12:38 pm
بہتری کی جانب سفر

بہتری کی جانب سفر

12:38 pm

تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان نے گزشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور ان کی پارٹی کے لوگوںکو پہلے ایک سال تو سمجھ ہی نہیں آئی کرنا کیا ہے ۔اب آہستہ آہستہ سمجھ آنا شروع ہوئی ہے ۔اور یہ کہ امریکہ کے صدارتی طریقہ کار کی طرح حکومت کو اقتدار سنبھالنے سے پہلے کچھ عرصہ ٹریننگ پیریڈ سے گذرنا چاہیئے ۔ یوں تو عمران خان پُرعزم اور باہمت ہین جس کام کی ٹھان لیتے ہیں وہ کر گزرتے ہیں ۔ ایک بات البتہ سمجھ میں نہیں آرہی کہ وہ گزشتہ بائیس سال سے سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی سیاسی جماعت کو مستحکم کرنے میںلگے رہے ہیں ۔ا بھی اقتدار میں آنے سے قبل انہوں نے ٹاسک فورسز بنائیں ۔ منشور بنایا ۔ بار بار یہی کہتے تھے ہماری بھرپور تیاری ہے اور ہم جیسے ہی اقتدار میں آئے اپنی پارٹی کا منشور نافذ کریں گے۔ ان لوگوں نے 2014 میں دھرنا دیا تو اسی وقت حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا مطلب یہی تھا کہ وہ اور ان کی پارٹی برسراقتدار حکومت سے بہتر حکومت چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں اس کے بعد بھی چار سال کا عرصہ تھا ان کے پاس ۔ مگر اب گلہ کیوں ۔ فارن ایجوکیٹڈ ایک ملٹی نیشنل کا تجربہ رکھنے والے ان کے وزیر خزانہ تھے۔ متعدد بار وزارت خزانہ چلانے والے وزیر خزانہ بھی آگئے ۔ سٹرٹیجک کمیونی کیشن کے لیے امریکہ سے ایکسپرٹ لائے گئے۔ نیشنل سیکورٹی کیلئے امریکہ سے کوالیفائیڈ ایکسپرٹ لائے گئے۔ متعدد حکومتوں میں کام کرنے والے تجربہ کار نصف درجن سے زائد وزراء ان کی حکومت میں شامل ہیں اور مقابلے میں ایک شکست خوردہ پٹی ہوئی مایوس اپوزیشن جو اپنے لیڈروں کے خلاف کرپشن کیسز کے دفاع سے ہی فارغ نہیں ہو پا رہی ۔ اسٹبلشمنٹ کی بھرپور حمایت ۔ پھر بھی یہ شکوہ کہ ایک سال سمجھ ہی نہیں آئی ۔ کچھ مناسب نہیں لگتا۔
یوں تو وطن عزیز ابتداء سے ہی تجرباتی لیبارٹری رہی ہے ۔ سیاستدانوںاور ٹیکنو کریٹس نے سیاسی میدان کو تجربہ گاہ ہی بنائے رکھا۔ قائدا عظم تو چلے گئے لیاقت علی شہید کردئیے گئے ۔ سربراہی پھر ایک بیو روکریٹ نے سنبھال لی ۔ آرمی چیف کو ڈیفنس وزیر بنا دیا گیا ۔ پارلیمانی نظام جیسے تیسے چلائے رکھا پھر فوج آگئی ایک نیا سیاسی نظام بنیادی جمہوریت کے نام سے نافذ کیا گیا ۔ صدر مملکت کے تحت صدارتی نظام چلایا گیا ۔ ون یونٹ بنا دونوں صوبوں میں پیرٹی کے نام پر یگانگت قائم رکھنےکی کوشش کی گئی چند سال بعد یہ بھی ختم پھر مارشل لاء ۔ پھر ملک دولخت ہوا صدارتی نظام رہا دو سال بعد پھر آئین بنا پھر پارلیمانی نظام چند سال بعد پھر نظام مصطفیٰ کے نفاذ کی آوازیں بلند ہوئیں ۔ ہنگامے ہوئے پھر مارشل لاء ۔ پھر ایک نیا تجربہ مجلس شوریٰ بنائی گئی سیاسی یتیم سیاسی لوگوں کو اکٹھا کیا گیا ۔ مسلم لیگ کے سینئر رہنما اسی شوریٰ کے صدر بن گئے ۔ اسی غیر منتخب اسمبلی کے اراکین کو پہلی بار ترقیاتی فنڈز دینے کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ یہ حکومت کے نامزد کردہ عوامی نمائندے عوام کیلئے فلاحی کام کروائیں پھر زکوٰۃ کے نظام کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قومی اورصوبائی سطح پر زکوٰۃ کونسلیں بنائی گئیں ۔ لوکل گورنمنٹ الیکشن کروائے گئے یونین کونسل لیول پر زکٰوۃ کونسلیںبنائی گئیں ۔ پھر قومی سربراہ نے سوچا الیکشن کرائے جائیں۔ پارٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ غیر جماعتی طریقے پر الیکشن ہوئے ۔ قومی اسمبلی بنی مگر پہلے ہی اجلاس میں اکثریتی جماعت مسلم لیگ بن گئی۔ پھر 1988ء میں  ایک اورالیکشن نئی حکومت ۔ صدر کے پاس اسمبلیاں توڑنے کا اختیار مارشل لاء کے ضابطے کے تحت رکھا گیا جسے 1985 ء کی اسمبلی نے رے ٹی فائی کردیا ۔ یوں یہ آئین کا حصہ بن گیا۔
پھر ایک اور صدر نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نظام نافذ کر دیا جو نہ پارلیمانی حکومت کے ممبران اسمبلی کو گوارا تھا اور نہ ہی بیورو کریسی کو ۔ یوںیہ نظام چند سال بعد ہی ختم ہو گیا۔ 
الغرض 73 سالہ تاریخ ایسے ہی سیاسی تجربات سے عبارت ہے ہر کہ آمد عمارت نو ساخت ۔ مگر کسی نے اس عمارت کی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم کرکے ایک پائیدار نظام نافذ کرنے پر توجہ نہیں دی ہر کوئی وقت گزاری اور ڈنگ ٹپائو پالیسیوں کو لے کر آگے چلتا رہا ۔ ہر آنے والے نے جانے والے پر تنقید کی کرپشن اور لوٹ مار کی باتیں کیں ۔ ملکی خزانے کے خالی ہونے کا رونا رویا اور ملک پرقرضوں کا بوجھ بڑھاتا گیا ۔ ایک بہت ہی تجربہ کار وزیر خزانہ نے 8 فیصد سود پر انٹرنیشنل بانڈ جاری کئے جو کہ جاری ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر بک گئے ۔ اور وہ بھی بیرون ملک پاکستانیوں نے یہ بانڈز ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خرید لیے ۔ کیونکہ امریکہ کے بنکوں سے 2 فیصد سود پر قرضہ لے کر حکومت پاکستان کو 8 فیصد قرضہ دے دینا نہایت نفع بخش سودا تھا۔ پھر قرض اتارو ملک سنوارو شروع کیا گیا ۔ نجانے وہ فنڈز کہاں گئے سابقہ حکومت نے ملک کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر چلایا ۔ کیونکہ وہ اپنے حساب سے خوشحالی چاہتے تھے ۔ جہاں کہیں قانون اور ضابطے رکاوٹ بنے انہوں نے کمپنیاں بنا کر ترقی کرنے کے منصوبے بنا لئے ۔ کبھی کوئی حکومت نظام حکومت کو ریاستی نظام کی طرز پر چلاتی رہی۔ہر حکومت اپنی مرضی کے ترقیاتی منصوبے بناتی اور عمل درآمد کرتی رہی کسی نے ان غریب لوگوں سے نہیں پوچھا کہ تمہیں کیا چاہیئے ۔ تعلیم سب کے لیے کا نعرہ دیا گیا اور ایک نئی بزنس کلاس وجود میں آگئی اور طول و عرض میں انگلش میڈیم سکول۔ کالجز اوریونیورسٹیاں بن گئیں۔ سرکاری سکول اور تعلیمی ادارے بے بسی کا نشان بن گئے۔ صحت سب کے لیے کا نعرہ لگایا گیا تو چہار سو ہسپتال ۔ کلینک ۔ لیبارٹریاں بننی شروع ہو گئیں ۔ اور سرکاری ہسپتال ان پرائیویٹ اداروں کے لیے فیڈر کاکام کرنے لگے ۔ پھر نئی صدی شروع ہوئی تو انہی تعلیمی اداروں اور صحت عامہ کے اداروں کے مالکان نے ٹی وی چینلز بنا لئے اوردن رات حکومتوں پر تنقید اور(باقی صفحہ4بقیہ نمبر1)
 مشاورت کے فرائض انجام دینے لگے ۔ انہی کے نمائندے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے بااثر کارکن بن گئے اورپھر یہی میڈیا حکومتوں کو Dictate کرنے لگا ۔ اور حکومتیں انہی کی ایڈوائس اور مشورے کو اہمیت دینے لگیں۔ غیر محسوس انداز میں Trends سیٹ ہونے لگے ۔ جب وزیراعظم مافیا کے خلاف بات کرتے ہیں تو مافیا بھی مافیا کے خلاف بات کرتا ہے لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مافیا آخر ہے کون ؟ اوریہ مافیا ہے کہاں ؟
    اب کبھی چائنا ماڈل کبھی ترکش ماڈل اور کبھی امریکی نظام کی اچھائیوں کی گونج سنائی دیتی ہے لیکن ریاست مدینہ بنانے کی کوششیں تو دن رات جاری ہیں ۔ اب نہ جانے کون سی اور کیسی ریاست مدینہ کا ماڈل اپنانے کی خواہش اور کوشش ہے ابھی تک تو واضح ہی نہیں ہو سکا کیونکہ جب سربراہ حکومت کو سال ڈیڑھ سال سمجھ ہی نہیں آئی کہ صورت حال کیا ہے تو اب جبکہ حالات کا ادراک ہونے لگا ہے تو شاید کسی ایک ماڈل کو اپنانے پر کام بھی شروع ہو سکے گا ۔ مگر ایشو تو گورننس کا ہے اور گورننس بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوتے ہیں محض نعروں اور ٹی وی ڈی بیٹس سے کچھ نہیں ہو تا ۔ فیلڈ میں کام کرنے والوں کو اعتماد دینا ہوتاہے اور اعتماد کرنا پڑتا ہے ۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا تو اسی ایشوز پر نیشنل ڈائیلاگ سے ہی نیا نظام آئے گا اور بہتری آئیگی ۔ نہ دھرنوں سے کچھ ہوگا نہ ہی جلسوں سے کچھ حاصل ہو گا۔ ڈر اور خوف کی فضا میں کبھی نہ بہتررائے آئی ہے نہ ہی کوئی اختلاف رائے کی ہمت کرتا ہے ۔ محض دھمکیوں سے بہتری کی امید رکھنا مناسب نہیں ۔ ریاست مدینہ محبت ، درگزر اور مشاورت کے اصولوں پر قائم ہوئی اورمستحکم ہوئی ۔


 

تازہ ترین خبریں

مہنگائی کا طوفان۔۔۔۔۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل سمیت دیگر اشیا خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ

مہنگائی کا طوفان۔۔۔۔۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل سمیت دیگر اشیا خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ

مشکل وقت میں ایک فون تک نہیں کیا گیا،نذیر چوہان

مشکل وقت میں ایک فون تک نہیں کیا گیا،نذیر چوہان

 نذیر چوہان نے جہانگرترین پر استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دینےکا الزام عائدکردیا

نذیر چوہان نے جہانگرترین پر استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دینےکا الزام عائدکردیا

کشمیر پریمئیر لیگ ۔۔۔کھلاڑیوں کی کورونا  ٹیسٹنگ مکمل

کشمیر پریمئیر لیگ ۔۔۔کھلاڑیوں کی کورونا ٹیسٹنگ مکمل

 معاشی حالات ٹھیک ہوتے ہیں تو جرائم کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔شیخ رشید احمد

معاشی حالات ٹھیک ہوتے ہیں تو جرائم کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔شیخ رشید احمد

فیصلہ محفوظ ،رہائی ملنے والی ہے ؟ نور مقدم کیس میں جمعرات کو کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

فیصلہ محفوظ ،رہائی ملنے والی ہے ؟ نور مقدم کیس میں جمعرات کو کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

نویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کو لازمی مضامین میں اضافی نمبر دیے جائیں گے

نویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کو لازمی مضامین میں اضافی نمبر دیے جائیں گے

شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے16افراد ہلاک

شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے16افراد ہلاک

 جس وقت کشمیر فروشی کی جارہی تھی اس وقت کہا گیا ورلڈ کپ جیت کر آئے۔ مریم اورنگزیب 

 جس وقت کشمیر فروشی کی جارہی تھی اس وقت کہا گیا ورلڈ کپ جیت کر آئے۔ مریم اورنگزیب 

وزیر اعظم کو آزاد کشمیر کےلئے لکی نمبر اور لکی نیم بتایا گیا

وزیر اعظم کو آزاد کشمیر کےلئے لکی نمبر اور لکی نیم بتایا گیا

ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

ن لیگ دو ٹکروں میں تقسیم ۔۔ آزاد کشمیر انتخابات ہارنےکےبعد قیادت کے راستے جدا ہوگئے ہیں ۔ فرخ حبیب

ن لیگ دو ٹکروں میں تقسیم ۔۔ آزاد کشمیر انتخابات ہارنےکےبعد قیادت کے راستے جدا ہوگئے ہیں ۔ فرخ حبیب

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کراچی میں منی ایکسچینج کیش وین پر فائرنگ ۔۔۔۔ دو افراد جاں بحق ہوگئے

کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ ۔۔۔۔ پنجاب کے چار اضلاع میں مزارات بند کرنے کا فیصلہ

کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ ۔۔۔۔ پنجاب کے چار اضلاع میں مزارات بند کرنے کا فیصلہ