09:22 am
کرونا خطرناک حالت! اپوزیشن جلسے بند نہیں کرے گی!

کرونا خطرناک حالت! اپوزیشن جلسے بند نہیں کرے گی!

09:22 am

٭کرونا مزید تیز، 37 ہلاک، 2000 نئے مریض، آزاد کشمیر مکمل لاک ڈائون O اپوزیشن کا 12 نکاتی میثاق پاکستان، کرونا کے باوجود جلسے جاری رکھنے کا اعلانO آئندہ انتخابات میں ای ووٹنگ ہو گی:عمران خانO بھارت، کرونا90 ہزار نئے مریضO چین: مائیکرو ویو شعاعوں سے بھارت سے علاقہ چھڑا لیاO بھارت نے مزید 15 ہزار فوجی لداخ بھیج دیئےO وزیراعظم مودی کی جوبائیڈن کو مبارکبادO کرتارپور گوردوارہ ایک سال مکملO نوازشریف، شہباز شریف، گردے میں پتھری O پاکستان: ایک کروڑ شہریوں کے لئے ویکسین کی بکنگO گلگت: پولنگ سٹیشن پر لوگ ووٹوں کا بکس لے گئے، نئے انتخابات ہوں گےO بختاور کا منگیتر قادیانی ہونے کی تردیدO بھارتی طیارہ، کراچی لینڈنگ، ایک مسافر کا انتقال!!
٭دنیا بھر میں کرونا پھر خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے، پاکستان میں 200 اور بھارت میں 90 ہزار نئے مریض سامنے آ گئے۔ پاکستان میں اموات کی تعداد صفر تک پہنچ گئی تھی۔ گزشتہ دو دنوں میں 74 افراد ہلاک ہو گئے۔ صحت کے حکام بار بار اپیلیں کر رہے ہیں کہ ملک میں ہر قسم کے اجتماعات، خاص طور پر جلسے جلوس روک دیئے جائیں مگر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ واضح وارننگ کے باوجود وزیراعظم نے تین جلسوں سے خطاب کیا۔ لوگ بڑی تعداد میں مرنے لگے تو آئندہ جلسے بند کر دیئے۔ دوسری طرف اپوزیشن! کن الفاظ میں ذکر کیا جائے؟ اپوزیشن اتحادی ’پی ڈی ایم‘ نے جلسے بند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اتحاد کے ایک ترجمان نے کیا ظالمانہ جواب دیا ہے کہ کرونا کی خبریں غلط ہیں، ملک میں کوئی وبا نہیں، حکومت ہمارے جلسے رکوانے کے لئے کرونا پھیلنے کا بہانہ بنا رہی ہے۔ استغفار!! کرونا سے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جاں بحق ہو گئے، سندھ کے وزیراعلیٰ کرونا میں مبتلا، گھر میں ’نظربند‘ ہیں، بہت سے وزیروں، ارکان اسمبلی سمیت بے شمار لوگ کرونا کی زد میں آ چکے ہیں، یہ ظالم وبا کچھ دیر دبی رہی، اب پھر تیز ہو گئی ہے حکومت اور اپوزیشن کو اس سے کچھ غرض نہیں کہ کروڑوں انسانوں کو کس بھیانک آفت کا سامنا ہے۔ اپوزیشن کی بات تو بعد میں، زیادہ ذمہ داری تو حکومت بلکہ خود وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔ وزیراعظم کے گلگت، حافظ آباد، سوات کے جلسوںکا اعلان ہوا تو اس کالم میں بار بار اپیلیں کی گئیں کہ خدا کے لئے جلسوں میں رونمائی بند کرو، کرونا پھر ابھر آئے گا مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ وزیراعظم نے ایک نہ سنی، اپوزیشن کے بے شمار جلسوں کے مقابلے میں تین جلسوں میں طویل تقریریں کیں (بلاول کی طرح ایک ہی تقریر تین بار!) وزارت صحت نے کرونا پھیلنے کی خوفناک خبریں جاری کیں تو قوم پر بہت بڑا احسان کیا گیا کہ رَشکئی میں وزیراعظم کا چوتھا جلسہ ملتوی کر دیا گیا ہے! اور ملک و قوم کی خیر خواہی سے بے نیاز اپوزیشن!! صاف انکار کر دیا کہ عوام کرونا سے مرتے ہیں، مرتے رہیں، جلسے جاری رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز اور بلاول کی نئے نئے قیمتی لباسوں میں سٹیج پر رونمایاں، اور تقریریں چلتی رہیں گی! مجھے جے یو آئی کے ایک بزرگ رکن نے سخت الفاظ میں سمجھایا کہ ’’عوام کا کیا ہے؟ جب کرونا نہیں تھا، اس وقت بھی سینکڑوں لوگ مختلف بیماریوں سے مر جاتے تھے، اپوزیشن کے جلسے بہت ضروری ہیں، سینکڑوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، آئندہ اپنے تبصرے بند کرو ورنہ…!‘‘O موصوف نے ’ورنہ‘ پر بات ادھوری چھوڑ دی پتہ نہیں موصوف کیا کہنا چاہتے تھے؟ مجھ پر اثر تو کیا ہونا تھا! علامہ اقبال یادآ گئے! فرمایا ’’کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق! میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قَند!‘‘ (بال جبریل ص32) بھائی مجھے جو کچھ کہنا ہے کر لو، مگر خدا کے لئے اس عظیم ملک کے غریب عوام پر رحم کرو! جلسے پھر بھی ہو سکتے ہیں۔ تقریریں پھر ہو سکتی ہیں، عوام آپ کی بہت سی باتیں سن چکے ہیں۔ کچھ دیر کے لئے ہاتھ روک لو! میرے سامنے پورے ایک سال قبل کا راوی نامہ پڑا ہے۔ 18 نومبر2019ء: بلاول نے پرجوش اعلان کیا کہ میں اگلے سال وزیراعظم بن رہا ہوں! ایک سال گزر گیا، وزیراعظم تو کیا بننا تھا، گلگت بلتستان بھی ہاتھ سے نکل گیا!
٭18 نومبر2019ء کو کچھ مزید باتیں۔ اس روز کرتارپورگوردوارے کا افتتاح ہوا۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کیا بھارتی وزیر بھی موجود تھے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فضائیہ و بحریہ کے سربراہ نہیںآئے۔ ان تینوں سربراہوں نے نوازشریف کے دورمیںلاہور میں بھارتی وزیراعظم واجپائی کی آمد پر واہگہ بارڈر کی استقبالیہ تقریب میں شرکت اور بھارتی وزیراعظم کو سلامی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس تقریب کے بعد گورنر ہائوس میں استقبالیہ تقریر میں واجپائی نے اپنی مشہور نظم پڑھی ’’جنگ نہ ہونے دیں گے!‘‘ اس کے صرف تین ماہ بعد کارگل میں جنگ شروع کر دی اس میں واجپائی کے حکم پر بھارتی فوج نے اپنی سب سے بھاری گولے برسانے والی بوفورس توپیں استعمال کیں! دوسری باتیں!
٭18نومبر 2019ء راوی نامہ کی ایک دو اور باتیں۔ ’’اس وقت وفاقی کابینہ میں 26 وزراء، پانچ مشیر، 12 معاون خصوصی (کل 43) ہیں۔ فردوس عاشق اعوان معاون خصوصی وزیرمملکت ہیں، تنخواہ چار لاکھ 6 ہزار روپے ماہوار مکان کا کرایہ 94 ہزار روپے، دو گاڑیاں لامحدود پٹرول، طیاروں کا سفر سارے خاندان کا سرکاری علاج، کل تقریباً سات لاکھ روپے ماہوار!! (پتہ نہیں، پنجاب میں کیا مل رہا ہے؟)‘‘ اعداد و شمار کے مطابق ایک سال پہلے وفاقی کابینہ میں 43 وزرا وغیرہ تھے۔ ایک سال بعد اب یہ تعداد 51 ہو چکی ہے۔ ہر دو تین ماہ بلکہ ہفتے کے بعد ایک خصوصی معاون آ جاتا ہے (پنجاب میں بھی یہی حال ہے)۔ عمران خاں نے صرف 10 وزرا کی کابینہ کا اعلان کیا تھا۔ دو سال میں تعداد 51 ہو گئی۔ ملک کی معیشت گر رہی ہے۔ مگر کابینہ ترقی کر رہی ہے۔ حکومت 5 سال برقرار رہی اور ترقی کی یہی رفتار رہی تو آئندہ پونے تین برسوں میں تعداد 80,70 تک پہنچ سکتی ہے اورکارکردگی!! ادرک کل 600 روپے کلو تھا، آج 650 روپے تک پہنچ گیا ہے، ملکی خزانے کو ریوڑیوں کی بوری سمجھ لیا گیا ہے، دونوں ہاتھوں سے بانٹی جا رہی ہیں۔
معذرت! بوری کے نام پر ایک فلم کا دلچسپ مکالمہ یاد آ گیا ہے۔ ہیروہیروئن سے کہتا ہے ’’کیا حال ہے مُونگ پھلی دی بُوریے؟‘‘ ہیروئن جواب دیتی ہے ’’بالکل ٹھیک ہوں ہزار روپے کے نوٹ جی!‘‘
٭چین کی ایک یونیورسٹی کے  ہر ذمہ دار پروفیسر نے بتایا کہ لداخ میں چینی فوج نے اپنی زمین پر قائم بھارتی مورچوں پر مائیکرویو شعاعیں پھینکیں، اس کے باعث تمام بھارتی فوجی کو قَے شروع ہوگئی،تمام فوجی مورچے چھوڑ کر بھاگ گئے اور چینی فوج نے آسانی سے بڑھ کر ان مورچوں پر قبضہ کر لیا۔ بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے اس انکشاف کو جعلی اور بے بنیاد قرار دیا، تاہم یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ لداخ کے محاذ پر چین نے واقعی ’مائیکروویو‘ ہتھیار نصب کر دیئے ہیں۔ ان کی شعاعوں سے کوئی آواز پیدا نہیں ہوتی نہ ہی روشنی ہوتی ہے، کوئی بُو بھی محسوس نہیں ہوتی مگر جسم میں توڑ پھوڑ اور قے شروع ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ ہتھیار بھی کیمیائی ہتھیاروں میں شمار ہو سکتا ہے۔ کیمیائی ہتھیار زہریلی گیسیں پھیلاتے ہیں، زہریلی شعاعوں کا استعمال نئی چیز ہے! کوئی بھی استعمال کرے، ایسے ہتھیاروں کی روک تھام ضروری ہے۔ اس سے قبل بائیو کیمسٹری کے سائنس دان ایسی شعاعیں ایجاد کر چکے ہیں جن سے سرحد پار دشمن کی دور دور تک فصلیںتباہ کی جا سکتی ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم فرمائے! بات بھارت کی نہیں، پوری انسانیت کی ہے۔ ہاں! ایک بات کہ بھارت نے منفی 22 گریڈ کی شدید سردی میں مزید 15 ہزار فوجی لداخ بھیج دیئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فوجی ’’محاذ جنگ‘‘ سے کچھ نیچے رہیں گے خود بھارتی میڈیا سوال کر رہا ہے کہ نیچے والی فوج اوپر والی فوج سے کیسے لڑ سکتی ہے؟ ویسے کچھ عرصہ پہلے بھارتی فوجی ترجمان نے بڑے رعب کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ لداخ کے بلند محاذ پر جدید بھاری ٹینک نصب کر دیئے گئے ہیں۔ اس اعلان پر بھارتی میڈیا نے ہی پوچھ لیا کہ لداخ میں 14 ہزار فٹ سے بلند برف پوش نہائت دشوار گزار پہاڑی مقام پر عام گاڑی نہیں چل سکتی، بھاری ٹینک کیسے چلیں گے جو ویسے ہی وہاں پہنچ ہی نہیں سکتے؟ اس پر بھارتی فوج نے آئندہ ٹینکوںکا ذکر چھوڑ دیا!