12:03 pm
مجھے ایران پر امریکی حملے کا اندیشہ کیوں رہا؟

مجھے ایران پر امریکی حملے کا اندیشہ کیوں رہا؟

12:03 pm

جنگوں کے حوالے سے ذاتی وجدان، کچھ روحانی وجدان شخصیت، کچھ ماہرین نجوم کی آراء گزشتہ کالموں میں لکھتا رہا ہوں۔ لاہور کے زمرد نقوی ماہر نجوم نے گزشتہ پیر کو پھر موقف دیا کہ اپنی عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لئے امریکی اسٹیبلشمنٹ بڑی جنگ کو اپنی ضرورت بنالے گی۔ ٹرمپ کے حوالے سے میں نے جب بھی لکھا تو یہ کہ وہ پھڈے بازی کریں گے۔ شکست کے باوجود شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ اب ایسا  ہی ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا اپنی صدارت کی مدت میں اضافہ اسرائیلی لابی کی بھی شدید ضرورت ہوسکتا ہے اور عربوں کی بھی۔
اس سبب میں نے بار بار لکھا کہ صدر ٹرمپ جاتے جاتے ایران پر مختصر، ہمہ گیر، جنگ مسلط کرسکتے ہیں تاکہ ان کے اسرائیلی لابی کے حامیوں اور ان عرب بادشاہتوں ، جن کی توسیع و برآمدگی انقلاب کے سبب ایران سے شدید دشمنی پیدا ہوچکی ہے کو مطمئن کرسکیں۔ آخر صدر ٹرمپ اور ان کے کچھ معاونین نے جو بہت زیادہ دولت عربوں سے اینٹھی ہے ، اس کا حق نمک تبھی ادا ہوگا جب وائٹ ہائوس کے یہ معاونین صدر ٹرمپ سے ایران پر حملہ کروالیں گے۔ صدر ٹرمپ غیر سیاسی مگر ایک واضح امریکی عوامی سوچ کے پسماندہ ذہن کے مذہبی رجحانات رکھتے متعصب صدر ہیں۔ انہوں نے شکست کے باوجود جتنے بھی اب تک ووٹ لے لئے ہیں وہ تاریخی ریکارڈ ہے۔ اس کا مطلب تو امریکہ میں مستقل تقسیم کا جواز پیدا ہوا ہے۔ میں اس صورتحال کو اسامہ بن لادن کی آنکھ سے جب دیکھتا ہوں تو اسامہ قہقہے لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں  کہ صدر اوبامہ عہد نے ایک آپریشن کرکے اسے پاکستانی سرزمین پر شہید تو کر دیا ، اس کا خاندان بھی دنیاوی طور پر ، مالی طور پر تباہ ہوگیا، بکھر گیا، مگر جو کچھ خود اسامہ امریکہ کے ساتھ کرنے کا متمنی تھا وہ تو صدر ٹرمپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کرنے کا بندوبست مکمل طور پر کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا صدر بننا، پھڈے بازی کرنا، امریکہ کو داخلی طور پر مستقل تقسیم کا نام بنا دینا اسامہ بن لادن کی بہت بڑی  فتح ہے۔ دوسرے شخص ایران  کے روحانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنائی ہیں جنہوں نے امریکی جمہوریت کی پسماندگی اور انتشار و انارکی لاتی دلچسپ صورتحال پر مسکراتے ہوئے اپنا تبصرہ جاری کیا تھا۔ میں نے ان دونوں شخصیات کی لذت کو کافی محسوس کیا ہے۔
مجھ سے کئی اطراف سے پوچھا جاتا تھا کہ صدر ٹرمپ تو چین کے محاصرے کے لئے ایشیا پیسفک اور جنوبی بحر چین میں بحری جنگوں کا بندوبست کررہے ہیں مگر میں کیوں بار بار لکھ رہا ہوں کہ جاتے جاتے صدر ٹرمپ ایران پر حملہ آور ہوسکتے ہیں؟ وجہ اس کی اوپر میں نے لکھ دی ہے۔  نیتن یاہو، انتہا پسند صیہونی لابی کی شدید ضرورت رہی ہے کہ وہ عربوں سے خود کو منانے کے لئے شدت پسند انقلاب ایران کے پر خود کاٹے یا امریکہ سے کٹوائے۔ آخر عرب بادشاہتیں جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف آگئی ہیں تو انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ’’زہر‘‘ خوشی سے تو نہیں پیا۔  اس کا مقصد واضح ہے کہ عربوں کے سر سے توسیع و برآمدگی انقلاب ایران کا بوجھ، دائمی طور اتارا جائے۔ ان مالدار عربوں نے صدر ٹرمپ کو کتنے مالی تحفے دیئے؟ صدر ٹرمپ کے داماد، وزیر خارجہ، جنرلز کو کتنے مالی فوائد پہنچائے؟ یہ سب کچھ صرف ایران سے نجات  کے لئے تھے جبکہ چین کے ساتھ بحری جنگ سے اسرائیلی لابی اور نیتن یاہو، عرب بادشاہتوں کو کیا ملتا؟ لہٰذا میں  جتنا زیادہ سوچتا جاتا تھا مجھے صدر ٹرمپ کے عہد کی ایک جنگ ایران سے وابستہ ہوتی ممکن دکھائی دیتی رہی  ہے، خاص طور پر اس وقت جب پاسداران انقلاب کی صفوں سے ، قائدانہ کردار رکھتے ذہن یہ بیان دیتے تھے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ امریکہ سے لیا جائے گا۔ یہ بیان ایک بار پھر چند دن پہلے میری نظروں سے گزرا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لازماً لیا جائے گا۔ اگر ٹرمپ کے صدر ہوتے ہوئے ،20 جنوی 2021 ء تک ایرانیوں نے کسی امریکی فوجی بڑے کردار کو نشانہ بنالیا تو سمجھیں کہ صدر ٹرمپ پر ایران پر حملہ آور ہونے والی لابی بہت مضبوط ہو جائے گی، یہ بات میرا وجدان بار بار کہہ رہا ہے۔ اگر ایرانی خود چاہتے ہیں کہ ان پر حملہ ہو جائے ، جنگ مسلط ہو جائے تو پھر وہ کسی بڑے امریکی فوجی کردا ر پر حملہ آور کیوں نہ ہوں گے؟
نیو یارک ٹائمز نے خبر شائع کر دی ہے17 نومبر کو کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بناچکے تھے ، مگر مشیروں  نے روک دیا تھا۔مائیک پنس، پومپیو، کرسٹوفر، جنرل مارک نے مشورہ مانگنے پر صدر کو ایران پر حملے کے ’’مضمرات‘‘ بار ے بتا دیا تھا، اوول آفس میں اجلاس جمعرات کو ہوا تھا۔ ڈی ڈبلیو، وائٹ ہائوس کا تبصرہ سے انکار۔ جبکہ ایرانی ردعمل یہ آیا ہے کہ ٹرمپ پالیسیاں ایٹمی پروگرام تبدیل نہیں کراسکتی جبکہ 12نومبر کو ویانا سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا تھا کہ ایران نے زیر زمین افزودہ یورینیم کی مقدار میں اضافہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے یا ایران کے خلاف سازش؟
میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایران میں ایسے مدبرین، اہل اقتدار کو سامنے لائے جو عربوں کے ایران سے مستقل طور پر خوفزدہ ہو جاتے عمل کے اسباب کا خاتمہ کر دے، ماضی میں سابق صدر ہاشمی، سابق صدر خاتمی عربوں سے مفاہمت کے داعی تھے۔ اب اس نیک کام میں سابق صدر احمدی نژاد بھی شامل ہے۔14نومبر کو انہوں نے تہران میں امید ظاہر کی ہے کہ سعودیہ سے تنازعہ کے خاتمے کی انہیں امید ہے۔ لگتا ہے کہ ایران اور عرب آپس کی جنگوں سے سب کچھ تباہ کرلیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے منتخب صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ معاشی پابندیاں ختم کر دیں گے تو ایران طے شدہ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کرے گا۔
صدر اوبامہ نے ایبٹ آباد میں اسامہ کو قتل (شہید) کرنے کی کہانی سنائی ہے۔ اسامہ کا یہی انجام ہونا تھا کہ وہ کافروں کے ہاتھوں شہید ہوتا۔ اس کی خواہش پر اللہ تعالیٰ نے اسے شہادت کی نعمت عطاء کی تھی۔