01:41 pm
اسلاموفوبیا کا علاج مکالمے میں ہے

اسلاموفوبیا کا علاج مکالمے میں ہے

01:41 pm

مڈل سکول میں تاریخ اور شہری حقوق کے مضامین پڑھانے والے استاد سیمیول پیٹی کو پیرس کے ایک مضافاتی قصبے میں قتل کردیا گیا۔ حملہ آور کی شناخت ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ فرانس میں پناہ گزیں 18برس کا ایک چیچن تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے مقتول پر کئی وار کیے۔ اس کے بعد حملہ آور نے سیمیول پیٹی کے سر کی تصویر کے ساتھ ایک ٹوئٹ کیا جس میں لکھا’’ میں نے محمدﷺ کی اہانت کرنے والے ایک کتے کو انجام تک پہنچا دیا‘‘۔ چند منٹوں بعد ہی حملہ آور کو گولی مار دی گئی۔ 
مسلمان نبی اکرم ﷺ کی شان میں ادنی سی جسارت برداشت نہیں کرتے اور اس حوالے سے  تضحیک کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی کوئی بھی حرکت شدید رد عمل جنم دینے کے لیے کافی ہے۔ اصل معما یہ ہے کہ فرانس جیسے ’’مہذب‘‘ اور ’’روشن خیال‘‘ ملک کے ایک سکول میں تاریخ اور شہری آداب کا استاد جو برسوں مسلمان طلبا کو بھی پڑھا چکا ہو ، وہ اس معاملے کی حساسیت سے کیسے بے خبر تھا۔ خود کو تعلیم یافتہ اور مہذب کہلانے والے یورپی جو دہائیوں سے اسلام اور اس کے مقدسات کی تضحیک کررہے ہیں وہ اس کے نتائج سے سیکھنے کے لیے کیوں تیار نہیں؟  1988ء میں ملعون رشدی کی کتاب کی اشاعت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اس حوالے سے کس قدر حساسیت پائی جاتی ہے اور جس  ملک میں آزادی مذہب کو بنیادی اصول کی حیثیت حاصل ہو وہاں اس بات کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ 
اس مسئلے کو  صرف تین دہائیاں نہیں گزریں بلکہ بہت پہلے ہی ’’آزادی اظہار‘‘ کی آڑ میں اسلام اور اس کی مقدس ہستیوں کی گستاخی کو جواز دے دیا گیاتھا۔ کسی بھی احمق اور بددماغ کا جو جی میں آئے پروپیگنڈہ کرنے کا آئینی حق تسلیم کرلیا گیا۔ یورپ میں عیسائیت اور اس کے عقائد کا مذاق اڑانے کی اجازت اس لیے دی گئی کہ ایک سیکیولر سوسائٹی میں ان کے وجود ہی پر شبہات پیدا کردئیے گئے اس لیے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس حوالے سے فن لینڈ کے وزیر خارجہ پیکا ہاوستو کا بیان اہل مغرب کے لیے چشم کشا ہے جس میں وہ کہتے ہیں:’’ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب ہم سیاہ فاموں کی تضحیک کرتے ہیں تو اسے نسل پرستی قرار دیا جاتا ہے، جب کوئی یہودیوں کی توہین کرے تو اسے سامی دشمنی یا اینٹی سیمیٹزم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تحقیر اگر عورت کی ہو تو اسے سیکسزم بتایا جاتا ہے لیکن جب ہم مسلمانوں کا مذاق اُڑاتے ہیں تو اسے آزادی اظہار کہہ دیا جاتا ہے۔‘‘
پوری دنیا میں مسلمان دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں اور ان میں فرانس کے ساٹھ لاکھ مسلمان بھی شامل ہیں۔ شدت پسند مذہبی پیشوا جب گستاخوں کو قتل کرنے پر جنت کی خوش خبریاں سنارہے ہوں تو ایسے حالات میں ایسی کسی بھی حرکت سے تشدد کو ہوا دینا سازگار ہوجاتا ہے جس کے بعد اسلام سے عناد رکھنے والوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ گیرت ویلڈر اور شارلی ہیبڈو جسے بد خصلت عناصر اس موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گردنیں مارنا اور کسی بھی قسم کا پُر تشدد ردّ عمل اس مسئلے کا حل نہیں۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ یورپ کی جڑوں میں اُتری ہوئی اسلام دشمنی اور نسل پرستی کو عیاں کیا جائے جو انہیں اسلام کو مسترد کرنے، اس کا مذاق اُڑانے اور ایسے ہی رویوں کا اصل محرک ہیں۔ یہی تفاخر اور بغض ہے جس کی بنا پر وہ فیصلہ صادر کرچکے ہیں کہ اسلام اور مسلمان پسماندگی اور جدید تہذیب سے دوری کی علامت ہیں۔ یورپ کا اپنا سایہ ہی اس کا تعاقب کررہا ہے۔ 
یورپ اور مغرب میں اسلامو فوبیا ایک دیرینہ مرض ہے۔ صلیبی جنگیں ، اسپین میں مسلمانوں کی سلطنت جو آٹھویں صدی میں فرانس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی اور چودھویں سے سولہویں صدی تک سلطنت عثمانیہ سے یورپی ممالک خوف زدہ رہے، یورپ نے آج بھی اس تاریخ کو فراموش نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اس عروج کے زیر اثر جرمن پیشوا مارٹن لوتھر نے کلیسیا میں اصلاحات متعارف کروائیں اور صلیبی جنگوں کے لیے یہ جواز گڑھا کہ مسلمان غیر مہذیب درندے ہیں،اسلام انہیں قتل و غارت اور عورتوں سے بد سلوکی سکھاتا ہے اور مسیحیوں کی بداعمالی کی وجہ سے خدا نے عذاب بنا کر اس قوم کو ان پر مسلط کردیا ہے۔ اس نے مسیحیوں کو چرچ کا وفادار رکھنے کے لیے ان میں اسلام کا خوف پروان چڑھایا۔ 
یورپ میں جمہوریت، آزادی اور ارزاں قدرتی وسائل اور یورپی مصنوعات کے لیے منڈیوں کے طور پر نوآبادیات کی افادیت کے حوالے سے پائے جانے والے تصورات پر برطانیہ کا بہت گہرا اثر ہے۔ 1858ء میں اپنے معاہدے کی تنسیخ تک ایسٹ انڈیا کمپنی میں خدمات انجام دینے والے جون اسٹارٹ مل نے آخری سانس تک استعماریت کا دفاع اس بنیاد پر کیا کہ نوآبادیات کے لوگ غیر مہذب ہیں اور اس  لیے وہ حکمرانی کی اہلیت نہیں رکھتے،یہ حق یورپیوں کو حاصل ہے۔ 1859ء میں آزادی پر شائع ہونے والے اپنے مضامین میں اس نے اس تصور کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ مسلمانوں سمیت یورپی نوآبادیوں میں بسنے والوں کو اسی نظریے سے دیکھا جاتا تھا۔ سفیدفاموں کی برتری کے اس نسل پرستانہ تصور سے مغرب پوری طرح چھٹکارا حاصل نہیں کرسکا۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب ہندوستان میں انگریزوں کے کلبوں کے باہر ’’ہندوستانیوں اور کتوں کا داخلہ منع ہے‘‘ جیسے حکم نامے آویزاں ہوتے تھے۔      ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

 اسلامو فوبیا کا معاملہ۔۔۔ وزیراعظم نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کریا

اسلامو فوبیا کا معاملہ۔۔۔ وزیراعظم نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کریا

فرانس نے پاکستان کو کرونا ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا

فرانس نے پاکستان کو کرونا ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا

سعید غنی نے اپنا وعدہ پورا کرلیا ۔۔۔۔ مفتاح اسماعیل کے گھر کیا بھجوادی ؟؟؟ ویڈیو وائرل ہوگئی

سعید غنی نے اپنا وعدہ پورا کرلیا ۔۔۔۔ مفتاح اسماعیل کے گھر کیا بھجوادی ؟؟؟ ویڈیو وائرل ہوگئی

پنجاب میں ٹرانسپورٹ 15مئی کو دوبارہ کھول دی جائے گی

پنجاب میں ٹرانسپورٹ 15مئی کو دوبارہ کھول دی جائے گی

کوئٹہ اورتربت میں دہشتگردوں کےخلاف آپریشن،یف سی کے3سپاہی شہید،5زخمی

کوئٹہ اورتربت میں دہشتگردوں کےخلاف آپریشن،یف سی کے3سپاہی شہید،5زخمی

پیپلزپارٹی نے دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا

پیپلزپارٹی نے دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا

کل سے پنجاب میں رمضان بازار لگنا بند ہوجائیں گے

کل سے پنجاب میں رمضان بازار لگنا بند ہوجائیں گے

مسافر طیارہ گر کر تباہ ۔۔۔۔ چار افراد جان کی بازی ہار گئے 

مسافر طیارہ گر کر تباہ ۔۔۔۔ چار افراد جان کی بازی ہار گئے 

سعودی عرب نے حج کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ امت مسلمہ کیلئے انتہائی بڑی خوشخبری 

سعودی عرب نے حج کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ امت مسلمہ کیلئے انتہائی بڑی خوشخبری 

شوال کا چاند 12 مئی کو نظر آنے کا امکان ؟؟؟؟؟ انتہائی اہم خبر ۔۔۔ کیا عید 13 مئی کو ہوگی یا 14 کو ؟؟

شوال کا چاند 12 مئی کو نظر آنے کا امکان ؟؟؟؟؟ انتہائی اہم خبر ۔۔۔ کیا عید 13 مئی کو ہوگی یا 14 کو ؟؟

عید کے دنوں میں موسم کیسا رہیگا ؟؟ محکمہ موسمیات نے سب کچھ بتا دیا ،،، انتہائی اہم خبر 

عید کے دنوں میں موسم کیسا رہیگا ؟؟ محکمہ موسمیات نے سب کچھ بتا دیا ،،، انتہائی اہم خبر 

محمد زبیر نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی، شاہ محمو دقریشی

محمد زبیر نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی، شاہ محمو دقریشی

وزیراعظم عمران کا دورہ سعودی عرب۔۔۔۔۔ سعودی عرب میں ڈرون حملہ 

وزیراعظم عمران کا دورہ سعودی عرب۔۔۔۔۔ سعودی عرب میں ڈرون حملہ 

غلط الزامات کی حقیقت سامنے آگئی، بلاول بھٹو

غلط الزامات کی حقیقت سامنے آگئی، بلاول بھٹو