02:12 pm
سیاست عوام کی زندگیوں سے عزیز … رحم نہیں ریلیاں شروع

سیاست عوام کی زندگیوں سے عزیز … رحم نہیں ریلیاں شروع

02:12 pm

حضرت علیؓ سے ایک شخص مخاطب ہوا کہ اے باب العلم قیامت سے پہلے انسانوں کا وہ کون سا عمل ہو گا جو اللہ کی ناراضگی کا سب سے بڑا سبب ہو گا
حضرت علیؓ سے ایک شخص مخاطب ہوا کہ اے باب العلم قیامت سے پہلے انسانوں کا وہ کون سا عمل ہو گا جو اللہ کی ناراضگی کا سب سے بڑا سبب ہو گا ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اے بندہ خدا قیامت سے پہلے انسان انسان کو بیمار کرنا شروع کریں گے اس شخص نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ لوگ نفرت، حسد، منافقت اور لالچ میں اتنے آگے بڑھ جائیں گے کہ انسانوں سے لڑنے کے لئے تلوار اور نیزے کا استعمال نہیں کر سکیں گے بلکہ عجیب عجیب بیماریوں کو پیدا کریں گے، ان بیماریوں میں لوگ گھٹ گھٹ کر مر جائیں گے، کسی کو معلوم نہ ہو گا کہ کس کو کس نے مارا ہے، انسانوں کا یہ عمل اللہ کے نزدیک ناراضگی کا سبب بنے گا۔ پھر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اس دور میں انسان دولت کے نشے میں پست ہو جائیں گے۔
اس وقت پوری دنیا میں ایک ایسی وبا کرونا پھیلی ہوئی ہے جس کے بارے میں روز نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ وبا تیزی سے بڑھ رہی ہے اور سیاست بھی۔ ہزاروں پاکستانی مر گئے لیکن سیا ست کو رحم نہ آیا اور جلسے جاری رہے …اب لاکھوں کو خطرہ ہے لیکن رحم نہیں ریلیاں شروع کی جا رہی  ہیں…کرونا 2020ء کے دوران دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے ساتھ برق رفتار ترقی کے سفر کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں، ترقی پذیر یا غریب ملک، کورونا سب سے برابری کی بنیاد پر ٹکرایا، پہلے کاری وار کے بعد اب دوسری لہر نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ 
حکومت کی جانب سے بار بار کرونا وائرس سے بچائو کے لیے احتیاط کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے لیکن حکومتی نمائندے بھی عوام کو ہدایات دیتے دیتے خود بھی کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ وزیر ریلوے محکمہ ریلوے کو بچاتے بچاتے خود کرونا کی ٹکر کا شکار ہوگئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر جنہوں نے خود کو کرونا سے بچانے کی کافی کوشش کی لیکن وہ بھی کرونا کا شکار ہوئے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی کرونا وائرس کا شکار ہوکر قرنطین ہو چکے ہیں…لیکن رحم نہیں…اب یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ کرونا کی تباہ کاریوں میں بڑا ہاتھ خود حضرتِ انسان کا ہے بالخصوص سیاسی و معاشرتی لحاظ سے باہمی تقسیم اور عدم اعتماد ہے۔ جبھی وائرس ڈھیٹ ہوکر اپنے وار تیز سے تیز کررہا ہے اور تمام تر بھاری نقصانات کے باوجود انسانوں پر اجارہ داری قائم رکھنے پر مصر، بے رحم، سیاسی وطاقتور کردار اپنے مقاصد کی تکمیل میں لگے ہیں… رحم نہیں ریلیاں شروع ہوں گی… پہلے مرحلے میں حکومت کا اسمارٹ لاک ڈائون کا فیصلہ کارگر اور قابل اطمینان ثابت ہوا مگر کرونا کی روانگی کا غلط اندازہ لگاکر سیاسی اشرافیہ نے عوام کو گھروں میں رکھنے کی بجائے ذاتی مفاد کی خاطر جلسوں میں لانے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ کرکے دُنیاکو حیران و پریشان اور کرونا کو خوش کردیا۔ دوسری لہر نے متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا تو حکمران خوفزدہ ہو کر بلاجواز جلسوں سے تائب ہو گئے مگر اقتدار کی منزل پانے کے خواہش مند اب تک نہیں رکے، سیاست شاید عوام کی زندگیوں سے بھی زیادہ عزیز اور قیمتی ہے۔ سیاسی نقادوں کی رائے میں گیارہ جماعتی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے اندر مفادات کا رنگ گہرا اور تضادات کی دراڑیں وسیع ہو رہی ہیں، ن لیگ کے انقلابی قائد کے گوجرانوالہ بیانیہ کے بعد کوئٹہ، پشاور اور ملتان، لاہور میں شرکا کی کمی بظاہر عوامی ردِعمل کا نمونہ پیش کررہی ہے…اس لیے بھی  رحم نہیں ریلیاں شروع ہوں گی… طبی ماہرین کے مطابق کوویڈ 19کی دوسری لہر کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ شاید وائرس خود نہیں بلکہ انسان کی خود غرض سوچ اور مفادات پر مبنی من مانی حرکتیں ہیں، جو اس کی ہلاکت خیزی میں بدترین اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔کورونا سے سب سے زیادہ تباہی دنیا کے ترقی یافتہ اور طاقتور ملک امریکہ میں ہوئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ایک فیصد آبادی یعنی سوا چھ کروڑ انسان اس وائرس کا شکار ہوئے جن میں 42فیصد امریکی ہیں، 30فیصد یورپی جبکہ 17فیصد جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے افراد ہیں۔ معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان کی حرکات وسکنات معاشرے کو اچھا یابرا گرداننے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، انسانوں کے رویے اور کردار ہی معاشرے کی ترقی اور کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلائو کے بعد مختلف معاشروں میں مجموعی ردِعمل کا اندازہ لگایا جائے تو پتا چلتا ہے کہ سپر پاور ہونے کے دعویدار ملک کے سربراہ ہی نے سب سے زیادہ غیرسنجیدہ اور غیرذمہ دار ہونے کا ثبوت دیا۔پڑھے لکھے اور سمجھدار امریکی معاشرے میں اعلیٰ ترین عہدیدار تباہ کن وائرس کی حقیقت سے ہی انکاری رہا، ماسک خود پہنا نہ پہننے کی تلقین کی بلکہ پہننے والوں کا بھی مذاق اڑاتا رہا، نتیجتاً عوام نے اپنا رد عمل صدارتی انتخابات میں ووٹ کے ذریعے عدم اعتماد کی صورت میں دیا۔ یوں جمہوری معاشرے میں عوامی تحفظ کے اقدام کا مذاق اڑانے والا خود مذاق بن گیا اورتاریخی شکست کے بعد تاریخ کاسیاہ باب بن کر رہ گیا۔ بدقسمتی سے وطن عزیز کی سیاست کاانداز بھی کچھ مختلف نہیں جہاں حزبِ اختلاف نے عوام کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے اور کورونا کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی متفقہ حکمت عملی ضرور بنا ڈالی۔ حکمران خوفزدہ ہو کر بلاجواز جلسوں سے تائب ہو گئے مگر اقتدار کی منزل پانے کے خواہش مند اب تک نہیں رکے، کیونکہ سیاست عوام کی زندگیوں سے زیادہ عزیز اور قیمتی ہے۔ دنیا کے مطابق ایک طرف جہاں طبی عملہ بھرپور طریقے سے اپنا فرض نبھا رہا ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کی تلقین کر کے خود دن رات کام کر رہا ہے وہیں پاکستان کے آدھے عوام کا خیال ہے کہ ایسی کوئی بیماری پاکستان میں نہیں ہے اور یہ صرف انہیں ڈرانے کے لیے ایک پروپیگنڈا ہے۔ پاکستان میں اجتماعات، سیاسی جلسے، جلوس سے کرونا پھیلا اور اب اس کی شدید لہر ہے اور اگر سرکاری سطح پر موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہمارے ہسپتال مریضوں سے بھر جائیں گے۔ ہمارے پاس اتنے مریضوں کے لیے انتظامات نہیں ہیں اور پھر ہمارے ڈاکٹر، پیرا میڈیکس پہلے ہی بہت قربانی دے چکے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اب ہسپتالوں میں بھی کوئی نہ ملے کیونکہ زندگی تو سب کو عزیز ہے۔ اگر قوم سیاست کے ہتھکنڈہ بننے کی بجائے گھر بیٹھ جائے تو شاید حالات بہتر ہو جائیں اور مزید مسائل نہ بڑھیں کیوں کہ جو بیماری امریکہ جیسے ملک کی بنیادیں ہلا سکتی ہے اس کے لیے پاکستان جیسے ملک کو 50 سال پیچھے دھکیلنے میں ٹائم نہیں لگے گا۔ اس لئے اس وقت پوری قوم کو اپنے ملک کی حفاظت کے لیے فوج اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ اپنے گھروں میں رہنا ہو گا تاکہ یہ چلتی پھرتی بیماری دوسرے لوگوں میں کم سے کم منتقل ہو اور ایک دفعہ پھر لوگ پہلے کی طرح کاروبار اور تعلیم حاصل کر سکیں۔ 2020ء ختم ہونے والا ہے۔ ہم آج جب پورے سال کا حساب لگانے بیٹھے ہیں تو ہمیں یہ سال کہاں نظر آتا ۔ یہ سال ہم نے زندگی اور موت کے درمیان کھڑے رہ کر گزارا ہے۔ کس کو کب کرونا ہو جائے، کسے پتہ۔ کرونا ہونے کے بعد شفا نصیب ہو گی بھی کہ نہیں، یہ ایک الگ خوف ۔ خودنہیں تو اپنے پیاروں کا سوچ لیں ۔ کیوں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں۔
 

تازہ ترین خبریں

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کرسی خطرے میں پڑگئی

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کرسی خطرے میں پڑگئی

کراچی کے ساحلی زون پر ہزارو ں رہائشی یونٹس بنائیں گے، وزیر اعظم

کراچی کے ساحلی زون پر ہزارو ں رہائشی یونٹس بنائیں گے، وزیر اعظم

حکومت کا بوریا بستر کبھی بھی گول ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

حکومت کا بوریا بستر کبھی بھی گول ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

شی جن پھنگ کی طرف سے 2021  عالمی انٹرنیٹ کانفرنس ووجن سمٹ کے نام تہنیتی پیغام

شی جن پھنگ کی طرف سے 2021 عالمی انٹرنیٹ کانفرنس ووجن سمٹ کے نام تہنیتی پیغام

نئے پاکستان میں نئے طرز کا قومی ترانہ ہوگا

نئے پاکستان میں نئے طرز کا قومی ترانہ ہوگا

گوادر میں قائداعظم کا مجسمہ بم حملہ کرکے تباہ کردیا گیا

گوادر میں قائداعظم کا مجسمہ بم حملہ کرکے تباہ کردیا گیا

آسٹریلیا کے سابق کپتان ایئن چیپل پاکستان کی حمایت میں بول پڑے

آسٹریلیا کے سابق کپتان ایئن چیپل پاکستان کی حمایت میں بول پڑے

ملکی تاریخ کی مہنگی ترین چینی درآمد،پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

ملکی تاریخ کی مہنگی ترین چینی درآمد،پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

 آئندہ 3 ، 2 ہفتے ‏میں پاکستانی عازمین کیلئے بھی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔نورالحق قادری 

 آئندہ 3 ، 2 ہفتے ‏میں پاکستانی عازمین کیلئے بھی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔نورالحق قادری