02:09 pm
قنوطیوں کاواویلا

قنوطیوں کاواویلا

02:09 pm

میں خودبڑے عرصے سے محسوس کر رہا ہوں، میری تحریرمیں ایک بیزاری،ایک لاتعلقی سی آچکی ہے۔وہ تلخی،وہ آگ اوروہ سلگتاہوادرد ختم ہوتا جارہا ہے جواس تحریرکی
میں خودبڑے عرصے سے محسوس کر رہا ہوں، میری تحریرمیں ایک بیزاری،ایک لاتعلقی سی آچکی ہے۔وہ تلخی،وہ آگ اوروہ سلگتاہوادرد ختم ہوتا جارہا ہے جواس تحریرکی پہچان تھا۔ایسا کیوں ہورہا ہے؟ میں اکثرخود سے سوال کرتا ہوں۔ ہربارمیں خودکویہی جواب دیتا ہوں،کوئی نیاموضوع، کوئی نیاایشونہیں ۔ مہنگائی پراورکتنے کالم لکھے جائیں؟ بیروزگاری، جہالت اوربیماری پرکوئی کہاں تک لکھ سکتاہے؟بد امنی، حکومتی رٹ، حکومتی بے حسی،لوٹ کھسوٹ، کرپشن، دفتری  تاخیر،سرخ فیتہ اور سیاسی مکروفریب پر کتنے  ٹن  مضامین چھاپے جاسکتے ہیں؟ آخرانسانی دماغ کی بھی ایک حدہوتی ہے، آپ سیاپابھی ایک حدتک کرسکتے ہیں،بچہ ماں کو کتنا پیاراہوتاہے،بچہ مر جائے  توماں بین کرتی ہے، روتی ہے چلاتی ہے لیکن کتنی دیر؟ ایک گھنٹہ،ایک دن یاایک ہفتہ، آخر بین  چیخوں، چیخیں سسکیوں اور سسکیاں آہوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں،دلِ مضطرب کوچین آجاتا ہے۔ ایک ہلکی سی کسک، دردکی ایک تھوڑی سی آہٹ باقی رہ جاتی ہے۔
لکھاریوں کی تحریریں ایک بین،ایک چیخ ہوتے ہیں۔یہ چیخ یہ بین بتاتے ہیں کہ لوگو! تمہارے ساتھ ظلم ہوگیا،تم لٹ گئے،تم بربادہو گئے۔ اس چیخ،اس بین پرلوگ متوجہ ہوجائیں اور ظالم ٹھٹک کررک جائے تولکھاری کافرض پوراہوگیا لیکن اگرظالم ان چیخوں،ان بینوں کے باوجود  ظلم کرتارہے،ایک لمحے کیلئے اس کاہاتھ نہ رکے،اس کے ماتھے پرشرمندگی کا پسینہ تک نہ آئے،تووہ چیخ،وہ بین ایک فضائی آلودگی کے سواکچھ نہیں ہوتی۔لوگ بھی اگراس چیخ اوراس بین کومعمولی سمجھیں اورایک روٹین کادرجہ دے دیں توبھی یہ چیخیں یہ بین آوازوں کے جنگل میں ایک سوکھی سڑی جھاڑی اورایک کچلی گھاس سے زیادہ  حیثیت نہیں رکھتی۔ چوکیدارکے’’جاگتے رہو‘‘کے اعلان سے اگرچورگھبرائیں اورنہ ہی اہلِ محلہ کی آنکھ کھلے تو چوکیدارکیاکرے گا؟اس کی پتلیوں میں بھی نیند ہچکولے لے گی،اس کاضمیربھی جمائیاں لینے لگے گا۔
یقین کیجئے میں جب لکھنے بیٹھتا ہوں تو خودسے سوال کرتاہوں،کس کیلئے لکھ رہا ہوں؟ ان لوگوں کیلئے جوغلامی سہنے کی عادت ،زیادتیاں برداشت کرنے کی خوجن کی نس نس میں بس چکی ہے، جو اپنے اوپرہونے والے ظلم کی داستان کو بھی ایک افسانہ سمجھ کرپڑھتے ہیں،جواپنے قتل کے گواہ پرہنستے ہیں یااس حکومت کیلئے جوخداترسی کی اپیل کوپاگل اور’’قنوطیوں کا واویلا‘‘سمجھتی ہے۔ میں اس نتیجے پرپہنچ چکا ہوں آپ بیل کو لیکچرکے ذریعے چیتانہیں بناسکتے۔بھیڑیئے کے دل میں بھیڑکیلئے ہمدردی بھی نہیں جگا سکتے، لہٰذا صاحبو!سچی بات ہے سیاپے کی یہ نائین(پیغام دینے والی مائی)تھک چکی ہے۔ آخرقبرستانوں میں اذان دینے کی ایک حدہوتی ہے
 رہادوسرااعتراض تومیں نے پچھلی چار دہائیوں میں سیاستدانوں کے وہ رنگ دیکھے کہ لفظ سیاست سے مجھے گھن آتی ہے۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی کچراگھرکی دیوارپر بیٹھاہوں ، ایسی دیوارجس میں اصول، انصاف، وفاداری، ایمانداری اورضمیر نام کی ہروہ خوبی، ہروہ  وصف گل سڑرہا ہے ، جس کی وجہ ایک درندہ اشرف المخلوقات بنتا،مجھے ان اوصاف،ان خوبیوں کے لاشوں میں کیڑے رینگتے نظرآتے ہیں۔میں نے ان پچھلی چاردہائیوں میں ان لوگوں کواپنے محسنوں کوگالیاں دیتے دیکھا۔ میں نے فوجی حکم رانوں پرتنقیدکرنے والوں کوان کے تلوے چاٹتے دیکھا۔آپ کویادہوگاکہ جنرل ضیاالحق نے جب کہاتھاکہ میں ان سیاستدانوں کو اشارہ کروں تویہ دم ہلاتے میرے پاس آجائیں۔
آپ کسی غیرت مندکوگالی دے سکتے ہیں لیکن جس کی آنکھوں کی شرم ہی مرچکی ہو،جسے پارٹی بدلتے،وفاداری تبدیل کرتے، نظریہ اورمنشور بھلاتے اتنے دیربھی نہ لگتی ہوجتنی بنیان بدلنے یا جرابیں تبدیل کرنے میں لگتی ہے توآپ اس کوکتنا برا بھلاکہہ دیں گے۔ان سے تووہ شخص بہترتھا جس نے یہ کہاتھاکہ میں انکارمیں اتناآگے جاچکا ہوں کہ میرے لئے واپسی ممکن نہیں۔آپ خود سوچیں!بدبوکے اس جوہڑپرکیالکھاجائے؟ان غلاظت اورسڑاندبھرے کچراگھروں سے کون ساسورج طلوع ہوگا،یہ لوگ کس مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔قوم نے این آراوجیسے سمجھوتوں کی کوکھ میں پروان چڑھنے والے لوگ اپنی انا،اپناضمیر اوراپنی زبان گروی رکھ کر جنم لینے والوں سیاستدانوں کومسنداقتدارپربھی دیکھاہے اورآج وہ جمہوریت جوکسی اورکی بانہوں میں ہلکورے لے رہی ہواس سے کیاتوقع کی جاسکتی ہے؟
جوایک بوڑھی ماں کے ساتھ بلکہ قوم کی بیٹی عافیہ کی رہائی کوشب وروزاپنی سیاست کاوظیفہ بناکرمسنداقتدارپہنچتے ہی اپناپہلا کام بتاتے تھے، اب  نہ صرف آنکھیں پھیرچکے ہیں بلکہ عافیہ کی بہن سے ملنے سے بھی گریزاں ہیں،ایسے حکمراں جو اپنے ہی نظریئے پرقائم نہیں رہ سکے،جو ایفائے عہد کاپاس نہ کرسکے، وہ میرے یاآپ کے کیاہوں گے۔ وہ میرے نظریات ، میرے احساسات اور میرے جذبات کی کیاترجمانی کریں گے۔وہ میرے لئے تبدیلیوں کے کون سے سورج تراشیں گے، وہ انقلاب کے کن سویروں کی پنیریاں لگائیں گے؟یادرکھیں میرے آقاومربی خاتم  النبیین ﷺ  کا قول مبارک ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں:  حضرت ابو ہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ کہے، جب وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے اور جب اس کو امانت دار سمجھا جائے توخیانت کرے ‘‘۔
 یہ نیت کی بد دیانتی کا اور جھوٹی نیت کا نتیجہ ہے، کیونکہ آدمی گناہ گار اس وقت ہے جب وعدہ یا عہد کرتے وقت اس کی نیت ہی وفا کی نہ ہو یا بعد میں وفا کی نیت پر قائم نہ رہے، اگر نیت وعدہ وفا کرنے کی ہے ، مگر حالات کے ہاتھوں بے اختیار ہو نے کی وجہ سے وعدہ وفا نہ کر سکا تو اس پر مواخذہ نہیں۔اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا ، مگر اس کی طاقت کے مطابق(البقر: 286)لیکن جو وعدہ خلافی کو ’’یوٹرن‘‘کوبرملا اپنی سیاسی بصیرت کانام دے، اس کا کیا اعتبار کیا جائے۔ میرے آقانبی اکرم ﷺ کافرمان ہے: انسان کی فطرت میں خیانت اور جھوٹ کے علاوہ تمام خصلتیں ہو سکتی ہیں۔ 
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

مہنگائی کانیاطوفان آنے کو۔۔۔ڈالر نےاگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،امریکی کرنسی کی قدرمیں کتنااضافہ ہوگیا؟جان کرپریشان ہوجائیں گے

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

یوٹیوب نے عوام سے کیاگیااپناوعدہ پوراکردیا۔۔۔شاندارسہولت متعارف کر ادی

 ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

ملک کے بیشتربالائی وسطی علاقوں میں موسم خشک رہے گا

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

سردیوں کا آغاز ہو گیا۔۔موسم سرما کی پہلی برفباری ۔۔پاکستان کا کون سے اہم ترین علاقے نے برف کی چادر اوڑھ لی ؟جانیے تفصیل

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

ملک آج بھی کرپشن کے سرطان کی جکڑ میں ہے۔سراج الحق 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

تحریک انصاف نے قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرلیا 

 شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

شہباز شریف اورسلمان شہباز کی بریت کی خبر غلط اور مس رپورٹنگ ہے۔شہزاد اکبر

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ایف آئی اے شہباز خاندان کیخلاف ثبوتوں کے 5تھیلے سامنے لے آیا

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

ربیع الاول کا چاند7اکتوبر بروز جمعرات کو نظرآنے کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات 

 میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

میرے دادا کہتے تھے بیٹا عوام کی خدمت ایسے کرو کہ عوام آپ کو یادرکھے۔حمزہ شہباز

 ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ

ہم نے خدمت کے ریکارڈ قائم کیے اس لیے قوم نے ہم پر بار بار اعتماد کیا،رانا ثنا اللہ

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہنگامی دورے پر امریکہ روانہ 

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ہنگامی دورے پر امریکہ روانہ 

کورونا کے بعد ڈینگی کے وار جاری ۔۔۔ سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں کیسز رپورٹ 

کورونا کے بعد ڈینگی کے وار جاری ۔۔۔ سندھ اور پنجاب میں سینکڑوں کیسز رپورٹ 

مہنگی چینی کی درآمدگی قومی خزانے کو لوٹنے کی بڑی واردات ہے  ،شازیہ مری

مہنگی چینی کی درآمدگی قومی خزانے کو لوٹنے کی بڑی واردات ہے ،شازیہ مری