12:17 pm
 سقوط ڈھاکہ 

 سقوط ڈھاکہ 

12:17 pm

 (آخری حصہ)
 (گزشتہ سے پیوستہ)
 1956ء میں مغربی پاکستان کے چار صوبوں کو ایک انتظامی یونٹ قرار دیا گیا۔ وقت یوں لسانی منافطرت کو ہوا دیتے ہوئے گزر گیا۔ 1966ء میں شیخ مجیب الرحمن نے اپنے 6 نکاتی پروگرام کا اعلان کیا۔ (1) حکومت وفاقی اور پارلیمانی ہو، آبادی کی بنیادپرارکان منتخب کئے جائیں۔(2) مقامی حکومت خارجہ معاملات اور دفاع کے لئے اصولی طور پر ذمہ دار ہو۔(3) ہر وِنگ کی اپنی کرنسی اور اکائونٹ ہوں۔ (4) صوبائی سطح پر ٹیکس جمع ہوں۔ (5) ہر وفاقی یونٹ فارن ایکسچینج آمدن پر خود کنٹرول کرے۔(6) ہر یونٹ اپنی فوج اور نیم فوجی بھرتی کرے۔مجیب کا 6نکاتی پروگرام ایوب خان کے گریٹر نیشنل انٹگریشن (National Integration) سے متصادم تھا۔  اس لئے 1968ء میں مجیب کو حراست میں لے لیا گیا۔
25؍ مارچ 1969ء کو ایوب خان نے مسندِ اقتدار آغا یحییٰ خان کو دے دیا۔ یحییٰ خان نے انتخابات کرا ئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے 298 ، آزاد نے 2 اور دیگر نے 5 سیٹیں لیں۔ پیپلز پارٹی کو ایک سیٹ بھی نہ ملی۔ اس طرح قومی اسمبلی کے انتخابات میں عوامی لیگ نے 167، پیپلز پارٹی نے 88، آزاد نے 7ا ور دیگر نے 5 سیٹیں حاصل کیں۔ صوبائی الیکشن میں عوامی لیگ نے مغربی پاکستان میں ایک بھی سیٹ نہیں لی اور پیپلز پارٹی کی مشرقی پاکستان میںکارکردگی زیرو رہی۔ انتخابات کے نتائج کے مطابق حکومت عوامی لیگ نے بنانی تھی اور مجیب الرحمن کو ملک کا وزیر اعظم منتخب ہونا تھا لیکن پارلیمنٹ کا اجلاس کبھی نہ بلایا گیا۔ یحییٰ خان اور اس کے صلاح کاروں نے انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اور بنگالیوں کو اقتدار نہ ملا۔ یحییٰ خان دراصل پاکستان توڑنے کا ایک بڑا کردار بنا۔شیخ مجیب نے ایک اجلاس منعقد کرکے الیکشن میں منتخب ہونے والے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان سے حلف لیا۔ جنہوں نے ان کے 6 نکاتی پروگرام کی حمایت کی اور صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کیا لیکن مغربی پاکستان کی جماعتوں نے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا جو ایک انتہائی افسوس ناک بات تھی۔جنوری؍ 1971ء کو یحییٰ خان ڈھاکہ گئے۔ انہوں نے مجیب کے ساتھ میٹنگ کی۔ یحییٰ خان نے واپسی پر لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی جس کے فوری بعد بھٹو نے ڈھاکہ کا دورہ کیا اور شیخ مجیب سے ملاقات کی تاہم انہوںنے واپسی پر اپنے مشن کو ناکام قرار دیا اور راولپنڈی میں جنرل یحییٰ سے ملاقات کی۔ یحییٰ نے اسمبلی اجلاس 3 مارچ 1971ء کو طلب کر لیا۔ انہوںنے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جوکہحیران کن بات تھی۔ یکم مارچ کو یحییٰ خان نے طلب کردہ اجلاس ملتوی کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں اجلاس ملتوی کرنے پر شدید ردعمل ہوا جس پر فوج طلب کی گئی۔ اُس روز یحییٰ خان نے جنرل ٹکا خان کو مشرقی پاکستان کا گورنربنا دیا۔ شیخ مجیب نے نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر دیا۔ اس پر جنرل یحییٰ نے ڈھاکہ کا دورہ کیا اور شیخ مجیب سے ملاقات کی۔ ملاقات میں شیخ مجیب نے تین مطالبات پیش کئے۔(1) مارشل لاء ختم کریں (2) قومی اسمبلی کو کام کرنے دیا جائے (3) قومی اور صوبائی سطح پر اقتدار منتقل کیا جائے۔ لیکن ان مطالبات کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا۔ شیخ مجیب نے یوم جمہوریہ کے دن مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش کا پرچم لہرایا۔ مارچ 1971ء کو ڈھاکہ میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا۔  یہی موقع تھا جب بھارت نے حالات کا فائدہ اٹھانا شروع کیا۔ بھارت نے بھی مغربی پاکستان کے خلاف لڑنے کے لئے بنگالیوں کی تربیت شروع کر دی۔ جگہ جگہ ٹریننگ سنٹرز کھول دیئے۔ ایک اندازے کے مطابق ابتدائی طور پرمکتی باہنی کی آڑ میں 50 ہزار گوریلا تیار کرکے مشرقی پاکستان میں داخل کئے گئے جنہوںنے پاک فوج کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
ایسٹرن کمانڈر جنرل نیازی کو 9 بڑے نکات پر عمل کرنے کے لئے کہا گیا۔(1) مشرقی پاکستان میں حکومتی رِٹ بحال کرنا (2) انسرجنسی یا درپردہ جنگ کے خلاف آپریشن (3) جغرافیہ کی حفاظت (4) سرحدوں کو بند کرنا (5) محب وطن شہریوں کی حفاظت (6) مواصلات رابطے (7) بیرونی حملے سے بچانا (8) میں فوج کی موجودگی (9) دشمن فورسز کو مشرقی پاکستان میں مصروف رکھنا۔ لیکن جب اکتوبر 1971ء سے بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت میں اضافہ ہو گیا تو جنرل نیازی اس سے نمٹنے کے لئے کوئی بھی کردار ادا نہ کر سکے۔ بھارت نے مکتی باہنی والوں کو تربیت دے کر بنگلہ دیش میںداخل کیا۔ نومبر 1971ء کو بھارتی فوج نے چٹا گانگ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ بھارتی فوج محمد پور کے علاوہ شہزاد پور، ماسلیہ اور چاروباری کی جانب بھی آگے بڑھنے لگی۔ سلہٹ سیکٹر کے اٹگرام اور ذکی گنج پر قبضہ کر لیا گیا۔بعدازاںجنرل نیازی نے 16؍دسمبر 1971ء کو سرنڈر کرلیا۔ آغا شاہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے تھے۔ انہیں بھارتی سرکار اور مکتی باہنی کی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یحییٰ خان نے عوامی لیگ کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا آپشن بند کر دیا۔ڈھاکہ میں سرینڈر کی دستاویز پر بھارت کی طرف سے لیفٹنٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ جو جی او سی(GOC) تھے اور پاکستان کی طرف سے لیفٹنٹ جنرل عبداللہ خان نیازی نے دستخط کئے۔ 93 ہزار فوجیوں کاڈھاکہ میں سرینڈر ایک افسوسناک واقعہ تھا ۔
 بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کرکے اندرا گاندھی نے فخر سے کہا کہ انہوں نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دو قومی نظریہ ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے جس کے لئے کروڑوں افراد نے ہجرت کی اور لاکھوں افراد نے اپنی جانوں، عزتوں اور مالوں کی قربانی پیش کی اور اپنے گھر بار چھوڑ دیئے۔ جس پاکستان کا تصور مفکر اسلام علامہ اقبالؒ نے پیش کیا جس کے لئے لاکھوں مسلمان قربان ہوئے، اس پاکستان میں73 سال گزرنے کے باوجود سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان کو متصادم کیا گیا ۔ آج بھی عوام بے اختیارہیں۔ آج بھی غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ آج بھی قومی ایشوز پر سودا بازیاں ہوتی ہیں۔ آج بھی مسئلہ کشمیر پر کنفیوژن ہے۔وہی ادھر تم ادھر ہم کی باتیں ہو رہی ہیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے بقول تقسیم کشمیر کی سازش ہو رہی ہے۔ بھارت نے جنگ بندی لائن پر باڑ کے بعد پختہ دیوار لگا دی۔لیکن اسے کوئی روک نہیںسکا۔بھارت نے مقبوضہ ریاست کو ختم کر کے اپنی دو کالونیوں میں بدل دیا، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے دعوے کرتے رہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان توڑنے والوں کو پاکستان کے دوست قرار ددینے کے منتظر ہیں۔ پاکستان توڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ کس کا تھا، ملک توڑنا اگر سب سے بڑی غداری ہے تو غداروں کو کیا سزا ملی۔ ابھی تک تو غداروں کا تعین یا نشاندہی تک نہیں کی گئی۔حمودالرحمان کمیشن نے بھی نشاندہی کی مگر سفارشات پر ابھی تک عمل نہ ہوا۔ جیسے سقوط ڈھاکہ اور پاکستان توڑنے کا کسی کو دکھ، صدمہ نہیں۔ اس لئے سقوط ڈھاکہ اور پاکستان کے ٹوٹنے پر اظہار افسوس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ البتہ نئی نسل کو پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کا پتہ چلنا چاہیئے کہ کس نے چہرے پر نقاب چڑھا رکھی تھی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اب سقوط سرینگر بھی ہو چکا، مگر ہم ایک تقریر سے آگے نہ بڑھ سکے۔ کشمیر کا سودا کرنے کے الزامات بھی لگے ، مگر ہم تماشہ دیکھتے رہے۔پہلے سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن تسلیم کر کے پھر اس لائن پر بھارتی دیوار بندی کی اجازت دے کر کس نے کشمیر کی جنگ بندی لائن کو مستقل سرحد میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کی ۔ کس نے ادھر ہم ادھر تم کانعرہ لگا کر پہلے سقوط ڈھاکہ ، پھر سقوط سرینگر کے لئے سی بی ایمز متعارف کرائے۔ کس نے کشمیر کو عالمی مسئلے سے دو طرفہ مسئلہ بنا دیا۔ اس طرح پاکستان ٹوٹنے کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان، دو قومی نظریہ کی سوچ اور کشمیر کاز کو پہنچا۔سقوط ڈھاکہ کے مجرم بچ گئے۔ سقوط سرینگر کے مجرم بھی آزاد ہیں۔ مجرم جب حکمران بن جائے تو انصاف کی کیسی امید۔ ماضی سے سبق سیکھنے کی طرف کوئی متوجہ نہ ہوا۔حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پہلے تو چھپاکر رکھی گئی۔ پھر اس میں تحریف کی گئی۔ لیکن اس کی سفارشات کی فائلیں گرد و غبار میں گم ہو گئیں۔ کسی میں عمل کرنے کی جراء ت ہی نہیں۔کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے ، قانون کی حکمرانی ، فوری انصاف کی فراہمی کی باتیں صرف باتوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اگر کوئی کشمیر پالیسی ہے تو اس پر از سر نو غور، از سر نو تشکیل، جرائتمندانہ اقدامات ، جارحانہ اور اصولی سفارتکاری کی خلاء اب بھی موجود ہے۔ بھارت میں مسلمان 73سال بعد دو قومی نظریہ کو اپنے لہو سے درست ثابت کر رہے ہیں، تاریخ سے سبق سیکھنے والوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ آج ہمیں پھر سے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ انا کو ختم کرنے کا وقت ہے۔ سب مل کر ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار اداکریں تو بہت سی غلطیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے۔



 

تازہ ترین خبریں

اپوزیشن جتنے مرضی مارچ کر لے، ان ہاؤس تبدیلی آئیگی نہ حکومت ختم ہوگی:شاہ محمود قریشی

اپوزیشن جتنے مرضی مارچ کر لے، ان ہاؤس تبدیلی آئیگی نہ حکومت ختم ہوگی:شاہ محمود قریشی

شریف فیملی کے کتنے لوگوں کیلئے ڈیل مانگی جا رہی ہے،وزیراعظم کے مہمان خصوصی شہباز گل نے بڑادعویٰ کردیا

شریف فیملی کے کتنے لوگوں کیلئے ڈیل مانگی جا رہی ہے،وزیراعظم کے مہمان خصوصی شہباز گل نے بڑادعویٰ کردیا

مری میں ساحتی سرگرمیاں دوبارہ شروع، روزانہ کتنی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت دی جائیگی؟

مری میں ساحتی سرگرمیاں دوبارہ شروع، روزانہ کتنی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت دی جائیگی؟

سکول بند اور شادی بیاہ کی تقریبات پر پابندیاں۔۔؟؟کورونا کے بڑھتے کیسز کے بعد این سی او سی کا اہم فیصلہ

سکول بند اور شادی بیاہ کی تقریبات پر پابندیاں۔۔؟؟کورونا کے بڑھتے کیسز کے بعد این سی او سی کا اہم فیصلہ

سوموار کے روز ملک بھر کا موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں کی نوید سنا دی

سوموار کے روز ملک بھر کا موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بارشوں کی نوید سنا دی

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کا شاندار اقدام ، ہرطرف سے بچے کے علاج میں مایوس والدکیلئے بڑا اعلان کر دیا

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کا شاندار اقدام ، ہرطرف سے بچے کے علاج میں مایوس والدکیلئے بڑا اعلان کر دیا

ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ، محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ، محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

ایک اور بڑا اقدام،وہ غیرملکی شہری جنہیں حکومتِ پاکستان نے شہریت دینے کا فیصلہ کرلیا

ایک اور بڑا اقدام،وہ غیرملکی شہری جنہیں حکومتِ پاکستان نے شہریت دینے کا فیصلہ کرلیا

پولیس کا فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، کتنے لڑکے اور لڑکیاں گرفتار کر لئے گئے ؟ بڑے شہر سے شرمناک خبر آگئی

پولیس کا فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، کتنے لڑکے اور لڑکیاں گرفتار کر لئے گئے ؟ بڑے شہر سے شرمناک خبر آگئی

سمندر کی تہہ میں آتش فشاں دھماکہ ، پاکستان میں بھی گہرا اثر ۔۔کن کن ممالک میں سونامی تباہی مچائے گا؟

سمندر کی تہہ میں آتش فشاں دھماکہ ، پاکستان میں بھی گہرا اثر ۔۔کن کن ممالک میں سونامی تباہی مچائے گا؟

شادی کی پہلی رات ہی دولہااوردلہن کیساتھ کیا ہوا؟ دلہن کی لاش برآمد جبکہ دولہا کس حالت میں تھا؟

شادی کی پہلی رات ہی دولہااوردلہن کیساتھ کیا ہوا؟ دلہن کی لاش برآمد جبکہ دولہا کس حالت میں تھا؟

پرویز خٹک کی پی ٹی آئی میں چھوڑنے کی خبروں پر خود میدان میں کود پڑے ، بڑا اعلان کر دیا

پرویز خٹک کی پی ٹی آئی میں چھوڑنے کی خبروں پر خود میدان میں کود پڑے ، بڑا اعلان کر دیا

پیٹرول قیمتوں میں ردو بدل ،وزیراعظم عمران خان نے اوگرا کی تجویز مسترد کر دی ، بڑا دعویٰ

پیٹرول قیمتوں میں ردو بدل ،وزیراعظم عمران خان نے اوگرا کی تجویز مسترد کر دی ، بڑا دعویٰ

نواز شریف کی بیماری کا پول کھل گیا، سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے لندن میں ملاقات کے بعد ساری حقیقت بیان کر دی

نواز شریف کی بیماری کا پول کھل گیا، سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے لندن میں ملاقات کے بعد ساری حقیقت بیان کر دی