12:40 pm
امریکی جمہوریت کا کڑا امتحان 

امریکی جمہوریت کا کڑا امتحان 

12:40 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
کئی کامیابیوں کے باوجود ٹرمپ کے مزاج کی خود سری نے ان کے حریفوں کو مدد فراہم کی، کورونا وبا میں بھی ٹرمپ کے غیر دانش مندانہ ٹوئٹ اور پھکڑ پن کا سلسلہ جاری رہا۔امریکا میں جس تیز رفتاری سے ویکسین تیار ہوئی اسے وسائل کے منظم انداز میں استعمال  اور طبی سائنس کا معجزہ کہا جاسکتا ہے لیکن المیہ یہ رہا کہ اپنے حامیوں میں اپنا ’’طاقت ور‘‘ امیج  برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ نے ایسا رویہ اختیار کیا جس سے ان کی کامیابیاں ماند پڑ گئیں۔
دوسری جانب امریکی اسٹیبلشمنٹ کے بعض شبہات درست نکلے۔ امریکی مقتدرہ کو ٹرمپ پر سب سے بڑا شبہہ یہ تھا کہ  روس نے سوشل میڈیا کے ذریعے امریکی انتخابات میں مداخلت کی کیوں کہ وہائٹ ہائوس میں روس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا صدر اس کے مفاد میں تھا۔ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی اداروں پر ہونے والے بڑے ہیکنگ کے حملے کا الزام بھی روس پر عائد کرنے سے انکار کردیا۔ روسی صدر پیوتن ففتھ جنریشن وار کو ایک نئی سطح پر لے جاچکے ہیں اور کوئی لیڈر اپنے قومی مفاد کے لیے ایسا کیوں نہیں کرے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ پیوتن کے پاس ٹرمپ کا ایسا کچھ ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ روس سے ڈرتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کی چار سال کی کامیابیاں بھی دھندلا گئیں۔ 
امریکا کی اوہایو یونیورسٹی کے ڈائریکٹر برائے انتخابی قوانین ،ایڈورڈ فالی  بذریعہ ڈاک ووٹ یا پوسٹل بیلٹ کو حالیہ دہائیوں میں ووٹوں کی گنتی پر پیدا ہونے والے سنگین تنازعات کی جڑ‘‘ بتاتے ہیں۔ 2003سے 2018کے مابین 15بار ایسا ہوا کہ کسی سخت مقابلے  میں ان ووٹوں کے ذریعے ہونے والی جعل سازی کی بنیاد پر نتائج منسوخ کیے گئے۔ مارچ 2020تک ٹرمپ کو انتخابی نتائج کا اندازہ ہوچکا تھا۔ رواں برس مئی میں اپنی شکست یقینی نظر آنے کی وجہ سے ٹرمپ نے پوسٹل ووٹنگ میں جعل سازی پر واویلا شروع کردیا۔ستمبر میں پینسلوینیا سپریم کورٹ نے ڈاک سے پڑنے والے ووٹوں کے قابل قبول ہونے کی تاریخ میں توسیع کردی اور انہیں ڈراپ باکسز میں جمع کروانے کی اجازت بھی دے دی۔ ریپبلکنز نے اس فیصلے کو روکنے کے لیے امریکی سپریم کورٹ سے  رجوع کیا لیکن 19اکتوبر کو عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی۔ پینسلوینیا کے ریپبلکنز نے مدت میں توسیع کے فیصلے کو روکنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر عدالتی کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن 28اکتوبر کو عدالت نے اس درخواست کی قبل از انتخاب سماعت سے انکار کردیا۔  28اکتوبر ہی کو ریپبلکنز نے شمالی کیرولینا میں ریاست کے انتخابی بورڈ کی جانب سے وبا کی بنیاد پر انتخاب کے دن کے نو دن بعد تک  بیلٹ ووٹس قبول کرنے کی مہلت کو تین دن تک محدود کرنے کی استدعا کی۔ 4نومبر کو وفاقی جج ایمیٹ جی سلیوان نے امریکا کے پوسٹ ماسٹر جنرل لوئس ڈیجوائے کو فوری طور پر  تمام پوسٹل ووٹ پہنچانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ ڈیجوائے اس حکم پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو عدالت نے کہا کہ انہیں عہدے سے برخاست کردینا چاہیے۔  
امریکی میڈیا میں پائی جانے والی ٹرمپ کی مخالفت کی وجہ سے انتخابات سے متعلق رپورٹس اور سرویز سے ڈیموکریٹس کی برتری کا تاثر ملنا یقینی بات تھی۔ وبا کے دنوں میں ٹرمپ کی ٹوئٹس کے ذریعے کی گئی لغو گوئی نے   رہی سہی کسر پوری کردی۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد ٹرمپ نے بالخصوس ٹیکساس،جارجیا،وسکونسن اور مشی گن کے انتخابی نتیجوں کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ سپریم کورٹ میں اپنے ہم خیال جج بھرتی کرنے کے بعد تجارت پیشہ ٹرمپ کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ اس کی جیب میں ہے۔ یہ ٹرمپ کا مغالطہ تھا کیوں کہ نظریاتی ہم آہنگی کے باوجود ان ججوں نے بلا خوف و رغبت فیصلے کیے۔ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو 50قانونی کارروائیوں میں منہ کی کھانا پڑی۔ 13دسمبر کو 538الیکٹورل کالج کے ممبران نے ووٹ دیا اور ٹرمپ کے 232ووٹوں کے مقابلے میں بائیڈن نے 306ووٹ حاصل کرلیے۔ ٹرمپ کے قریبی دوست اور سینیٹ میں ریپبلکن کے اکثریتی قائد مچ مک کونل نے بائیڈن کو انتخاب جیتنے پر مبارک باد دے دی جو کہ ٹرمپ کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔ 
 حال ہی میں ٹرمپ کا جارجیا کا دورہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کے لیے ’’بوسۂ مرگ‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ہنگامہ خیزی میں کئی مرتبہ یہ محسوس ہوا کہ امریکا کا جمہوری نظام خطرے میں ہے لیکن سپریم کورٹ سے ٹرمپ کے انتخابی اعتراضات مسترد ہونے اور ریپبلکنز کے سینیٹرز اور ایوان نمائندگان کے ارکان کی اکثریت کی جانب سے انتخابی نتائج تسلیم کرلینے سے تمام تر دبائو کے باوجود نظام محفوظ رہا۔ بائیڈن کو ٹرمپ پر یوں بھی 70لاکھ ووٹوں کی برتری مل گئی تھی۔ 
ٹرمپ کے قریبی ساتھی روڈی جیولیانی اور اس کی ٹیم کی جانب سے افواہوں کی گرم بازاری اور ٹرمپ کے سوئنگ اسٹیٹ کے نمائندگان سے رابطوں کے باوجود کوئی منتخب نمائندہ ’بے ضمیر‘ نہیں ہوا۔ جب حال ہی میں ثابت شدہ مجرم لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلین کو صدارتی معافی دی گئی تو کئی خدشات پیدا ہوئے، اس کے ساتھ ہی انتخابی نتائج کو مسترد کرنے کے لیے ’مارشل لاء‘ لگانے کی چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ پاکستان کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ فلین چند دنوں  کے لیے ٹرمپ کا  قومی سلامتی کا مشیر رہا کیوں کہ یہ وہ مشتبہ شخص ہے جو یہ عہدہ ملنے سے قبل پاکستان پر بمباری کا پُرزور حامی تھا۔ بہرحال،ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف اور سینیئر قانونی مشیروں نے ’مارشل لاء‘ کی تجویز مسترد کردی۔مبینہ طور پر پینٹا گون میں ٹرمپ کے طرز عمل پر گہری تشویش پیدا ہوئی اور خاص طور پر مارشل لاء سے متعلق مشاورت نے سنجیدہ سوالات پیدا کردیے۔ 
ٹرمپ کے وفاداروں اور دوستوں کے اکسانے کے باوجود نظام کی مضبوطی ثابت ہوئی۔ ٹرمپ ہی کے مقرر کیے گئے سپریم کورٹ کے تین ججوں نے جمہوری نظام کو قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکی انتخاب کی اس ہنگامہ خیزی کے بعد جمہوریت کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوئی۔

تازہ ترین خبریں

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

 پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے