01:52 pm
میں کون ہوں؟

میں کون ہوں؟

01:52 pm

عام طورپرہیومن کاترجمہ انسان کرکے یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان تو بس انسان ہی ہوتا ہے، چاہے مشرق کاہویامغرب کامگریہ معاملہ اتناسادہ نہیں  بلکہ پیچیدہ ہے۔ درحقیقت ہرتہذیب (نظام زندگی) کاایک اپنامخصوص تصورانفرادیت ہوتا ہے۔ اس تصورانفرادیت کے تعین کی بنیاداس سوال کاجواب ہے کہ’’میں کون ہوں؟‘‘زندگی کامقصد کیاہے، خیر کیا  ہے شر کیا ہے وغیرہ جیسے سوالات کا جواب اسی بنیادی سوال کے جواب سے طے پاتے ہیں۔ بالعموم تاریخی طورپراس سوال کا جائزمقبول عام جواب یہ رہاہے کہ’’میں عبد (مسلمان) ہوں ‘‘ اورطویل عرصے تک اسی تصور انفرادیت کوانسانیت کا جائز اظہار سمجھا جاتارہا ہے۔اگرچہ پچھلے ادوار میں اس کے برعکس جواب دینے والے افراداور معاشرے بھی موجود رہے ہیں البتہ اکثریت معاشرے(جیسے تمام مذہبی معاشرے) ا سی مذہبی تصور انفرادیت پرمبنی تھے۔
سترھویں اوراٹھارویں صدی عیسوی کے یورپی معاشروں میں تحریک تنویرکے زیراثراس سوال کاایک اورجواب عام ہوناشروع ہوا (جوآج ان معاشروں میں بہت راسخ ہوچکا) جس کے مطابق ’’میں عبدنہیں بلکہ آزاد اورقائم بالذات ہوں‘‘ (اس تصور ذات کی ابتدا ڈیکارٹ کے جملے ’’میں سمجھتاہوں اس لئے لگتاہے‘‘سے ہوتی ہے،جس کے مطابق کائنات کی واحد ہستی جواپنے ہونے کاجواز خوداپنے اندررکھتی ہے نیزجوہرقسم کے شک وشبہ سے بالاتر اورمنبع علم ہے وہ اکیلی ذات ’’میں‘‘ یعنی ہوں)۔اس آزاداورقائم بالذات تصور ذات کوتنویری فکر میں ’’ہیومن‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہیومن اپنی بندگی کی نفی اورصمدیت کادعویٰ کرتاہے، دوسرے لفظوں میں ہیومن ’’خدا کا باغی‘‘ تصور ذات  یاانسان ہے۔ 
مشہورمغربی فلسفی فوکوکہتاہے کہ ’’ہیومن‘‘انسانی تاریخ میں پہلی بارسترہویں صدی میں پیدا ہوا ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ان معنی میں نہیں کہ اس سے قبل دنیا میں  انسان نہیں پائے جاتے تھے اورنہ ہی ان معنی میں کہ یہ کوئی زیادہ عقل مندانسان تھااورپہلے کے انسان جاہل وغیرہ تھے بلکہ ان معنی میں کہ اس سے قبل کسی انسانی تہذیب اورنظام فکرمیں آزادی کوانفرادیت کے جائز اظہار کا مقصد سمجھااورقبول نہیں کیاگیا(گویایہ کفروالحادکی ایک جدید شکل تھی)۔
اس سے قبل انسانیت کیلئے لفظ’’مین کائنڈ‘‘ (خدا کی رعایاومخلوق)استعمال کیا جاتا تھا، ہیومینیٹی کاتصورسترہویں صدی میں وضع کیا گیا۔ ہیومن ازم کاڈسکورس درحقیقت اسی تصور ہیومن سے نکلتاہے جس کے مطابق انسانیت کی بنیادی صفت آزاد وقائم  بالذات ہوناہے اورعقل کامطلب اس انسانی آزادی میں اضافے(یعنی انسان کو عملاًقائم بالذات بنانے )  کوبطورمقصدحیات قبول کرناہے۔ ہیومینیٹی جدید مغربی الحادکانہایت کلیدی تصورہے اورتنویری فکر سے برآمدہونے والے مختلف مکاتب فکر(مثلا ً لبرل ازم،سوشل ازم،نیشنل ازم وغیرہم) اسی تصور ھیومینیٹی کے مختلف نظرئیے،تعبیرات وتوجیہات ہیں۔
جولوگ تصورذات کے تعین میں ایمانیات کی بنیادی اہمیت سے ناواقفیت کی بناپریہ کہتے ہیں کہ’’انسان توبس انسان ہے‘‘وہ انتہائی سطحی بات کرتے ہیں(زندگی کامقصد،خیروشر، علم، حق اور عدل کے تصورات،معاشرتی وریاستی نظم کی تشکیل وغیرہم اس سوال کاجواب تبدیل ہونے سے یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں)۔آسان مثال سے سمجھئے کہ حضرت عیسی ؑ بطور ایک معین شخصیت مسلمانوں اور عیسائیوں میں مشترک ہیں(کہ دونوں تاریخی طورپرایک ہی مخصوص شخصیت کوعیسی ؑمانتے ہیں) مگران کے درمیان چودہ سو سال سے وجہ اختلاف ’’تصورعیسیؑ‘‘ہے نہ کہ’’شخصیت عیسی‘‘(یعنی ایک کے یہاں عیسی ؑابن اللہ ہیں جبکہ دوسرے کے یہاں عیسی ؑرسول اللہ)۔ اگرکوئی یہ کہے کہ’’عیسی ؑتو بس عیسی ؑہیں،مسلمان اورعیسائی بلاوجہ دست وگریباں ہیں’’تویقیناوہ ایک غیرعلمی بات کرے گا۔اسی طرح ہیومن کوبھی انسان کہنا اور مسلمان کو بھی انسان کہنا ایسی ہی کنفیوژن کاشکار ہوناہے، ظاہرہے وہ انسان جو خود کواللہ کابندہ اوروہ جو خود کو اللہ سمجھتاہے بھلاکیسے یکساں زندگی(معاشرہ وریاست) تعمیر کرسکتے ہیں؟
یہ آپ سے کہیں گے کہ’’پہلے ہیومن (انسان) بنوبعدمیں مسلمان‘‘(یہ سیکولروں کی عوام الناس کوپھانسنے کی ایک دیرینہ خوشنما دلیل ہے)۔آپ ان سے پوچھئے کہ’’اچھابتاؤ مسلمان ہونے سے قبل انسان ہونے کاکیامطلب ہے؟‘‘دیکھئے مسلمان ہونے کامطلب یہی ہے ناکہ میں اصلاًوحقیقتاًاللہ کابندہ ہوں۔‘‘بتائیے کیامیری اس حقیقت سے ماورا اورماقبل بھی میری کوئی ایسی حقیقت ہے جس کاآپ مجھ سے اقرار کروانا چاہتے ہیں؟
دراصل یہ بات کہنے والوں کی عظیم ترین اکثریت کواس بات کامطلب ہی معلوم نہیں ہوتا۔ ’’میں کون ہوں‘‘فی زمانہ اس کے دو غالب جواب ہیں۔ایک یہ کہ میں اللہ کابندہ( مسلمان ) ہوں، دوسرایہ کہ میں آزادوقائم بالذات ہوں۔ مسلمان ہونے سے قبل انسان ہونے کی دعوت کااصل مطلب اسی بات کااقرارکرواناہے کہ’’میں اصلاً آزادہوں‘‘ ۔ پھر یہ جوخودکومسلمان وغیرہ سمجھاجاتاہے تویہ اس آزاد ہستی کے اپنے ارادے کے تحت اختیارکردہ اپنی ذات کے بارے میں کچھ تصورات ہیں جواصل حقیقت نہیں،اصل حقیقت میراوہ ارادہ ہے جوحقیقت تخلیق کرتا ہے۔
( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

زرداری اور مولانا کی امامت میں ن لیگی کس نظرئے کی بات کررہے ہیں ؟ پیسے لوٹنے والے جمہوریت کے چمپیئن نہ بنیں ۔ شہباز گل 

زرداری اور مولانا کی امامت میں ن لیگی کس نظرئے کی بات کررہے ہیں ؟ پیسے لوٹنے والے جمہوریت کے چمپیئن نہ بنیں ۔ شہباز گل 

ایک طرف لوٹ مار ایسوسی ایشن ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی ،مگر قوم لٹیروں کی چیخیں سن رہی ہے ۔ فردوس عاشق اعوان

ایک طرف لوٹ مار ایسوسی ایشن ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی ،مگر قوم لٹیروں کی چیخیں سن رہی ہے ۔ فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد کی تعمیر و ترقی اور شہری مسائل کا حل جماعت اسلامی کی ترجیح اول میں شامل ہے۔ میاں اسلم 

اسلام آباد کی تعمیر و ترقی اور شہری مسائل کا حل جماعت اسلامی کی ترجیح اول میں شامل ہے۔ میاں اسلم 

 حکومت عقیدہ ختم نبوت کی چوکیدار ہے۔طاہر محمود اشرف 

 حکومت عقیدہ ختم نبوت کی چوکیدار ہے۔طاہر محمود اشرف 

سمگلنگ اور دیگر منشیات سے وابستہ مسائل پر قابو پانے کے لئے صحیح وقت پر معلومات کا حصول نہایت اہم ہے۔ اعجاز شاہ

سمگلنگ اور دیگر منشیات سے وابستہ مسائل پر قابو پانے کے لئے صحیح وقت پر معلومات کا حصول نہایت اہم ہے۔ اعجاز شاہ

حکومت نےتمام اداروں کو ڈبودیا،پی ڈی ایم کامقصد

حکومت نےتمام اداروں کو ڈبودیا،پی ڈی ایم کامقصد

پیپلزپارٹی کوبڑادھچکا،اہم ترین  رہنما ء کاپارٹی چھوڑنے کااعلان،پارٹی میں سوگ کاسماں

پیپلزپارٹی کوبڑادھچکا،اہم ترین رہنما ء کاپارٹی چھوڑنے کااعلان،پارٹی میں سوگ کاسماں

تمام بچوں کو نہیں بلا سکتے ، صرف 50فیصد بچے کل سے سکول جائیں گے

تمام بچوں کو نہیں بلا سکتے ، صرف 50فیصد بچے کل سے سکول جائیں گے

پاک فوج دنیاکی 10طاقتورترین افواج میں شامل قوم کاسرفخر سے بلندکردینے والی خبرآگئی

پاک فوج دنیاکی 10طاقتورترین افواج میں شامل قوم کاسرفخر سے بلندکردینے والی خبرآگئی

پی آئی اے کاطیارہ جب ملائشیامیںپکڑاگیاتومسافروں کوتسلی  دینے کے لیے کیابات بتائی گئی

پی آئی اے کاطیارہ جب ملائشیامیںپکڑاگیاتومسافروں کوتسلی دینے کے لیے کیابات بتائی گئی

بلاول کا حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ

بلاول کا حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ

پاکستانی خواتین اراکین اسممبلی نے شادی کی عمر 16سال کی بجائے کتنے سال کرنے کا مطالبہ کر دیا ؟

پاکستانی خواتین اراکین اسممبلی نے شادی کی عمر 16سال کی بجائے کتنے سال کرنے کا مطالبہ کر دیا ؟

 وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ، پاکستان میں کورونا بے قابو ہو گیا ، ایک بار پھر لاک ڈائون لگانے کا فیصلہ

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ، پاکستان میں کورونا بے قابو ہو گیا ، ایک بار پھر لاک ڈائون لگانے کا فیصلہ

اتوار کے روز انتہائی افسوسناک خبر ،43پاکستانیوں کی لرزہ خیز موت نے فضا سوگوار کر دی

اتوار کے روز انتہائی افسوسناک خبر ،43پاکستانیوں کی لرزہ خیز موت نے فضا سوگوار کر دی