12:56 pm
ٹرمپ  و اتحادی ‘ جنگ ‘ نجوم و روحانی وجدان میں

ٹرمپ  و اتحادی ‘ جنگ ‘ نجوم و روحانی وجدان میں

12:56 pm

یہ کالم مختلف جہتوں کو مختصر طور پر محیط ہوگیا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف  جو فضا بنی رہی ہے وہ عطادر کے غروب کے سبب بھی امر ربی ہے۔ 4نومبر کو عطادر درست حالت میں واپس آجائے گا جبکہ عملاً یہ عطادر 3نومبر کی  شام کو ہی  مثبت انداز میں مئوثر ہو جائے گا۔ لہٰذا3نومبر کی شام‘ پاکستانی وقت کے مطابق‘ تو امریکہ انتخاب 4نومبر کو منعقد  ہو رہے ہوں گے۔ لہٰذا 3نومبر کی شام سے 16نومبر تک عطادر کی واپسی کا فائدہ صدر ٹرمپ اور اس کے اتحادی‘ عرب و اسرائیل وغیرہ کو ہوگا مگر 18نومبر کو یہ صورتحال فائدے والی پھر تبدیل ہو کر آپس کی کشمکش میں داخل ہو جائے گی۔ امر ربی سے۔ صدر ٹرمپ اور پینٹاگان میں خاموش کشمکش عود کر آئے گی۔ اسی طرح عربوں‘ اسرائیل‘  مودی کے بھارت کو جو صدر ٹرمپ کے حوالے سے فائدہ ہوتا رہا نظر آتا ہے وہ 18نومبر کے اردگرد نقصان‘ اور افسوس میں تبدیل ہونا شروع بھی ہو جائے گا۔ شائد 3نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات متحدہ امریکہ کے آخری صدارتی انتخابات ہوں گے۔ امریکہ میں تقسیم‘ انتشار بہت زیادہ متوقع ہے۔ 27مارچ 2020ء سے امریکی خلفشار بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
15اگست کو ہندوستان نیا ملک نہیں بنا تھا بلکہ اس نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی۔ 15اگست کو نیا ملک پاکستان پیدا ہوا تھا۔ بھارت نہیں ‘پاکستان کا نجوم حساب 15اگست کے اعتبار سے اگر کیا جائے تو زیادہ واضح ہو جاتا ہے جبکہ 14اگست کے اعتبار سے مکمل واضح نہیں ہوتا۔ لہٰذا 15اگست کے دن سے حساب کرنا چاہیے ۔ 27رمضان‘ لیلۃ القدر کی رات 15اگست سے  زیادہ موافق ہے روحانی وجدان میں۔
نجوم مطالعہ میں فوج عطادر کے سبب اور دیگر ستاروں کے سبب بھی  ‘جن میں مریخ بھی شامل ہے‘ کچھ کمزور‘ شدید دبائو میں رہی ہے۔ یہ جو فوج مخالف سیاسی افراد بیانات دیتے رہے ہیں‘ یا انڈین میڈیا میں پاک فوج کے خلاف پاکستانی سیاسی شخصیات کے بیانات کو اچھالا جاتا ہے اس میں کچھ فرق تو 18نومبر سے پڑے گا۔ مگر اصل معاملہ 24دسمبر سے مریخ کی واپسی سے یوں ہو جائے گا‘ امر ربی سے‘ کہ فوج ‘ جنرلز‘ بہت طاقتور ہو جائیں گے‘ انشاء اللہ فی الحال مارشل لاء کا خطرہ نہیں ہے۔ 30-31 اکتوبر کو جو سیاسی فضاء بنی‘ وہ مارشل لاء کے جواز کو تو کچھ ثابت کرتی رہی تھی مگر روحانی وجدان کے مطابق ایک طرف اگر جنرلز نے مارشل لاء کا کچھ سوچا بھی تھا تو روحانی معاملات میں‘ امر ربی سے‘ فوج اور جنرلز نے بہت زیادہ صبر‘ تحمل‘ بردباری کو اولیت دینا تھی الحمدللہ یہ مرحلہ گزر گیا ہے۔ اگرچہ 4نومبر‘ 11نومبر بھی کافی سخت ہیں۔ 11نومبر مولانا کے حوالے سے سخت دبائو لازماً مزید لائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کی اپنی پارٹی میں مخالفت شدید ہو جائے گی۔ ممکن ہے حسن انتظام  سے وہ باہر نہ نکلے۔ مگر اندرونی کشمکش میں فوج کی حمایت میں مولانا کی پارٹی میں بھی رائے مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ مولانا تنہائی  اور سیاسی کمزوری محسوس کر سکتے ہیں۔
24دسمبر کے بعد اگر حالات کی ضرورت ہوئی تو ایسے آئینی اقدامات میں‘ (پس منظر میں رہ کر) فوج‘ جنرلز‘ وہ کردار ادا کر سکیں گے جن کو قومی مفادات کہا جاسکتا ہے۔ فی الحال جنرل باجوہ مارشل لاء لگاتے نظر نہیں آتے۔ ماہر نجوم کا بھی مشورہ ہے کہ نجوم‘ جنرلز کو فی الحال ’’حتمی‘‘ فیصلے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ صبر کریں‘ مزید غور و فکر کریں۔ تحمل و صبر‘ برداشت کے ساتھ فیصلے کم تر نقصان لائیں گے۔ جنوری میں اپوزیشن مزید بہت کمزور ہوتی جائے گی۔ فوج اور انشاء اللہ عمران خان بھی بہت مضبوط ہو جائیں گے۔ عمران خان حکومت کے لئے اکتوبر بہت خراب تھا۔ نومبر و دسمبر میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ عمران خان کو ذاتی حفاظت یقینی بنانی چاہیے۔
بہت سوچ بچار پاک انڈیا متوقع جنگ کے حوالے سے بھی کچھ ہے۔ مودی حکومت کی سیاسی بقاء کا تقاضا تو ہے کہ وہ ہر صورت پاکستان پر جنگ مسلط کرے۔ پاکستانی سیاست میں خلفشار‘ انتشار‘ فوج مخالف روئیے اور بیانات بھی انڈیا کو حوصلہ بخشتے رہتے ہیںکہ وہ پاکستان پر جنگ مسلط کر دے۔ اس حوالے سے کچھ ماہرین نجوم کافی دبائو میں بھی رہے ہیں کہ اگر جنگ ہوتی ہے تو وہ بہت تباہ کن ہوسکتی ہے‘ علمائے نجوم اور روحانی وجدان کا احساس ہے کہ دنیا اور برصغیر کو امن دینے کی خاطر پاکستان ہر قیمت کے ساتھ بھی جنگ سے احتراز کرے‘ پہل کرکے جنگ نہ کرے‘ اگر مذاکرات‘ تیسری پارٹی کے ساتھ سے‘  یوں جنگ ٹل سکتی ہے تو تیسری پارٹی کو بھی‘ سفارت کاری کو بھی استعمال کرے۔ 24دسمبر سے 27مارچ  کے درمیان بھی پاک بھارت  جنگ کی شدت کے خدشات محسوس ہوتے رہیں گے۔ 24 دسمبر کے بعد انشاء اللہ پاک فوج بہت اچھے مورال‘ نفسیاتی استحکام میں ہوگی۔ وہ سیاسی انتشار جو فوج کو نفسیاتی طور پر کمزور بناتا رہا ہے‘ وہ یکسر تبدیل ہو جائے گا۔ فوج کے حق میں سیاسی‘ سماجی‘ فضاء مستحکم ہوگی انشاء اللہ خدانخواستہ اگر پھر بھی بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرتا ہے تو نقصان پھر انڈیا کا بھی تو بہت زیادہ ممکن ہوگا۔ 65ء اور 71ء کی جنگ کی صورتحال نہیں ہوگی۔ بھارتی فوج صرف مشرقی پاکستانی بارڈر پر نہیں بلکہ جنوبی ہندوستان کی متوقع بغاوتوں والی ریاستوں میں بھی مصروف ہوگی۔ نیپال‘ سکم‘ ارونا چل پردیش‘ لداخ میں بھی مصروف ہوگی۔ یہ منظر نامہ انڈیا کے لئے زیادہ تشویش لائے گا ۔ پہلی  مرتبہ انڈین فوج کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑے گا۔ چین کے تمام منصوبوں کا دارومدار صرف پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ خدشہ ہے کہ جنگ کی صورت میں چین پاکستان کی مدد نہیں کرے گا۔ شائد کچھ غلط تاثر ہے۔ چین اپنی  ذاتی سلامتی کے لئے امریکہ بھارت عسکری معاہدوں کے بعد نئی حکمت عملی جو اپنائے گا اس سے پاکستان کو کچھ فوائد ملیں گے۔ انشاء اللہ (واللہ اعلم بالصواب)

 

تازہ ترین خبریں

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

میں پاکستانی وزیر اعظم ہوں ، موٹر سائیکل پر سوار پاکستانی وزیر اعظم کودیکھتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں ، ویڈیو دیکھیں 

میں پاکستانی وزیر اعظم ہوں ، موٹر سائیکل پر سوار پاکستانی وزیر اعظم کودیکھتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں ، ویڈیو دیکھیں 

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج کھیلے جانے والے میچ کے دوران بارش کا امکان نہیں ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج کھیلے جانے والے میچ کے دوران بارش کا امکان نہیں ہے۔

جیت کی خوشی ،عثمان ڈارنے مصطفیٰ نوازکھرکھرکامنہ میٹھاکرادیا

جیت کی خوشی ،عثمان ڈارنے مصطفیٰ نوازکھرکھرکامنہ میٹھاکرادیا

پاکستان کی مشہور سڑک کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

پاکستان کی مشہور سڑک کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، انتہائی پریشان کن خبر آگئی

پیپلزپارٹی نے 5سال ن لیگ اور 3سال تحریک انصاف کا مقابلہ کیا۔ بلاول بھٹو

پیپلزپارٹی نے 5سال ن لیگ اور 3سال تحریک انصاف کا مقابلہ کیا۔ بلاول بھٹو

 بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ایونٹ کا انعقاد ہوا،پی سی بی بلوچستان میں کھیلوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ جام کمال 

 بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ایونٹ کا انعقاد ہوا،پی سی بی بلوچستان میں کھیلوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ جام کمال 

کراچی لاک ڈاون میں نرمی ۔۔۔محکمہ داخلہ سندھ نے ترمیمی لیٹرجاری کردیا

کراچی لاک ڈاون میں نرمی ۔۔۔محکمہ داخلہ سندھ نے ترمیمی لیٹرجاری کردیا

 وزیر داخلہ شیخ رشید  اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کریں سندھ حکومت کے فیصلے کے خلاف شر اور فساد نہ پھیلائیں۔ پلوشہ خان

 وزیر داخلہ شیخ رشید  اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کریں سندھ حکومت کے فیصلے کے خلاف شر اور فساد نہ پھیلائیں۔ پلوشہ خان

 لاہور  کے 13 علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز

لاہور کے 13 علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز