12:15 pm
مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن قائم نہیں ہو سکتا

مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن قائم نہیں ہو سکتا

12:15 pm

جب برصغیر پاک و ہند تقسیم ہو ا تو بہت ساری نواحی ریاستوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر لیں کہ انہوں نے بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ الحاق کرنا ہے۔کشمیر میں کیونکہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت تھی اور اس کا جغرافیائی محل وقوع اس بات کا متقاضی تھا کہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے لیکن مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیریوں کی خواہش کے برعکس بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔دسمبر 47کے آخر تک بھارت کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ کشمیر کی آزادی کی اس جدو جہد کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا لہٰذا بھارت کشمیر کے مقدمے کو اقوام امتحدہ میں لے گیا اور ان سے معاملے کے حل کے لئے مدد مانگی۔
31دسمبر1948ء کو ایک معاہدے کے تحت جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔اقوام متحدہ نے تسلیم کیا کہ اس جھگڑے کے دو فریق یعنی بھارت اور پاکستان ہیں اور کشمیر کا مسئلہ استصواب رائے سے ہو گا۔یہ استصواب رائے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کرایا جائے گا۔1957ء میں کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنا دیا گیا جس کے تحت کشمیر کی ایک خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا گیا جسے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370میں درج کیا گیا۔ آرٹیکل 35-Aکے تحت صرف مقامی کشمیری ہی یہاں پر زمین خرید سکتے تھے اور باہر سے آنے والوں کو یہاں زمین خریدنے اور کاروبار کرنے کی ممانعت تھی تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو تبدیل نہ کیا جا سکے۔ 5اگست2019ء کو نریندر مودی کی نسل پر ست حکومت نے آرٹیکل370کو بھارتی آئین سے منسوخ کر کے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔اس کے ساتھ ہی بھارت نے ایک نیا نقشہ جاری کر دیا جس میں گلگت بلتستان کو لداخ کی Union Territoryکا حصہ ظاہرکیا گیا جبکہ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی Union Territoryکا حصہ ظاہر کیا گیا۔ اس حرکت سے بھارت ان علاقوں کو اپنے علاقے ظاہر کر رہا ہے جو کبھی بھی اس کے قبضے میں نہیں رہے۔5اگست کے اقدام کے بعد بھارت نہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیواور لاک ڈائون مسلط کر رکھا ہے۔کشمیر کے سارے سیاستدان،طلباء،اساتذہ، تجدید کار اور میڈیا کے لوگ زیادہ تر حراست میں ہیں۔کم از کم 8000لوگ لاک دائون کے بعد زیر حراست لئے جا چکے ہیں جنہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہندوستان کی مختلف جیلوں میں رکھا گیاہے۔حتیٰ کہ کرونا وائرس کے شدید دنوں میں بھی ان قیدیوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔وزیر اعظم پاکستان عمران نے دنیا کے تمام اہم فورمز پر کشمیریو پر ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو باور کرایا ہے کہ کس طرح بھارت کشمیریوں کے اوپر ظلم ڈھا رہا ہے لیکن افسوس کہ ابھی تک دنیا کی طاقتوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جب کشمیر سے کرفیو اٹھایا جائے گا تو کشمیریوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جائے گی۔عمران خان اس معاملے میں صدر ٹرمپ سے بھی بات کر چکے ہیں اور انہیں آنے والے خطرات سے بخوبی آگاہ کر چکے ہیں۔لاک ڈائون کے علاوہ بھارتی فوجیں بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔بھارتی فوج ماورائے عدالت قتل و غارت گری، نہتے کشمیریوں پر فائرنگ، ریپ اور جنسی تشدد کی مرتکب ہو رہی ہے۔انڈین آرمی پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کر کے معصوم کشمیریوں کو اندھا کر رہی ہے۔مارچ2020ء سے بھارت نے نئے ڈومیسائل قوانین کا اجراء کر دیا ہے جس کے تحت غیر کشمیریوں کی بھی کشمیرمیں آباد کر کے انہیں ڈومیسائل دئیے جا رہے ہیں تا کہ مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔نئے قوانین کے تحت کوئی بھی شخص جو علاقے میں 15سال سے رہ رہا ہے یا اس علاقے میں7سال  سے تعلیم حاصل کر رہا ہے یا میٹرک اور ایف اے کا امتحان اس علاقے سے دے چکاہے اسے یہاں کی مستقل شہریت دے دی جائے گی۔نئے قوانین کے تحت نئے شہریوں کو یہاں کے وظائف بھی دئیے جا سکتے ہیں اور یہاں کی نوکریاں بھی دی جائیں گی۔
مودی سرکار کی اس حرکت سے کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کو اکثریت سے اقلیت میں بدلنے کی سازش کی جارہی ہے۔یہاں کے مسلمانوں کو یہ سازش کسی صورت قابل قبول نہیں۔مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارتی جھنڈا صرف اس صورت میں لہرائیں گی جب کشمیر کا جھنڈا بھی لہرایا جائے گا اور آرٹیکل 370کو دوبارہ رائج کیا جائے گا۔محبوبہ مفتی نے نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت پر ڈاکہ ڈالا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم محمد علی جناحؒ کے دو قومی نظریہ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے چین سے درخواست کی ہے کہ کشمیر میں آرٹیکل 370کو دوبارہ رائج کروانے میں کشمیریوں کی مدد کرے۔اقوام متحدہ کشمیر میںاستصواب رائے کرانے کے اپنے ہی وعدے پر عمل دراآمد نہیں کرا سکا۔بین الاقوامی برادری بھی اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکی۔دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔مسئلے سے نظر یں چرانے سے حالات مزید خراب ہونگے لہٰذا بین الاقوامی برادری آگے آئے اور تاریخ کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرائے۔

تازہ ترین خبریں

 ریلوے سے 4 ہزار ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ ،اعظم سواتی نے وجہ بھی بتا دی

ریلوے سے 4 ہزار ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ ،اعظم سواتی نے وجہ بھی بتا دی

’’ اب حکومت بڑا  این آراو دینے جارہی ہے‘‘اعجاز الحق کا انکشاف

’’ اب حکومت بڑا این آراو دینے جارہی ہے‘‘اعجاز الحق کا انکشاف

اللہ کرے اسٹیبلشمنٹ کا ملکی سیاست سےکردار ختم ہونے کی بات درست ہو، شاہد خاقان عباسی

اللہ کرے اسٹیبلشمنٹ کا ملکی سیاست سےکردار ختم ہونے کی بات درست ہو، شاہد خاقان عباسی

ٹی20ورلڈ کپ:پاکستان کابھارت میں کھیلنے کیلئے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ

ٹی20ورلڈ کپ:پاکستان کابھارت میں کھیلنے کیلئے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ

عظیم سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کا یوم پیدائش

عظیم سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کا یوم پیدائش

بھارہ کہو میں تین افراد کا قتل:جے یو آئی کا میتوں کے ہمراہ مری روڈ پر دھرنا

بھارہ کہو میں تین افراد کا قتل:جے یو آئی کا میتوں کے ہمراہ مری روڈ پر دھرنا

سرگودھا کینو ذائقے کے اعتبار سے بہترین ہے،صدرمملکت

سرگودھا کینو ذائقے کے اعتبار سے بہترین ہے،صدرمملکت

بلاول بھٹو زرداری کی سید عالم شاہ بخاری کی والدہ کے انتقال پر تعزیت

بلاول بھٹو زرداری کی سید عالم شاہ بخاری کی والدہ کے انتقال پر تعزیت

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

کورونا ویکسین نہ لگوانے والے طبی عملے کیخلاف سخت ایکشن ہوگا، پمز انتظامیہ

کورونا ویکسین نہ لگوانے والے طبی عملے کیخلاف سخت ایکشن ہوگا، پمز انتظامیہ

اپوزیشن ملکی مفادات کے مخالف ایجنڈے پر چل رہی ہے،عثمان بزدار

اپوزیشن ملکی مفادات کے مخالف ایجنڈے پر چل رہی ہے،عثمان بزدار

’’غنڈہ گردی و کرپشن بے تاج بادشاہ بھٹکتا پھررہا ہے‘‘

’’غنڈہ گردی و کرپشن بے تاج بادشاہ بھٹکتا پھررہا ہے‘‘

’’جب ٹوئٹ کرتا ہوں توباجی مریم کا پیڈگالی گلوچ بریگیڈ گالیاں دینا شروع ہوجاتا  ہے‘‘شہباز گل

’’جب ٹوئٹ کرتا ہوں توباجی مریم کا پیڈگالی گلوچ بریگیڈ گالیاں دینا شروع ہوجاتا ہے‘‘شہباز گل

اے این پی رہنما اسد خان اچکزئی کا قاتل گرفتار

اے این پی رہنما اسد خان اچکزئی کا قاتل گرفتار