01:18 pm
شہداء جموں کی یاد میں 

شہداء جموں کی یاد میں 

01:18 pm

’’ہمارا خیال تھا کہ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے اور جلد ہی حالات بہتر ہوجائیں گے اور ہم پھر سے اپنے گھروں میں واپس چلے جائیں لیکن بد قسمتی سے وہ دن کبھی نہ آیا اور ہم لوگ اپنے وطن واپس جانے کی آرزو لے کر ایک کرکے اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں‘‘ ۔ جموں سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کی اکثریت کی یہی سوچ تھی۔ جموں کشمیرسے اپنے گھر وں کو چھوڑ آنے والے کبھی بھی اپنے وطن کو بھلا نہ سکے اور بہت سے تو یہ وصیت کرکے اس دنیا سے جاتے تھے کہ اگر اْن کا انتقال ہوگیا تو انہیں بطور امانت دفن کیا جائے اور جب بھی موقع ملے تو اْن کے جسد خاکی کو اپنے وطن کی مٹی کے سپرد کردیا جائے۔اسلامیان جموں پر قیامت ٹوٹی اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسلمان کے خون سے جموں کی سرزمین رنگین ہوئی۔اپنے خاندان والوں کے علاوہ جموں سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں سے جب وہ داستانیں سنتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ 1946ء کے انتخابات اور تقسیم ہند کے منصوبہ کے بعد پنجاب کے تقسیم کی باتیں ہونے لگیں لیکن ریاست جموں کشمیر چونکہ برطانوی ہند میں شامل نہ تھی بلکہ ایک دیسی ریاست تھی جسے قانون آزادی ہند کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا اختیار تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ساتھ الحاق کا فیصلہ کرے یا پھر اپنی خودمختاری کا اعلان کرلے۔ 
مہاراجہ کشمیر ریاست کو خودمختار رکھنا چاہتا تھا اور اْسے کانگرس کی بجائے مسلم لیگ کی ریاستوں کے بارے میں پالیسی اپنے اور ریاست کے لئے فائدہ مندنظر آتی تھی اسی لیے اْس نے 12اگست 1947ء کو ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ جوں کا توں (سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ) معاہدہ کیا جس کی صورت میں دفاع، امورخارجہ، پوسٹل سروس، مواصلات اور کسٹم وغیرہ کے حکومت پا کستان کے کنٹرول میں چلے جانے سے ریاست جموں کشمیر کے لوگ بھی مطمئن ہوگئے۔ 14 اگست کو ریاست بھر میں پاکستان کی آزادی کا دن بہت خوشی سے منایا گیا لیکن یہ خوشی زیادہ دن نہ قائم رہ سکی اور ریاست کے مختلف حصوں سے شورش کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔ گاندھی، نہرو، پٹیل اور دوسری کانگریسی قیادت کبھی بھی کشمیر کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی تھی اور انہیںمائونٹ بیٹن کا پورا تعاون حاصل تھا۔ قیام پاکستان کو بھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ پونچھ کے علاقہ سے ریاستی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا سلسلہ ریاست کے دوسرے تک پھیلنا شروع ہوگیا جس کے رد عمل میں دوسری جانب سے بھی جوابی کارروائیوں کا آغاز ہوگیا۔ بھارتی سامراج ریاست جموں کشمیر کو ہر قیمت میں ہڑپ کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ جموں کے مسلمان ان حالات کے لیے نہ تو تیار تھے اور نہ ہی اس کشت و خون کا تصور کر سکتے تھے۔ جموں اگرچہ مسلم اکثریتی علاقہ تھا مگر بھارت کے ساتھ سرحد ہونے کی وجہ سے  ہندوئوں اور سکھوں کے جتھے منظم انداز میں حملہ آور ہونے لگے۔ اگرچہ اکتوبر کے وسط تک جموں شہر کے حالات پر امن تھے مگر دیہات کے علاقوں سے لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر پاکستان کی جانب پناہ کی تلاش میں جانے لگے۔ اس کے بعد جب کشمیر پر22 ۱کتوبر کو قبائلی حملہ شروع ہوا تو پھر جموں میں بھی قتل و غارت میں شدت آتی گئی۔ 23اکتوبر کو جموں کے ایک قصبہ میراں صاحب میں ڈوگرہ سپاہیوں اور جن سنگھیوں نے مسلمانوں کے مجمع پر شدید فائرنگ کرکے ہزاروں افراد کو شہید کردیا۔مسلمانوں کے گھروں پر حملے شروع ہوگئے اور ہزاروں مسلمان عورتیں کو اغواء کرلیا گیا جن میں مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری غلام عباس اور قائمقام صدر چوہدری حمید اللہ کی بیٹیاں بھی شامل تھیں۔26  اکتوبر کو جبری الحاق کا بہانہ بنا کر بھارتی فوج جموں کشمیر میں داخل ہوگئی۔3 نومبر کو پٹیالہ سے مزید فوجی کمک جموں آگئی اور 4نومبر کو بھارتی وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ اور وزیر داخلہ سردار پٹیل مزید منصوبہ بندی کے لیے جموں آئے۔5نومبر کو مسلمانوں کو کہا گیا کہ اگر وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں تو پولیس لائن پہنچ جائیں جہاں سے انہیں ٹرکوں اور گاڑیوں میں بھر کرلے جایا گیا مگر راستہ ہی میں انہیں شہید کردیا گیاصرف لوگ ہی اپنی جانیں بچا سکے۔ اگلے روز پھر جموں کے مسلمانوں کو قافلہ کی صورت میں پاکستان پہنچانے کی غرض سے روانہ کیا مگر انہیں بھی راستہ میں شہید کردیا گیا۔ اس قدر ظلم و بربریت کی مثال چشم فلک نے شائد پہلے نہ دیکھی ہوگی۔ عورتوں نے کنوئوں میں چھلانگیں لگا کر جان دے کر اپنی عزت بچائی۔ بچ نکلنے والے جب وہ واقعات سناتے تھے تو ر ونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔اس وقت کی قیادت اگر بالغ نظری اور مستعدی سے کام کرتی تو ممکن ہے کہ یہ قیامت صغریٰ بپا نہ ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی قیادت کیوں حالات کا ادراک نہ کرسکی۔ قائد اعظم ؒکے منع کرنے کے باوجود مسلم کانفرنس کی قیادت نے کیوں بلاوجہ محاذ آرائی شروع کی جس کے نتیجہ میں جماعت کے صدر چوہدری غلام عباس، آر ساغر اور دوسرے جیل میں ڈال دیئے گئے۔شیخ عبداللہ کا وفد جی ایم صادق کی قیادت میں لاہور میں خوار ہوتا رہا لیکن کسی نے انہیں پوچھا تک نہیں۔ لاکھو ں انسانوں کا خون بھی بہا اور ریاست بھی جبری تقسیم ہوگئی لیکن اْن شہداء نے اپنے خون سے جو شمع روشن کی تھی وہ آج بھی روشن ہے اور جموں کشمیر کی تیسری نسل نے بھی اس جبری تقسیم کو تسلیم نہیں کرتی اور وہ مادر وطن کی آزادی کے لیے آج بھی متحرک ہیں اور اْس دن کی نہ صرف آرزو رکھتے ہیں  اور اس دن کے منتظر ہیں ہیں جب آ ملیں گے سینہ چاکان وطن سے سینہ چاک۔


 

تازہ ترین خبریں

شادی میں جانے کیلئے تیار ہو رہی تھی خاتون، تبھی ہوا کچھ ایسا کہ دیکھ کر آپ کے اڑ جائیں گے ہوش

شادی میں جانے کیلئے تیار ہو رہی تھی خاتون، تبھی ہوا کچھ ایسا کہ دیکھ کر آپ کے اڑ جائیں گے ہوش

آندھی اور گرج چمک۔۔ بارشوں کی نئے سلسلے کی انٹری ۔آئندہ کتنے روز تک بادل برستے رہیں گے۔

آندھی اور گرج چمک۔۔ بارشوں کی نئے سلسلے کی انٹری ۔آئندہ کتنے روز تک بادل برستے رہیں گے۔

 ہم وزیراعظم کے ایک کروڑ ملازمتوں کے وعدے کی تکمیل  کیلئے کوشاں ہیں،زلفی بخاری

ہم وزیراعظم کے ایک کروڑ ملازمتوں کے وعدے کی تکمیل کیلئے کوشاں ہیں،زلفی بخاری

منی لانڈرنگ کیس :ایف آئی اے نے شہبازشریف کو20جون کو طلب کرلیا

منی لانڈرنگ کیس :ایف آئی اے نے شہبازشریف کو20جون کو طلب کرلیا

نئے مالی سال کیلئے سندھ کا بجٹ آج پیش کیا جائیگا، تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ متوقع

نئے مالی سال کیلئے سندھ کا بجٹ آج پیش کیا جائیگا، تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ متوقع

نہ کوئی شرائط نہ لائن میں لگنے کی ٹینشن ۔۔ابھی آئیں  گھر بنانے کیلئے 20لاکھ لے جائیں ۔۔ حکومت نے شاندار اعلان کردیا۔۔

نہ کوئی شرائط نہ لائن میں لگنے کی ٹینشن ۔۔ابھی آئیں گھر بنانے کیلئے 20لاکھ لے جائیں ۔۔ حکومت نے شاندار اعلان کردیا۔۔

شہری ہوجائیں ہوشیار خبردار، لاہور میں نئی پابندی لگ گئی

شہری ہوجائیں ہوشیار خبردار، لاہور میں نئی پابندی لگ گئی

نیب نےچھوٹی نہیں بڑی مچھلیوں  کو پکڑاہےجو آج تڑپ رہی ہیں،چیئرمین نیب

نیب نےچھوٹی نہیں بڑی مچھلیوں کو پکڑاہےجو آج تڑپ رہی ہیں،چیئرمین نیب

بجٹ میں سرکاری ملازمین کو لینے کے دینے پڑگئے

بجٹ میں سرکاری ملازمین کو لینے کے دینے پڑگئے

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی تجویز

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی تجویز

فیصل آباد،تالاب میں نہاتے5بچے ڈوب گئے ،دو جاں بحق

فیصل آباد،تالاب میں نہاتے5بچے ڈوب گئے ،دو جاں بحق

ایک اور صوبے نے ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل سم بند کرنے کا اعلان کر دیا

ایک اور صوبے نے ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل سم بند کرنے کا اعلان کر دیا

وزیراعظم کل سیف سٹی  ہیڈ آفس اسلام آبادکا دورہ کرینگے

وزیراعظم کل سیف سٹی ہیڈ آفس اسلام آبادکا دورہ کرینگے

الیکشن کمیشن :فیصل واوڈکی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت 8جولائی تک ملتوی

الیکشن کمیشن :فیصل واوڈکی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت 8جولائی تک ملتوی