12:07 pm
چین کی عالمی معاشی برتری

چین کی عالمی معاشی برتری

12:07 pm

یورپ اورامریکاکی مشترکہ رائے ہے کہ چین کوالگ تھلگ کرناناگزیرہوگیاہے مگر کیا ایساکرنا ممکن ہے؟سرِدست یہی دکھائی دے رہاہے کہ ایساکرناانتہائی خطرناک بلکہ تباہ کن ہوگا ۔ امریکا اوریورپ کی معیشتیں چینی معیشت سے اِس قدرجڑی ہوئی ہیں کہ اس سے مکمل طورپرکنارہ کش ہوکروہ کھوکھلی رہ جائیں گی کیونکہ ان کے پاس اب چین کاکوئی متبادل نہیں۔ چین اب ایک باضابطہ حقیقت کے طورپرسامنے ہے جسے محض سمجھناہی نہیں،تسلیم کرنابھی لازم ہوچکا ہے۔عالمی معیشت سے چین کوالگ کرنے کا عمل پوری دنیاکی معیشتوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔امریکامیں دونوں بڑی جماعتیں اب اس حقیقت کاادراک کرچکی ہیں کہ چین محض مسابقت کے حوالے سے خطرناک نہیں بلکہ اب ایک باضابطہ حریف بن چکاہے اوراس سے بھی بڑھ کریہ کہ وہ ایک دشمن ہے۔14مئی کوٹرمپ نے کہاتھاکہ چین سے الگ ہوئے بغیرچارہ نہیں اوریہ کہ چین سے ہرطرح کے معاشی اورمالیاتی تعلقات ختم کرنے کی صورت میں امریکاکوکم وبیش500ڈالرتک کافائدہ ہوسکتاہے۔
امریکانے کروناوباکے دوران بھی چین سے تعلقات کم کرنے پرخاص توجہ دی۔ٹرمپ نے ’’دی فیڈرل ریٹائرمنٹ تھرفٹ انویسٹمنٹ بورڈ‘‘کوہدایت کی تھی کہ چینی کمپنیوں میں سرمایہ کاری روک دی جائے۔ٹیلی کام سیکٹرمیں چین کے سب سے بڑے ادارے ہواوے کوبھی حکم دیاکہ وہ سیمی کنڈکٹرتیارکرنے کے شعبے میں امریکی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چھوڑدے۔چین اور ہانگ کانگ کے تعلقات میں کشیدگی کابھی امریکا نے بھرپورفائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ جب چین نے ہانگ کانگ میں سیکورٹی کے حوالے سے چندسخت اقدامات کیے تب امریکی صدرنے ہانگ کانگ کوتجارت کے حوالے سے دی جانے والی رعایتیں بحال کرنے کااعلان کیا۔
امریکامیں چندبرسوں سے یہ بات کھل کرکہی جارہی ہے کہ اب چین سے الگ ہونے کاوقت آگیا ہے۔الگ ہونے کامطلب یہ ہے کہ امریکاچینی کمپنیوں سے اپنے غیرمعمولی تعلقات ختم کرے۔ اس وقت بیسیوں چینی کمپنیاں امریکی کمپنیوں کوبہت سی اشیابہت بڑے پیمانے پر تیار کرکے فراہم کررہی ہیں۔امریکاچاہتاہے کہ یہ سپلائی اب ختم کردی جائے ۔ یہ بات کہنے کوبہت آسان ہے مگراس پرعمل کرنے سے معاملات ایسے الجھنے لگتے ہیں کہ ساراجوش وخروش ٹھنڈا پڑ جاتاہے۔امریکامیں بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث بیسیوں امریکی کمپنیاں اب بہت کچھ چینی کمپنیوں کے ذریعے بنواتی اورمنگواتی ہیں۔یہ عمل دوچار سال کانہیں،عشروں کاہے۔اس دوران چین کی قوت میں تیزی سے اضافہ ہوتاچلاگیاہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ چین کی بیسیوں کمپنیاں امریکی معیشت میں گندھ گئی ہیں،رچ بس گئی ہیں۔ان کمپنیوں کوامریکی معیشت سے الگ کرنے کاعمل امریکی تجارتی زوال ہے۔ اس معاملے میں دانش مندی اوردور اندیشی کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اگرمعاملات کوسوچے سمجھے بغیرنمٹانے کی کوشش کی گئی توخرابیاں صرف بڑھیں گی۔ ٹرمپ کے مشیرِتجارت پیٹرونیویرو نے اپنی کتاب ڈیٹھ بائی چائنا میں کہاہے کہ اگرامریکی معیشت سے چین کوالگ نہ کیاگیا تومعاملات اس حد تک بگڑیں گے کہ انہیں درست کرناممکن نہ رہے گا۔واشنگٹن کے پالیسی سازچین کوامریکی معیشت سے مکمل طورپرالگ کرنے کی باتیں ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے کررہے ہیں مگر اس پرعملدرآمدنااممکن دکھائی دے رہاہے کیونکہ متبادل انتظام کیے بغیرچین کوامریکی معیشت سے مکمل طورپرالگ کرناانتہائی خطرناک،بلکہ تباہ کن ثابت ہوگا۔
کئی آپشنزپرغورکیاجارہاہے۔ایک طرف تویہ کہاجارہاہے کہ چین کوامریکی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکناہی معاملات کو درست کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔دوسری طرف یہ کہاجارہاہے کہ چین کوبہت بڑے پیمانے پرڈمپنگ سے روکنے کیلئے عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین اورضوابط میں تبدیلی لازم ہے۔چین اب تک مینوفیکچرنگ سیکٹرکا سب سے بڑا ملک ہے۔وہ ہرچیزبہت بڑے پیمانے پرتیارکرتاہے۔لاگت بہت کم ہونے کے باعث وہ کسی بھی ملک تک اپنی مصنوعات اتنے کم خرچ پرپہنچاتاہے کہ کسی بھی دوسرے ترقی یافتہ ملک کیلئے اس سے مسابقت آسان نہیں۔ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں مینوفیکچرنگ سیکٹرمیں چین سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔پسماندہ ممالک توخیرکسی گنتی ہی میں نہیں۔
یہ بات بھی اب کھل کرکہی جانے لگی ہے کہ چین کواچانک اور،بظاہرسوچے سمجھے بغیر،امریکی معیشت سے الگ تھلگ کرنے کے انتہائی اثرات نتائج مرتب ہوں گے۔ایسانہیں ہے کہ چین ہر معاملے میں امریکاکیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ بعض شعبوں میں چینی کمپنیوں کے تعاون سے امریکی معیشت نے کئی گرانقدرفوائدبھی حاصل کیے ہیں۔بعض شعبے چینی معاونت ہی کے ذریعے اب تک برقراررہ پائے ہیں۔بہت سی اشیاچین سے درآمد کیے جانے کی صورت میں بہت سستی پڑتی ہیں۔اگریہ تمام اشیاامریکا میں بنائی جائیں تولینے کے دینے پڑجائیں۔امریکانے اب تک ہائی ٹیک اورایسے ہی دیگرہائی پروفائل سیکٹرزپر توجہ دی ہے۔ چین بنیادی طورپر مینوفیکچرنگ سیکٹرکاجِن ہے۔ وہ اب تک اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ کوئی بھی بڑاملک مینوفیکچرنگ سیکٹرمیں اس کے سامنے کھڑانہ ہوسکے۔     ( جاری ہے )