01:37 pm
  کرونا سے بچائو، احتیاط اور احساس ذمہ داری!

  کرونا سے بچائو، احتیاط اور احساس ذمہ داری!

01:37 pm

پاکستان سمیت دنیا بھر میںلاکھوں انسان اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ چند مہینوں تک کچھ معلوم نہیں کہ یہ وائرس مزید کتنی تباہی پھیلائے
پاکستان سمیت دنیا بھر میںلاکھوں انسان اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ چند مہینوں تک کچھ معلوم نہیں کہ یہ وائرس مزید کتنی تباہی پھیلائے گا اور کتنی جانوں کا خاتمہ کرے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے2020   ء تو کیا 2021 ء کا سارا سال ہی کورونا وائرس کی نظر ہو جائے گا۔یاد رکھیں کہ کرونا کا ٹارگٹ سرد علاقے ہیں اور پاکستان کے عوام اور حکومت کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایشیا ء خصوصاً پاکستان میں موسم سرما کا ناصرف آغاز ہوچکا ہے بلکہ پاکستان میں گزشتہ سال سے سردی میں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔کورونا وائرس نے معاشرے کے تمام افراد پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والا شخص چاہے امیر ہو یا غریب، تاجر ہو یا بزنس مین، ملازم ہو یا دوکاندار، طالب علم ہو یا افسر سب اس وائرس سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں۔کرونا سے سب ممالک ہی  متاثر ہوئے لیکن سرد ممالک زیادہ نشانہ بنے ۔ البتہ کچھ ممالک کا کم اور کچھ ممالک کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ کورونا کم بخت نے نہ غریب ملک دیکھا نہ امیر، نہ چھوٹا ملک دیکھا نہ بڑا، اس نے اپنے پنجے سب جگہ گاڑھے ہیں۔ کرونا نے جہاں امیر ممالک کو نقصان پہنچایا ہے وہاں تیسری دنیا کے غریب ممالک کے لئے بھی بہت خطرناک ثابت ہوا ہے۔غریب ممالک خصوصاً قرضوں میں جکڑے پاکستان کی پہلے ہی معاشی، معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی حالت بہت ہی نازک تھی اور صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان بھی۔ رہی سہی کسر کورونا نے پوری کر دی۔ ایک طرف کرونا کی آفت ہے تو دوسری طرف حکومتی ناقص پالیسیز نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔
ہماری حکومت کرونا وائرس کے آغاز سے ہی پریشان تھی۔ کورونا سے مقابلے کے لئے کنفیوژ پالیسیز مرتب کی گئیں۔ کوئی مضبوط اور مستحکم پالیسی نہیں اپنائی گئی۔ اگر کوئی پالیسی بنائی گئی تو ہمیشہ کی طرح یا اس پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوا یا ناقص عمل کیا گیا۔ البتہ اس میں ہم بحیثیت پوری قوم شامل ہیں کیونکہ ملت و قوم کا شعور و آگاہی اور قوانین پر عمل پیرا ہونا اس کا براہ راست قوم کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔حکومت پاکستان نے کئی اچھے اقدامات کرنے کی کوشش کی جن میں سے ایک غریب عوام میں 12000 روپے کی تقسیم ہے، جو کہ ایک احسن قدم تھا لیکن جیسے اس رقم کو تقسیم کیا گیا وہ بھی ایک المیہ تھا۔ جس طر ح غریب بوڑھی خواتین کو قطاروں میں کئی کئی  گھنٹے کھڑا کر کے ذلیل و رسوا کیا گیا وہ بھی آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں افسوس ناک ہے۔ جبکہ اس سے بہتر راستے اور عزت مندانہ طریقے موجود تھے۔ اوورسیز پاکستانی ابھی بھی باہر کے ملکوں میں در بدر کی ٹھوکرے کھا رہے ہیں۔ حکومت نے کئی اسپیشل اور اضافی پروازوں کا آغاز کیا لیکن یہ نا کافی ہے۔ ابھی تک اسٹوڈنٹس اور مزدور باہر کے ممالک میں بیٹھے حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ منتظر ہیں کہ کب اپنے ملک واپس آئیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیز کا آپس میں ٹکرائو اور اختلاف بھی بہت زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ پالیسیز اور قوانین انسانوں کی فلاح و بہبود اور لوگوں کی آسانی کے لئے ہوتے ہیں۔ اگر یہ پالیسیز اور قوانین لوگوں کی بنیادی مشکلات میں اضافے کا سبب ہوں اور ان کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھ کر نہ بنائے جائیں تو یہ قوانین مفید ہونے کی بجائے تباہی، تفریق اور نقصان کا سبب ہوتے ہیں۔ پاکستان کے اہم ترین اداروں کی خستہ حالت اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ، ادارے اور انتظامیہ یا تو نا اہل اور کرپٹ ہیں یا سست اور کام چور یا ان سب کا مجموعہ۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ایک طرف حکومت کو اپنے بنیادی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور دوسری طرف عوام کی شعور کی سطح فکر کو بھی بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کی تمام پالیسیز کا محور اور مرکزی نقطہ غریب عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہئے۔ 
حکومتی مشینری کا بنیادی اور اہم ترین ہدف و مقصد فقط اور فقط عوام کی خدمت ہونا چاہئے۔ یقین جانئے اگر ہم فقط قائداعظم محمد علی جناح ؒکے ایک فرمان پر عمل کر لیں تو ہم جلد ہی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں گے اور وہ ہے ایمان اتحاد اور نظم۔ یہ کہنے کو 3 الفاظ ہیں لیکن ان پر عمل کر کے ہم دنیا کی بہترین قوم اور ملک بن سکتے ہیں۔ کرونا وائرس کے آغاز پر ہی وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم بحیثیت قوم کورونا وائرس کا مقابلہ کریں گے اور اس کے خلاف جنگ جیتیں گے، وائرس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیںہے۔ہمیں معلوم تھا کہ چین میں وائرس پھیلا ہے تو یہ پاکستان بھی پہنچے گا،کورونا کے معاملہ پر افراتفری پھیلانے کی ضرورت نہیں یہ وائرس ایک زکام ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے،کورونا وائرس سے 97 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں، دنیا میں اب تک ایک لاکھ 90 ہزار افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں،کورونا سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیںِِ، معیشت کے منفی اثرات پر حکومت نظر رکھے ہوئے ہے، بلوچستان کے ویران علاقے میں اقدامات پر بلوچستان حکومت اور پاک فوج کا کردار قابل ستائش ہے،وباء سے نمٹنے کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے،ہیلتھ ورکرز اور طبی عملے کو تمام سہولتیں فراہم کریں گے۔ دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرنا ہی عقلمندی ہے، کسی بھی کام کو انجام دینے سے پہلے اس کے ماضی کو دیکھا جائے اور اس کو انجام دینے میں ماضی کے لوگ کن کن مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں اور ان مشکلات کو کیسے رفع دفع کیا ہے آج کرونا سے لڑنے کیلئے اسی امر کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا کہ سرد ممالک ازخود بھی جائزہ لیں کہ ان ممالک نے کیسے مقابلہ کیا ۔ 
کرونا سے مقابلہ حکومت اکیلے میں نہیں کرسکتی ہے اس کے لئے عوام کو بھی شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔ لہٰذا ہسپتالوں میں رضاکار  افراد کی ٹیمیں جو مریضوں کی دیکھ بھال کرنے میں مددگار بن سکیں، کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تجہیز ، تکفین اور تدفین کے لئے خصوصی ٹیموں کا قیام، ان مریضوں کے اخراجات میں تعاون، نیز گلی کوچوں میں سپرے کرنے والی ٹیمیں اور محلہ وار ٹیم تشکیل دے کر اس محلے میں کورونا بچائو مہم چلانا اس طرح کی رضاکار ٹیمیں ہمیں ہر روز یہاں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور پاکستانی عوام ہر مشکل مرحلے میں انسانی ہمدردی دکھانے میں سبقت لیتی رہی ہے اور ان شا اللہ اس بار بھی سرخرو ہوگی۔نیز  ڈاکٹروں کو بھی انسانی ہمدردی اور فداکاری اور ایثار کے ساتھ ان بیماروں کی خدمت اور علاج معالجہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ ممکن ہے ایک انسان کی جان بچانے کے عوض اللہ تعالیٰ آپ کی پوری فیملی کو محفوظ رکھے۔گورنمنٹ کی طرف سے بھی اس مستضعف طبقے کے لئے روزمرہ کی ضروریات فراہم کرنے کے لئے سہولیات میسر ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ بھی بہت سارے تجربات ہیں جو اس مختصر تحریر کے بس میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ عالم انسانیت کو کرونا کے وائرس سے محفوظ رکھے۔


 

تازہ ترین خبریں

نئے پاکستان کے بجٹ  میںفائدہ صرف خان کی اے ٹی ایمز مشینوں کو  ہوگا،شاہد خاقان عباسی

نئے پاکستان کے بجٹ میںفائدہ صرف خان کی اے ٹی ایمز مشینوں کو ہوگا،شاہد خاقان عباسی

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی تیاریاں ہیں، نیربخاری

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی تیاریاں ہیں، نیربخاری

کیا واقعی بجٹ کا 80فیصد حصہ فوج کو ملتا ہے؟

کیا واقعی بجٹ کا 80فیصد حصہ فوج کو ملتا ہے؟

ڈکیتی کا ملزم ضمانت پر رہا ہوکر دوبارہ بینک لوٹنے پہنچ گیا

ڈکیتی کا ملزم ضمانت پر رہا ہوکر دوبارہ بینک لوٹنے پہنچ گیا

وفاقی بجٹ کے بعد پنجاب کا بجٹ کب پیش کیا جائیگا؟تاریخ بارے پتا چل گیا

وفاقی بجٹ کے بعد پنجاب کا بجٹ کب پیش کیا جائیگا؟تاریخ بارے پتا چل گیا

بے سہارا، بیروز گار  افراد کیلئے اچھی خبر۔۔حکومت نے بڑااقدام اٹھالیا

بے سہارا، بیروز گار افراد کیلئے اچھی خبر۔۔حکومت نے بڑااقدام اٹھالیا

عازمین حج اس ویب سائٹ پر اپنی رجسٹریشن کراسکتے ہیں، رجسٹریشن کا آغاز آج سے ہوگیا

عازمین حج اس ویب سائٹ پر اپنی رجسٹریشن کراسکتے ہیں، رجسٹریشن کا آغاز آج سے ہوگیا

گیس پائپ لائن زوردار دھماکے سے پھٹ گئی ، متعدد افراد ہ ل ا ک

گیس پائپ لائن زوردار دھماکے سے پھٹ گئی ، متعدد افراد ہ ل ا ک

سرکاری ادارے کی نجکاری پر ملازمین کی تنخواہ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا، سعودی عرب

سرکاری ادارے کی نجکاری پر ملازمین کی تنخواہ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا، سعودی عرب

یکم جولائی سے کیا کیا سستا ہو گا؟اچانک خبر نے شہریوں کے دل جیت لیے

یکم جولائی سے کیا کیا سستا ہو گا؟اچانک خبر نے شہریوں کے دل جیت لیے

حکومتی انتخابی ترامیم آئین اور الیکشن کمیشن پرسنگین حملہ ہے ،مریم اورنگزیب

حکومتی انتخابی ترامیم آئین اور الیکشن کمیشن پرسنگین حملہ ہے ،مریم اورنگزیب

سرکاری ملازمین بارے اہم ہدایات جاری ،وزارت افرادی قوت نے حتمی فیصلہ کرلیا

سرکاری ملازمین بارے اہم ہدایات جاری ،وزارت افرادی قوت نے حتمی فیصلہ کرلیا

بجٹ میں وزیراعظم ہائوس اوروزیراعظم سیکرٹریٹ کے اخراجات  میں اضافہ کیے جانے کاانکشاف مگرکتنا؟قوم کے لیے یقین کرنامشکل

بجٹ میں وزیراعظم ہائوس اوروزیراعظم سیکرٹریٹ کے اخراجات میں اضافہ کیے جانے کاانکشاف مگرکتنا؟قوم کے لیے یقین کرنامشکل

اداروں کی نجکاری ۔۔۔!!! میاں منشا نے حکومت کوانتہائی اہم مشورہ دیدیا

اداروں کی نجکاری ۔۔۔!!! میاں منشا نے حکومت کوانتہائی اہم مشورہ دیدیا