12:57 pm
ابراہیمی مذاہب کی اصطلاح،عالمی سازش

ابراہیمی مذاہب کی اصطلاح،عالمی سازش

12:57 pm

 (گزشتہ سے پیوستہ)
یہاں یہ نکتہ فراموش نہیں کیاجاناچاہیے کہ صہیونی پروپیگنڈہ،جس نے پروٹسٹنٹ اور یہودی مخالف پروٹسٹنٹ موقف کوقبول کیاکہ یورپ  کے یہودی یورپی نہیں بلکہ قدیم فلسطین میں آباد عبرانیوں کی اولادہیں،یہ بات پیش کی جاتی رہی ہے کہ یورپی یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی سرزمین کونوآبادی میں تبدیل کرنادراصل فرزندانِ زمین کی واپسی ہے اوریہ کہ مقامی فلسطینی درحقیقت نوآبادیاتی قوت ہیں۔یہ فی نفسہ کوئی اصل تصورنہیں۔
 
الجزائرپرقابض ہوکروہاں نوآبادی قائم کرنے والے سفید فام فرانسیسیوں نے بھی دعویٰ کیاتھاکہ وہ الجزائرکے اصل باشندے ہیں،جس پران کے رومن آبانے حکومت کی تھی اور یہ کہ الجزائرپران کاقابض ہوجانارومن سلطنت کوواپس لینے کے عمل کے سواکچھ نہیں!صہیونیت کوتسلیم کرلینادراصل اس امرسے اتفاق کرلیناہے کہ اس کی نوآبادیاتی حیثیت چھپ جائے تاکہ اس کے خلاف کسی بھی طرح کی مزاحمت کویہودیوں کیخلاف نفرت وتعصب کے طورپرپیش کیاجاسکے۔فرانسیسی مصنف لوئی برٹرانڈ(Louis Bertrand)نے الجزائر پریورپی نوآبادیاتی نظام کی یلغاراورقبضے کوبالکل درست قراردیتے ہوئے لکھاتھاکہ شمالی افریقہ  میں رومن سلطنت کاورثہ واپس لیاگیاہے اوریہ کہ جوزمین واپس لی گئی ہے وہ ہراعتبارسے فرانسیسیوں کاحق ہے۔
ابراہیم علیہ السلام کے حوالے دے کر دراصل صہیونیت کی نوآبادیاتی نوعیت کو چھپایاجارہاہے اوریہ کہ دنیاکے سامنے یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے کہ اسرائیلیوں کے خلاف جوجنگ جاری ہے وہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف نہیں بلکہ ایک ہی سلسلہ مذہب کے ماننے والے ابراہیمی بھائیوں کاآپس کاجھگڑاہے۔ جن عرب رہنمائوں نے صہیونیت کوقبول کیاہے وہ بھی اس نکتے سے متفق ہیں کہ صہیونیت کی نوآبادیاتی نوعیت کوچھپایاجائے تاکہ یہودیوں کے خلاف تعصب کومذہبی بنیادپر ہونے والی لڑائی کی حیثیت سے پیش کیاجاسکے اوریہ بھی ثابت کیاجاسکے کہ جوکچھ فلسطینی کررہے ہیں وہ دراصل ابراہیم ؑ کے خداکی عطاکردہ عطیہ اخوت کے منافی ہے،کفرانِ نعمت ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے دوعشروں کے دوران بین المذاہب مکالمے اور رواداری کے نام پرجوکچھ بھی کیاجاتا رہاہے وہ دراصل صہیونیت کی نوآبادیاتی تاریخ کومذہبی تنازع کی حیثیت سے پیش کرنے کی جامع کوششوں کاکلیدی جزہے۔
چلیے ہم صہیونی نوآبادیاتی کاوشوں کو مذہبی لڑائی اوربرادرانہ چشمک قراردینے کی کوششوں کوایک طرف ہٹائیں اورابراہیم علیہ السلام کاحوالہ دیئے جانے کی کشش کاجائزہ لیں۔
آئیے ہم یہ بھی فرض کرلیں کہ امریکہ کے استعماری قائدین اورعرب دنیاکے غیرمنتخب آمربھی فلسطین کے سوال پرکوئی حقیقی تصفیہ ممکن بنانے کی کوشش میں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان حقیقی اخوت قائم کرناچاہتے ہیں۔فلسطین کے الجھے ہوئے مسئلے کومستقل بنیادپرحل کرنے کے عمل میں جوکچھ بھی کیاجارہاہے اس سے قطعِ نظرابراہیم علیہ السلام کاحوالہ دیاجانابجائے خودکسی اورحقیقت کاغمازہے۔اگر ہم یہ فرض کربھی لیں کہ فلسطین کے مسئلے کواس کی سیاسی پیچیدگیوں سے پاک کرکے ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں میں حقیقی اخوت پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے تب بھی یہ سب کچھ اسی وقت بامعنی ہوسکتاہے جب متعلقہ رسوم وروایات،مذہبی رسوم اورثقافت کونظراندازنہ کیاجائے۔
ایسی کسی بھی صورت میں تینوں ابراہیمی مذاہب کوجوڑنے والے عوامل کی کشش بڑھانے سے متعلق کوششوں سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ ان مذاہب کے درمیان بے بنیادسیاسی تنازع کھڑاہواتھااوریہ کہ مختلف مقاصد کے حصول کیلئے اس قضیے سے خوب فائدہ اٹھایاگیاجبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے حوالے کی کشش کے معاملے میں جوکچھ اِس کے برعکس ہے وہی درست ہے۔
اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہے کہ فلسطینیوں اوراسرائیلیوں کے درمیان جتنابھی جھگڑا ہے وہ زمین پرقبضے کے حوالے سے ہے۔ اسرائیل اورمقبوضہ فلسطین سے باہرآبادیہودی اور فلسطینیوں کے درمیان کوئی تنازع نہیں پایا جاتا۔ نسل پرست جنوبی افریقہ کے دورمیں بھی ایساہی تھا۔ جنوبی افریقامیں نسل پرست سفیدفام اقلیت نے سیاسی، معاشی اورعسکری اعتبارسے غیرمعمولی استحکام پاکر مقامی سیاہ فام آبادی کوغلام بنا رکھاتھا جبکہ جنوبی افریقہ کی حدودسے باہر سفیدفام اورسیاہ فام نسلوں کے درمیان ایساکوئی تنازع نہیں پایاجاتا تھا۔
عرب دنیایامشرق وسطیٰ میں مسلمان، عیسائی اوریہودی صدیوں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے درمیان جوتعلقات ہیں ان کی نوعیت فلسطینیوں کی سرزمین پرقبضہ کرنے والے یہودیوں سے ان کے تعلقات کی نوعیت سے بہت مختلف ہے۔ فلسطین سے ہٹ کرخطے میں کہیں بھی آبادعرب نسل کے مسلمان،عیسائی اوریہودی ایک دوسرے کونفرت یاتعصب کی نظرسے نہیں دیکھتے۔فلسطینیوں کی نظرمیں یورپی نسل کے یہودیوں کونوآبادیاتی قوت کہاجاسکتاہے،تمام یہودیوں کونہیں۔
فلسطین کے خطے کی نوآبادیاتی حقیقت کے تناظر میں ابراہیم علیہ السلام کاحوالے دے کرمعاملات کو کچھ کاکچھ دکھانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ زمینی حقیقت یہودیوں یا صہیونیوں کے پروپیگنڈے سے بہت مختلف ہے۔ یورپ سے آکر فلسطین پر قابض ہوجانے والے نوآبادیت پسند یہودیوں کو مقامی باشندوں کادرجہ دلاکرقابلِ قبول بنانا کسی بھی سطح پرممکن نہیں ہوسکتا۔فلسطینی علاقوں پر قبضے کا عمل 1880ء کے عشرے میں شروع ہواتھا۔
صہیونیوں کی نوآبادیاتی حیثیت کودنیاکی نگاہوں سے چھپانے اورفلسطینیوں کی مزاحمت کوقومیتوں کے جھگڑے کے طورپرپیش کرنے کی کوششیں1930ء کے عشرے سے کی جارہی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں یورپ کے عیسائیوں نے Semitesکی اصطلاح وضع کی تھی،جس میں یہودیوں کے ساتھ مسلمان بھی شامل تھے۔ صہیونیوں نے فلسطینیوں کی جدو جہدِ آزادی کومحض تنازع کے طورپر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ اسے الجزائر،کینیایازمبابوے کے لوگوں کی جدوجہدِآزادی سے مماثل قرارنہ دیاجاسکے۔ چندعرب قائدین نے صہیونیت کوقبول کرلیاہے مگرفلسطینی اپنی تحریک ختم کرنے کیلئے تیارنہیں۔وہ مزاحمت کی راہ پرگامزن رہنا چاہتے ہیں۔وہ اپنی زمین پرصہیونیوں کے قبضے کوکسی بھی نبی کے نام پرکچھ اورقرار دینے کی ہرکوشش کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیواربننے کیلئے تیارہیں۔


 

تازہ ترین خبریں

ملک بھر میں چھٹی کا اعلان کردیاگیا،تمام سکولز،سرکاری اور نجی دفاتر بند رہیںگے

ملک بھر میں چھٹی کا اعلان کردیاگیا،تمام سکولز،سرکاری اور نجی دفاتر بند رہیںگے

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر اتنا رش کیوں رہتا ہے؟  جانیں محسن پاکستان کی قبر پر بسیرا کرنے والا یہ شخص کون ہے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر اتنا رش کیوں رہتا ہے؟ جانیں محسن پاکستان کی قبر پر بسیرا کرنے والا یہ شخص کون ہے؟

وزیراعظم عمران خان 24 اکتوبر کو 3 روزہ دورے پر سعودی عرب جائیں گے

وزیراعظم عمران خان 24 اکتوبر کو 3 روزہ دورے پر سعودی عرب جائیں گے

فیصل آباد میں پی ڈی ایم جلسے میںنظر آنیوالی یہ بزرگ ہستی کون ہے؟  مریم نواز بھی جذباتی ہو گئیں، تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

فیصل آباد میں پی ڈی ایم جلسے میںنظر آنیوالی یہ بزرگ ہستی کون ہے؟ مریم نواز بھی جذباتی ہو گئیں، تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

مرنے کے بعد محسنِِ پاکستان کا مقام یاد آگیا، وفاقی حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر کیا کرنے جارہی ہے؟ بڑا اعلان کر دیا گیا

مرنے کے بعد محسنِِ پاکستان کا مقام یاد آگیا، وفاقی حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر کیا کرنے جارہی ہے؟ بڑا اعلان کر دیا گیا

پی ڈی ایم کا فیصل آباد میں جلسہ ، عظمیٰ بخاری نے اپنے ہی کارکن کو تھپڑ کیوں جھڑ دیا؟ وجہ سامنے آگئی

پی ڈی ایم کا فیصل آباد میں جلسہ ، عظمیٰ بخاری نے اپنے ہی کارکن کو تھپڑ کیوں جھڑ دیا؟ وجہ سامنے آگئی

ملک بھر کے بینک بند رہیں گے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا نوٹیفیکیشن جاری

ملک بھر کے بینک بند رہیں گے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا نوٹیفیکیشن جاری

پانچ سالوں میں دل نہیں بھرا؟ اگلی حکومت پھر تحریک انصاف کی ہو گی،غریب عوام کو ڈرائونا خواب دکھا دیا گیا

پانچ سالوں میں دل نہیں بھرا؟ اگلی حکومت پھر تحریک انصاف کی ہو گی،غریب عوام کو ڈرائونا خواب دکھا دیا گیا

حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریاں مکمل ، 12ربیع الاول کے بعد کیا ہونیوالاہے؟ناراض حکومتی اراکین بھی اپوزیشن کیساتھ جا مِلے

حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریاں مکمل ، 12ربیع الاول کے بعد کیا ہونیوالاہے؟ناراض حکومتی اراکین بھی اپوزیشن کیساتھ جا مِلے

ڈرون حملے میں بے گناہوں کی اموات، امریکی حکومت نے مرنے والوں کے اہلخانہ کیلئے کروڑوں روپے معاوضے کا اعلان کر دیا

ڈرون حملے میں بے گناہوں کی اموات، امریکی حکومت نے مرنے والوں کے اہلخانہ کیلئے کروڑوں روپے معاوضے کا اعلان کر دیا

مہنگائی کنٹرول سے باہر ہونے پر وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ؟ خبر نے ملک بھر میں تھر تھلی مچا دی

مہنگائی کنٹرول سے باہر ہونے پر وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ؟ خبر نے ملک بھر میں تھر تھلی مچا دی

گریڈ 1سے 15تک نوکریاں ہی نوکریاں! حکومت نے بیروزگاری جوانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

گریڈ 1سے 15تک نوکریاں ہی نوکریاں! حکومت نے بیروزگاری جوانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

کمر توڑ مہنگائی ، گھی اور تیل کے بعد آٹے کا تھیلا بھی 1500میں دستیاب،غریب دو وقت کی روٹی کھانے سے بھی مجبور

کمر توڑ مہنگائی ، گھی اور تیل کے بعد آٹے کا تھیلا بھی 1500میں دستیاب،غریب دو وقت کی روٹی کھانے سے بھی مجبور

تنخواہوں میں بھی مزید اضافہ کرنا ہو گا،  حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑا اعلان کر دیا

تنخواہوں میں بھی مزید اضافہ کرنا ہو گا، حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑا اعلان کر دیا