01:10 pm
یوریشیا‘ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

یوریشیا‘ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

01:10 pm

سال کے آغاز میں جب کورونا وائرس کی وباء  پھوٹی تو اندازے یہی تھے کہ اس سے بین الاقوامی تعلقات جمود کا شکار ہوجائیں گے۔ بعض لوگوں کو توقع ہوچلی تھی کہ عالمی معیشت اور سیاست میں قائدانہ کردار کی جانب چین کے بڑھتے قدم رُک جائیں گے، اسی طرح چین اور روس کا اتحاد بھی وباء سے پیدا شدہ حالات کو سہار نہیں پائے گا۔ لیکن حالات ان توقعات کے برعکس ثابت ہوئے۔ وباء سے پیدا ہونے والے بحران میں امریکہ کی ناکامی اور چین کی سرخروئی کے ساتھ معاشی بحالی نے ایک بار پھر اس تاثر کو پختہ کردیا کہ دنیا کی سیاسی و اقتصادی قیادت اب یوریشیا یا مشرق کی جانب منتقل ہورہی ہے۔ 
پاکستان اپنے محل وقوع اور کسی حد تک اقتصادی شناخت کے حوالے سے گومگوں کا شکار رہا ہے۔ جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے یہ جنوبی و وسطی ایشیا ء اور مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے۔ یوریشیا میں شامل خطہ بحرالکاحل کے ساحلوں سے اٹلانٹک تک پھیلا ہوا جس میں مشرقی ، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ بھی شامل ہیں۔ سو برس قبل یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ یہ خطہ تاریخ کا محور بننے جارہا ہے اور آج ہم اسے حقیقت ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ دوراندیشی پر مبنی چین کا بیلٹ روڈ انیشی ایٹیوو اس طویل و عریض خطے کو سڑکوں، ریل ، پائپ لائن اور بحری راستوں کے ذریعے باہم مربوط کرنے لیے شروع کیا گیا ہے۔ ققنس کے مانندسوویت یونین کی راکھ سے جی اٹھنے والا روس نہ صرف مختصر وقت میں اس قابل ہوگیا کہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا ہے بلکہ اب مشرق میں چین سے ٹھوس اتحاد کی تشکیل کے بعد جنوب میں بحیرہ ہند پر اس کی نگاہیں جمی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر ایسی ہی اقتصادی تنظیمیں اسی یوریشیائی رشتے کو مضبوط کرنے کے لائحہ عمل کی جزئیات طے کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس میں کئی تند موسم اور مسائل حائل ضرور ہوئے لیکن سیاست و معیشت کے میدان میں استوار ہونے والے اس نئے عہد کے لیے عزائم کو کمزور کرنے کی کوششیں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ اس اتحاد میں ترکی اور ایران نیا اضافہ ہیں۔ نیٹو  میں شامل ہونے کے باوجود مغرب اور امریکہ کی بے اعتنائی کے زخم سہنے والا ترکی ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت ہے جسے یوریشیا کا زمینی پُل تسلیم کرنا چاہیے۔  چار دہائیوں تک بے رحم معاشی پابندیاں اور قدغنیں برداشت کرنے والا ایران بدلتے حالات میں دوبارہ اپنی تمام تر قوت بروئے کار لانے کے لیے پُرعزم ہے۔ یوریشیائی برادری کی تشکیل کے ساتھ ہمارے حالات بھی مزید بہتر ہوں گے۔ 
عالمی اقتصادی فورم کاروبار، سیاست، فن اور میڈیا کے ایسے نمایاں افراد کی بین الاقوامی کمیونٹی ہے جو عالمی سطح پر ہونے والے سیاسی و اقتصادی فیصلوں پربراہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ دنیا جس طرح کثیر القطبی ہوتی جارہی ہے ، قائدین اور ماہرین کو علاقائی، سیاسی اور قومی سطح پر باہمی تعاون کے لیے فوری سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ یہ عالمی سطح پر  جیواسٹریٹجک تعاون کا  ایسا پلیٹ فورم ہے جہاں تحقیق اور حقائق کی بنیاد پر افہام و تفہیم کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس اہم تنظیم میں پاکستان کی نمائندگی کئی پاکستانی بزنس گروپ کرتے ہیں اور اپنی متحرک شرکت سے اس عالمی کمیونٹی کو اپنے ملک کی نمائندگی احساس دلاتے ہیں۔ پاکستان ابھی تک اس فورم کے مشرق وسطیٰ اور شمال افریقہ گروپ (MENA) سے منسلک ہے۔ عالمی سطح پر بننے والے نئے اتحاد اور تعلقات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ بین الاقوامی روابط کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جائے۔ ہماری موجودہ خارجہ پالیسی خطوط مشرقی وسطی اور خلیج میں سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت کے لیے پوری طرح موزوں نہیں رہے۔ اس لیے MENAخطے کے ممالک اور پاکستان کی ایک دوسرے پر توجہ کے ارتکاز کی وہ سطح نہیں رہی۔ جنوبی اور وسطیٰ ایشیاء میں آنے والی تبدیلیاں ہمارے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ مشرقی وسطیٰ  اور شمالی افریقہ کے تناظر میں پاکستان صرف حاشیے پر ہے۔ چین کے بی آر آئی منصوبے میں ہماری بڑھتی حصے داری اور سی پیک کی بنا پر ایران اور وسطی ایشیاء پاکستان کے لیے زیادہ اہم ہوچکے ہیں۔ 
بی آر آئی کے بنیادی جزو سی پیک کی وجہ سے اقتصادی تعاون تنظیم پھر توجہ کا مرکز بنی ہے۔ ای سی او 1985ء میں قائم ہوئی تھی، یہ بنیادی طور پر امریکہ  اور برطانیہ کی ایما پر بننے والی  اور ایران، پاکستان ، ترکی پر مشتمل علاقائی تعان تنظیم (آر سی ڈی) کی بنیاد پر تشکیل دی گئی تھی جس نے  خطے میں ہونے والے کمیونسٹ مخالف بغداد پیکٹ اور سینٹو کی جگہ لی۔ 1992ء میں ای سی او میں سات ممالک ؛ افغانستان ، آذر بائیجان، قزاقستان، کرغزستا، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہوئے۔ اس تنظیم میں شامل ممالک کا مجموعی رقبہ یورپ سے دگنا ہے، یہ دنیا کے کام یاب ترین علاقائی صف بندیوں میں شمار ہوتی ہے، 80لاکھ مربع کلو میٹر پر پھیلے اس خطے کی آبادی (2013ء کے اعداد و شمار کے مطابق)  44کروڑ ہے جو دنیا کی آبادی کا 6 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ اس خطے کی حدود روس، چین، بحیرہ ہند، خلیج فارس اور بحر گیلان کی ترائیوں سے متصل ہیں۔ 2015 ء میں اس خطے کا تجارتی حجم 68ارب ڈالر سے زائد اور مجموعی جی ڈی پی تقریبا 2ارب ڈالر تک رہا۔ اس خطے کا اوسط فی کس جی ڈی پی 4300امریکی ڈالر تھا۔ 2015ء میں خطے میں ہونے والی بیرونی براہ راست سرمایہ کاری 37ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی۔ چین کے بی آر آئی منصوبے کا محور اور مرکزی انحصار بھی اسی خطے پر ہے۔      ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

 پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی

پاکستان تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس نے نظام میں شفافیت اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کو ایک تحریک کی شکل دی۔شبلی فراز

پاکستان تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس نے نظام میں شفافیت اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کو ایک تحریک کی شکل دی۔شبلی فراز

ہم بھارت کیساتھ اچھے تعلقات چاہتےہیںضروری ہےکہ کشمیرکی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ شیخ رشید احمد

ہم بھارت کیساتھ اچھے تعلقات چاہتےہیںضروری ہےکہ کشمیرکی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ شیخ رشید احمد

فنون لطیفہ زندگی میں خوشیاں بھرنے کا اہم ذریعہ ہے۔فوزیہ سعید

فنون لطیفہ زندگی میں خوشیاں بھرنے کا اہم ذریعہ ہے۔فوزیہ سعید

اسکولز کھولنے کا معاملہ ۔۔ سندھ حکومت اور وفاق ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ۔۔۔ والدین پریشان

اسکولز کھولنے کا معاملہ ۔۔ سندھ حکومت اور وفاق ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ۔۔۔ والدین پریشان

مسافروں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ پی آئی اے نے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا

مسافروں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ پی آئی اے نے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا

سینٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کے رابطے تیز پیپلزپارٹی اور جےیوآئی کے درمیان رابطہ

سینٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کے رابطے تیز پیپلزپارٹی اور جےیوآئی کے درمیان رابطہ

کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس کی انٹری ۔۔۔ کراچی کےشہریوں میں تشویش کی لہر ڈور گئی

کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس کی انٹری ۔۔۔ کراچی کےشہریوں میں تشویش کی لہر ڈور گئی

  نیا پاکستان محض نیا ہی نہیں مہنگا بھی ہے، شازیہ مری

نیا پاکستان محض نیا ہی نہیں مہنگا بھی ہے، شازیہ مری

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری۔۔۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری۔۔۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا