09:20 am
حکومت اور ریاست سے مصطفیٰ کمال کے سوالات

حکومت اور ریاست سے مصطفیٰ کمال کے سوالات

09:20 am

گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج آنے کے بعد صرف پیپلز پارٹی یا اپوزیشن کی دیگر جماعتیں ہی نہیں بلکہ حکومتی جماعت بھی احتجاج کررہی ہے ، اسے کہتے ہیں شفاف انتخابات … ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کے دور میں اتنے شفاف انتخابات ’’سبحان اللہ‘‘ حالانکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان تو فرماتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں انتخابات نہیں، بندر بانٹ ہوئی ہے … مولانا خواہ کچھ بھی فرمائیں لیکن وزیراعظم ہوں، وفاقی وزراء ہوں یا کراچی سے لے کر اسلام آباد تک کے پی ٹی آئی کے راہنما اور کارکنان وہ تو جشن منا رہے ہیں ، مٹھائیاں کھا رہے ہیں… راولپنڈی سے پی ٹی آئی کے ایک متوالے کا مجھے فون آیا ، اس نے پوچھا آپ کہاں ہیں؟ خیریت؟ میں نے حیرت سے جواب دیا … آپ کو مٹھائی بجھوانا تھی ، اس کا جواب سن کر میں نے اسے بتایا کہ میں تو کراچی میں ہوں … مگر آپ بتائو ’’مٹھائی‘‘ مہنگی خریدی یا سستی؟ اس کا جواب تھا بہت مہنگی، اس خاکسار نے اپنے پی ٹی آئی کے دوست سے کہا کہ پیارے ! مٹھائی سستی کروانے کی فکر کرو تاکہ عام عوام بھی اسے خریدسکیں … اس نے قہقہہ لگایا اور یہ کہتے ہوئے کال کاٹ دی کہ ہاشمی صاحب ! آپ اس موقع پر بھی صحافتی شرارت سے باز نہیں آئے، گلگت بلتستان میں اگر پی ٹی آئی کی حکومت بننے جارہی ہے تو وہاں والے خود ہی اسے بھگت لیں گے ، ہم اس موضوع کو یہیں پر چھوڑ کر کراچی کی طرف بڑھتے ہیں کہ جہاں پی ایس پی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے ایک دھماکہ خیز پریس کانفرنس میں کئی دھماکے کئے ہیں … مصطفیٰ کمال کراچی کے میئر اور الطاف حسین کے منظو ر نظر رہ چکے ہیں ، ممکن ہے کہ عمران خان اور ان کی صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی، الطاف حسین کے دہشت گردوں کے لشکر کے ، انسانوں پر ڈھائے جانے والے بے پناہ مظالم کو بھول چکے ہوں لیکن کراچی کے عوام کو ظلم و ستم کی وہ خونی داستانیں آج بھی یاد ہیں … اس میں عمران خان کا کوئی قصور بھی نہیں ہے کیونکہ اقتدار کا نشہ جب دوم آشتہ ہو جائے تو پھر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے پیر کے دن پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم پاکستان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ، نواز شریف کے ساتھ الطاف حسین کو پاکستان لانے کا اعلان کریں، یاد رہے کہ جس ایم کیو ایم پر مصطفیٰ کمال پابندی لگوانا چاہتے ہیں … یہ وہی ایم کیو ایم ہے کہ صاف چلی ، شفاف چلی کی حکومت جس کے سہارے پر قائم و دائم ہے ، سید مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ خالد مقبول صدیقی نے بھارت جاکر پاکستانی پاسپورٹ پھاڑا تھا … ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ’’را‘‘ کا ایجنٹ بناکر بھارت لے جانے والے بھی خالد مقبول ہیں۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق حکومت اور ریاست نے خود ایم کیو ایم اور ’’را‘‘ کی باقیات کو زندہ رکھا ہوا ہے… نام، جھنڈا، پتنگ کا نشان الطاف حسین کا دیا ہوا ہے… ایم کیو ایم ابھی تک برقرار ہے اور اپنے مقصد پر کام کررہی ہے، الطاف حسین کے پرچم کو آج ایم کیو ایم پاکستان نے اٹھایا ہوا ہے … انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر خارجہ نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے رابط کے ٹھوس ثبوت پیش کیے ، ایم کیو ایم کا نام ، جھنڈا اور نشان دیکھ کر عوام کو عامر خان اور خالد مقبول نہیں بلکہ الطاف حسین یاد آتے ہیں… موجودہ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے لئے کام کرتے رہے ہیں … ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں دکھائے جانے والے کراچی سے گرفتار ’’را‘‘ کے ایجنٹس شاہد اور عادل انصاری متحدہ کے کارکن تھے … ’’شاہد‘‘ نے جے آئی ٹی میں اقرار کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کنوینر اور رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی خود انہیں بھارت میں ٹریننگ کے لئے ’’را‘‘ کے حوالے کرکے آئے تھے ، اسلحہ بھی ان کے موجودہ گھر میں چھپایا گیا تھا … وہ جب الطاف کی ہدایت پر بھارت گئے تو حکومت ہندوستان نے انہیں بھارتی ڈپلومیٹک پاسپورٹ دیا ،جس پر وہ امریکہ پہنچے تھے… امریکہ پہنچنے پر خالد مقبول صدیقی کا نام ڈیزیگٹڈ لسٹ آف ٹیررسٹ میں شامل کیا گیا، وہی خالد مقبول صدیقی13 سال بعد پاکستان واپس آکر نہ صرف ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ، ایم این اے اور وزیر بن جاتے ہیں بلکہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے لئے نفیس انسان بھی قرار پاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ خالد مقبول کے ایک رائٹ ہینڈ18 سالوں سے بھارت میں ’’را‘‘ کے لئے کام کررہے ہیں ، جبکہ دوسرے ساتھی20 سالوں سے ’’را‘‘ کا سیٹ اپ چلا رہے ہیں… سید مصطفی کمال کا تعلق نہ تو پی ڈی ایم سے ہے اور نہ یہ کسی مسجد کے مولوی کہ جن کی ان باتوں کو نظرانداز کر دیا جائے … سچی بات ہے کہ موصوف کی پریس کانفرنس میں کئے جانے والے انکشافات کو اخبارات میں پڑھ کر مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا … اگر مصطفی کمال کے یہ الزامات غلط ہیں تو ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی کو چاہیے کہ وہ ان کے خلاف عدالت میں جائیں … اگر وہ عدالت میں نہیں جاتے تو پھر ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کو چاہیے کہ وہ ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کو ’’پی ڈی ایم‘‘ میں ڈھونڈنے کی بجائے اپنی چارپائی نیچے بھی ڈانگ پھیر کر دیکھ لے… مصطفیٰ کمال نے صاف چلی ، شفاف چلی ، حکومت اور ریاست کے سامنے جو سوالات اٹھائے ہیں … انہیں کارپٹ کے نیچے نہیں ڈالا جاسکتا، ایم کیو ایم کے عروج میں کراچی والوں نے اپنے تیس سے چالیس ہزار پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں … ہر قتل اور بھتہ خوری کے ہر واقعہ کو لندن میں مفرور الطاف حسین کے سر تھوپ کر اس کے اشاروں پر ناچنے والے لیڈروں کو ’’نفیس‘‘ قرار دینا… ملک اور قوم کے ساتھ بدترین زیادتی ہے۔