02:45 pm
جلسہ جلسہ کا کھیل

جلسہ جلسہ کا کھیل

02:45 pm

ایک دیہاتی میراثی نے نئی گرم چادر خریدی اور کندھے پر رکھ کر گائوں کے چوہدریوں  کے ’’دارے‘‘ پر جا بیٹھا۔ گائوں کے نمبردار نے چادر دیکھی تو اپنے بیٹے کی بارات میں دولہے کے استعمال کیلئے مانگ لی۔ راستے میں آتے ایک شخص نے پوچھا کہ یہ بارات کس کی ہے۔ میراثی جو سب سے آگے آگے تھا جھٹ سے بولا کہ بارات تو نمبرداروں کے بیٹے کی ہے لیکن چادر میری ہے۔ چوہدری کے رشتہ داروں کو یہ بات بری لگی۔ انہوں نے میراثی کی خوب درگت بنائی کہ یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی۔ بارات تھوڑی آگے گئی توپھر یہی سوال کہ کس کی بارات ہے تو میراثی جھٹ سے بولا کہ بارات بھی نمبرداروں کی ہے اور چادر بھی انہی کی ہے۔ اس پر ایک بار پھر میراثی کی درگت بنائی گئی، تھوڑی دیر کے بعد پھر کوئی آدمی ملا اس نے اسی سوال کو دہرایا ، میراثی بولا کہ بارات تو نمبرداروں کی ہے لیکن چادر کا مجھے بھی پتہ نہیں۔ اس دفعہ پھر میراثی کی شامت آگئی ، گلی کے موڑ پر کسی نےپھر وہی سوال کیا  تو میراثی نے سسکتے اور آنسو پونچھتے ہوئے کہا نہ بارات کا پتہ ہے اور نہ مجھے چادر کا۔ ہماری سیاسی کشتی بھی ایسے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے کہ میراثی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ سوال کرنے والوں کو بارات کی کیا پریشانی لگی ہوئی ہے۔سارے ملنے والے لوگ اس فکر میں کیوں ہیں کہ کس کی بارات ہے۔ 

گزشتہ اتوارراقم دوستوں کے رشتہ داروں کی فوتگی پر گیا۔ دعا کرنے کے بعد فوراً اگلا سوال یہی ہوتاتھا کہ لاہور والا جلسہ ، اس میں کتنے لوگ آئے تھے، جلسے کے بعد کیا ہو گا، جلسہ کامیاب ہو گا یا ناکام وغیرہ وغیر۔جن جن گھروں میں افسوس کے لئے جانا تھا وہ ایک گھر اگر مسلم لیگ (ن) کا تھا تو دوسرا پیپلز پارٹی  اور تیسرا پاکستان تحریک انصاف والوں کا۔ وہاں یہ بھی سمجھنا مشکل تھا کہ میں جس گھر میں آیا ان کا تعلق کس جماعت سے ہے تھوڑی دیر سستانے اور پہلے سے حاضرین مجلس کی گفتگو سننے کے بعد اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں تو برادری کے جو لوگ بیٹھے ہیں یہ تو فلاں پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر ہر جگہ چپ رہنے میں ہی عافیت سمجھی کہ خدا کا شکر ہے کہ کچھ ریمارکس نہیں دئیے۔ ہر گھر اور ہر برادری کے لوگوں کے مختلف خیالات تھے۔ پھر 13دسمبر تو جلسے کا دن تھا۔ زیادہ ذمہ داری (ن) لیگ اور پنجاب کی تھی کافی پریشانی کے حالات تھے۔ ٹیلی ویژن پر جلسے کے حالات بھی دیکھے اور پھر دوسرے دن کے اخبارات دیکھنے کے بعد جلسے پر لکھنے کے بجائے اخباری خبروںکا جائزہ لیا کہ ایک طرف گیارہ جماعتوں کے لوگ اور میڈیا ایکسپرٹس تھے دوسری طرف حکومت میں شامل دو تین جماعتیں تھیں لیکن حکومت میں شامل تمام جماعتوں کو ایک ہی جماعت سمجھا جاتا ہے کیونکہ حکومتی ترجمان وفاق میں ایک اور پھر سارے صوبوں میں ایک وزیر اطلاعات یا صوبائی ترجمان ہوتا ہے۔ بہرحال ان سب کا موقف ایک ہی ہوتا ہے اخبارات کا تحمل مزاجی سے مطالعہ کر کے موازنہ کیا جائے تو اس دفعہ حکومتی پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ تمام اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ جو خبریں شائع کیں وہ تمام کی تمام حکومت کے حق میں تھیں۔ لاہور جلسے کو بھی ناکام شوظاہر کیا گیا۔ اس پورے کالم میں اپنی کوئی رائے نہیں دینا چاہتا۔ عوامی رائے اور بڑے اخبارات کی شہ سرخیاں یہ ظاہر کر رہی ہے کہ لاہور کا جلسہ وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جتنی اس کی توقعات تھیں۔ بڑے میاں صاحب ملک بدر ہیں، میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف جیل میں ہیں۔پارٹی مریم نواز کے حوالے تھی۔ انہوں نے پارٹی رہنمائوں سے رابطے کرنے کے بجائے تقریریں یاد کرنے اور این آر او نہ دینے  کے طعنے دینے اور سوچنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ اختتامی جلسہ کرنے سے پہلے پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں ہرڈویژن کے پارٹی رہنمائوں کو لاہور میں طلب کر کے ان سے مشورے کیے جاتے، انہیں ہدایات جاری کی جاتیں۔ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) یا مریم نواز کو ہر صورت میں یہ حکمت عملی اپنانی چاہیے تھی لیکن وہ کسی سے میٹنگ کرنے یا ہدایات دینے کے بجائے خود لاہور شہر کے چکر لگاتی رہیں۔ صرف ایک شہر کے لوگوں سے کبھی بھی اتنے لوگ اکٹھے نہیں ہو سکتے جس سے مینار پاکستان والاگرائونڈ بھرا جا سکے۔ لاہور میں ذوالفقار علی بھٹو 1986ء میں بے نظیر بھٹو کے جلسے اور عمران خان کے جلسے سمیت جتنے بھی بڑے اور کامیاب جلسے ہوئے ہیں ان کے لئے پورے پاکستان سے لوگ اکٹھے کیے جاتے تھے۔ آزاد کشمیر سے بھی اپنی پارٹیوں کے لوگوں کو بھی جلسہ گاہ پہنچانے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن اس دفعہ پی ڈی ایم کی باقی جماعتوں کا خیال تھا کہ ہم نے اپنے اپنے صوبے میں بھرپور جلسے کرا دئیے ہیں۔ اب پنجاب میں (ن) لیگ کی ذمہ داری ہے ’’ن ‘‘ لیگ کے رہنمائوں کے دلوں میں کچھ کچھ ناراضگی تھی کہ جاوید ہاشمی اور سعد رفیق جیسے پچاس پچاس سال سیاسی مار کھانے، تشدد برداشت کرتے ہوئے لوگ باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک لڑکی پارٹی کو یرغمال بنا کے بیٹھ گئی ہے۔ سارے پرانے رہنما ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتے، کامیاب ترین جلسے کا سارے کا سارا کریڈٹ مریم نواز کی تقریروں کو ملنا تھا۔ پارٹی رہنما پاکستان بھر کے مخلص کارکنوں کے نام، شکل اور علاقے سے جانتے تھے۔ وہ ہر ورکر کی سیاسی اہمیت کوبھی جانتے تھے۔اسی کے مطابق ان کو احکامات بھی دیتے اور ان سے توقع بھی رکھتے۔ مریم نواز (ن) لیگ میں اپنے خاندان، خاوند اور اپنی لچھے دار تقریروں کے علاوہ کچھ نہیں جانتی تھیں۔ اس لئے سینئر رہنمائوں کا یہ خیال بالکل ٹھیک تھا کہ ہم جتنی مرضی محنت کر لیں وہ کسی کھاتے میں نہیں جاتیں کریڈٹ مریم نواز اور مریم اورنگزیب کو ہی ملے گا۔ ’’ن‘‘ لیگ نے اپنے سینئر پارٹی رہنمائوں اور ورکروں کو ان کی محنت، جدوجہد کے مطابق اہمیت دینی ہو گی ورنہ اگرہر جلسے میں میراثی کی چادر کی طرح مریم نواز کی تقریروں کی ہی تعریفیں ہوتی رہیں تو پارٹی کے مخلص رہنما اور کارکن تتربتر ہو جائیں گے۔ یادرکھنے کی ایک ہی بات ہے کہ فوج کے خلاف بولنے والوں کا پنجاب کبھی ساتھ نہیں دیتا۔ نواز شریف اور مریم نواز کو اپنے الفاظ واپس لینے پڑیں گے ورنہ باقی لوگ بھی چھوڑ جائیں گے۔ محمود خان اچکزئی اور اختر جان مینگل جیسے لوگوں کو ساتھ لا کر پنجاب کے گرائونڈ نہیں بھرے جا سکتے۔

تازہ ترین خبریں

پاک بھارت ٹاکرا ، وزیر اعظم پاکستان بھی پر جوش ، عمران خان نے اہم اعلان کر دیا

پاک بھارت ٹاکرا ، وزیر اعظم پاکستان بھی پر جوش ، عمران خان نے اہم اعلان کر دیا

ماہرین کی لرزہ خیز پیشن گوئی ، پاکستان میں زلزلے سے کس بڑ ے شہر کے 2ٹکڑے اور پاکستان کے کئی شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے؟ جانیں 

ماہرین کی لرزہ خیز پیشن گوئی ، پاکستان میں زلزلے سے کس بڑ ے شہر کے 2ٹکڑے اور پاکستان کے کئی شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے؟ جانیں 

ڈی جی آئی ایس آئی کی وزیراعظم کے ہمراہ سعودی عرب روانگی کی اطلاعات، حہقیقت منظر عام پر

ڈی جی آئی ایس آئی کی وزیراعظم کے ہمراہ سعودی عرب روانگی کی اطلاعات، حہقیقت منظر عام پر

مہوش حیات کا وزیر اعظم عمران خان بارے حیران کن بیان ، عوام سے کیا درخواست کر دی ؟ 

مہوش حیات کا وزیر اعظم عمران خان بارے حیران کن بیان ، عوام سے کیا درخواست کر دی ؟ 

ایک بار پھر شدید بارش اور ژالہ باری ۔۔ پاکستان کے کون کون سے شہر جل تھل ایک ہو رہے ہیں ؟ جانیے تفصیل

ایک بار پھر شدید بارش اور ژالہ باری ۔۔ پاکستان کے کون کون سے شہر جل تھل ایک ہو رہے ہیں ؟ جانیے تفصیل

یا اللہ خیر ! پولیس کے 30ہزار جوان اسلام آباد طلب کر لیے گئے ، کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

یا اللہ خیر ! پولیس کے 30ہزار جوان اسلام آباد طلب کر لیے گئے ، کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

اللہ پاک کی قدرت ، چھپکلی اپنی دم خود کیوں توڑ دیتی ہے؟ حیران کن وجہ

اللہ پاک کی قدرت ، چھپکلی اپنی دم خود کیوں توڑ دیتی ہے؟ حیران کن وجہ

دودھ کی قیت میں دس، بیس یا تیس نہیں بلکہ اکٹھے کتنے روپے اضافہ کیا جا رہا ہے ؟ پاکستانی جان لیں 

دودھ کی قیت میں دس، بیس یا تیس نہیں بلکہ اکٹھے کتنے روپے اضافہ کیا جا رہا ہے ؟ پاکستانی جان لیں 

پٹرول کی قیمت میں 20 روپے کمی کر دی گئی مگر اصل قیمت سے 20 روپے کم پٹرول صرف کن پاکستانیوں کو مل سکے گا ؟ جانیں 

پٹرول کی قیمت میں 20 روپے کمی کر دی گئی مگر اصل قیمت سے 20 روپے کم پٹرول صرف کن پاکستانیوں کو مل سکے گا ؟ جانیں 

کن پاکستانیوں کو پٹرول اصل قیمت سے 20روپے کم قیمت پر ملے گا ؟ پٹرولیم ڈویژن حکام نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی

کن پاکستانیوں کو پٹرول اصل قیمت سے 20روپے کم قیمت پر ملے گا ؟ پٹرولیم ڈویژن حکام نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی

وزیر اعظم کے ترجمان کی خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کیساتھ ایسی حرکت کہ بات شہباز گل کی گرفتاری تک جا پہنچی ، آج کی بڑی خبر

وزیر اعظم کے ترجمان کی خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کیساتھ ایسی حرکت کہ بات شہباز گل کی گرفتاری تک جا پہنچی ، آج کی بڑی خبر

نواز شریف اچھا یا عمران خان ؟  مہنگائی بڑھے تو سمجھ لینا حکمران چور ہے! عمران خان بیان دے کر پھنس گئے؟ ویڈیو دیکھیں

نواز شریف اچھا یا عمران خان ؟  مہنگائی بڑھے تو سمجھ لینا حکمران چور ہے! عمران خان بیان دے کر پھنس گئے؟ ویڈیو دیکھیں

مسلم لیگ ن کی کم عمر ترین رہنما ثانیہ عاشق کی نازیبا ویڈیو بھی آگئی ، حقیقت کیا ہے؟  جانیں 

مسلم لیگ ن کی کم عمر ترین رہنما ثانیہ عاشق کی نازیبا ویڈیو بھی آگئی ، حقیقت کیا ہے؟  جانیں 

پاکستان کے ان علاقوں کا انٹر نیٹ بند کر دو ، وزارت داخلہ نے منظوری دیدی، پاکستانی جان لیں 

پاکستان کے ان علاقوں کا انٹر نیٹ بند کر دو ، وزارت داخلہ نے منظوری دیدی، پاکستانی جان لیں