12:41 pm
قائداعظم زندہ باد! مسیحی برادری کو کرسمس مبارک!

قائداعظم زندہ باد! مسیحی برادری کو کرسمس مبارک!

12:41 pm

٭قائداعظم زندہ باد اور مسیحی بھائیوں کو کرسمس مبارک! حضرت عیسیٰ مسیحؑ ہمارے لئے  بھی نہائت واجب التکریم نبی ہیں۔ ان کا یوم پیدائش ہمارے لئے بھی لائق تعظیم ہے۔ مجھے بانی پاکستان، مسلمانوں کے محسن جناب قائداعظم کے بارے میں عام باتوں سے ہٹ کر کچھ لکھنا ہے۔ میں دو سال کراچی میں رہا۔ کئی بار مزار پر حاضر ہو کر دعائے مغفرت پڑھی، مزار پر گارڈ تبدیل ہوتے دیکھے۔ اس بار ایک منظر نے مجھے جذباتی کر دیا ہے۔
ممکن ہے یہ کچھ پہلے بھی ہوتا رہا ہو مگر میں نے پہلی بار زیارت (بلوچستان) شہر میں حضرت قائداعظم کو عسکری فورس کا گارڈ آف پیش کئے جانے کا منظر دیکھا ہے۔ اس نہائت باوقار تقریب میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ، جنوبی کمان کے کور کمانڈر، آئی جی پولیس، قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور دوسری بہت سی اہم شخصیات موجود تھیں انہوں نے قائداعظم کے آخری سانسوں کی امین اس خوبصورت عمارت کو سلام کیا۔ دسمبر کے آخری ہفتے میں زیارت میں بہت برف باری ہوتی ہے، اس بار بھی ہوئی ہے مگر یہ سارے لوگ شدید سردی میں اپنے عظیم محسن کو سلام کرنے آئے ہیں۔ میں ان سب کو سلام کرتا ہوں۔ سبز رنگ کی مکمل طور پر اعلیٰ قسم کی لکڑی سے بنی ہوئی یہ انتہائی خوبصورت دو منزلہ عمارت ہے۔ جو باہر نصب لکڑی کے ستونوں پر کھڑی ہے۔ اس کے دس دروازے ہیں۔ اوپر ایک کمرے میں محسن پاکستان قائداعظم، ساتھ والے کمرے میں ان کی عظیم ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح رہتی تھیں۔ میں نے بلوچستان میں دو سالہ قیام کے دوران اکثر اس عظیم یادگار پر حاضری دی۔ قائداعظم کے زیر استعمال کراکری، شیو کے خوبصورت سامان، قلم اور لباسوں کو دیکھ کر جذباتی ہوتا رہا۔ اس عمارت کے ساتھ بلند و بالا درختوں والے وسیع لان میں مخمل کی طرح نہائت نرم اور اعلیٰ قسم کی ہلکے سبز رنگ کی گھاس کا فرش بچھا ہوا ہے۔ اس کے اردگرد تقریباً ایک ایک فٹ چوڑے Tulip کے پھول دیکھے ہیں  یہ گھاس اور یہ پھول ملک بھر میں کہیں اور دکھائی نہیں دیئے۔ 15 جنوری 2013ء کو شرپسند دہشت گردوں نے اس عمارت پر حملہ کر دیا، چار سکیورٹی گارڈ شہید ہو گئے اور پوری عمارت جلا دی گئی۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی نے پوری عمارت اسی طرح ہو بہو نئے سرے سے تعمیر کرائی اور 14 اگست 2013کو وزیراعظم نوازشریف نے نئی عمارت کا افتتاح کیا۔ میں بوقت تحریر اس عمارت کے سامنے گارڈ آف آنر کی تقریب کو دیکھ کر جذباتی ہو رہا ہوں۔ آنکھیں آبدیدہ ہو رہی ہیں۔
٭آج کل اخبارات اور ٹیلی ویژن پیچھے رہ گئے ہیں، سوشل میڈیا کے ڈھولچی اور حکومتی طوطے ایسی ایسی ہوائیاں چھوڑ رہے ہیں، ایسی ایسی آتش بازی کہ ایک لمحے میں محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کا کام ہو گیا، اپوزیشن کا جشن شروع ہو گیا، دوسری طرف حکومت چوبداروں کا فتح کا نقارا کہ ’’اپوزیشن گم ہو گئی، پھوٹ پڑ گئی، غبارے سے ہوا نکل گئی اور حکومت نہ صرف محفوظ بلکہ ماش کے آٹے کی طرح پہلے سے زیادہ اکڑ گئی ہے!‘‘ صبح اخبارات آنے سے پہلے موبائل فون پر سوشل میڈیا کھول بیٹھا!! ایسی ایسی ’’یقینی‘‘ دُرفطنیاں کہ …’’حکومت کا خاتمہ بالخیر! چینی سفیر نے احسن اقبال سے گھر پر ملاقات کر کے عمران خان کی حکومت پر سی پیک کو ناکام بنانے کا الزام اور حکومت کے خلاف نوازشریف کا ساتھ دینے کا یقین دلا دیا ہے‘‘ …دوسری خبر! ’’ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے مریم نواز کو شاہی مہمان کے طور پر سعودی عرب آنے اور ملاقات کی دعوت دے دی ہے، مزید یہ کہ نوازشریف لندن سے سعودی عرب منتقل ہو رہے ہیں، پاکستان کی حکومت ان کی واپسی کے لئے بے بس ہو گئی‘‘ تیسرا دھماکہ … ’’ایم کیو ایم نے عمران خان کا ساتھ چھوڑنے، سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیا…‘‘ چوتھی فائرنگ، ’’جی ایچ کیو کے نمائندہ پیر پگاڑا اور پیر پگاڑا کے نمائندہ محمد علی درانی کی جیل میں بند شہباز شریف سے طوفانی ملاقات،حکومت کے خلاف تحریک، لانگ مارچ کی مکمل حمائت کی یقین دہانی کرا دی‘‘ ایک اور ہل چل مچانے والی خبر کہ پاک فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل فیض کے ساتھ اچانک وزیراعظم عمران خان سے ایسی ہی ملاقات کی ہے، جیسے جنرل ضیاء الحق نے صرف ایک دن پہلے سینے پر ہاتھ رکھ کر رکوع کے عالم میں سلامی دی تھی اور قرآن کے حلف پر یقین دلایا کہ ’’ہم آپ کے وفادار ہیں‘‘ اور اگلے روز وزیراعظم کو گرفتار کر کے اسے پھانسی دے دی…! اپوزیشن کے کھوجیوں نے آرمی چیف کی عمران خان کے ساتھ ملاقات کو اتنے اعتماد اور یقین کے ساتھ بیان کیا کہ میں نے فوراً ٹیلی ویژن کھول کر مختلف چینل بدلنے شروع کئے، کوئی ایسی بات بلکہ اشارا بھی نہیں تھا، ہوا میں مولانا فضل الرحمان کے الفاظ کی گونج بڑھ گئی کہ ’’میں نے عمران خان کو شکنجے میں کس لیا ہے!‘‘ میرا اضطراب بڑھ گیا۔
اضطراب کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کی حکومت جاتی ہے تو جائے اس نے ڈھائی برسوں میں انڈوں اور ادرک کی قیمتیں آسمان پر پہنچانے کے سوا اور کیا کام کیا ہے مگر اپوزیشن یہ نہیں بتا رہی کہ تھپڑباز اور جوتا باز قسم کے چوبداروں کی یہ حکومت چلی بھی جاتی ہے تو پھر کیا ہو گا؟ اپوزیشن کا موجودہ اتحاد تو کھوکھلا ہو چکا ہے۔ آپس میں دال بٹ رہی ہے استعفوں کے لئے ایک پارٹی شمال میں دوسری جنوب میں، تیسری جنوب میں چوکے چھکے لگا رہی ہے۔ بلاول بار بار ذکر کر رہا ہے کہ ’’مجھے جنرل باجوہ نے فون کیا!‘‘ ن لیگ کے شعلہ بیان حمائتی خواجہ آصف ایک عرصے سے غائب، خاموش!! آصف زرداری کو جھوٹا قرار دینے کا بیان کیا دیا، لبوں پر ٹیپ لگا دی گئی کہ بس اب کچھ نہیں بولنا!!
٭کچھ دیر بعد اخبارات آ گئے۔ خیال تھا کہ چیختی چنگھاڑتی بڑی بڑی سرخیاں دل دہلا دیں گی!! مگر! …مگر…بہت ’مایوسی‘ ہوئی! اخبارات کو بار بار پڑھا، اپوزیشن کی بڑھکوں اور ہوائیوں والی کوئی بات نہ ملی۔ الٹا سرکاری طوطوں کے بیانات کا انبار کہ ’’ستے خیراں (خیر ہی خیر!) ہیں۔ اپوزیشن کے غبارے سے ساری ہوا نکل گئی ہے… تمام ہوائیاں اور انکشافات بے بنیاد ہیں، حکومت بالکل محفوظ ہے بلکہ پہلے سے زیادہ اکڑ گئی ہے۔‘‘ اخبارات میں محمد علی درانی کا صحافیوں سے بات چیت کے دوران واضح بیانات تھا کہ میں نے شہباز شریف کو پیر پگاڑا کا پیغام پہنچایا ہے کہ محاذ آرائی کی بجائے حکومت سے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے، اور یہ کہ شہباز شریف نے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تو پہلے سے ہی اور مفاہمت اور مصلحت کی بات کر رہے ہیں، کوئی سنتا ہی نہیں۔ یوں اپوزیشن کے ترجمانوں کی یہ بات راستے میں رہ گئی محمد علی درانی شہبازشریف کو جی ایچ کیو کی طرف سے عمران خان کی حکومت کے خلاف کوئی خوش خبری سنانے آئے تھے۔ دوسری طرف استعفوں بلکہ ’پراسرار‘ استعفوں نے ڈرامائی شکل اختیار کر لی ہے۔ مریم نواز نے حکم جاری کیا کہ ن لیگ کے اسمبلیوں کے ارکان فوری طور پر استعفے میرے پاس جمع کرا دیئے جائیں۔ پھر اعلان آیا کہ ن لیگ کے سارے استعفے آ گئے ہیں۔ اس دوران قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کا بیان آ گیا کہ ان کے پاس ن لیگ کے قومی اسمبلی کے  دو ارکان کے لیٹر پیڈوں پر ان کے استعفے موصول ہوگئے ہیں اور یہ کہ سپیکر نے ضوابط کی دفعہ 43 کے تحت ان دونوں کو تصدیق کے لئے بلا لیا ہے۔ اس پر کھلبلی مچ گئی۔ دونوں ارکان نے کہا ہے کہ انہوں نے سپیکر کو کوئی استعفا نہیں بھیجا۔ مریم نواز کا بھی یہی بیان ہے! پھر سپیکر کے پاس استعفے کیسے پہنچے؟ ایک بات ہو سکتی ہے کہ شائد کسی سازش کے تحت ان ارکان کے جعلی لیٹر ہیڈوں پر جعلی استعفے بھیجے گئے ہوں! ویسے استعفوں کی بات ویسے ہی مدھم پڑ چکی ہے۔پیپلزپارٹی استعفوں کے خلاف جا رہی ہے۔ مولانا فوری استعفے مانگ رہے تھے، اب کم زور پڑ گئے ہیں کہ استعفوں  کا معاملہ، لانگ مارچ کے بعد غور کیا جائے گا!
٭ایک مختصر بات آرمی چیف کی وزیراعظم سے ملاقات کی، اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل،جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔ اپوزیشن نے اس اچانک اور ہنگامی ملاقات کو بہت بلکہ بہت زیادہ اہم قرار دیا اور اسے عمران خان کو دھمکی قرار دے دیا۔ اپوزیشن کو یہ اندرونی کہانی کیسے ملی؟ تصویر میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ملاقات کے تینوں شرکاء وزیراعظم ہائوس کے ایک کھلے لان میں ایک دوسرے سے دور فاصلے پر بیٹھے ہیں۔ جہاں کوئی خفیہ کیمرہ یا دوسرے آلات موجود نہیں۔ (یہ اہم قابل غور نکتہ ہے)، کوئی چوتھا شخص موجود نہیں۔ کھلے میدان میں ایسی ملاقاتیں بہت خاص ہوتی ہیں ان کی کوئی ریکارڈنگ یا خفیہ تصویر کشی نہیں ہوتی۔ صرف آئی ایس پی آر کا ایک بیان آیا ہے کہ سول اور عسکری قیادت نے ملک کے دفاع کو ہر قیمت پر، یقینی بنانے اور بھارت کے کچھ ہنگامی شر پسندانہ اقدامات کو ناکام بنانے کے علاوہ ملک میں امن و امان (امن و امان غلط ہے) برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اور بس!! پتہ نہیں اپوزیشن کو اس ملاقات کی اندرونی باتوں اور حکومت کو دھمکیوں کی کہانی کہاں سے مل گئی!! سارا کالم فضول سیاسیات پر ضائع ہو گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں

عدالت نے رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

عدالت نے رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

ایف بی آر نے جولائی میں ریکارڈ 410 ارب روپے اکٹھے کیے،وزیراعظم

ایف بی آر نے جولائی میں ریکارڈ 410 ارب روپے اکٹھے کیے،وزیراعظم

سندھ بھر میں لاک ڈاؤن، ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے عوام کو مشکلات

سندھ بھر میں لاک ڈاؤن، ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے عوام کو مشکلات

موجودہ انتخابی نتائج مسلم لیگ (ن)کے لئے ڈرائونا خواب ثابت ہوئے

موجودہ انتخابی نتائج مسلم لیگ (ن)کے لئے ڈرائونا خواب ثابت ہوئے

پولیس اہلکار عزیربلوچ کے خلاف گواہی دینےسے کترانے لگے

پولیس اہلکار عزیربلوچ کے خلاف گواہی دینےسے کترانے لگے

حکومت نے پٹرول کی فی لٹر قیمت میں اضافہ کردیا

حکومت نے پٹرول کی فی لٹر قیمت میں اضافہ کردیا

خون سفید ہو گیا ، پاکستان کےا ہم شہر میں بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی اور بھابھی کو ق ت ل کردیا اور پھر ۔۔۔!

خون سفید ہو گیا ، پاکستان کےا ہم شہر میں بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی اور بھابھی کو ق ت ل کردیا اور پھر ۔۔۔!

ورلڈ بینک کا صوبہ سندھ میں شرح خواندگی بہتر بنانے کےلئے دس کروڑڈالر کا اعلان

ورلڈ بینک کا صوبہ سندھ میں شرح خواندگی بہتر بنانے کےلئے دس کروڑڈالر کا اعلان

الٰہی خیر۔۔! چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہنگامی طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا

الٰہی خیر۔۔! چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہنگامی طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا

سندھ بھر میں آئندہ ہفتے ہونے والے امتحانات ملتوی کرنےکا فیصلہ

سندھ بھر میں آئندہ ہفتے ہونے والے امتحانات ملتوی کرنےکا فیصلہ

شہبازشریف کی پارٹی صدارت چھوڑنے کی دھمکی

شہبازشریف کی پارٹی صدارت چھوڑنے کی دھمکی

بجلی کی قیمتوں میں 7 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری

بجلی کی قیمتوں میں 7 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری

نور مقدم کیس کے دوران عثمان مرزا کو تو سب بھول ہی گئے ، کیس میں بڑی پیش رفت ، اہم انکشافات

نور مقدم کیس کے دوران عثمان مرزا کو تو سب بھول ہی گئے ، کیس میں بڑی پیش رفت ، اہم انکشافات

سیکرٹری قانون استعفیٰ کب اور کیوںدیں گے؟ خود ہی بتا دیا

سیکرٹری قانون استعفیٰ کب اور کیوںدیں گے؟ خود ہی بتا دیا