12:54 pm
تاریخ حریت گلگت بلتستان و کشمیر 

تاریخ حریت گلگت بلتستان و کشمیر 

12:54 pm

کشمیر وگلگت بلتستان کے عوام کی تاریخ، صدیوں سے صبر واستقامت، لازوال قربانیوں اور بے مثال جدوجہد آزادی پر مشتمل ہے ۔ان کے حوصلے کو ہمالیہ اور قراقرم کے برف پوش پہاڑوں ، کے ٹو اور دنیا کی بلندترین چوٹیوںکی طرح بلند،  سرسبز و خوبصورت وادیوں اور نیلگوں پانیوں کے بہتے  دریائوں اور آبشاروں کی طرح ناقابل تسخیر ہیں ۔ ڈوگرہ راج کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف کشمیر یوں کی جدوجہد  ناقابل یقین ہے ۔ وادی کشمیر اور گلگت بلتستان میں چونکہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت تھی اور ہے ۔ کشمیر کے علاقہ، پونچھ کے غیور عوام جانباز ،نڈر اور دلیر ی میں منفرد ہیں ، آج سے تقریباً 188سال پہلے گلاب سنگھ کے حکم پر ڈوگرہ فوج نے نومبر1832ء میں پونچھ کے سربراہ اور حریت پسند سردار شمس کے ساتھیوں ،سبزعلی اور مالی خان کے ساتھ دیگر 27سدھن حریت پسندوں کو پلندری کے ایک گائوںمنگ میں ایک درخت  ( جو ابھی تک موجود ہے ) سے زندہ الٹا لٹکا کر ان کی کھالیں اتاری گئیں ،ان کے سر کاٹ کر مختلف جگہوں پر لٹکا دئیے ۔جس سے ڈوگرہ راج کے خلاف نفر ت لا وا ابلنے لگا۔
 ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکست کے بعد معاہدہ لاہور کے تحت سکھ ، کمپنی کو تاوان ادا نہ کرسکے جس پر انگریزوں نے پورا کشمیر بشمول گلگت بلتستان جموں کے حکمران گلاب سنگھ کے ہاتھوں پچھتر لاکھ نانک شاہی  7.500.000روپے میں فروخت کردیا ۔بھاری مسلم اکثریت کا یہ علاقہ اپنی زبان ،ثقافت اور کشمیریت کی منفرد مثال ہے۔ گلاب سنگھ نے گلگت  بلتستان کے لوگوں پر جو سردیوں کے آغاز میں گائے بیل ذبح کرکے ان کا گوشت محفوظ کرلیتے اور برفباری کے دنوں میںخوراک کے طور پر استعمال کرتے پر پابندی لگادی ۔ڈوگرہ فوجی لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کی ہانڈیاں چیک کرتے ،بچوں سے پوچھتے اور اگر پتی چل جاتا تو ان گھر والوں کو سزائے موت دے دیتے ۔ گلگت  بلتستان کے عوام کیلئے یہ ناقابل برداشت تھا ۔ڈوگرہ مظالم کے خلاف سلگتی چنگاری کو 1931ء کو سری نگر جیل کے باہر قدیر خان کے خلاف بیداری کی تقریر کرنے پرمقدمے کے دوران نماز کے وقت اذان کی تکمیل کے دوران 22مسلم نوجوانوںکو ڈوگرہ فوج نے شہید کردیا ۔
1941ء میںدوسری عالمگیر جنگ کے دوران 71.667کشمیریوں جن میں 60.000کا تعلق ْصرف پونچھ سے تھا برطانوی فوج میں بھرتی ہوگئے ۔جو بعد میںتحریک آزادی کی بنیاد بنے۔ 
 گلگت پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جاتا تھا، اس کے مشرق میںچین، جنوب میں آزاد کشمیر، مغرب میں صوبہ خیبر پختونخواہ ، اور شمال میں واخان (افغانستان ) کوریڈور واقع ہے اس کا کل رقبہ 72.971 مربع کلومیٹر اور آبادی 20.00000لاکھ ہے۔1935 ء میں انگریزوں نے یہ علاقہ ڈوگروں سے 60سالہ لیز پر لے کر اسے انتظامی اکائی قرار دیا ۔لیکن 1947 ء میںتقسیم برصغیر کے پیش نظر واپس کردیا ۔مہاراجہ ہری سنگھ نے بریگیڈئر گھنسارا سنگھ گورنر بنادیا ۔
27اکتوبر بھارتی فوج کے سری نگر ائیرپورٹ پر بھارتی فوج کی لینڈنگ اور غیر قانونی قبضے سے کشمیری قوم نے جدوجہد آزادی تیز کردی ۔ ڈوگرہ راج کے خاتمے کیلئے گلگت سکاوٹ کے کرنل مرزا حسن خان ،کیپٹن راجہ اکبر حسین نے ،استور ، کو حریت پسندوں کا مرکز بنا کر ْڈوگرہ فوج کے خلاف جنگ شروع کردی ۔ استور، کشمیر اور ڈوگرہ فوج کے ہیڈکوارٹربھونجی کے آمدورفت اور سپلائی کے  مرکزی راستہ پر واقع تھا  تھا۔ عوام نے سکاوٹ اور مجاہدین کوخوراک اور سامان مہیا کیا اور ہر طرح سے مدد کی ۔ 30اکتوبر کو فوجی ہیڈکوارٹر بھونجی پر قبضہ کرلیا ۔ گورنر گھنسارا سنگھ گرفتار ہوا۔ یکم نومبر 1947ء کو گلگت ریزیڈنسی پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا ۔گلگت سکائوٹ نے کشمیری مجاہدین سے مل کر مئی 1948 ء کے وسط تک  بلتستان ،لیہ ،لداخ ، سکردو ، دراس اور کارگل کو آزاد کروالیا۔ 
  برٹش پولیٹیکل ایجنٹ میجر برائون  اور کیپٹن اے ایس میتھرسن، نے صوبیدار میجر بابر کے ذریعے ۔ ہنزہ ،نگر، چلاس ، کوہ غزر ، اشکومن ، یاسین ،پنیال کے عوام اور راجائوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی ۔ڈوگرہ حکمرانوں سے آزادی کے بعد عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا ۔ قائد اعظمؒ نے13دسمبر 1948ء کو سردار عالم خان کو نیا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کرکے اس علاقے کا انتظام و انصرام وزارت امور کشمیر کو سونپ دیا ۔  
 آزاد جموں وکشمیر کی تاریخ میں سردار ابراہیم خان ، سردار عبدالقیوم ،سردار حمیداللہ خان ، سردار غلام عباس اور خان عبدالقیوم خان کا کردار نہائت اہم ہے ۔ آپ نے کشمیر اور پونچھ کے حریت پسندوںاور قبائلی بھائیوں کے ساتھ مل کر مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کے خلاف جدوجہد کرکے کشمیر کا ایک تہائی علاقہ تقریباً 5000مربع میل ،آزاد کروالیا۔   
سردار ابراہیم خان جدوجہد آزادی کشمیر کے ہیرو ہی نہیں بلکہ سردار حمیداللہ خان اور سردار غلام عباس خان سے مل کر 29جولائی 1947ء کو سر ی نگر میں مسلم کانفرنس کے اجلاس میں قرار داد الحاق پاکستان میں بنیادی کردار ادا کیا ۔آپ نے ریاست کی جغرافیائی حیثیت اور عوام کے جذبات کو اہمیت دی ۔
جولائی 1947ء میں مہاراجہ نے پولیس اور فوج میں تمام مسلمانوں سے اسلحہ واپس لے کر انہیں برطرف کردیا اور وہ اسلحہ ہندو انتہا پسندوں کے حوالے کردیا ۔ اگست 1947ء میں مسلم ملیشیاء  جو پلندری ،نوشہرہ ،اننت ناگ میں منظم ہوکر ڈوگرہ فوج کے خلاف آپریشن شروع کردیا ۔جس کے جواب میں مہاراجہ ہری سنگھ نے سکھ رجمنٹ کو پونچھ تعینات کیا کہ وہ راستے صاف کرے اس رجمنٹ نے دریائے جہلم کا پل بند کرکے پونچھ کا راستہ پاکستان سے منقطع کردیا ۔ اسی دوران مہاراجہ کی فوج نے حریت پسندوں پرحملہ کرکے سینکڑوں شہید کردئیے جس پر 27اگست کو سردار عبدالقیوم خان نے مقامی عوام کے ساتھ دھیرکوٹ کی ملٹری پوسٹ پرقبضہ کرکے علاقہ آزاد کروالیا ۔
22اکتوبر کو سردار ابراہیم خان کے مقامی حریت پسندوں اور قبائلی لشکرز نے مل کر مظفر آباد میں ڈوگرہ فوج پر حملہ کرکے شہر اورمٖضافاتی علاقے آزاد کروالئے ۔ جبکہ لشکر کا دوسرا حصہ اڑی اور بارہ مولا کو آزاد کرواتا ہوا  سری نگر کے مضافات میں پہنچ گیا ۔ ڈوگرہ فوج نے شکست کے خوف اور بدحواسی میں مسلم آبادی کے پورے کے پورے گائوں جلانے کے ساتھ قتل عام اورمظالم کی انتہا کردی ۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے 7نومبر 1947ء کو آزاد فوج نے راجوری ،میرپور ،جھنگر ،کوٹلی کے ساتھ ساتھ پونچھ کے ارد گرد کے علاقے آزاد کروالئے ۔ 
24اکتوبر 1947ء کو مسلم کانفرنس کے رہنما سردار ابراہیم خان نے پلندری کے مقام پر آزاد جموں وکشمیر کے علاقوں پر مشتمل آزاد حکومت جموں وکشمیر قائم کرنے کا اعلان کردیا جس کے پہلے سربراہ وہ خود بنے ۔ 26اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ اپنا سارا خزانہ لیکر سری نگر سے جموں کی طرف فرار ہوگیا ۔جس پر انڈیا نے الحاق کا ڈرامہ رچا کر طے شدہ منصوبے کے مطابق 27اکتوبر 1947ء کو سری نگر کے ہوائی اڈے پر سینکڑوں ہوائی جہازوں کے ذریعے لاکھوں بھارتی فوجی اور اسلحہ پہنچانا شروع کردیا 
 31اکتوبر 1947ء کو قابض بھارتی فوج نے شیخ عبداللہ کو عبوری سربراہ بنا کر مقبوضہ جموں وکشمیر میں حکومت کا اعلان کردیا جس کا مرکز سری نگر بنا۔قابض بھارتیوں نے اپنا مطلب پورا ہوتے ہی شیخ صاحب کو جیل بھیج کر نئی کٹھ پتلیاں استعمال کرنا شروع کردیں ۔قابض فوج اور بھارتی حکومت اپنے مکروہ مقاصد کی تکمیل کیلئے وقت حاصل کرتی رہی ۔
1987ء میںبھارت نے اپنی فطرت اور گھنائونے کردار کے مطابق ڈھونگ انتخابات کرواکر ان تمام امیدواروں کو جو بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے کا نتیجہ تبدیل کردیا۔ جس پر پوری کشمیری قوم  نے جدوجہد آزادی کا انتفادہ اول شروع کردیا ۔جس کیلئے کشمیری قوم نے ہزاروں نہیں لاکھوں قربانیاں دیں ۔ 
2018 ء میں بھارت میں RSSکے ہندوتوا ایجنڈے کی پیروکار مودی حکومت دوبارہ برسراقتدار آئی جس کی انتہا پسندانہ پالیسیوں نے بھارت کا توسیع پسندانہ اورفاشسٹ چہرہ بے نقاب کیا۔ قابض بھارت نے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ طورپر 5اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خود مختاری کو ختم کرکے دنیا کا طویل ترین فوجی محاصرہ اور غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا جو ہنوز جاری ہے۔ 
اس دوران تمام کل جماعتی حریت کانفرنس اور بھارت نواز سیاستدانوں کی ساری قیادت اور لاکھوں کارکنوں کو بھارت کی دور دراز جیلوں اور فوجی عقوبت خانوں میں قید کردیا ۔ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر معذور کردیا ،معلوم ذرائع کے مطابق 600سے زائد کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا اور ہزاروں لاپتہ ہیں ۔ بین الاقوامی رابطوں،  ذرائع مواصلات اور اظہار رائے پر سخت پابندیاں اور قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے ۔
پاکستانی قوم تمام بین الاقوامی فورمز ، انسانی حقوق کی تنظیموں، سکیورٹی کونسل اور اقوام متحدہ میں قانونی ،سیاسی اور سفارتی جدوجہد کرتے ہوئے انہیں مسئلہ کشمیر کی حساسیت اور اس کے نیوکلیئر فلیش پوائنٹ  ہونے پر اس کے پرامن حل کا احساس دلارہی ہے اور یہ کہ بھارت اپنے جارحانہ اقدامات سے  نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کا امن تباہ کرنے پر تلاہوا ہے ۔ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری ، سکیورٹی کونسل، اور اقوام متحدہ اپنی متفقہ قراردادوں کے مطابق اس کے پرامن حل کیلئے موثر اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کے اقدامات کرے ۔


 

تازہ ترین خبریں

بریکنگ نیوز، بنی گالہ کیا ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبر آ گئی، پولیس کی دوڑیں

بریکنگ نیوز، بنی گالہ کیا ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبر آ گئی، پولیس کی دوڑیں

تین سال سے عوام ن لیگ کا گھسا پٹا بیانیہ سن سن کر تنگ آ چکی ہیں۔فیاض الحسن چوہان

تین سال سے عوام ن لیگ کا گھسا پٹا بیانیہ سن سن کر تنگ آ چکی ہیں۔فیاض الحسن چوہان

عمرہ کے خواہشمندہوجائیں تیار۔۔۔وفاقی وزیرنے بڑی خوشخبری سنادی

عمرہ کے خواہشمندہوجائیں تیار۔۔۔وفاقی وزیرنے بڑی خوشخبری سنادی

گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ۔۔ 10لاکھ کی گاڑی 16لاکھ کو پہنچ گئی، 15لاکھ والی 25لاکھ تک جا پہنچی

گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ۔۔ 10لاکھ کی گاڑی 16لاکھ کو پہنچ گئی، 15لاکھ والی 25لاکھ تک جا پہنچی

آرمی چیف کی مدت ملازمت ،ایک ہی جماعت کے دوبیانات  مسلم لیگ ن میں پالیسی اور قومی معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

آرمی چیف کی مدت ملازمت ،ایک ہی جماعت کے دوبیانات مسلم لیگ ن میں پالیسی اور قومی معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

پارٹی میں جھگڑے کارکنوں کے نہیں قیادت کے ہیں، خواجہ آصف کا اعتراف

پارٹی میں جھگڑے کارکنوں کے نہیں قیادت کے ہیں، خواجہ آصف کا اعتراف

پی ٹی آئی کی حکومت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اورعام انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔خواجہ آصف

پی ٹی آئی کی حکومت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اورعام انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔خواجہ آصف

کھلاڑی محنت اور دیانتداری سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔ڈاکٹر عارف علوی 

کھلاڑی محنت اور دیانتداری سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔ڈاکٹر عارف علوی 

 پولیس کو ویکسین کارڈ نہ رکھنے والوں کی گرفتاری سے روک دیا گیا

پولیس کو ویکسین کارڈ نہ رکھنے والوں کی گرفتاری سے روک دیا گیا

وزیراعظم  نے قوم کا تیل نکال دیا اور کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں: شہبازشریف

وزیراعظم نے قوم کا تیل نکال دیا اور کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں: شہبازشریف

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی