12:41 pm
  اپوزیشن قیادت کا غیر جمہوری رویہ

  اپوزیشن قیادت کا غیر جمہوری رویہ

12:41 pm

مولانا شیرانی کے بیان کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ سب کچھ ’’مک مکا‘‘ کیلئے کیا جارہا ہے۔ اے پی ڈی ایم کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کے اندر دراڑ پڑنا شروع ہوگئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام  میں حافظ حسین احمد کے بعد مولانا محمد خان شیرانی نے اپنی پارٹی لیڈر شپ اور اے پی ڈی ایم پالیسی  سے کھلم کھلا اختلافات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک بڑا بلاک فوج مخالف بیانیے کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے۔ یہ رہنما جہاں نجی محفلوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہیں انہوں نے پارٹی قیادت کو بھی باور کروا دیا ہے کہ اس منفی بیانیے کے ساتھ وہ مزید نہیں چل سکتے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے بعض اراکین اسمبلی کا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ رابطہ ہے اور گاہے ان کی ملاقات کی خبریں بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ اگرچہ استعفوں کا اعلان کر دیا گیا ہے
لیکن واقفان حال جانتے ہیں کہ استعفوں کے معاملے کو عملی جامہ پہنانا ، پی ڈی ایم کے لئے بہت مشکل ٹاسک ہوگا۔ استعفیٰ دینے پر اراکین اسی صورت رضامند ہوں گے جب انہیں آگے کچھ ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ فی الحال تو سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ پاکستان میں کوئی اپوزیشن تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکی جب تک اسے اسٹیبلشمنٹ کی درپرہ حمایت حاصل نہ  ہو۔ اس وقت ایسی صورتحال نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان اختلافات  تو دور کی بات معمولی سی بداعتمادی کا شائبہ تک نہیں ہے۔ ان کے مابین نہ صرف بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے بلکہ مکمل اعتماد کا فضا پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے معروضی حالات میں اسے انتہائی بہترین سیاسی بندوبست سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بات اپوزیشن رہنمائوں کو راس نہیں آرہی۔ وہ چاہتے ہیں  کہ کسی طرح فوج کی قیادت اور حکومت کی آپس میں لڑائی ہو جائے تاکہ ان کی خواہش کے مطابق معاملات آگے  بڑھ سکیں۔ یہ سوچ کس قدر پست اور غیر جمہوری ہے۔  آج یہ سوال پوچھنے میں لوگ حق بجانب ہیں کہ جمہوریت کی باتیں کرنے والے غیر جمہوری انداز میں حکومت گرانے کی کوششیں کیوں کررہے ہیں۔ کل تک یہ رہنما تحریک انصاف کے دھرنے کو جمہوریت کے خلاف سازش قرا ر دیتے تھے آج یہ کس منہ سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی دھمکی دے رہے ہیں۔ کل کا لانگ مارچ حرام تھا تو آج کا لانگ مارچ حلال کس طرح ہوگیا ، کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس لانگ مارچ  کی قیادت کرنے جارہے ہیں۔ خواجہ آصف کے الفاظ مستعار لوں تو آج اے پی ڈی ایم قیادت کو اس طرز عمل پر کہنا چاہیے ’’کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے‘‘۔ اصولوں اور نظریات کی سیاست کے دعوے آج کہاں گئے۔ میثاق جمہوریت کا مژدہ سنانے والوں کاکردار آج کیا   ہے، کیا یہ وہی نہیں ہیں جو قوم سے معافی مانگ کر اور عہد کرکے آئے تھے کہ منتخب سیاسی حکومتوں کو گرانے کی مذموم سازش کا کبھی حصہ نہیں بنیں گے۔ آج یہ اپنے طرز عمل کے حق میں جو مرضی دلیل ڈھونڈ کر لائیں کل کا مورخ انہیں بدترین موقع  پرست قرار دے گا اور جمہوریت کا باب لکھا جائے گا تو اس میں ان کا کوئی نام و نشان نہیں ہوگا۔ ایسے رہنما تاریخ میں کبھی بڑا نام نہیں پاتے جو ضرورت پڑنے پر اصول  اور نظریات کو پائوں تلے روند ڈالتے ہیں۔ ایسے لوگ تاریخ کے صفحات پر چالاک اور سیاست باز کے طور پر تو یاد رکھے جاتے ہیں لیکن رہنمائوں کی فہرست میں ان کا ذکر نہیں ملتا۔ 
رہنما تو نیلسن منڈیلا جیسے ہوتے ہیں جو29 برس قید کی صعوبتیں برداشت کرتے  ہیں اور اس طویل جدوجہد کے بعد محض چار سال کا اقتدار گزارنے کے بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا ان کی طرح ہوتے تو 29 سالہ قید کے عوض ساری زندگی اقتدار میں رہنے کا جواز پیدا کرتے لیکن پھر تاریخ انہیں20 ویں صدی کا عظیم رہنما کیسے قرار دیتی اور ان کی جدوجہد کو لوگ سلا م کیسے پیش کرتے۔ یہ نفع نقصان کے ترازو میں ہر شے کو تولنے والے بونے سیاستدان کیا جانیں کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور وہ سیاست  کیا ہوتی ہے جو عبادت کا درجہ پاتی ہے۔ پاکستان کی سیاست کو ان موقع پرست اہل سیاست کے طرز عمل نے برباد کیاہے۔ اپوزیشن کی قیادت کرنے والے یہ سیاست دان ایشوز کی بنیاد پر حکومت کی مخالفت کرتے اور جمہوری انداز میں اصلاح کیلئے آگے بڑھتے تو آج ان کا مقام اور  ہوتا اور لوگ ان کی تعریف کررہے ہوتے۔حکومت گرانا ان کے بس میں نہیں ہے چنانچہ ’’خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ والا معاملہ ان کے ساتھ ہے۔ اپنے طرز عمل کی وجہ سے ان کے چہروں سے  جمہوری نقاب اتر گئے ہیں اور یہ پاکستانی عوام کی نظروں میں ایکسپوز ہوگئے ہیں۔ آج لوگ جان چکے ہیں کہ میثاق  جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کی اصل حقیقت کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان جماعتوں کے اندر سے اختلافی رائے کھل کر سامنے آئے گی اور اپنے غیر جمہوری رویے کی وجہ سے عوا م میں بھی ان کو پذیرائی نہیں ملے گی۔ سینیٹ الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا بھی کامیابی سے ہمکنار ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ سینٹ انتخابات کی راہ میں اگر روڑھے اٹکائے گئے تو یہ وطن عزیز کے سیاسی  نظام کے ساتھ ایک بہت بڑا کھلواڑ ہوگا جس کی قیمت سیاسی قوتوں کو ادا کرنا پڑے گی۔


 

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔