02:41 pm
اسلاموفوبیا کا علاج مکالمے میں ہے

اسلاموفوبیا کا علاج مکالمے میں ہے

02:41 pm

 (گزشتہ سے پیوستہ)
عالمگیریت نے، جو کہ استعمار ہی کی ایک شکل ہے، لاکھوں مسلمانوں کو روزگار کی تلاش میں یورپ اور امریکہ کی طرف دھکیلا۔ یورپ نہ تو ماضی میں اس مسئلے کے لیے تیار تھا اور نہ ہی آج وہ اسلام اور مسلمانوں کے مسائل  سمجھنے کے لیے تیار ہے۔ فرانس محض ایک مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بحران کا مستقبل کیا ہوگا؟  یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تشدد مسئلہ حل نہیں کرتا بلکہ اس سے مزید تشدد ہی جنم لیتا ہے اس لیے ہمیں دوسرا راستہ تلاش کرنا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ ہم پُرامن رہیں۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی قرارداد منظور کی۔ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ مسئلے کا حل نہیں،ایسے اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔ ڈینش مکھن اور پنیر آج بھی بازار میں موجود ہیں اور ان کے خریدار بھی۔پھر ہم فرانس کی کونسی مصنوعات استعمال کرتے ہیں؟ ہوسکتا ہے ہماری مسلح افواج فرانس کے جدید ہتھیار اور آبدوزیں استعمال کرنا چھوڑ دیں، اس سے عام مسلمانوں کا کیا فائدہ ہوگا؟ 
گذشتہ بدھ کو وزیر اعظم عمران خان نے مسلمان رہنمائوں کو لکھے گئے خط میں اسلاموفوبیا کی روک تھام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی دعوت دی۔ یہ اقدام مددگار ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے بہت وقت درکار ہے۔ مسلمانوں کے اتحاد کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔ اسلام کے بارے میں ہماری اپنی کج رَوی صدیوں پر محیط ہے اور پلک جھپکتے سبھی راہ پر آجائیں ایسا ممکن نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک یہ ضرور  کرسکتا ہے کہ اسلاموفوبیا کی تاریخ کا مطالعہ کرے اور معقول دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرے۔ ہمیں اہل مغرب کو ان کی کمزوریوں اور غلط فہمیوں کا احساس دلاتے ہوئے ان سے بات کرنا ہوگی، یہ دلائل اسی زبان اور انداز میں دینا ہوں گے جو وہ سمجھتے ہیں۔ ان کے گڑھے ہوئے افسانوں کا جواب منطق اور دلیل ہی سے ممکن ہے۔ 
سیمیول ہنٹگٹن نے ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کا تصور پیش کیا تھا جس کے مطابق سرد جنگ کے بعد کی دنیا میں پیدا ہونے والے تنازعات اور جنگوں کی بنیاد ثقافتی اور مذہبی شناخت ہوگی اور یہ جنگیں ملکوں نہیں بلکہ مختلف ثقافتی اور تہذیبی اکائیوں کے درمیان ہوں گی۔ ہنٹگنٹن کا یہ تصور جرمن تاریخ داں اوسولڈ اسپینگلر کے تصورات کے قریب تر تھا۔ اسپنگلر نے یورپ کی مرکزیت پر مبنی تاریخ کے تصور کو مسترد کیا تھا۔ اس نے خاص طور پر ’’قدیم، قرون وسطیٰ  اور جدید‘‘ ادوار کے مغربی تصورات کی بنا پر دنیا کو دیکھنے کے نظریے کو مسترد کیا تھا۔ مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ پوری انسانیت بھی اسی دوری ترتیب سے گزر کر ارتقاء  کی منازل طے کرے گی اور اسہنگلر نے اس تصور کو رد کیا۔ اسپنگلرکے مطابق مغربی دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے اور اپنا آخری دور دیکھ رہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ زوالِ مغرب کے اس دور میں جمہوریت محض سرمائے کا ہتھیار بن جائے گی اور میڈیا وہ ذریعہ ہوگا جس کی مدد سے سرمایہ سیاسی نظام کو چلائے گا۔ اسپینگلر کی فکر سے اخذ کردہ تناظر کے مطابق ہنٹگنٹن کا خیال ہے کہ نظریات (جدت پسندی، روایت پسندی اور اشتراکیت وغیرہ) کا عہد ختم ہوچکا اور اب دنیا تہذیبی تنازعات کا میدان بن چکی ہے۔ ہنٹگنٹن نے خود بھی یہ وضاحت کی کہ وہ تہذیبوں کے مابین تصادم کی وکالت نہیں کرتا لیکن وہ شائد یہ بھول گیا کہ اس کا پیش کردہ تناظر ایسی کسی صورت حال سے گریز کے بجائے اس کے جواز کے لیے پیش ہوگا۔ ہنٹگنٹن کے ایک اور ناقد ، سابق ایرانی صدر محمد خاتمی نے ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کے مقابلے میں ’’تہذیبوں کے مابین مکالمے‘‘ کا متبادل تصور پیش کیا تھا تاہم موجودہ عالمی سیاست سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ تہذیبیں خاموشی سے دَم نہیں توڑ جاتیں بلکہ اپنے احیاء کی ناکام ہی سہی لیکن کوششیں ضرور جاری رکھتی ہیں۔  
قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کے بڑے حلقے میں یہ تحفظات پائے جاتے تھے کہ علیحدہ ملک کے قیام کے بعد بھی اس کی آبادی سے زیادہ مسلمان بھارت میں رہ جائیں گے۔ ایک اعتبار سے ان کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے کہ ہندو شدت پسندی سے اسی زبان میں بات کی جائے جو وہ سمجھتے ہیں اور گزشتہ ہزار برس سے سمجھ رہے ہیں۔ ہندو انتہا پسند بی جے پی نے  بھارتی مسلمانوں(جو کہ کل آبادی کا 16فی صد ہیں)  کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے وہ ہمارے صبر کا بھی امتحان ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان ناگزیر ہونے پر کیوں اصرار کیا۔ کشمیر میں بی جے پی کے اقدامات سے ان کی سفاکی اور اذیت پسندی عیاں ہوگئی۔ اونچی ذات کے ہندو بھارت کی دلتوں، مسلمانوں، مسیحیوں اور قبائلیوں وغیرہ  کی آبادی کے مقابلے میں اقلیت ہیں۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یورپ اور امریکہ  میں بسنے والے مسلمان بھی اقلیت میں ہیں۔ کیا ہم یہ چاہیں گے کہ وہ  مکالمے کو مستردکردیں اور خود کوتنہا کرکے تصادم و تشدد میں جھونک دیں ؟ 
فرانس میں جو ہوا غلط تھا۔ وہاں ہونے والے واقعات کے بعد فرانسیسی صدر کا ردعمل بھی ناقابل قبول ہے۔ تاہم جذبات کی یہ فضا مزید تصادم اور تشدد کو جنم دے اس سے قبل مکالمے کی طرف آناہوگا۔ فرانس سے ہمارے تعلقات دوستانہ رہے ہیں اور دبائو کے باوجود اس نے ہمیں ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی نہیں لگائی۔ نبی اکرم ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی قابل مذمت ہے اور ہمیں اس پر پُرزور مؤقف پیش کرنے میں کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہمیں تصادم و تنازعات سے گریز کرتے ہوئے فوری طور پر مکالمے کا آغاز کرنا ہوگا۔ بائیکاٹ کے بجائے مکالمہ ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہے۔  





 

تازہ ترین خبریں

 اسلامو فوبیا کا معاملہ۔۔۔ وزیراعظم نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کریا

اسلامو فوبیا کا معاملہ۔۔۔ وزیراعظم نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کریا

فرانس نے پاکستان کو کرونا ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا

فرانس نے پاکستان کو کرونا ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا

سعید غنی نے اپنا وعدہ پورا کرلیا ۔۔۔۔ مفتاح اسماعیل کے گھر کیا بھجوادی ؟؟؟ ویڈیو وائرل ہوگئی

سعید غنی نے اپنا وعدہ پورا کرلیا ۔۔۔۔ مفتاح اسماعیل کے گھر کیا بھجوادی ؟؟؟ ویڈیو وائرل ہوگئی

پنجاب میں ٹرانسپورٹ 15مئی کو دوبارہ کھول دی جائے گی

پنجاب میں ٹرانسپورٹ 15مئی کو دوبارہ کھول دی جائے گی

کوئٹہ اورتربت میں دہشتگردوں کےخلاف آپریشن،یف سی کے3سپاہی شہید،5زخمی

کوئٹہ اورتربت میں دہشتگردوں کےخلاف آپریشن،یف سی کے3سپاہی شہید،5زخمی

پیپلزپارٹی نے دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا

پیپلزپارٹی نے دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا

کل سے پنجاب میں رمضان بازار لگنا بند ہوجائیں گے

کل سے پنجاب میں رمضان بازار لگنا بند ہوجائیں گے

مسافر طیارہ گر کر تباہ ۔۔۔۔ چار افراد جان کی بازی ہار گئے 

مسافر طیارہ گر کر تباہ ۔۔۔۔ چار افراد جان کی بازی ہار گئے 

سعودی عرب نے حج کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ امت مسلمہ کیلئے انتہائی بڑی خوشخبری 

سعودی عرب نے حج کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ امت مسلمہ کیلئے انتہائی بڑی خوشخبری 

شوال کا چاند 12 مئی کو نظر آنے کا امکان ؟؟؟؟؟ انتہائی اہم خبر ۔۔۔ کیا عید 13 مئی کو ہوگی یا 14 کو ؟؟

شوال کا چاند 12 مئی کو نظر آنے کا امکان ؟؟؟؟؟ انتہائی اہم خبر ۔۔۔ کیا عید 13 مئی کو ہوگی یا 14 کو ؟؟

عید کے دنوں میں موسم کیسا رہیگا ؟؟ محکمہ موسمیات نے سب کچھ بتا دیا ،،، انتہائی اہم خبر 

عید کے دنوں میں موسم کیسا رہیگا ؟؟ محکمہ موسمیات نے سب کچھ بتا دیا ،،، انتہائی اہم خبر 

محمد زبیر نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی، شاہ محمو دقریشی

محمد زبیر نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی، شاہ محمو دقریشی

وزیراعظم عمران کا دورہ سعودی عرب۔۔۔۔۔ سعودی عرب میں ڈرون حملہ 

وزیراعظم عمران کا دورہ سعودی عرب۔۔۔۔۔ سعودی عرب میں ڈرون حملہ 

غلط الزامات کی حقیقت سامنے آگئی، بلاول بھٹو

غلط الزامات کی حقیقت سامنے آگئی، بلاول بھٹو