01:20 pm
دعوتِ اسلام کے مقاصد اور تقاضے

دعوتِ اسلام کے مقاصد اور تقاضے

01:20 pm

 (گزشتہ سے پیوستہ)
 رسول اللہؐ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور اس کے ساتھ لوگوں لوگوں کی طرف اشارہ کر کے کہا اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا۔
جناب رسول اللہؐ تقریبا ڈیڑھ لاکھ صحابہؓ کے اجتماع سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں کہ کل قیامت کے دن تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا کہ ہم نے اپنا پیغمبر بھیجا تھا اس نے تم تک میری بات پہنچائی یا نہیں۔ صحابہؓ نے اس پر گواہی دی کہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سونپی گئی یہ ذمہ داری نبھا دی ہے۔ چنانچہ اکیس بائیس سال کے مختصر عرصے میں رسول اللہؐ نے ایک مشن شروع کیا اور اپنی زندگی میں ہی اس مشن کی کامیابی کا اعلان فرمایا۔ اور یہ کامیابی ایسی نہیں تھی کہ ایک آدمی نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں بلکہ تاریخ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ ایک عظیم کامیابی تھی۔ ایک مغربی مصنف نے کتاب لکھی ہے دنیا کے سو بڑے آدمی۔ اس کتاب میں اس نے پہلے نمبر پر جناب نبی کریمؐ کا تذکرہ کیا ہے، پھر مصنف نے دیباچے میں لکھا ہے کہ لوگ مجھ سے یہ بات پوچھیں گے کہ تم نے عیسائی ہو کر محمدؐ کو پہلے نمبر کی شخصیت کیوں قرار دیا ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ اس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے اس لیے کہ خود میرے طے کردہ میرٹ پر تاریخ میں اور کوئی شخصیت پہلے نمبر پر نہیں ہے۔
دنیا اس بات کا اقرار تو کرتی ہے کہ اتنے مختصر عرصے میں اتنی وسیع تر کامیابی حضورؐ کے علاوہ اور کسی شخصیت کو نہیں ملی لیکن اس سے اگلی بات کہ یہ کامیابی رسول اللہؐ نے کیسے حاصل کی، اس میں بیشتر غیر مسلم مصنفین دیانت داری کا مظاہرہ نہیں کرتے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک وقت آگیا تھا جب محمدؐ کے ساتھ تلوار والے اور طاقتور لوگ اکٹھے ہوگئے تھے، چنانچہ یہ لوگ جدھر جاتے تھے مار دھاڑ کرتے تھے جس کے نتیجے میں لوگ ان کے ڈر سے اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ یورپ کے مورخین نے حضورؐ کی کامیابی کی یہ توجیہ کی ہے کہ محمدؐاور صحابہؓ کے دور میں اسلام کی کامیابی تلوار اورطاقت کا کرشمہ ہے لیکن یہ دعوی خلاف واقعہ ہے اور حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ جو لوگ حضورؐ کی دعوت کے دور سے واقف ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ اس دور میں تلوار حضورؐ کے ہاتھ میں نہیں تھی بلکہ ان کے دشمنوں کے ہاتھ میں تھی۔ حضورؐ کی دعوت کا دور مکہ کا تیرہ سالہ دور ہے۔ کوئی ان مورخین سے پوچھے کہ کیا جناب نبی کریمؐ کے اولین اور سب سے پختہ ساتھیوں نے تلوار کے زور پر اسلام قبول کیا؟ اسلام اگر تلوار کے زور سے پھیلا ہے تو وہ لوگ جنہوں نے حضورؐ کے اس تیرہ سالہ مکی زندگی میں اسلام قبول کیا، ان کے قبولِ اسلام کے بارے میں ان مورخین کے پاس کیا توجیہ ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ جناب نبی کریمؐ اور ان کے ساتھیوں نے پہلے تو کئی سال تک اپنے دفاع کے لیے بھی تلوار نہیں اٹھائی، وہ مکہ کے ظالموں کو اپنے صبر و حوصلہ کے ساتھ شکست دینے میں کامیاب ہوئے، اس کے بعد مدینہ منورہ میں انہوں نے ظلم اور نا انصافی کی سرکوبی کا سلسلہ عرب و عجم تک پھیلایا۔
یہ وقت تو وہ تھا کہ رسول اللہؐ کا تین سال تک شعب ابی طالب میں محاصرہ رہا۔ تمام قبائل کی طرف سے حضورؐ کا سوشل بائیکاٹ تھا، انہوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ بنو ہاشم سے یعنی حضورؐ اور ان کے خاندان سے لین دین نہیں کریں گے، نہ رشتہ دیں گے، نہ رشتہ لیں گے، نہ خوشی غمی میں شریک ہوں گے اور نہ ساتھ اٹھیں بیٹھیں گے۔ جناب نبی کریمؐ نے تین سال اس کیفیت میں گزارے، اس دور میں بھی لوگ مسلمان ہوئے۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓاپنے اسلام قبول کرنے کا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں، وہ اپنے دور میں عرب کے بڑے دلیر خاندان کے فرد تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس خاندان کے قریب سے گزرنے والا کوئی قافلہ صحیح سلامت بچ کے نہیں نکلتا تھا۔ حضورؐ کے اعلان نبوت سے پہلے حضرت ابوذر غفاری موحد تھے اور بت پرستی سے نفرت تھی، فرماتے ہیں کہ میں اپنے ذوق کے مطابق اللہ کی عبادت بھی کرتا تھا، کبھی رکوع کر لیتا، کبھی سجدہ کر لیتا۔ جب مجھے پتہ چلا کہ مکے میں ایک آدمی ہے جو بت پرستی سے نفرت کرتا ہے اور اس نے نبوت کا اعلان کر رکھا ہے، میں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ جا کر حالات معلوم کر کے آ۔ مکہ مکرمہ سے شام جاتے ہوئے راستے میں بنو غفار کا قبیلہ پڑتا ہے، بھائی مکہ گیا اور حالات معلوم کر کے آیا۔ اس نے بتایا کہ ان صاحب کا نام یہ ہے، ان کے والد کا نام یہ ہے اور اس طرح نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ کہ مکہ کے مقامی لوگوں نے ان کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
ابو ذر غفاری ؓفرماتے ہیں کہ میری تشفی نہ ہوئی، میں نے مکہ مکرمہ خود جانے کا فیصلہ کیا۔ میں مکہ پہنچ کر حرم میں بطور مسافر جا کر بیٹھ گیا جیسا کہ عام رواج تھا۔ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب (حضرت علیؓ) آئے اور پوچھا کہ اے مسافر کہاں سے آیا ہے؟ حضرت علیؓ کا ذوق یہ تھا کہ وہ شام کو اپنے ساتھ کھانا کھلانے کے لیے مسافر ڈھونڈا کرتے تھے۔ حضرت علیؓ انہیں ساتھ لے گئے اور لے جا کر کھانا کھلایا۔ ابو ذر غفاری واپس آکر حرم میں سو گئے۔
( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

 اسلامو فوبیا کا معاملہ۔۔۔ وزیراعظم نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کریا

اسلامو فوبیا کا معاملہ۔۔۔ وزیراعظم نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کریا

فرانس نے پاکستان کو کرونا ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا

فرانس نے پاکستان کو کرونا ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا

سعید غنی نے اپنا وعدہ پورا کرلیا ۔۔۔۔ مفتاح اسماعیل کے گھر کیا بھجوادی ؟؟؟ ویڈیو وائرل ہوگئی

سعید غنی نے اپنا وعدہ پورا کرلیا ۔۔۔۔ مفتاح اسماعیل کے گھر کیا بھجوادی ؟؟؟ ویڈیو وائرل ہوگئی

پنجاب میں ٹرانسپورٹ 15مئی کو دوبارہ کھول دی جائے گی

پنجاب میں ٹرانسپورٹ 15مئی کو دوبارہ کھول دی جائے گی

کوئٹہ اورتربت میں دہشتگردوں کےخلاف آپریشن،یف سی کے3سپاہی شہید،5زخمی

کوئٹہ اورتربت میں دہشتگردوں کےخلاف آپریشن،یف سی کے3سپاہی شہید،5زخمی

پیپلزپارٹی نے دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا

پیپلزپارٹی نے دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا

کل سے پنجاب میں رمضان بازار لگنا بند ہوجائیں گے

کل سے پنجاب میں رمضان بازار لگنا بند ہوجائیں گے

مسافر طیارہ گر کر تباہ ۔۔۔۔ چار افراد جان کی بازی ہار گئے 

مسافر طیارہ گر کر تباہ ۔۔۔۔ چار افراد جان کی بازی ہار گئے 

سعودی عرب نے حج کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ امت مسلمہ کیلئے انتہائی بڑی خوشخبری 

سعودی عرب نے حج کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ امت مسلمہ کیلئے انتہائی بڑی خوشخبری 

شوال کا چاند 12 مئی کو نظر آنے کا امکان ؟؟؟؟؟ انتہائی اہم خبر ۔۔۔ کیا عید 13 مئی کو ہوگی یا 14 کو ؟؟

شوال کا چاند 12 مئی کو نظر آنے کا امکان ؟؟؟؟؟ انتہائی اہم خبر ۔۔۔ کیا عید 13 مئی کو ہوگی یا 14 کو ؟؟

عید کے دنوں میں موسم کیسا رہیگا ؟؟ محکمہ موسمیات نے سب کچھ بتا دیا ،،، انتہائی اہم خبر 

عید کے دنوں میں موسم کیسا رہیگا ؟؟ محکمہ موسمیات نے سب کچھ بتا دیا ،،، انتہائی اہم خبر 

محمد زبیر نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی، شاہ محمو دقریشی

محمد زبیر نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی، شاہ محمو دقریشی

وزیراعظم عمران کا دورہ سعودی عرب۔۔۔۔۔ سعودی عرب میں ڈرون حملہ 

وزیراعظم عمران کا دورہ سعودی عرب۔۔۔۔۔ سعودی عرب میں ڈرون حملہ 

غلط الزامات کی حقیقت سامنے آگئی، بلاول بھٹو

غلط الزامات کی حقیقت سامنے آگئی، بلاول بھٹو