12:17 pm
نیاموڑ!خواجہ سعد رفیق کی خوش گوار باتیں

نیاموڑ!خواجہ سعد رفیق کی خوش گوار باتیں

12:17 pm

٭کراچی: آئی جی اغوا کیس، فوج کی تحقیقات کا فیصلہ، دو افسر تبدیلO ’’حکومت چلے گی، ہم مخالفت نہیں کریں گے‘‘ خواجہ سعد رفیقO الیکشن کمیشن اثاثے، وزیراعظم، چار غیر ملکی بنک اکائونٹ، 10 جائیدادیں، بنی گالہ محل تحفہ، آصف زرداری 21 جائیدادیں، ایک کروڑ 66 لاکھ کا اسلحہ، بلاول ایک ارب 55 کروڑ کے اثاثےO ٹرمپ، کرپشن و فراڈ کے مقدمے، جیل جانے کا امکانO کرونا مزید تیز، حکومت کے جلسے منسوخO کراچی، 16 نومبر سے جزوی سرکلر ریلوے شروعO کرتار پور گوردوارہ ایک سال مکمل، یاتریوں پر بھارت کی پابندی، سکھوں کے حلوہ کو کتے سونگھتے ہیں!O مزار قائداعظم کی کوئی بے حرمتی نہیں ہوئی، کراچی پولیس، مقدمہ خارج!
٭قارئین کرام! میرے نزدیک قومی اسمبلی میں خواجہ سعد رفیق کی تقریر زیادہ اہم ہے مگر پہلے کراچی کی اہم خبر! سندھ پولیس کے آئی جی کے اغوا کیس میں فوجی کور کمانڈر کی تحقیقات کے نتائج چھپ چکے ہیں۔ دو بڑے فوجی افسر تبدیل، مزید کارروائی ہو گی۔ بلاول کا اظہار اطمینان، نوازشریف نے مسترد کر دیا۔ نوازشریف کی حیثیت ملک سے بھاگے ہوئے ایک مفرور، اشتہاری، سزا یافتہ مجرم پناہ گیرکی ہے۔ یہی صورت حال الطاف حسین کی ہے۔ اصولی اور قانونی طور پرکسی سزا یافتہ مجرم کو یا کسی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی مگر ہمارے ہاں الٹ رواج ہے۔ سنگین جرائم کے مفرور، سزا یافتہ اشتہاری مجرم دوسروں سے زیادہ عزت و تکریم کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ وہ فوج کو گالیاں نکالتے ہیں تو تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ وہ ملک کو لوٹ کر دوسرے ملکوں میں بھاری اثاثے بناتے ہیں تو ان کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک شخص صدر بنا، ہٹا دیا گیا تو جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کیا، دماغی کیفیت ٹھیک ہوئی، ہوش آیا تو بیرون ملک بھاگ گیا۔ دوسرے دس سال کے لئے سزا یافتہ مجرم پر جیل میں بیک وقت بہت سی ’مہلک بیماریوں‘ نے حملہ کر دیا، حالت بہت نازک ہو گئی، بیٹی اور ساتھیوں نے واویلا کیا، علاج کے لئے ضمانت پر چار ہفتوں کی عارضی رہائی ملی تو لندن بھاگ گیا۔ لندن پہنچتے ہی بالکل تندرست ہو گیا۔ وہاں سے قوم کے نام پرجوش تقریریں کی جا رہی ہیں۔ ہوٹلوں میں کھانے اور پارکوںمیں سیر ہو رہی ہے اور ملک میں بیٹی اعلان کر رہی ہے کہ ملک کے مسائل صرف ایک شخص حل کر سکتا ہے، اس کا نام ہے نوازشریف!! بیٹی یہ وضاحت نہیں کر رہی کہ اس کا والد کس طرح اقتدار میں آئیگا؟ سزا تو اعلیٰ ترین عدالت نے سنائی ہے، وہ کیسے ختم ہو گی؟
٭بات کسی اور طرف نکل گئی۔ کیا عدل؟ کیا انصاف؟ کون سا آئین، کیسا قانون؟ مزار قائداعظم کی بے حرمتی پر تین سال قید و جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔ ایک شخص وہاں سیاسی جلسہ کرتا ہے، سیاسی تقریر کرتا ہے۔ مزار کا جنگلہ پھلانگ کر قائداعظم کو مخاطب کر کے سیاسی نعرے لگاتا ہے۔ سینکڑوں افراد گواہ ہیں۔ پولیس کے پاس مقدمہ کی درخواست آتی ہے۔ وہ مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیتی ہے جب کہ مقدمہ کا اندراج کسی شہری کی نہیں بلکہ پولیس کی اپنی ریاستی ذمہ داری ہے اور…اور پولیس کسی دبائو کے تحت 18 گھنٹے تک انتظار کے بعد ایک کمزور مقدمہ درج کر لیتی ہے۔ چند گھنٹے بعد ایک مجسٹریٹ مزار قائداعظم کی شدید بے حرمتی کے ’’کیپٹن صفدر‘‘ نام کے ملزم کو ضمانت منظور کر لیتا ہے۔ اس کی بیوی مجسٹریٹ کے فیصلے سے پہلے بھی اس کی ضمانت کا اعلان کر دیتی ہے۔ اندھیر نگری چوپٹ راج کا ولی عہد راج کمار سخت غصے کا اظہار کرتا ہے کہ ’’مزار قائداعظم کی بے حرمتی ہوئی ہے، تو کیا ہوا، معمولی بات ہے، ہمارے مہمان میاں بیوی کی توہین کیوں کی گئی؟‘‘ اس کے زیر انتظام حکومت کے چوبدار اس کے بیان پر تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ اس قوالی کے بیچ تالیاں بجانے والوں کو کیا خبر کہ قائداعظم ؒکس ہستی کا نام ہے؟ (الیکشن کمیشن کی رپورٹ بتا رہی ہے کہ بلاول زرداری ایک ارب 58 کروڑ کے اثاثوں کا مالک ہے!) اور…اور…کراچی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ مزارقائداعظم پر بے حرمتی کا کوئی واقعہ بھی نہیں ہوا، صفدر نامی کسی شخص نے کوئی بے حرمتی نہیں کی، اس لئے مقدمہ خارج! یہ سارے لوگوں! سنو بزرگ معروف شاعر مرتضیٰ برلاس کا ایک شعر سنو کہ ’’ایسی بستی کو زمین چاٹ لیا کرتی ہے، ظلم جہاں حد سے بڑھ جائے برلاس!‘‘!! خواجہ حیدر علی آتش نے کہا ’’نہ گور سکندر نہ ہے قبردارا، مِٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے!‘‘ پھر امیر مینائی کی بات کہ ’’ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے!! زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے!…اور…نہ گل ہے نہ غنچے، نہ بُوٹے نہ پتے! ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے!‘‘
٭قارئین محترم! معذرت کہ کالم بے ترتیب ہو رہا ہے۔ دل اور دماغ میں غم و غصہ ابل رہا ہو تو الفاظ ادھر ادھر ہو جاتے ہیں۔ میں انسان ہوں، میرے کانوں نے قائداعظم کی آواز سنی ہے، پاکستان بنتے، اس کی دہلیز پر اپنے خاندان کو شہید ہوتے دیکھا ہے! کیسے قوم کے محسن کے مزار کی کھلم کھلا بے حرمتی اور اس پرکراچی پولیس کے تمسخرانہ، ظالمانہ رویے کو برداشت کر لوں؟ سنو نواز شریف! آصف زرداری! تم کل تھے آج نہیں ہو، سنو، بلاول زرداری اور مریم نواز، عمران خاں اور فضل الرحمان! تم لوگ آج ہو، کل نہیں ہو گے۔ مگر یہ خوبصورت، دلکش برف پوش وادیوں، سرسبز پہاڑوں، سبزہ زاروں، ندیوں، چشموں، صحرائوں اور سمندروں والا یہ عظیم ملک، عظیم وطن ہمیشہ قائم، سرسبز و آباد رہے گا! کل والے بچے شائد یہ بھی نہ بتا سکیں کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں کون آیا تھا؟ کون کہاں گیا؟
٭میں قومی اسمبلی میں خواجہ سعد رفیق کی حیرت انگیز خوش گوار مدبرانہ تقریر کو زیادہ اہمیت دینا چاہتا تھا مگر وہ پیچھے آ گئی۔ چلئے ٹرین کا آخری ڈبہ بھی تو ٹرین ہی کہلاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ نہ صرف میں بلکہ ساری قوم ملک و قوم اور اس کے نظام کو کمزور اور تلپٹ کرنے والے انتہائی زہریلے بیانات، منافرت بھری تقریروں سے تنگ آ گئے ہیں۔ ہر طرف غولِ بیابانی ناچ رہے ہیں۔ زہر بھری اپوزیشن، ضدی، ہٹ دھرم حکمران دارا و سکندر!! ایسے میں اچانک خواجہ سعد رفیق کی تدبر، اعتدال، متانت اور ملک و قوم کی دردمندی سے لبریز تقریر خوش گوار ہوا کا خوش گوار جھونکا اور حکمرانوں اور اپوزیشن کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئی ہے۔ خدا کا شکر کہ کسی سیاسی رہنما نے تو ملک و قوم کی دردمندانہ خیرخواہی کی بات کی۔ خواجہ صاحب کی تقریر کا خلاصہ ’’میں بڑی دل سوزی سے تمام سیاسی رہنمائوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ملک و قوم سخت انتشار، مایوسی اور بددلی کے شکار ہیں۔ خدا کے لئے آیئے، آپس میں مل بیٹھیں، بڑے حوصلے، رواداری اورتدبر کے ساتھ ایک دوسرے کو سُنیں، برداشت کریں، ملک کو مسائل سے نکالنے کے بارے میں خلوص سے کام کریں…میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، ملک میں افراتفری نہیں پھیلانا چاہتے۔ اپوزیشن سے اپیل کرتا ہوں کہ متحد رہیں، مثبت تنقید کریں، حکومت گمراہ ہو تو اسے محبت اور تدبیر کے ساتھ سمجھائیں اور حکومت کو بھی چاہئے کہ برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرے۔اپوزیشن کی باتوں کو حوصلے سے سنے، انہیں اہمیت دے۔ حکومت چلتی رہے، ہم اسے گرانا نہیں چاہتے، خدا کے لئے ملک و قوم کی بہتری کے لئے مل جل کرکام کریں۔ لہجوں کو نرم اور شائستہ رکھیں۔
٭قارئین کرام! خواجہ سعد رفیق کی ملک و قوم کی خیر خواہی اور ہمدردی کی باتوں نے مجھے جذباتی کر دیا ہے۔ شکر ہے کسی نے تو عقل و دانش اور ملک سے محبت کی بات کی۔ خواجہ صاحب! آپ کا شکریہ! سلامت رہیں! یہ کلام جاری رکھئے۔ ہر بڑا سفر پہلے قدم سے ہی شروع ہوتا ہے۔ آپ نے قدم اٹھایا، خدا تعالیٰ آپ کو کامیاب کرے! میں سوچ رہا ہوں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں بڑی جماعتیں موجودہ حکومت، اسمبلیوں اور نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ اب اپوزیشن اتحاد کا کیا بنے گا؟ مسلسل ادھڑتا جا رہا ہے! مولانا فضل الرحمان کی جدوجہد کا اب کیا بنے گا؟
٭ایک مختصر ذاتی پیغام: میرا رہائشی پتہ تبدیل ہو گیا ہے۔ نیا مستقل پتہ یہ ہے E-13 (ای 13-) پروفیسرز کالونی، پنجاب یونیورسٹی لاہور!

تازہ ترین خبریں

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

 پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی

پاکستان تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس نے نظام میں شفافیت اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کو ایک تحریک کی شکل دی۔شبلی فراز

پاکستان تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس نے نظام میں شفافیت اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کو ایک تحریک کی شکل دی۔شبلی فراز

ہم بھارت کیساتھ اچھے تعلقات چاہتےہیںضروری ہےکہ کشمیرکی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ شیخ رشید احمد

ہم بھارت کیساتھ اچھے تعلقات چاہتےہیںضروری ہےکہ کشمیرکی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ شیخ رشید احمد

فنون لطیفہ زندگی میں خوشیاں بھرنے کا اہم ذریعہ ہے۔فوزیہ سعید

فنون لطیفہ زندگی میں خوشیاں بھرنے کا اہم ذریعہ ہے۔فوزیہ سعید

اسکولز کھولنے کا معاملہ ۔۔ سندھ حکومت اور وفاق ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ۔۔۔ والدین پریشان

اسکولز کھولنے کا معاملہ ۔۔ سندھ حکومت اور وفاق ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ۔۔۔ والدین پریشان

مسافروں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ پی آئی اے نے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا

مسافروں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ پی آئی اے نے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا

سینٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کے رابطے تیز پیپلزپارٹی اور جےیوآئی کے درمیان رابطہ

سینٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کے رابطے تیز پیپلزپارٹی اور جےیوآئی کے درمیان رابطہ

کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس کی انٹری ۔۔۔ کراچی کےشہریوں میں تشویش کی لہر ڈور گئی

کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس کی انٹری ۔۔۔ کراچی کےشہریوں میں تشویش کی لہر ڈور گئی

  نیا پاکستان محض نیا ہی نہیں مہنگا بھی ہے، شازیہ مری

نیا پاکستان محض نیا ہی نہیں مہنگا بھی ہے، شازیہ مری

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری۔۔۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری۔۔۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا