01:36 pm
حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات !

حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات !

01:36 pm

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپوزیشن کے ہر بیانیہ کو ریاست مخالف بیانیئے کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ حکومت روزانہ کی بنیاد پر  ہرمحاذ پر اپوزیشن کے اسی ریاست مخالف بیانئے کا پوری طاقت سے مقابلہ کرنے اور اپوزیشن اراکین پر کرپشن کیسز کو سامنے لانے کا فیصلہ کرنے کا عندیہ دیتی ہے۔ دوسری طرٖف مسلم لیگ (ن) کے رہنما واضح کر رہے ہیں کہ سابق اسپیکر نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے متعلق بات کی تھی، یہ بھی کہ اس گفتگو کا نشانہ کوئی ادارہ ہر گز نہ تھا۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ترجمانوں کے اجلاس کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اجلاس کے بعض شرکاء نے مختلف حلقوں کی جانب سے سیاسی ڈائیلاگ اور بات چیت کی ضرورت سے متعلق پیش کئے جانے والے بیانات اور تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔بعض نے کہا کہ حکومت بھی اس بات چیت کے مطالبے پر غور کرے جس پر وزیراعظم سیاسی روابط اور رواداری کی تجاویز پر ناراض نہ ہوئے بلکہ کہا کہ ایسا ہو مگر یہ ملک اور ریاست کے وسیع تر مفاد کو نقصان پہنچائے بغیر یا اس کی قیمت پر نہ ہو۔عمران خان اس حق میں تھے کہ ان کے ترجمان  ریاستی اداروں کو مزید مضبوط کرنے اور ان پر اپوزیشن کے حملے کو ناکام بنانے کے لئے سرگرم کردار ادا کریں۔
کیا موجودہ صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔ گفت و شنید کس کے مفاد میں ہے اور اس کا کسے کوئی نقصان ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں مختلف مبصرین اپنی بساط کے مطابق تبصرہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی جو کہ ملک کی ایک نامور ایڈیٹر اور سابق سفیر رہی ہیں ، ان کا موقف دلائل کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ پاکستان اس وقت تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے سبب ملک میں عدم استحکام کے بڑھنے کا خدشہ ہے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے بہت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔اس کا پہلا پہلو تو یہ ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف میں جاری کشیدگی اور لفظی جنگ کے ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔  دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومتی طرزِ عمل نے حزبِ اختلاف کے اتحاد کو مزید مستحکم کردیا ہے۔   پی ٹی آئی حکومت کا سیاسی چیلنج اس لیے کمزور ہورہا ہے کیونکہ حزبِ اختلاف سے تنازع میں اس کے اتحادی خاموش ہیں اور وہ خاطر خواہ حمایت نہیں کررہے۔
حالات کا تیسرا اور نسبتاً دوسرے پہلو سے قریب ترین پہلو یہ ہے کہ ملکی سیاست دو انتہاؤں میں تقسیم ہوگئی ہے اور اس میں سے اعتدال کا عنصر ختم ہوگیا ہے۔  چوتھی بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی اس تمام معاملے سے دُور رہنے کی خواہش کے باوجود اسے اس سیاسی کھیل میں گھسیٹا جا رہا ہے۔  موجودہ سیاسی صورتحال کا پانچواں اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیاسی درجہ حرارت کی وجہ سے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام معاشی ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے ۔ ان پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ہمارے سامنے ایک ایسی صورتحال سامنے آتی ہے جو مستقبل میں سب کے قابو سے باہر نکل سکتی ہے، اور جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگی۔مذکورہ پہلوؤں نے پہلے ہی حالات کو سب کے لیے ناقابلِ برادشت بنا دیا ہے۔ 
بعض دیگر مبصرین کی طرح  ڈاکٹر لودھی بھی سمجھتی ہیں کہ ان سوالات سے 3 ممکنہ منظرنامے تشکیل پا رہے ہیں۔پہلا منظرنامہ یہ کہ حالات میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ سیاسی کشیدگی، تصادم، پارلیمان کی کارروائی میں رکاوٹوں اور الفاظ کی جنگ ایسے ہی جاری رہے۔ ایسے میں اگر پی ڈی ایم نے واقعی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی دھمکی پر عمل کرلیا تو ملک سیاسی بحران اور عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔اس منظرنامے میں دیکھا جائے تو سیاسی جماعتوں کی توجہ معاشی اور سیکیورٹی صورتحال سے ہٹ جائے گی۔ آخر میں ملک ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران کا شکار ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔دوسرے منظرنامے میں حکومت اپوزیشن پر قابو پانے کے لیے پابندیوں کا سہارا لیتی نظر آتی ہے اور اس ضمن میں میڈیا پر بھی مزید غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تنازعات میں گھرے ہوئے احتساب کے عمل میں تیزی آسکتی ہے۔ لیکن اس قسم کے جابرانہ اقدامات کا ہونا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ ایک جمہوری حکومت کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔  ویسے بھی اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے ملک مزید سیاسی انتشار کا شکار ہوا ہے۔تیسرا منظر نامہ یہ تشکیل پاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں سیاسی نظام کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپنے مابین جاری کشیدگی کو کم کریں اور مذاکرات کی میز پر اپنے اختلافات کو حل کرلیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر اسٹیبلشمنٹ بھی اپنا کردار ادا کرے۔ سیاستدانوں کے مابین جاری چپقلش کو دیکھتے ہوئے شائد یہ سمجھنا خوش گمانی ہی ہوگی کہ وہ کسی قومی معاہدے پر تیار ہوں گے۔ بہرحال مستقبل کے لیے اصول اور ضابطوں کا تعین ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ ساتھ ہی ملک کو درپیش دفاعی اور معاشی چیلنجز کے حل کے لیے بھی اتفاق رائے ہونا چاہیے اور اسے تمام اداروں کی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے۔پہلے اور دوسرے منظرنامے میں ملک کی سالمیت اور اتحاد کو درپیش خطرات کی وجہ سے حکومت اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ بامقصد مذاکرات پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ قدم حکومت کی طرف سے اٹھایا جانا چاہیے کیونکہ حزبِ اختلاف کے اکثر رہنما پہلے ہی مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں

مہنگائی کا طوفان۔۔۔۔۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل سمیت دیگر اشیا خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ

مہنگائی کا طوفان۔۔۔۔۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل سمیت دیگر اشیا خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ

مشکل وقت میں ایک فون تک نہیں کیا گیا،نذیر چوہان

مشکل وقت میں ایک فون تک نہیں کیا گیا،نذیر چوہان

 نذیر چوہان نے جہانگرترین پر استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دینےکا الزام عائدکردیا

نذیر چوہان نے جہانگرترین پر استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دینےکا الزام عائدکردیا

کشمیر پریمئیر لیگ ۔۔۔کھلاڑیوں کی کورونا  ٹیسٹنگ مکمل

کشمیر پریمئیر لیگ ۔۔۔کھلاڑیوں کی کورونا ٹیسٹنگ مکمل

 معاشی حالات ٹھیک ہوتے ہیں تو جرائم کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔شیخ رشید احمد

معاشی حالات ٹھیک ہوتے ہیں تو جرائم کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔شیخ رشید احمد

فیصلہ محفوظ ،رہائی ملنے والی ہے ؟ نور مقدم کیس میں جمعرات کو کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

فیصلہ محفوظ ،رہائی ملنے والی ہے ؟ نور مقدم کیس میں جمعرات کو کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

نویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کو لازمی مضامین میں اضافی نمبر دیے جائیں گے

نویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کو لازمی مضامین میں اضافی نمبر دیے جائیں گے

شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے16افراد ہلاک

شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے16افراد ہلاک

 جس وقت کشمیر فروشی کی جارہی تھی اس وقت کہا گیا ورلڈ کپ جیت کر آئے۔ مریم اورنگزیب 

 جس وقت کشمیر فروشی کی جارہی تھی اس وقت کہا گیا ورلڈ کپ جیت کر آئے۔ مریم اورنگزیب 

وزیر اعظم کو آزاد کشمیر کےلئے لکی نمبر اور لکی نیم بتایا گیا

وزیر اعظم کو آزاد کشمیر کےلئے لکی نمبر اور لکی نیم بتایا گیا

ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

ن لیگ دو ٹکروں میں تقسیم ۔۔ آزاد کشمیر انتخابات ہارنےکےبعد قیادت کے راستے جدا ہوگئے ہیں ۔ فرخ حبیب

ن لیگ دو ٹکروں میں تقسیم ۔۔ آزاد کشمیر انتخابات ہارنےکےبعد قیادت کے راستے جدا ہوگئے ہیں ۔ فرخ حبیب

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ ۔۔۔۔ پنجاب کے چار اضلاع میں مزارات بند کرنے کا فیصلہ

کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ ۔۔۔۔ پنجاب کے چار اضلاع میں مزارات بند کرنے کا فیصلہ