12:41 pm
عشیق الحسن اور میانوالی

عشیق الحسن اور میانوالی

12:41 pm

(آخری حصہ)
 عشیق الحسن کی کہانی جاری  تھی ’’بنگال میں  موسیقی کو پسند کیا جاتا تھا اور سنگیت سے محبت عام تھی۔ میری والدہ اور بہن عمدہ ستار بجایا کرتی تھیں۔ اسے بھی مغربی پاکستان میں ناپسند کیا جاتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ہم ہندوئوں سے بہت متاثر یا زیر اثر ہیں بلکہ ہمارا اسلام بھی مشکوک سمجھا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے الیکشن کے بعد منتخب اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا جاسکتا اور پھر مارچ1971 ء میں آرمی ایکشن شروع ہوگیا۔ ہم تو مغربی پاکستان میں تھے لیکن مشرقی پاکستان میں  جو کچھ ہوا وہ تباہ کن تھا۔ میں نہیںجانتا سول نافرمانی پہلے شروع ہوئی یا مکتی باہنی کیسے بنی اصل بات تو یہ تھی کہ ایسا ہوا ہی  کیوں؟ بھارت کی سازش ہوگی اور فسادات کو ہوا بھی دی ہوگی لیکن انہیں تو ایسا ہی کرنا تھا۔ ہم نے کیا کیا؟
کتنے ہی بنگالی بھاگ کر اپنی فوج کے خلاف لڑنے چلے گئے۔ میرا چھوٹا بھائی جو ڈھاکہ یونیورسٹی میں طالبعلم تھا لاپتہ ہوگیا ، آج تک اس کا کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ زندہ ہوتا تو مل جاتا۔ وہ یقینا مارا گیا تھا لیکن کہاں اور کیسے ہم نہیں جانتے۔ اس زمانے میں ہمارا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ ڈاکٹر شریف الحسن سے تم مل چکے ہو، میانوالی میں پیدا ہوا تھا۔ ہمارے ہمسائیے اور میرے ائیرفورس کے ساتھیوں نے ہمارے بیٹے کی پیدائش کو سیلبیریٹ کیا ۔ انہوں نے ڈھول والے بلائے اور بکرا ذبح کیا۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہنسیں یا روئیں؟
پھر جنگ شروع ہوگئی۔ ہم بنگالیوں کو علیحدہ کر دیا گیا۔ سیف الاعظم اور ایم ایم عالم جو کہ بنگالی بھی نہیں تھے جسے ہوا بازوں کو جنگ میں حصہ لینے کی اجازت  نہیں دی گئی تھی۔ سولہ دسمبر جب پاکستانی فوج نے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دیئے تو میں جھوٹ نہیں بولوں گا کچھ دیر کے لئے ہم خوش ہوئے تھے۔ لیکن میں اور میری والدہ رات گئے روتے رہے۔ اس وقت میری والدہ جلد از جلد ڈھاکہ جاکر اپنے بیٹے کو ڈھونڈنا چاہتی تھیں۔ ہر طرف اداسی چھاگئی تھی۔ ہمارے ہمسائے میرے ساتھی جن کے ساتھ میں نے زندگی گزاری تھی ہمیں عجیب سی نظروں سے دیکھتے تھے جیسے اس شکست کے ذمہ دار ہم ہوں۔ تمام بنگالیوں کو سازشی اور غدار سمجھا اور کہا جانے لگا۔ عجیب سی بے یقینی کی کیفیت تھی پھر بھی نہ جانے ہمیں امید تھی کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن حالات ٹھیک نہ ہوئے۔  غالباً جون، جولائی1972 ء میں پوچھاگیا کہ میں پاکستان ائیرفورس میں رہنا چاہتا ہوں یا بنگلہ دیش جانا چاہتا ہوں؟ ہمارا کنبہ مخمصے کا شکار تھا۔ کیونکہ ہمارا سب کچھ تو مغربی پاکستان میں تھا۔ میری والدہ بیٹے کو ڈھونڈنے کے لئے تو جانا چاہتی تھیں لیکن ان کا شوہر راولپنڈی میں مدفون تھا اور انہوں نے اپنا گھر بھی وہیں بنایا تھا۔ میری چھوٹی بہن تو صرف ایک دفعہ میری شادی کے موقعے پر مشرقی پاکستان گئی تھی۔ میری بیوی کا خاندان البتہ وہاں تھا۔ وہ جانا چاہتی تھی، اس کے خیالات منتشر نہیں تھے۔ قصہ مختصر میں نے بنگلہ دیش جانے کا فیصلہ کرلیا۔ کچھ دنوں بعد ہمیں چشمہ کے کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ وہ انتہائی مشکل دن تھے۔ کہنے کو تو ہم کیمپ کی حدود میں آزاد تھے لیکن وہ ایک طرح کی قید ہی تھی۔ کیمپ کے گرد خاردار باڑ تھی اور چوبیس گھنٹے سنتریوں کا پہرہ ہوتا تھا۔ بچوں اور عورتوں کے علاو ہ ہم سب کو صبح اور شام کیمپ آفس میں جمع ہوکر حاضری دینی ہوتی تھی۔ مختلف مکانں میں ہر خاندان کو ایک کمرہ دیا گیا تھا اور گزارہ الائونس کے طور پر کوئی د و ڈھائی سو روپے ملتے تھے۔ میری والدہ نے  بہن کے لئے کچھ زیورات بنا رکھے تھے اور میری بیوی کے زیورات سب اونے پونے بک گئے۔ اسی کیمپ میں میری  والدہ کی وفات ہوئی ان کی تدفین وہاں ہی ہوئی۔ ان کے نصیب میں میانوالی کی مٹی تھی۔
نومبر1973 ء میں ہمیں ڈرگ روڈ کراچی روانہ کر دیا گیا اور وہاں سے ریڈ کراس کی چارٹر فلائیٹ سے ہم بنگلہ دیش پہنچ گئے۔ ڈھاکہ پہنچنے پر طمانیت اور آزادی کا احساس ہوا لیکن ساتھ  ہی میں گہری اداسی کا شکار ہوگیا۔ میرا بچپن میرا لڑکپن میری جوانی سب چھوڑ آیا  تھا اور سب سے بڑھ کر میرے والدین وہیں رہ گئے تھے۔
میں نے بنگلہ دیش ائیرفورس جوائن کرلی۔ میری پروموشن ہوگئی اور میں فلائیٹ سارجنٹ ہوگیا لیکن مجھے عجیب سی مایوسی اور اداسی نے گھیرے رکھا۔ کچھ عرصے بعد میں نے نوکری چھوڑ دی۔ پہلے ہم آسٹریلیا اور  وہاں سے آکلینڈ آگئے۔ اب یہی میرا وطن ہے  یا میرا کوئی بھی وطن نہیں۔
آپ1970 ء کے بعد پلنے بڑھنے والی نسل سے ہو لیکن ہم نے پاکستان کو ٹوٹتے دیکھا۔ کاش وہ سب نہ ہوتا۔ جغرافیائی لحاظ سے ہم دور تھے۔ ہمارے قائدین تدبر سے کام لیتے تو شائد اکٹھے رہنے کا کوئی فارمولہ تلاش کیا جاسکتا تھا اور اگر علیحدہ ہونا تھا تو آبرومندانہ فارمولہ تلاش کیا جاسکتا تھا ۔ کاش ہ قتل و غارت گری نہ ہوتی۔ کاش ہمارے فوجی کمانڈر سمجھ جاتے کہ جنگ عام شہریوں کی حمایت کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی۔ میں اگر ایک فلائیٹ سارجنٹ یا اس وقت میں کارپورل تھا یہ بات جانتا تھا تو اعلیٰ تربیت یافتہ جرنیل یہ بات کیوں نہیں سمجھ سکے۔


 

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔