔ فیصل کریم کنڈی

 چئیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان

چئیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان

ن لیگی رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کانیا کارنامہ ۔۔۔ اپنی جگہ دوسرے بندے کو امتحانی ہال میں بٹھا دیا

ن لیگی رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کانیا کارنامہ ۔۔۔ اپنی جگہ دوسرے بندے کو امتحانی ہال میں بٹھا دیا

نوازشریف کوکرکٹ کاشوق تھاوہ بائی چانس وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان 

نوازشریف کوکرکٹ کاشوق تھاوہ بائی چانس وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان