01:33 pm
جسٹس سجاد علی شاہ اور جنرل جہانگیر کرامت کے شریف تجربات

جسٹس سجاد علی شاہ اور جنرل جہانگیر کرامت کے شریف تجربات

01:33 pm

محمد نواز شریف اور ان کی لخت جگر‘ کیپٹن صفدر کی اہلیہ مریم نواز شریف نے مسلسل ہماری فوج‘ جنرلز ‘ جنرل باجوہ‘ جنرل فیض کو  شدید ترین دبائو سے دوچار کیا ہے
محمد نواز شریف اور ان کی لخت جگر‘ کیپٹن صفدر کی اہلیہ مریم نواز شریف نے مسلسل ہماری فوج‘ جنرلز ‘ جنرل باجوہ‘ جنرل فیض کو  شدید ترین دبائو سے دوچار کیا ہے مگر اب مریم  نواز کا مطالبہ ہے کہ فوج پہلے عمران خان کو نکالے‘ پھر اس سے بات ہوگی‘ مریم نے تسلیم کیا‘ ایک غیر ملکی میڈیا ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھیوں سے رابطہ کیا ہے‘ جنرل (ر) عبدالقیوم سینٹر نے بھی فوج مخالف نواز شریف بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔ بلوچستان کے جنرل بلوچ اور ثناء اللہ زہری نے اس بیانیے کے سبب بھی ن لیگ چھوڑ دی ہے۔
میں کبھی کبھی ماضی کی نواز شریف کے لئے جنرلز کی سیاسی خدمات کا ذکر لکھتا ہوں۔ ایک کالم میں‘ میں لکھ چکا ہوں کہ جب صدر لغاری نے پی ڈی ایف کی بے نظير حکومت توڑ دی۔ تو راول ڈیم کے کنارے ایک کرنل ستی کے گھر نواز شریف کے حسب خواہش جنرل جہانگیر کرامت نے ان سے  ملاقات کی تھی۔ کرنل ستی جنرل کرامت کے استاد رہ چکے تھے‘ میں نے خود جا کر اس گھر میں نواز شریف‘ مشاہد حسین سید‘ سرتاج عزیز کی تصاویر اہل خانہ کے ساتھ گھر میں آویزاں دیکھی تھیں‘ البتہ احتیاط کے طورپر جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ مہمانوں کی کوئی تصویر موجود نہیں تھی۔ اس کے بعد جنرل جہانگیر کرامت نے ایک تو نواز شریف کے اقتدار کے لئے  مکمل طور پر راستہ صاف کر دیا تھا۔ بے نظیر  اور ان کے شوہر کے حوالے سے اس قدر بدگمانی ہوچکی تھی کہ ان کے سبب  صدر فاروق لغاری نے ہی اسمبلی توڑ دی تھی۔ نواز شریف دوتہائی اکثریت سے پورے ملک کے حکمران بن گئے تھے۔
تیرہویں اور چودھویں ترمیم کے لئے بے نظیر بھٹو سے مفاہمت کی گئی تھی۔ یوں آئین سے وہ تمام رکاوٹیں ہٹا دی گئیں جو نواز شریف کی شتر بے  مہا رحاکمیت کو روک سکتی تھی۔ فوج نے‘ اسٹیبلشمنٹ نے‘ مکمل طور پر نواز شریف کی حمایت کی‘ سرپرستی کی‘ یہ وہ زمانہ تھا  کہ نواز شریف ’’امیرالمومنین‘‘ بننے پر کمربستہ تھے۔ ان دنوں پرویز رشید‘ عرفان صدیقی جیسے عشاق کا وجود نہ تھا‘ صرف چوہدری نثار علی خان سارے معاملات طے کرتے  تھے ملک نعیم بریگیڈئیر حیات محمد سینٹر کے بھانجے بھی ذاتی معاونین میں شامل تھے‘ کچھ دوسرے بھی انہیں پانچ پیارے کہا  جاتا تھا۔ فوج اور اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو ’’بادشاہ‘‘ بنا دیا تھا۔
پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بے نظیر بھٹو نے پی ڈی ایف اقتدار‘ میں میاں نواز شریف کو ڈی جی ایف آئی اے رحمان ملک کے ہاتھوں گرفتار کرکے شریف خاندان کا ہر راستہ بند کر دیا تھا‘ شہباز شریف بھی ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ ان حالات میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ شریف خاندان کی مدد کو آئے۔ انہوں نے شریف خاندان پر احسان کیا‘ انہیں تحفظ فراہم کیا۔ اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں شہباز شریف نے راجہ ظفرالحق کے ساتھ جسٹس سجاد علی شاہ  کا بھرپور شکریہ ادا کیا اور ان کے احسانات کو ہمیشہ یاد کرنے کا  وعدہ کیا ۔ اخبارات میں اس تقریب کا احوال درج شدہ تاریخ ہے۔
جب نواز شریف دوتہائی اکثریت والے وزیراعظم بن گئے‘ آئین میں تیرہویں اور چودھودیں ترمیم کے ذریعے صدر کے صوابدیدی اختیارات بھی سلب کرلئے۔ تو ان کا پھڈا چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے شروع ہوگیا‘ چیف جسٹس نے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے مدد مانگی کہ سپریم کورٹ اور ججوں کو فوج تحفظ فراہم  کرے۔ جنرل جہانگیر کرامت نے اس نازک لمحے پھر وزیراعظم نواز شریف کی مدد کی اور چیف جسٹس کی تحریری ہدایت کی روشنی میں فوج دینے سے  صاف انکار کرکے چیف جسٹس اور ججوں کو غیر محفوظ بنا دیا۔ اس کے بعد ہی کوئٹہ رجسٹری میں رفیق تارڑ بریف کیس لیکر گئے اور پھر نواز شریف نے ججوں میں تقسیم کی منزل حاصل کرلی۔ وہ شہباز شریف جس نے اسلام آباد کے ہوٹل میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے احسانات کو ہمیشہ  یاد رکھنے کا وعدہ کیا تھا‘ اسی شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب ہوتے ہوئے لاہور سے شریف فورس بسوں میں  بھر کر سپریم کورٹ بھیجی‘ جنہوں نے سپریم کورٹ جا کر ججوں پر حملہ کر دیا۔ یہ کام جب تمام ہوگیا تو  شریف فوج کو پنجاب ہائوس لے جایا گیا تھا‘ قیمے والے نانوں سے تواضع کی گئی تھی۔ ہم سب کو یاد ہوگا کہ جسٹس ملک عبدالقیوم کے ساتھ شہباز شریف ٹیلی فون پر کیا بات چیت کرتے تھے کہ بے نظير کو کتنی سزا دینی ہے اور یہ بھائی جان نواز شریف کی خواہش بیان کر رہے تھے۔
جہانگیر کرامت کے کندھوں پر بیٹھ کر شریف خاندان نے دوتہائی اکثریت والا اقتدار حاصل کیا تھا۔ جنرل جہانگیر کرامت نے چیف جسٹس کی فوج کی مدد کے عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا تھا اور اب وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف بادشاہ بن چکے تھے۔ جنرل جہانگیر کرامت کو بہت اعتماد تھا کہ انہون نے ہی شریف برادران کے لئے اقتدار کا دروازہ کھولا‘ اسے استحکام دیا‘ لہٰذا وہ قومی مفاد میں جو بھی مشورہ دیں گے وہ تو قبول ہوگا۔ مگر جنرل جہانگیر کرامت کا یہ اندازہ غلط نکلا۔ لاہور میں ایک پیشہ ورانہ تقریب میں انہوں نے تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم کو مشورہ دے دیا کہ وہ قومی سلامتی کونسل بنائیں جس میں قومی مفادات کے معاملات فوری طور پر زیر غور آسکیں۔ کیا جنرل جہانگیر کرامت کو اپنی  غلطی کا احساس ہوگیا تھا؟ محسوس ایسا ہی ہوتا اور انہوں نے اپنی غلطی کے ازالے کی کوشش مشورہ دینے کے ذریعے کی تھی۔ مگر جواب میں وزیراعظم  نواز شریف نے آرمی  چیف جنرل کرامت سے استعفیٰ طلب کرکے سب کو حیران کر دیا تھا۔ احسان فراموشی شریف خاندان کی سرزشت میں شامل ہے۔
اب  مریم نواز کہہ رہی ہے کہ فوج سے بات ہوسکتی ہے۔ معاملہ طے ہوسکتا ہے مگر ’’پہلے‘‘ فوج وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم کرے۔ حیرت ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کتنی قلابازیاں لگا رہے ہیں؟ جنرلز پر تابڑ توڑ حملے۔ اور اب  مفاہمت و رابطے؟
مریخ14نومبر سے سیدھاہوگیا ہے۔ فوج اور عمران خان پر جو شدید دبائو آنا تھا۔ وہ آچکا ہے۔ اب اپوزیشن میں نفاق پیدا ہوتا جائے گا۔ 24 دسمبر سے فوج اور عمران خان مریخ کی پیش رفت کے ذریعے امر ربی  کی نئی آمد سے بہت مضبوط  ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ فروری‘ مارچ میں نواز شریف اور مریم میں شدید اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ نواز شریف فوج سے مکمل مفاہمت کے ذریعے کچھ آسانیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ممکن ہے کہ انہیں فروری مارچ میں کچھ آسانیاں اور فوائدمل بھی جائیں۔


 

تازہ ترین خبریں

پی سی بی کی عمران فرحت کو کامیاب کرکٹ کیرئیر کے اختتام پر مبارکباد، ٹاپ آرڈر بیٹسمین آج پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے

پی سی بی کی عمران فرحت کو کامیاب کرکٹ کیرئیر کے اختتام پر مبارکباد، ٹاپ آرڈر بیٹسمین آج پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ ۔۔ یو ٹرن ماسٹر حکومت کا ریفرنس کے بعد آئینی ترمیم کا فیصلہ ایک اور یوٹرن ہے۔ نیئر بخاری

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ ۔۔ یو ٹرن ماسٹر حکومت کا ریفرنس کے بعد آئینی ترمیم کا فیصلہ ایک اور یوٹرن ہے۔ نیئر بخاری

پی ڈی ایم کی سربراہی چھوڑنے کا معاملہ ۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمان نے تمام خبروں کی تردید کردی

پی ڈی ایم کی سربراہی چھوڑنے کا معاملہ ۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمان نے تمام خبروں کی تردید کردی

مولانا فضل الر حمان کیساتھ ایک مرتبہ پھر دھوکا ہوگا ۔۔۔ان کے بیانات نے پی ڈی ایم کے اندرونی معاملات کا پول کھول دیا۔فیاض چوہان

مولانا فضل الر حمان کیساتھ ایک مرتبہ پھر دھوکا ہوگا ۔۔۔ان کے بیانات نے پی ڈی ایم کے اندرونی معاملات کا پول کھول دیا۔فیاض چوہان

مریم نواز نے عمران خان کوبڑادھچکادیدیا،سیاسی حلقوں میں کہرام برپا

مریم نواز نے عمران خان کوبڑادھچکادیدیا،سیاسی حلقوں میں کہرام برپا

اعظم سواتی نے وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالتے ہی بڑا قدم اٹھا لیا ۔۔۔۔۔ریلوے کو بزنس ماڈل کے تحت چلانے کا اعلان کر دیا

اعظم سواتی نے وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالتے ہی بڑا قدم اٹھا لیا ۔۔۔۔۔ریلوے کو بزنس ماڈل کے تحت چلانے کا اعلان کر دیا

 صوبہ خیبر پختونخواہ میں زیتون کی کاشت، بلین ٹری ہنی اور بلین ٹری ڈرائی فروٹ منصوبے جلد عمل لائیں جارہے ہیں ۔ شاہ فرمان

صوبہ خیبر پختونخواہ میں زیتون کی کاشت، بلین ٹری ہنی اور بلین ٹری ڈرائی فروٹ منصوبے جلد عمل لائیں جارہے ہیں ۔ شاہ فرمان

طلبہ و طالبات تیار رہیں ۔۔۔این سی اوسی نے ملک بھر میں جامعات یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔

طلبہ و طالبات تیار رہیں ۔۔۔این سی اوسی نے ملک بھر میں جامعات یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔

شاہ اللہ دتہ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات سی ڈی اے،پولیس اور انتظامیہ کا اچانک علاقے میں آپریشن، اراضی واگزار کرالی گئی

شاہ اللہ دتہ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات سی ڈی اے،پولیس اور انتظامیہ کا اچانک علاقے میں آپریشن، اراضی واگزار کرالی گئی

گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ، پشاور تا کراچی موٹر وے کب مکمل ہو رہی ہے ؟ پاکستانی پڑھیں خوشی کی خبر

گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ، پشاور تا کراچی موٹر وے کب مکمل ہو رہی ہے ؟ پاکستانی پڑھیں خوشی کی خبر

اس دورمیں جتنی کرپشن ہوئی اتنی کبھی نہیں ہوئی ، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے کیا کہہ دیا ؟

اس دورمیں جتنی کرپشن ہوئی اتنی کبھی نہیں ہوئی ، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے کیا کہہ دیا ؟

حکومت نہ مانی تو عدالت نے حکم دےدیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق بڑی خبر

حکومت نہ مانی تو عدالت نے حکم دےدیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق بڑی خبر

 شہبازگل اور شبلی فراز میںمیڈیا کو بریفنگ دینے پر تکرار

شہبازگل اور شبلی فراز میںمیڈیا کو بریفنگ دینے پر تکرار

کیا ن لیگ  ان لوگوں کی سرپرستی کرتی ہے۔۔؟مریم نواز اچانک ایسی جگہ پہنچ گئیں کہ ہر کوئی ہکا بکا رہ گیا۔۔؟

کیا ن لیگ ان لوگوں کی سرپرستی کرتی ہے۔۔؟مریم نواز اچانک ایسی جگہ پہنچ گئیں کہ ہر کوئی ہکا بکا رہ گیا۔۔؟