01:34 pm
کشمیر کی نازک صورت حال 

کشمیر کی نازک صورت حال 

01:34 pm

 مقبوضہ جموں وکشمیر کے نہتے اور معصوم عوام کے خلاف بھارتی فوجی محاصرے کو ایک سال تین ماہ ہونے کو ہیں ۔ اس دوران بھارتی افواج نے ریاستی دہشت گردی
 مقبوضہ جموں وکشمیر کے نہتے اور معصوم عوام کے خلاف بھارتی فوجی محاصرے کو ایک سال تین ماہ ہونے کو ہیں ۔ اس دوران بھارتی افواج نے ریاستی دہشت گردی اور سویلین عوام کیخلاف جنگی جرائم کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھر وں سے اغواء  کے بھارتی جیلوں اور فوجی عقوبت خانوں میں اذیت کا نشانہ بناء  کر شہید کردیا گیا ۔ گمنا م قبرستانوں میں دفن کردیا گیا ۔اور ہزاروں کو معذور بنادیا گیا ۔ سینکڑوں کشمیری بچیاںبھارتی فوجیوں نے اغواکرلیں۔ معلوم اعداد  و  شمارکے مطابق5 اگست  2020 ء سے اب تک ایک ہزار کے قریب نوجوانوں کو شہید کردیاگیا جبکہ مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ تعداد کئی گنا زیادہ ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی معیشت مکمل طورپر تباہ کردی گئی ۔ کشمیریوں سے روزگار چھین لیا گیا ۔ 
نئے ڈومیسائل قوانین کے مطابق بھارت کی جیلوں سے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں ،انتہا پسند ہندوتنظیموں بجرنگ دل ، آرایس ایس ،جن سنگھ ،ریٹائر ڈ بھارتی فوجیوں اور بڑے ساھوکاروں کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی شہریت دے کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
بھارتی حکومت اور فوج تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کیلئے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے چادر اور چار دیواری کا تحفظ پامال کررہی ہے ۔تحریک آزادی میں متحرک کردار ادا کرنے والے علاقوں کے نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کے ان کے گھروں کو بارود سے تباہ کیا جارہاہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ انسانی حقوق کے چیمپئن کہلانے والے ممالک اپنے تجارتی اور ذاتی مفادات کے تابع مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ 
بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں،  عالمی اداروں کے مبصرین یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں اور مبصرین کو بھی مقبوضہ جموںوکشمیر میںداخلے کی اجازت نہیں ۔  اپنے توسیع پسندانہ اقدامات کی خاطر چین کے ہاتھوںعبرتناک شکست کی راہ دیکھنے اور بری طرح پٹنے والا بھارت نہتے اور معصوم کشمیریوں کا ھالوکاسٹ کرنا چاہتا ہے ۔ جس طرح اس نے 25اکتوبر 1947ء سے 30نومبر 1947 ء تک جموں ڈویژن میں چھ لاکھ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام  کرکے کیا ۔
قدرت کی ستم ظریفی اور انتقام دیکھیں، ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی اور بے پناہ وسائل کا حامل بھارت جو خودکو منی سپر پاور کہتا ہے اور سلامتی کونسل کی مستقل نشست لینا چاہتا ہے ۔وہ چالیس لاکھ  کی آبادی والے اسرائیل کا محتاج اور بغل بچہ بناہوا ہے ۔ چین کے خلاف امریکی منصوبے میںشامل ہوکر چین کے سمندری تجارتی راستوں کو روکنے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔
بھارت کی موجودہ انتہا پسند فاشسٹ قیادت نے توسیع پسندی اور نسل پرستی کی پالیسیوں کے تحت ریاست  کشمیر کا درجہ ختم کرکے اسے دوحصوں وادی کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا ۔اس کا مقصد غیر ملکی آقائوں کے منصوبے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان CPECکے منصوبے کو نقصان پہنچانا اور اپنی فوجی برتری قائم کرنا ہے ۔ وائے قسمت، بھوٹان ،نیپال اور بھارت کے درمیان تنگ پٹی سلی گوری یا(چکن نیک)، درہ قراقرم ، ہماچل پردیش، اترپردیش اور لداخ کے اہم ترین علاقوں میں فوج بھیج کر چین نے نہ صرف بھارت کی سلامتی کو شدید خطرا ت سے دوچار کردیا بلکہ تھوڑے عرصے تک سکم سمیت 9ریاستوں کی آزادی کی راہ ہموار کردی ۔ اس وقت لداخ سے گذرنے والی بھارتی فوج کو مواصلاتی سہولتیںاور فوجی سپلائی کا اہم ترین سڑک DBOچینی فوج کے ڈائریکٹ فائر اور براہ راست نگرانی میںآچکی ہے ۔چینی فوج ایک گولی فائر کرکے بھارتی فوج کا سیاچن اور کارگل سے رابطہ منقظع کرسکتی ہے ۔
اس تمام صورت حال میں بھارتی حکومت اور فوج مکمل طور پر بدحواس ہوچکی ہے ۔ ایک دقت میںپاکستان اور چین سے مقابلے کا دعویٰ کرنے والے بھارتی بے بس ہوکر غیر ملکی آقائوں سے مدد کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ بھارتیوں نے مقبوضہ جموںمیں اپنے انسانیت سوز اقدامات کے ذریعے   کشمیری نوجوانوں کو 1989ء کی طرح ایک دفعہ پھر ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردیا ہے ۔ جس کا ثبوت   8اور 9کی رات  مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں کشمیری نوجوانوں کے بھارتی فوج سے مقابلے میں چار بھارتیوں کو ہلاک کرنا ہے اتنی تیزاور بھرپور کارروائی نے بھارتی حکومت اور فوج کے اوسان خطاکردئیے ہیں ۔ بھارتی فوجی قیادت نے بدحواسی میںاپنی خفت مٹانے کیلئے، پاگل پن کا مظاہر ہ کرتے ہوئے وادی نیلم ،جھورا ، اٹھ مقام ، سے لے کر پوری لائن آف کنٹرول پر فائرنگ شروع کردی جس سے ایک پاکستانی فوجی شہید اور 5شہری شہید ہوئے 5پاکستانی فوجی اور 20کے قریب سویلین شدید زخمی ہوئے ۔ 
لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ،جس میں بھاری توپخانہ ، ٹینک اورمیزائل استعمال کئے  جارہے ہیں ،کا ایک مقصد لداخ اور ڈھوکلام میں چینی فوج کے ہاتھو ں اپنی بدترین پٹائی سے توجہ ہٹانا  اور عالمی برادری کی توجہ ، مقبوضہ جموں وکشمیر کے اندرونی نازک حالات سے ہٹانا بھی ہے ۔ 
تدبیراتی زبان میں پوری لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں ایک قسم کی غیر اعلانیہ جنگ ہے جس کا  مقصد پاکستان کو مشتعل کرکے حملہ کرنے پر اکسانا ہے ۔تاکہ وہ بین الاقوامی برادری ،عالمی میڈیا اور اپنے غیر ملکی آقائوں کو براہ راست مدد اور مداخلت کیلئے مجبور کرسکے ۔
لائن آف کنٹرول پر ، پاکستان انتہائی پروفیشنل انداز میں بھارتی گولہ باری کا جواب دیتے ہوئے اسے ناقابل یقین اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہاہے ۔ ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی تعدا د ایک 100سے زائد ہے ۔ پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ صرف بھارتی فوجی تنصیبات اور مورچوں کو نشانہ بناتا ہے جو بزدل بھارتی فوج نے سول آبادی کے درمیان بنائے ہوئے ہیں۔ یا د رہے یہ وہی بھارتی فوج ہے جس نے کشمیری نوجوانوں کو اپنی گاڑیوں کے سامنے باندھتے ہوئے انسانی ڈھال بنا کر گشت کرتی ہے ۔ ایسے بزدلوں سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔ 
  زمینی حقائق کا جائزہ لیاجائے تو بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر کی محدود خود مختاری ختم کرکے مقامی ،قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید بے نقاب ہوگیا ۔ تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کا خواب چکنا چور ہوگیا ۔کشمیری قوم کے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں جبکہ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا اور بدترین شکست کا راستہ ہموار ہوچکاہے کشمیریوں کی بے مثال قربانیوں اورلازوال جدوجہد نے عالمی برادری اور میڈیا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ بھارتی انتہاپسندی اور توسیع پسندانہ اقدامات سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کو شدید خطرات ہیں ۔ اگر اقوام عالم کے ذمہ دار ممالک نے اسے نکیل نہ ڈالی تو اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ کا اختتام واضح نہیں ۔اقوام متحدہ کو چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کیحل کیلئے ایک قدم  آگے بڑھ کر سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوںکو ان کا حق خود ارادیت دے  تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی آزادی سے گذار سکیں ۔ 




 

تازہ ترین خبریں

 صوبہ خیبر پختونخواہ میں زیتون کی کاشت، بلین ٹری ہنی اور بلین ٹری ڈرائی فروٹ منصوبے جلد عمل لائیں جارہے ہیں ۔ شاہ فرمان

صوبہ خیبر پختونخواہ میں زیتون کی کاشت، بلین ٹری ہنی اور بلین ٹری ڈرائی فروٹ منصوبے جلد عمل لائیں جارہے ہیں ۔ شاہ فرمان

طلبہ و طالبات تیار رہیں ۔۔۔این سی اوسی نے ملک بھر میں جامعات یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔

طلبہ و طالبات تیار رہیں ۔۔۔این سی اوسی نے ملک بھر میں جامعات یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔

شاہ اللہ دتہ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات سی ڈی اے،پولیس اور انتظامیہ کا اچانک علاقے میں آپریشن، اراضی واگزار کرالی گئی

شاہ اللہ دتہ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات سی ڈی اے،پولیس اور انتظامیہ کا اچانک علاقے میں آپریشن، اراضی واگزار کرالی گئی

گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ، پشاور تا کراچی موٹر وے کب مکمل ہو رہی ہے ؟ پاکستانی پڑھیں خوشی کی خبر

گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ، پشاور تا کراچی موٹر وے کب مکمل ہو رہی ہے ؟ پاکستانی پڑھیں خوشی کی خبر

اس دورمیں جتنی کرپشن ہوئی اتنی کبھی نہیں ہوئی ، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے کیا کہہ دیا ؟

اس دورمیں جتنی کرپشن ہوئی اتنی کبھی نہیں ہوئی ، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے کیا کہہ دیا ؟

حکومت نہ مانی تو عدالت نے حکم دےدیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق بڑی خبر

حکومت نہ مانی تو عدالت نے حکم دےدیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق بڑی خبر

 شہبازگل اور شبلی فراز میںمیڈیا کو بریفنگ دینے پر تکرار

شہبازگل اور شبلی فراز میںمیڈیا کو بریفنگ دینے پر تکرار

کیا ن لیگ  ان لوگوں کی سرپرستی کرتی ہے۔۔؟مریم نواز اچانک ایسی جگہ پہنچ گئیں کہ ہر کوئی ہکا بکا رہ گیا۔۔؟

کیا ن لیگ ان لوگوں کی سرپرستی کرتی ہے۔۔؟مریم نواز اچانک ایسی جگہ پہنچ گئیں کہ ہر کوئی ہکا بکا رہ گیا۔۔؟

وزیراعظم کا ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا اعلان

وزیراعظم کا ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا اعلان

بے روزگار افراد کیلئے خوشخبری۔۔ حکومت نے بڑی تعداد میں ملازمتوں کی منظوری دیدی

بے روزگار افراد کیلئے خوشخبری۔۔ حکومت نے بڑی تعداد میں ملازمتوں کی منظوری دیدی

ملائیشیا میں ضبط طیارہ پی آئی اے کے حوالے

ملائیشیا میں ضبط طیارہ پی آئی اے کے حوالے

گزشتہ حکومت کے ڈالرکومصنوعی طور پرروکنے سے قرض میں تین کھرب کااضافہ ہوا،شبلی فراز

گزشتہ حکومت کے ڈالرکومصنوعی طور پرروکنے سے قرض میں تین کھرب کااضافہ ہوا،شبلی فراز

پنجاب کے متعدد علاقوں میں زچہ و بچہ ہسپتالوں پر کام جاری ہے ،عثمان بزدار

پنجاب کے متعدد علاقوں میں زچہ و بچہ ہسپتالوں پر کام جاری ہے ،عثمان بزدار

تحریک عدم اعتماد، پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

تحریک عدم اعتماد، پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ