02:06 pm
بھارت کے جارحانہ عزائم

بھارت کے جارحانہ عزائم

02:06 pm

اس حقیقت سے قطع نظر کہ اقوام متحدہ بار بار کہہ چکی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کو نسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے اور اس حقیقت
اس حقیقت سے قطع نظر کہ اقوام متحدہ بار بار کہہ چکی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کو نسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے اور اس حقیقت سے بھی قطع نظر کہ پوری دنیا نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے یک طرفہ فیصلوں کو یکسر مسترد کردیا ہے بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارت کے سارے سیاسی رہنمااور سفارتی عملہ بھارت کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ بھارت کی اس شرمناک ڈھٹائی پر ضرورت ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا ایک دفعہ پھر تجزیہ کیا جائے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں ۔ انڈین انڈی پنیڈنس ایکٹ جسے برطانیہ کی پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا اس میں آزاد نوابی ریاستوں کو حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیں یا اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں ۔ اس ایکٹ میں کوئی خاص طریقہ وضع نہیںکیا گیا تھا کہ نوابی ریاستیں کس اصول کے مطابق یہ فیصلہ کریں ۔قانونی ماہرین کے مطابق انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ کے آرٹیکل 7کے تحت نوابی ریاستوں سے کئے گئے تمام معاہدے 15اگست 1947کو منسوخ سمجھے جانے تھے ۔ اس آرٹیکل کے تحت کشمیر کے مہاراجہ بھی 15اگست کے بعد اپنی قانونی حیثیت کھو چکے تھے لہٰذا وہ کسی بھی قسم کی دستاویز پر دستخط کرنے کے مجاز نہیں رہے تھے ۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید اور تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ  غیر قانونی الحاق کے فوراًبعد کشمیر کی عوام اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1947ء میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا ۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلے کے حل کیلئے 23قرار دادیں پاس کیں جن میں UNICEPکی 2قراردادیں بھی شامل تھیں جو 13اگست 1948ء اور 5جنوری 1949ء کو پاس کی گئی تھیں ۔ ان 2قراردادوں کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے استصواب رائے کرایا جائے گا ۔ ان دو قراردادوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے کرنے کا پورا حق دیا تھا جسے بھارت نے طاقت کے زور پر آج تک دبا رکھا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ رنگ نہیں ہے بلکہ بھارت حقائق کو تور مروڑ کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
 1971 ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد شملہ معائدہ کی شق نمبر6کے تحت یہ طے پایا تھا کہ دونوںممالک کے درمیان کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل دونوں ملکوں کے درمیان پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کئے جائیں گے۔ معاہدہ شملہ میں بھارت نے تسلیم کیا کہ کشمیر دونوں ملکوںکے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ یہ امر بھی ثابت کرتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے۔بدقسمتی سے بھارت نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ بے ایمانی کا مظاہرہ کیا اور کشمیر کے مسئلے کو لٹکائے رکھنے کیلئے مختلف حیلے بہانوں سے کام لیتا رہا۔  بھارت چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاک بھارت مذاکرات کا حصہ نہ بننے پائے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور  35-A کی تنسیخ بھی جے پی کی انتہا پسند حکومت کا ایک غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ یہ دونوں آرٹیکل کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت دیتے ہیں جس کی اپنی ایک قانون ساز اسمبلی ہوگی اورکشمیر میں کوئی غیر کشمیری کسی قسم کی جائیداد کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا۔  ان آرٹیکلز کی تنسیخ بھارتی سپریم کورٹ اور مقبوضہ کشمیر کی ہائی کورٹ کے احکامات کی بھی نفی ہے جس نے اپنے احکامات میں کہا ہے کہ یہ دونوں آرٹیکل بھارتی آئین کا حصہ بن چکے ہیں جن کو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قانون ساز اسمبلی تحصیل ہو چکی ہے لہٰذا یہ آرٹیکل منسوخ نہیں ہو سکتے ۔ بھارت کے بہت سارے با ضمیر دانشور بھی بھارت کے اس خطرناک اقدام کی مخالفت کر چکے ہیں۔کانگریس نے آرٹیکل 370کی تنسیخ کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسکے ایک سینئر رہنما پی چد مبرم نے راجیہ سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نرمیندر مودی کو آج جس بات پر فخر ہو رہا ہے کل اسے اس فیصلے پر ندامت ہوگی۔ آج کا دن بھارت کی تاریخ کا ایک افسوسناک اور سیاہ دن ہے۔ امریکہ ، چین اور اقوام متحدہ کو چاہیئے کہ بھارت کو اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت سے روکے اس سے پہلے کہ اس خطے میں بدامنی پھیلے ۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف آرٹیکل 370منسوخ کرنے کی حرکت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقے میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہوگی، کشمیری تنہائی کا شکار ہونگے اور علاقے میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھیں گی کیونکہ بھارت نے نئے قوانین کو رائج کرنے کے لئے علاقے میں سخت ترین کرفیو اور لاک ڈاؤن کر رکھا ہے۔ وادی میں مکمل بلیک آوٹ ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے کیونکہ 15اگست 2019ء کے بعد بھارت نے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے ہیں۔ ان مظالم کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی اپنی رپورٹوں میں کی ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کی وادی میں لاک ڈاؤن کی آڑ میں کشمیریوں کی زیر حراست ہلاکت ، اغواء ، خواتین کی عصمت دری، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال سے کشمیریوں کو اندھا کرنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے کشمیر اور پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات خطے میں امن وامان کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیئے کہ بھارت کی اس جارحیت کو روکے تا کہ جنوب ایشیاء میں امن وامان قائم ہو سکے۔ 



 

تازہ ترین خبریں

استنبول کا وہ مندر جہاں سے کوئی زندہ واپس نہیں آیا، لیکن کیوں؟تفصیلات جانیں اس خبرمیں

استنبول کا وہ مندر جہاں سے کوئی زندہ واپس نہیں آیا، لیکن کیوں؟تفصیلات جانیں اس خبرمیں

رہائشی عمارت دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کا ڈھیر بن گئی، ویڈیو میں تباہی کے دلخراش مناظر

رہائشی عمارت دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کا ڈھیر بن گئی، ویڈیو میں تباہی کے دلخراش مناظر

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی نااہلی۔۔ سندھ ہائی کورٹ سے بڑی خبر آ گئی،جیالے بھی ہکا بکا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی نااہلی۔۔ سندھ ہائی کورٹ سے بڑی خبر آ گئی،جیالے بھی ہکا بکا

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کردیا

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کردیا

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

 ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

 شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

 میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز