12:15 pm
اسٹیبلشمنٹ کا کردار

اسٹیبلشمنٹ کا کردار

12:15 pm

9نومبر کو شائع ہونے والے کالم میں ہم نے امریکی اسٹیبلشمنٹ‘ پینٹاگان کے حالیہ صدارتی انتخابات میں مئوثر کردار کا ذکر لکھا تھا۔ مجھ سے کچھ اطراف سے سوال ہوا‘ کہ کیا میں پینٹاگان  طرز کے اسٹیبلشمنٹ کردار کا حامی ہوں؟ وضاحت ہے کہ میری حمایت یا مخالفت کا سوال نہیں‘ میں کیا اور میری اوقات کیا؟ میں نے تو زمینی حقیقت کے طور پر پینٹاگان‘ امریکی جنرلز کے ٹرمپ مخالف کردار کا ذکر لکھا تھا‘ صدر ٹرمپ کا رویہ امپریل وار انڈسٹری اور پینٹاگان کے دائمی اتحاد سے جو علاقائی جنگیں جنم لیتی ہیں‘ طویل اور نہ ختم ہونے والی ہوتی ہیں‘ صدر ٹرمپ کا رویہ اس غیر تجارتی‘ اس عمل کا راستہ روکتا تھا‘ افغانستان سے فوج کا انخلاء اس لئے صدر ٹرمپ نہیں کہہ رہا تھا کہ اسے انسانی حقوق یا افغانوں کے سیاسی حقوق یاد آگئے تھے بلکہ تاجرانہ نقطہ نظر سے افغانستان جنگ مسلسل امریکی معاشی تباہی کا نام تھا۔
اگر یہ تاجرانہ نقطہ نظر سے منافع بخش ثابت ہو جاتی‘ معدنیات‘ ذخائر جن پر قبضہ کرنا 9/11 کے بعد کی امریکی جنگ کا مقصد تھا‘ آئل پائپ لائن  بن جاتی تو صدر ٹرمپ کب افغانستان سے نکلنے کا حامی ہوتا؟ تاجرانہ رویہ عموماً جنگوں کا مخالف اور کبھی کبھی دشمن کے سامنے دوسرا رخسار پیش کرتا ہے کہ لو‘ دوسرا تھپڑ بھی مار لو‘ مگر مالی مفادات لوٹ لینے دو‘ مجھے ایک خاتون وزیر کا یہ طنز بہت اچھا لگا کہ ماضی میں لاہور‘ اسلام آباد سے نئی دہلی والوں کے لئے جبکہ وہ دریا پر بند باندھ رہے تھے‘ انہی لمحوں میں‘ ساڑھیاں اور آم بھیجے جارہے تھے۔
 نواز شریف اور عمران خان کے روئیے میں فرق صرف اب یہ ہے کہ اب ہندوتوا کو پھول نہیں پیش ہوتے‘ تلخ حقائق کے ساتھ بات ہوتی ہے‘ ہاں عمران سے یہ ضرور غلطی ہوئی کہ وہ امید لگا بیٹھے تھے کہ ہندوتوا مودی‘ بی جے پی کی جیت سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ ان کی یہ امید ماضی میں نواز شریف کی امید سے مل گئی تھی۔یہ اندازے کی غلطی تھی جبکہ نواز شریف عملاً مالی مفادات‘ معاشی فوائد اور وہ بھی صرف خاندان کے لئے ‘ مودی‘ ہندوتوا انڈیا سے بغل گیر رہتا تھا‘ عمران  میں یہ بات تو نہیں لہٰذا عمران کی بہت سی خامیوں میں یہ بات تو قابل تعریف ہے کہ وہ مودی کے اہل خانہ کے لئے آم بھیجتا ہے نہ ہی ساڑھیاں۔
بات ذرا دور نکل گئی‘ ہم بات امریکی  اسٹیبلشمنٹ ‘ پینٹا گان کی حالیہ صدارتی انتخابات میں اس کردار کی کہہ رہے ہیں جس کردار سے صدر ٹرمپ ناخوش بلکہ ناراضی تھے۔ لیجئے جناب 9نومبر کو صدر ٹرمپ نے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کو برطرف کر دیا ہے جبکہ کرسٹوفر کو قائم مقام وزیر دفاع بنا دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ وزیر دفاع مارک ایپسر پر اراضی تھے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو وائٹ ہائوس کی جاری کردہ پالیسیوں پر قائل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ صدر ٹرمپ چاہیتے تھے کہ کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن نتائج کو ان کے حق میں تبدیل کرنے میں مدد کرے جبکہ صدر کی خواہش پر عمل کرنے کی بجائے‘ وزیر دفاع نے کئی علاقوں میں فوج بھیجنے سے بھی انکار کر دیا تھا‘ چنانچہ اب فوج کے عدم تعاون‘ یعنی پینٹا گان کے عدم تعاون کے سبب شکست سے دوچار ہوچکے ہیں مگر تاحال وہ شکست کو تسلیم کر رہے ہیں نہ متنازعہ رویہ ختم کر رہے ہیں۔
زمرد نقوی‘ لاہور میں ماہر نجوم بزرگ کا تبصرہ ہے ’’الیکشن سے پہلے اندازہ تھا کہ یہ انتخابات امریکہ میں بہت بڑا بحران لے کر آئے گا۔ ایسا ہی ہوا ہے۔ امریکی قوم مزید تقسیم ہوگئی۔ یہ تقسیم در تقسیم کا عمل ہوگا۔ آگے چل کر یہ موجودہ معاشی بحران کو مزید معاشی بحران میں تبدیل کر دے گی۔ مستقبل میں یہ عالمی بحران کی شکل اختیار کرے گا جو عالمی جنگ کا باعث بھی بنے گا۔ دنیا پر امریکی بالادستی برقرار رکھنے کے لئے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک جنگ ہی واحد آپشن رہ جائے گا۔
انتخابات‘ ووٹ اور حق دہی کا استعمال ملک بناتا ہے اور ملک توڑتا بھی ہے۔ یاد کیجئے 1971ء میں انتخابات جس فضاء میں ہوئے‘ جس طرح محب وطن قوتوں کے ہاتھ پائوں باندھ کر انتہا پسندوں‘ انارکسٹوں کو انتخابات جیتنے کی سہولت دی گئی‘ اس نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے میں بھارت کو منفرد موقع دے دیا تھا۔ اگر یہ انتخابات یوں  نہ ہوتے جیسے ہوئے بلکہ اس طرح ہوتے جیسے جنرل یعقوب  خان اصرار کرتے تھے کہ غنڈوں‘ بدمعاشوں پر سخت گرفت کرکے ماحول کو صاف ستھرا کرکے انتخابات ہوں تاکہ محب وطن آزادانہ طور پر انتخاب تو لڑ سکیں۔ جب جنرل یعقوب خان کی بات نہیں مانی گئی آپریشن کہانی‘ اور جب آپریشن ہوا تو بہت دیر سے ہوا تو غنڈے‘ بدمعاشی بھارتی مدد سے عوامی سطح پر اپنا راج قائم کر چکے تھے۔
اب میں ذرا اپنی اسٹیبلشمنٹ کی طرف آتا ہوں‘ صدر مشرف چاہتے تھے کہ آرمی چیف جنرل کیانی ان کے سیاسی طور پر دست و بازو بنے رہیں۔ نئی ق لیگ‘ پی پی پی جیت کر حکومت بنائے۔ ان دنوں چوہدری برادران کی جگہ جنرل مشرف نے حامد ناصر چٹھہ کو صدر مسلم لیگ (ق) بنوانے کی کوشش جو ناکام رہی۔ یوں صدر مشرف کا سیاسی ایجنڈا کمزور اور پھر ناکام ہوگیا۔ بتائیے کہ جنرل کیانی نے پیشہ ور سولجر بن کر انتخابات میں اگر مداخلت نہیں کی تو کیا غلط کیا تھا؟ یہی کچھ اب امریکی اسٹیبلشمنٹ نے بھی کیا ہے۔ یہ عمل کہاں سے غلط ہے؟
جنرل راحیل شریف سے مسلم لیگی اراکین قومی اسمبلی رابطہ کرکے ان سے مارشل لاء یا کسی اور طریقے سے نواز شریف اقتدار کے خاتمے کی منت سماجت کرتے رہے مگر جنرل راحیل شریف  نے مداخلت نہیں کی۔ مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوگئے۔ راحیل شریف کا عمل کہاں سے غلط ہے؟ اب کھسر پھسر ہوتی ہے کہ  راحیل شریف مدت ملازمت میں توسیع مانگتے رہتے تھے۔ سارے جنرلز غلط اور اکیلا نواز ہمیشہ ہی درست کیا منطق ہے یہ؟
جنرل باجوہ اور ان کے رفقاء عدم مداخلت کے عمل پر عمل پیرا ہیں۔ نواز شریف اب ان پر بھی الزام لگاتے پھرتے ہیں کہ انہوں نے جنرل فیض سے مل کر انہیں اقتدار سے نکالا۔ کبھی وہ جنرل ظہیر الاسلام پر بھی یہی الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اگر عدم مداخلت پر کار بند ہے تو یہ قابل تعریف ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کو وہ تو ضرور کرنا چاہیے جسے کرنے کا اصرار جنرل یعقوب خان مشرقی پاکستان میں کرتے رہے تھے۔ ہماری اپنی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو عالمی سطح کے معاملات کی روشنی میں بھی دیکھنے کی زحمت کرنی چاہیے۔

تازہ ترین خبریں

 سرکاری سرپرستی میں دھاندلی ثابت ہوگئی وزیراعظم استعفے دیں ۔ نیئر بخاری

سرکاری سرپرستی میں دھاندلی ثابت ہوگئی وزیراعظم استعفے دیں ۔ نیئر بخاری

 آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سےعراقی وزیردفاع کی ملاقات

آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سےعراقی وزیردفاع کی ملاقات

سینیٹ الیکشن: پنجاب کے تمام امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرا ر

سینیٹ الیکشن: پنجاب کے تمام امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرا ر

حلقہ این اے 75دھاندلی کیس، ڈی سی ڈسکہ اورڈی پی او کو معطل کرنےکا فیصلہ

حلقہ این اے 75دھاندلی کیس، ڈی سی ڈسکہ اورڈی پی او کو معطل کرنےکا فیصلہ

الیکشن کمیشن کا این اے75 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم

الیکشن کمیشن کا این اے75 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم

 نیا پاکستان اپارٹمنٹس ، کم آمدن والے افراد کیلئے ایک فلیٹ کی قیمت کتنی ہوگی؟

نیا پاکستان اپارٹمنٹس ، کم آمدن والے افراد کیلئے ایک فلیٹ کی قیمت کتنی ہوگی؟

تحریک انصاف کے اندر بہت بڑی بغاوت ہوچکی،مریم نواز

تحریک انصاف کے اندر بہت بڑی بغاوت ہوچکی،مریم نواز

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن جیت چکی ہے، بلاول بھٹو زرداری

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن جیت چکی ہے، بلاول بھٹو زرداری

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کا شیڈول فائنل ،امتحانات کا آغاز کب سے ہوگا؟؟حتمی اعلان ہوگیا

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کا شیڈول فائنل ،امتحانات کا آغاز کب سے ہوگا؟؟حتمی اعلان ہوگیا

عدالت کا‌ رانا ثناء اللہ کا سیلری اکائونٹ کھولنے کا حکم

عدالت کا‌ رانا ثناء اللہ کا سیلری اکائونٹ کھولنے کا حکم

این اے 75 ضمنی انتخاب، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا، کتنے بجے سنایا جائیگا؟

این اے 75 ضمنی انتخاب، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا، کتنے بجے سنایا جائیگا؟

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا پر کتنا خرچہ آیا؟پاکستانیوں کیلئے یقین کرنا مشکل

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا پر کتنا خرچہ آیا؟پاکستانیوں کیلئے یقین کرنا مشکل

ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کے پیچھے فوج نہ بزدار بلکہ عمران خان ہیں،مسلم لیگ(ن)

ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کے پیچھے فوج نہ بزدار بلکہ عمران خان ہیں،مسلم لیگ(ن)

ویلکم جی آیانوں۔بلاول بھٹو اچانک مریم کے گھرپہنچ گئے۔ آج کیا ہونےوالاہے؟ کارکنوں  یہ خبرپڑھ لیں

ویلکم جی آیانوں۔بلاول بھٹو اچانک مریم کے گھرپہنچ گئے۔ آج کیا ہونےوالاہے؟ کارکنوں یہ خبرپڑھ لیں