09:18 am
پاکستان نے کھل کر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا 

پاکستان نے کھل کر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا 

09:18 am

پاکستان نے اپنی خارجہ حکمت عملی میں ایک زبر دست تبدیلی لاتے ہوئے برسوں پرانی محض مذمت اور تنقید کی پالیسی سے باہر نکلتے ہوئے کھل کر بھارت کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بھارت کی طرف سے لگا تار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے تنگ آکر خارجہ امور پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی معید یوسف حکمت عملی میںاس تبدیلی کا عندیہ بھارتی میڈیا کو ایک انٹر ویو دیتے ہوئے پہلے ہی دے چکے ہیں کیونکہ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بھارت کے خلاف شہادتوں سے بھرا ہوا ایک ڈوزیئر پیش کیا تاکہ دنیا کو یہ پتہ چل سکے کہ بھارت اس خطے اور خصوصی طور پر پاکستان کے خلاف کیا سازشیں کر رہا ہے ۔ پاکستان نے اس سے پہلے بھی بڑی دفعہ الزام لگا یا ہے کہ بھارت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرواتاہے لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ اس کے باقاعدہ ثبوت دئیے گئے ہیں ۔ خارجہ پالیسی کے ماہرین بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ محض مذمت اور تنقید سے کام نہیں چلے گا اور بھارت کو روکنے کیلئے عملی طور پر کچھ کرنا پڑے گا ۔
 شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اب پاکستان بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کیلئے بین الاقوامی برادری سے رابطہ جاری رکھے گا ۔ کئی دہائیوں سے بھارت یہ الزامات لگاتا آرہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پنا ہ گاہیں مہیا کرتا ہے لیکن آج تک اس نے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں دیا ۔ اب ہم ثبوت دیں گے کہ یہ دراصل بھارت سے جو علاقے میں دہشت گردی کراتا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھارت کے افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اور فنڈنگ کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کئے اور بتایا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں اور دہشت گردی کی تنظیموں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے ۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے اس سازش میں ملوث ہیں ۔ بھارت کے 66تربیتی مراکز افغانستان میں ہیں جبکہ 21مراکز بھارت میں ہیں ۔ افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ بھارت نے حال ہی میں داعش کے 30دہشت گردوں کو پاکستان اور ارد گرد کے علاقوں میں منتقل کیا ہے جن کو بھارت تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔ بھارت کالعدم تنظیموں کا ایک گروپ بنا رہا ہے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘اپنے فرنٹ مین کو تیسرے ممالک میں فنڈنگ کرتی ہے ۔ بھارت سے دہشت گردی کیلئے افغانستان میں باقاعدگی سے رقوم بھیجی جاتی ہیں۔ پشاور ایگری کلچر یونیورسٹی اور اے پی ایس پشاور کے واقعات میں بھی ’’را‘‘ملوث تھی۔ ان حملوںکی وڈیوز افغانستان سے اپ لوڈ کی گئیں ۔ 
بلوچستان میں CPECکو نقصان پہنچانے کیلئے بھارت نے خصوصی ملیشیا بنائی ہے ۔ CPECکے خلاف بھارت نے 700افراد پر مشتمل ایک ملیشیا ترتیب دی ہے ۔ بھارت نے قندھار میں دہشت گردوں کے کیمپوں کیلئے 30ملین ڈالر کی رقم خرچ کی ہے ۔ بھارت نے حال ہی میں داعش کے 30دہشت گردوں کوپاکستان منتقل کیا ہے تاکہ وہ پاکستان میں تخریبی کارروائیاں سر انجام دے سکیں ۔ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو بھارتی ایجنسی ’’را‘‘نے دو کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ کی۔اجمل پہاڑی نے تسلیم کیا کہ بھارت الطاف حسین گروپ کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرتا ہے ۔ پی سی گوادر پر حملے کیلئے بھارت نے اڑھائی ملین ڈالر کی رقم خرچ کی ۔ اس ہوٹل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ’’را‘‘کا افسر انوراگ سنگھ تھا ۔ بھارت کالعدم تنظیموں میں اربوں روپے تقسیم کر رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے ٹی ٹی پی کی معاونت کے بھی ثبوت موجود ہیں ۔ بلوچستان میں انتشار پھیلانے کیلئے بھارت نے 23.5ملین ڈالر مہیا کئے ہیں ۔ افغانستان میں بھارتی سفارتخانے بلوچ علیحدگی پسندوں میں پیسہ تقسیم کر رہے ہیں ۔ بی ایل اے کا دہشت گرد اسلم عرف اچھو بھارتی ہسپتال میں زیر علاج رہا ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر کے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ رابطہ کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں ۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف گوادر پرل کانٹی نینٹل ہوٹل حملے میں ملوث تھے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر کے ’’را‘‘ کے ساتھ رابطوں کی آڈیو موجود ہے ۔ پریس کانفرنس میں آڈیوسنوائی بھی گئی ۔ ڈاکٹر اللہ نذر نے جعلی افغانی پاسپورٹ پر بھارت کا سفر کیا ۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج حملے میں بھارتی گولہ بارود اور خود کش جیکٹ استعمال ہوئے ۔ملک فریدون کے بھی بھارتی ایجنسیوں سے رابطے ہیں ۔
 اے پی ایس حملے کے بعد ملک فریدون جشن منانے کیلئے افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ گیا جہاں اسے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ بھارت نے پاکستان میں اہم شخصیا ت کے قتل کی بھی منصوبہ بندی کی لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں نے بھارت کی متعدد سازشیں ناکام بنادیں ۔ وزیر خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ نیوز کانفرنس پاکستان کی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کیونکہ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے نقطہ نظر کی تائید کی ہے۔اس کانفرنس سے بیرونی دنیا کو پتہ چلا ہے کہ کس طرح بھارت پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بن رہا ہے اور اسے تباہ و برباد کرنے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے ۔دنیا پر یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی ہے کہ 15اگست 2019ء کے بعد کشمیر کی وادی کس طرح لاک ڈائون اور کرفیوکی زد میں ہے اور وہاں کے عوام کو آسمان دیکھنا نصیب نہیں ہو رہا ۔ بھارت کے اپنے ہمسایوں سے خراب تعلقات بھارت کی ناکام پالیسیوں کا پتہ دیتے ہیں ۔ نریندر مودی کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی بدولت بھارت پاکستان اور پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ پاکستان کے پاس وافر ثبوت موجود ہیں کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کرانے کیلئے استعمال کرتا ہے ۔اب یہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ بھارت کواس خطے کو جنگ میں جھونکنے سے روکیں ۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بین الاقوامی برادری عملی طور پر بھارت کے خلاف کچھ نہیں کرتی۔